Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

آج پھر وہ اُسی شو رُوم کے سامنے تھی جس کے سامنے کل اُس نے اُن دونوں کو اندر جاتے دیکھا تھا اور اسے یہ پتہ لگ چُکا تھا کہ یہ انکی ملکیت ہے آج بھی وہ یہاں آئی تو فیاض کو شو رُوم سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ شُکر کا کلمہ پڑھتی اُسے گاڑی میں جاتا دیکھ کر وہ شو رُوم کے اندر آئی جہاں ہر طرح کی گاڑیاں ڈسپلے کی ہوئی تھیں وہ اندر گئی تو ایک لڑکا بھاگتا ہوا اسکے قریب آیا۔
“ویلکم میم،آپکو کو کس طرح کی گاڑی چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے پوچھنے پر اشنہ نے ادھر اُدھر دیکھا اور پھر بولی۔
“مُجھے سوک چاہئیے نیو ماڈل،اصل میں،میں فیاض کی کزن ہوں تو اُس نے مُجھے کہا کہ آج آنا پر وہ خُود تو لگتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے جُھوٹ پر وہ لڑکا جلدی سے چوکس ہوا۔
“ارے میم آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپ سر کی کزن ہیں،آئیے نہ اُن کے آفس میں،سر کسی کام سے باہر گئے ہیں گھنٹے تک آئیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ اچھا،کوئی بات نہیں میں یہی کمفرٹیبل ہوں،کیا نام ہے آپکا۔۔۔۔۔۔۔”
“جی ثقلین۔۔۔۔۔۔۔”
“نائس نیم۔۔۔۔۔۔”اسکے سہرانے پر وہ خُوش ہوا۔
“تو ثقلین آپکے سر فیاض کا وہ دوست کیا نام تھا اُف بُھول گئی جو کل تین بجے فیاض کے ساتھ آیا تھا بلیک کپڑوں میں،کیا نام تھا اُسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فردین صاحب۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو ایکٹنگ کر رہی تھی اسکے بتانے پر خوشگوار مُسکراہٹ اُسکے لبوں پر پھیلی۔
“ہاں وہی فردین۔۔۔۔۔۔”اُس نے اپنے خُوبصورت لبوں سے یہ نام کسی ساز بجاتی دُھن کی طرح ادا کیا تو خُوشبو کی طرح وہ اُسکے اندر تک پھیل گیا۔
“تو آپکے پاس اُنکا نمبر تو ہوگا،اصل میں ابھی فیاض نے بتایا کہ وہ فردین کے ساتھ ہے اور اب فیاض کا نمبر بند جا رہا ہے تو میں نے سوچا اُنکو کال کر لُوں۔۔۔۔۔۔۔”
“فردین صاحب کا نمبر میرے پاس تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر اشنہ مایوسی سے گہرا سانس بھر کر رہ گئی کہ جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اتنے جُھوٹ اور ڈرامے کر رہی تھی وہ تو اُسکے پاس تھی نہ۔
“پر مینیجر صاحب کے پاس ضرور ہوگا،وہ بھی اُنکے کالج فرینڈ رہ چُکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے تو جائیے نہ،جلدی سے نمبر لے کر آئیے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے کہنے پر وہ چلا گیا اور پانچ منٹ بعد آیا تو اُس نے ایک چٹ اشنہ اعوان کی طرف بڑھائی جس نے کسی خزانے کی طرح اُسے بے تابی سے پکڑا تھا۔
“اوکے شُکریہ مسٹر ثقلین،بائے۔۔۔۔۔۔۔”وہ جلدی میں کہتی اُسکا جواب سُنے بغیر باہر اپنی گاڑی میں آئی اور کاغذ پر لکھے فردین کے نام اور نمبر کو لبوں سے لگا لیا۔
“اب تُمہارے تک آنا مُشکل نہیں رہا فردین۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرائی تھی اور پھر اس نام پر غور کرتی وہ کُچھ چونکی۔
“زرلش کے شوہر کا بھی یہی نام تھا،کئی نام ایک جیسے ہوتے ہیں،ویسے بھی کہاں زرلش اور کہاں میرا فردین،اُسکا کوئی اُس جیسا ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔”وہ دل کو تسلی دیتی گاڑی سٹارٹ کر گئی۔
_______________________
فردین مُصطفی نے ٹائم دیکھا جہاں شام کے چھ بج گئے تھے وہ گہرا سانس بھرتا سب پیپرز فائل میں رکھتا اپنا لیپ ٹاپ آف کرنے لگا آجکل اُس کے اُوپر کام کا بہت برڈن تھا اُسکی پروموشن ہونے والی تھی جس کے بعد اُسے گاڑی بھی ملنے والی تھی اس لیے وہ دن رات اپنی پُوری جان لگا رہا تھا تا کہ وہ ہر معیار پر پُورا اُتر سکے حالانکہ اُسکے محنتی ہونے پر کسی کو کوئی شک نہ تھا وہ اپنی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر ہی اتنی اچھی پوسٹ پر کام کر رہا تھا۔
وہ آفس سے نکلتا اپنی بائیک کی طرف ابھی بڑھ ہی رہا تھا کہ اُس کے سیل فُون کی بجتی ٹون نے اُسے اپنی طرف متوجہ کیا اُس نے پاکٹ سے سیل نکال کر دیکھا جہاں کوئی اجنبی نمبر جگمگا رہا تھا اُس نے یس کا بٹن پُش کر کے سیل کان سے لگایا۔
“فردین مُصطفی ازاسپیکنگ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شُکر ہے تُمہاری آواز تو سُننے کو ملی،اتنی دیر سے میں ٹرائی کر رہی تھی مگر نمبر آف جا رہا تھا کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری کسی نسوانی آواز پر نہ صرف وہ حیران ہوا تھا بلکہ اُس کے لب و لہجے پر بھی حیرانگی سے بول اُٹھا۔
“ایکسیوزمی محترمہ،کون ہیں آپ۔۔۔۔۔۔”
“اشنہ اعوان،بُھول گئے مجھے،حالانکہ میں تو اس رات کے بعد ایک پل کو بھی آپکو بُلا نہیں پائی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اشنہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔”وہ زیر لب بولا پھر جیسے دماغ میں ایک جھمکا ہوا تھا اور لب سختی سے ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے تھے۔
“کال کرنے کا مقصد۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آئم صوری،ایک تو تُم نے میری اُس رات ہیلپ کی اور اُلٹا میری وجہ سے تُمہیں شرمندگی بھی اُٹھانا پڑی۔۔۔۔۔۔”
“اوکے ہو گیا،میں نے آپکی صوری قبول کر لی اب۔۔۔۔۔۔۔”
“اب ،اب اگر تُم نے مُجھے معاف کر دیا ہے تو ہماری دوستی ہو جانی چاہئیے۔۔۔۔۔۔”
“واٹ،لیکن مُجھے آپ سے دوستی تو دُور کی بات ہے،بات بھی نہیں کرنی اوکے بائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فُون بند کرنے لگا۔
“ارے سُنو،رُکو تو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دیکھئیے مس اعوان میں آپکو نرمی سے کہہ رہا ہوں کہ مُجھے آپ میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں تو آپ مُجھے یوں پریشان مت کریں۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے سپاٹ انداز میں نہ صرف کہا تھا بلکہ کال بند کر کے اُسکا نمبر بھی بلاک لسٹ میں ڈال دیا تھا دوسری طرف اشنہ تو بلبلا کر رہ گئی۔
“تُمہیں نہیں تو کیا کروں مجھے تو تم میں دلچسپی ہے نہ فردین بلکہ محبت،ہاں محبت ہو گئی ہے مُجھے تُم سے فردین۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرائی تھی پھر اُسکا اظہار اگلے دن اس نے اُس کے سامنے بھی کر دیا تھا جہاں وہ اسے اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہی تو ہو گیا تھا۔
“آپ یہاں کیسے۔۔۔۔”
“اگر تُم اس طرح مُجھے ہر نمبر سے بلاک کرتے جاؤ گئے تو مجبور ہو کر تُمہارے آفس تو آؤنگی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کُرسی پر ٹک گئی تو فردین مُصطفی نے ناگواری سے دیکھا جو بلیک شارٹ کیپری پر شارٹ ریڈ شرٹ پہنے لیئر کٹ بالوں کو کیچر میں جکڑے بغیر میک اپ کے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔
“پوچھ سکتا ہوں ایسی بھی کیا مجبوری ہے آپکو جو آپ اس طرح کی حرکتیں کرتی پھر رہی ہیں پہلے پولیس اسٹیشن بلوا کر آپ نے میری اور میرے دوست کی انسلٹ کی اور اب یوں میرے آفس آکر تماشہ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آئم صوری فردین وہ ایک غلط فہمی تھی جس۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لیکن مجھے ہنڈرڈ پرسنٹ شیورٹی ہے کہ وہ غلط فہمی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے مظبوط لہجے اور یقین پر دو پل کو وہ ہونٹ بھینچ گئی پھر گہرا سانس لیتی کہہ گئی۔
“ہاں ٹھیک کہاں تُم نے وہ میں نے جان بوجھ کر کیا تھا کیونکہ میں تُم تک پہچنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر وہ چونکا نہیں تھا بلکہ بے تاثر چہرہ لیے اُسے دیکھ رہا تھا جو اُٹھ کر اس کے قریب آئی تھی۔
“مُجھے پتہ ہے کہ تُمہیں غُصہ آتا ہے مُجھ پر کہ میں تُمہیں پریشان اور تنگ کر رہی ہوں پر میرا مقصد تُمہیں تنگ کرنا نہیں ہے فردین،میں تو بس تُم سے بات کرنا چاہتی ہوں تُم سے دوستی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر مُجھے تو آپ سے نہ دوستی کرنی ہے اور نہ بات۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس سے دور ہوا تھا۔
“پر کیوں۔۔۔۔۔۔؟
“میں نے آپ سے پوچھا کہ کیوں آپ مجھ سے دوستی کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔۔”
“کیونکہ آپ مجھے اچھے لگتے ہیں بلکہ اچھے نہیں آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر تو وہ بھونچکا ہی رہ گیا تھا شاید اُسے اشنہ اعوان سے اس بات کی توقع نہ تھی کہ وہ یوں اپنی شرم و حیا کو بُھول کر ایسے اظہار کرے گی اُسکی نظروں میں اپنے لیے ستائش تو وہ پہلے سے ہی دیکھ چُکا تھا۔
“آپ ہوش میں تو ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ابھی تک تو اپنے ہوش و حواس میں ہوں آگے کا پتہ نہیں مُجھے،پر یہ سچ ہے فردین کہ مُجھے تُم سے محبت ہو گئی ہے میں ان چار دنوں سے مسلسل تُمہیں ہی سوچ رہی ہوں،آنکھیں بند کرتی ہوں تو تُمہارا چہرہ ہی آنکھوں میں آ سماتا ہے،میں نے بڑی کوشش کی خُود کو روکنے کی مگر تُمہاری پہلی نظر کا تیر میرے دل میں ایسا پیوست ہوا ہے کہ مُجھے تُمہارے علاوہ کوئی اور نظر ہی نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔”کیا کُچھ نہیں تھا اُسکی آنکھوں میں محبت،والہانہ پن اور چاہت کے پیام اور اُسکا لہجہ اور انداز ہر چیز سے محبت چھلک رہی تھی یہاں کوئی عام سا مرد ہوتا تو اُسکی لو دیتی آنکھوں کی گرمی سے ہی پگھل جاتا جو اپنی عزت نفس اور انا مجروح کر کے اپنا دل اُسے دے نہیں رہی تھی بلکہ اُس کے قدموں میں رکھ رہی تھی مگر یہاں سامنے فردین مُصطفی تھا جسے بے باک لڑکیاں زہر لگتی تھیں اور اس ٹائم اشنہ اعوان بھی اُسے زہر سے کم نہ لگ رہی تھی۔
“میرے خیال میں بہت فضول بول لیا آپ نے اب آپکو چلے جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”وہ سرد انداز میں بولا تو اشنہ اعوان کی آنکھوں میں اپنی محبت کی ناقدری پر نمی چمکنے لگی۔
“یہ میری محبت میرے جذبات یہ سب تُمہیں فضول لگ رہا ہے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے بے یقین تھی۔
“ہاں میری نظر میں یہ سب فضول ہے کیونکہ آپ جسے محبت کہہ رہی ہیں وہ صرف وقتی کشش کے علاوہ کُچھ نہیں آپ ایک بندے سے اگر متاثر ہوئے ہیں تو اُسکا یہ مطلب نہیں کہ آپکو اس سے محبت بھی ہو گئی ہے،یہ سب ذہنی خرافات ہیں،خُود کو کسی اور کام میں مصروف رکھیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ کُچھ نرمی سے سمجھانے لگا تھا کیونکہ وہ اس عمر کی لڑکیوں کے جذباتی پن سے اچھی طرح واقف تھا جو وقتی اُبال کو زندگی سمجھنے لگتی ہیں۔
“ایک دن،دو دن یا تین دن کتنے دن ہم کسی کو اٹریکشن میں یاد رکھ سکتے ہیں،چار دنوں سے تُم میرے دل پر میرے حواسوں پر چھائے ہوئے ہو اور تُم کہتے ہو وقتی کشش؟وقتی اٹریکشن کسی کو یوں بے چین نہیں کرتی یوں راتوں کی نیند نہیں چھین لیتی،صرف تُم ہی نہیں بہت سارے مرد میری زندگی سے گُزرتے ہیں جن کو دیکھا ہے اُن کے لیے ایسا کیوں نہیں محسوس ہوا،صرف تُم ہی کیوں میرے دل میں بسے ہو،تُمہارے لیے کیوں میرے دل نے دروازہ کھولا ہے صرف تُم ہی کیوں جس کے لیے یہ دھڑکتا ہے تُمہاری طلب میں ہی کیوں پاگل ہو رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں سے آنسو پھسلے تھے جن پر فردین نے لب بھینچ کر خُود کو کُچھ بھ سخت کہنے سے روکا تھا۔
“آپ جائیں یہاں سے،میں اس وقت اپنے آفس میں کوئی تماشا نہیں چاہتا،یہ سب آپکی زہنی خرافات ہیں اسے خُود ہی سُلجھائیے،میرے پاس آپکے کسی مرض کا کوئی علاج نہیں،جا سکتی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ درشت لہجے میں باہر کی طرف اشارہ کرتا اپنا رُخ موڑ گیا اشنہ اعوان پانی سے بھرے نین کٹوروں سے اُسکی پُشت کو دیکھتی اُس کے رُوم سے نکلی تھی جو اسکے جانے پر تشکر کا سانس بھرتا کُرسی پر ٹکا تھا۔
“فضول لڑکی۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا تھا۔
_____________________
اور پھر جب شام کو وہ اپنا کام نبٹا کر باہر نکلا تو یہی فضول لڑکی اُسے باہر کھڑی نظر آئی ایک لمحے کو تو اُسکا دماغ بھک سے اُڑا تھا کہ وہ اس کے آفس میں اُسکی عزت خراب کر کے ہی رہے گی۔
“آپ،آئی کانٹ بلیو اٹ کہ آپ میری سوچ سے بھی زیادہ چیپ اور گری ہوئی نکلیں گئیں،جتنا زیادہ آپ ایسی حرکتیں کر رہی ہیں اُتنا زیادہ آپ میری نظروں سے گر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکے قریب آتا حقارت سے بولا مگر وہ اسکے حقارت بھرے لہجے کو بھی مُسکرا کر ہضم کر گئی۔
“اور میری محبت وہ نظر نہیں آ رہی تُمہیں،یہ کیوں نہیں سوچ رہے تُم کہ میں اگر یہ چیپ حرکتیں کر رہی ہوں تو کیوں،تُمہاری محبت میں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بھاڑ میں گئی میرے نزدیک ایسی بیہودہ محبت جو یوں ذلیل و خوار کرے آپکو کسی کی نظروں میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کیوں کر رہے ہو مُجھے اور میری محبت کو یوں ذلیل،قبول کیوں نہیں کر لیتے تُم۔۔۔۔۔۔”وہ بھی اُسی کے انداز میں بولی اُسکی بات فردین مُصطفی کے چہرے پر بُلا کی سختی آئی تھی۔
“قبول کی بات کر رہی ہو،محبت وہ بھی تُم سے،تُمہیں پسند کرنا تو دور کی بات میرا دل تم پر ایک نظر ڈالنے کو نہیں کرتا اشنہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔”نفرت کی انتہا تھی اُسکی آنکھوں اور لہجے میں بھی وہ نفرت کے ان تیروں سے گھائل تو ہوئی تھی مگر پھر لبوں پر مُسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی لیے بولی۔
“اور میرا دل تُم سے نگاہ ہٹانے کو نہیں کرتا فردین،ساری زندگی بھی یوں ذلیل کرتے رہو گئے تو اُف نہیں کرونگی۔۔۔۔۔۔۔”وہ محبت کی پجارن تھی فردین نے ایک نظر اپنے پاس سے گُزرتے اپنے آفس کے لوگوں پر ڈالی جو روتی لڑکی اور اسے کافی حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“تُم مجھے میرے آفس میں ذلیل کروا کر ہی دم لو گی کیا،کتنی دفعہ کہوں کہ مُجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ نہ صرف میں شادی شُدہ ہوں بلکہ اپنی بیوی سے محبت بھی کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ اعوان کے لیے اُسکا یہ سچ ناقابل برداشت تھا ایک پل کو تو گُم صُم ہو گئی تھی مگر دوسرے لمحے ہی کُچھ سوچ کر مُسکرائی اُسکی مُسکراہٹ پر فردین حیران ہوا تھا۔
“جُھوٹ بول رہے ہو تم،مجھے پتہ ہے تم مجھ سے جان چھڑوانے کے لیے ایسا بول رہے ہو مگر میں تُمہارے اس جُھوٹ پر یقین نہیں کرونگی جس میں تُم اپنے اور میرے درمیان تھوڑا سا فاصلہ بھی ڈالنے کی کوشش کرو گئے۔۔۔۔۔۔”
“اوکے تو رہو اپنی خُوش فہمیوں میں،مگر آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا اپنی بائیک پر بیٹھتا اُسے کِک لگاتا چلا گیا تھا اشنہ اعوان جو اُس کے سامنے خُود کو مضبوط ثابت کر رہی تھی اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہی صبر ہار گئی تھی۔
_____________________
“کیا بات ہے اشنہ،ایک تو تم چار دنوں سے یونی نہیں آئی،آج آئی بھی ہو تو گُم صُم،خیر تو ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش نے اشنہ اعوان کو کسی غیر مری نُقطے پر نظر جمائے دیکھ کر پوچھا کہ آج اُس نے کوئی بھی لیکچر اٹینڈ نہیں کیا تھا۔
“کُچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ گھاس نوچنے لگی۔
“تُم جیسی پر فیکٹ بندی کو ہو بھی کیا سکتا،تم لوگوں کی تو آئیڈیل لائف ہے نہ کوئی فکر نہ کوئی مجبوری،گھر میں نوکروں کی ریل پیل اور یہ لمبی لمبی گاڑیاں،جو چاہے حاصل کر سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش جو اشنہ اعوان سے شُروع سے ہی بہت امپریس تھی اور جب اشنہ اعوان نے اس کے آگے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا وہ تو خُود پر فخر محسوس کرنے لگی تھی کہ اشنہ اعوان عربوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث نے اُسکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔
“دولت سے کُچھ حاصل نہیں ہوتا زری،قسمت اور مقدر بس انکا ساتھ ہونا چاہئیے،اگر ان بنگلوں اور لمبی لمبی گاڑیوں سے کُچھ حاصل ہوتا تو میں سب کُچھ وار کر اُسے حاصل کر لیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جلتی آنکھوں سے فردین مُصطفی کے عکس کو یاد کرتے بولی مگر زری کے نمبر پر کال آنے کی وجہ سے وہ اُسکی آخری بات سُن نہ پائی۔
“آؤ آج تُمہیں کسی سے ملواتی ہوں،آج مجھے کوئی خاص انسان پک کرنے آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔”زرلش کے چہچہاتے لہجے پر وہ بے دلی سے اُٹھ کر اُسکے ساتھ باہر گیٹ پر آئی جہاں اُسکی نظر ایک طرف اُٹھی تو ساکت ہی ہو گئی تھی وہ بیلو جینز پر سکن شرٹ ذیب تن کیے بلاشبہ فردین مُصطفی تھا۔
“فردین۔۔۔۔۔۔۔”دونوں کے لبوں سے ایک ساتھ ادا ہوا تھا مگر دونوں سُن نہ پائیں کیونکہ دونوں کی نظریں اُس پر ٹکیں تھیں جو ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر چونک اُٹھا تھا اور قدم اُٹھاتا انکے نزدیک آیا تھا۔
“اشنہ یہ ہے فردین مُصطفی،جس سے ملنے کی تُمہاری بہت بڑی خواہش تھی،اور فردین یہ میری بہت اچھی دوست اشنہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش مُسکراتے ہوئے دونوں کا تعارف کروا رہی تھی جو ایک دوسرے کو دیکھتے ساکت تھے فردین تو اُسے زرلش کی دوست کے رُوپ میں پاکر ہضم نہ کر پا رہا تھا جبکہ اشنہ اعوان کی حالت تو اس وقت ایسی تھی کہ وہ نہ کُچھ سُن پا رہی تھی نہ کُچھ دیکھ پا رہی تھی بلکل پتھرائی نظروں سے فردین کو دیکھتی وہ اس تلخ حقیقت کو برداشت کر رہی تھی جو اُسکی جان نکال کر لے گئی تھی ہاں شاید جان نکلنا اسے ہی تو کہتے ہیں جس چیز کی تڑپ میں آپ دن رات مبتلا ہو وہ کسی اور کی جھولی میں آ گرے یہی تو تکلیف ہوتی ہے جو انسان کے اندر تک کو چیر دیتی ہے جس تکلیف سے اس وقت اشنہ اعوان گُزر رہی تھی وہ بلکل پتھر کا مجسمہ لگ رہی تھی بس اُسکی آنکھوں سے گرتا پانی اُسکے زندہ ہونے کی پیش گوئی کر رہا تھا۔
“کیا ہوا اشنہ،تُم ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش چونکی تھی اور بے ساختہ اُسکا کندھا ہلا کر اُسے ہوش کی دُنیا میں لائی تھی جو وہ نہیں جانتی تھی کہ کتنا اذیت ناک تھا اُسکے لیے ہوش کی دُنیا میں قدم رکھنا۔
“ہاں،میں،میں ٹھیک،میں چلتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”پھلستے آنسو بکھرتا لہجہ اور ڈگمگاتے قدم کُچھ بھی تو نظر انداز کرنے والا نہیں تھا اس محبت کی ماری کا اور اس دفعہ فردین مُصطفی بھی اُسے شاید نظر انداز نہیں کر پایا تھا اس لیے تو اُسکی آنکھوں میں بھی پہلی بار نفرت اور ناپسندیدگی نہیں بلکہ تاسف کا تاثر اُبھرا تھا۔
“لگتا اُسکی طبعیت نہیں ٹھیک،صُبح سے ایسے گُم صُم بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے جانے کے بعد زرلش نے کہا جس پر فردین نے گہرا سانس لیا۔
“تُم نے کب سے اس طرح کی لڑکیوں سے دوستی شُروع کر لی،چلو اب۔۔۔۔۔۔۔”فردین کو اب نئی پشیمانی آ گری تھی وہ جانتا تھا یہ چُپ کر کے نہیں بیٹھے گی۔
“بہت اچھی ہے وہ،امیر چاہے جتنی بھی ہے پر غرور اور تکبر یا بُری عادتیں جو اپر کلاس کی لڑکیوں میں پائی جاتیں کُچھ بھی ایسا نہیں ہے اشنہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش کو لگا شاید وہ اُسکی امیریت پر تبصرہ کر رہا تھا اس لیے جھٹ صفائی کو بولی۔
“مجھے نہیں اشنہ نامہ سُننا،یہ بتاؤ کب جان چُھوٹ رہی تُمہاری اس یونی سے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بائیک چلاتا پوچھنے لگا اصل میں وہ نہیں چاہتا تھا کہ دونوں اب ساتھ رہیں۔
“دو ماہ تک۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرمیلی مُسکان لبوں پر سجا کر بولی کیونکہ اُسکی رُخصتی پیپرز کے بعد طے پائی تھی۔
______________________
وہ جس حالت میں گھر آئی تھی اُس نے شُکر کیا تھا کہ تہمینہ اعوان گھر نہ تھیں وہ سیدھا اپنے کمرے میں آئی اور گرنے والے انداز میں بیڈ پر بیٹھی تھی جس طرح وہ گاڑی چلا کر یہاں تک پہنچی تھی یہ بس وہ جانتی تھی یا رب۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چیخ اُٹھی تھی اور بلک بلک کو رونے لگی تھی تقدیر کے اُس مذاق پر جو اُسکی جان پر بن گیا تھا اس وقت وہ اُس پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی جس کی نہ تو جان نکل رہی ہوتی ہے اور نہ اُسے سکون مل رہا ہوتا ہے۔
“مُجھے محبت بھی ہوئی تو کس سے،اپنی دوست کے شوہر سے،کسی اور کے شوہر سے محبت ہوگئی مجھے،کیسے ہو گئی؟اگر ہو گئی تھی تو وہ کسی اور کا کیسے ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تڑپ رہی تھی بلکہ یوں کہنا آسان ہوگا کہ تڑپ تڑپ کر مر رہی تھی۔
“نہیں اُتنا بُرا مذاق میرے ساتھ،نہیں یہ جُھوٹ ہے کاش یہ جُھوٹ ہوتا کاش۔۔۔۔۔۔۔”سر کو ہاتھوں میں تھام کر چلانے لگی تھی پھر اُٹھی اور طیش کے عالم میں ڈریسنگ پر پڑی چیزوں کو ہاتھ سے نیچے پھینک دیا پھر بیڈ شیٹ کشن ہر چیز کو مار گراتی چلی گئی دس منٹ کے اندر پُورے کمرے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا پھر بھی جیسے کسی پل چین نہ آ رہا تھا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے ڈریسنگ مرر کو مارنا شُروع ہو چُکی تھی اندر کے اضطراب کو ختم کرنے کے لیے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ ذخمی کر چُکی تھی مگر دل کا درد تھا کہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
______________________
“آخر آپکو ہو کیا گیا تھا اشنہ،اس بات کا جواب کیوں نہیںُ دے رہی آپ۔۔۔۔۔۔۔”تہمینہ اعوان کو جب جینی کے زریعے اسکی حالت کا پتہ لگا وہ اپنی میٹنگ کینسل کرتی پہلی فُرصت میں گھر آئیں تھیں اس کے ذخمی ہاتھوں ہر مرہم پٹی کروا کر جینی کو اسکا کمرہ ٹھیک کرنے کا بول کر اسے اپنے رُوم میں لے کر آئیں۔
“آخر اس فرسٹریشن کا مطلب کیا تھا اشنہ،اپنی حالت دیکھ رہی ہیں آپ،کیا کسی نے کُچھ کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے سلکی بالوں کو سُلجھاتے ہوئے نرمی سے بولیں تو اشنہ نے سر نفی میں ہلایا۔
“کُچھ نہیں مما،بس پتہ نہیں کیا ہوا،سب بُرا لگنے لگا سب کُچھ ماما،یہ گھر میرا رُوم اور اپنا آپ،دل کر رہا ہے ختم کر دُوں خُود کو۔۔۔۔۔۔۔”
“اشنہ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی جنونیت اور شدت پسندی پر حیران ہی تو رہ گئیں۔
“کیا کسی نے کُچھ کہا ہے آپ سے،یونی میں بدتمیزی کی کسی نے،آپ اُسکا نام بتاؤ میں سب ہینڈل کر لونگی،آپ ایسا کرو اپنی خالہ کے پاس پیرس چلے جاؤ،آپ کا دل بہل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں مُجھے کہیں نہیں جانا اور یونی میں بھی مجھے کسی نے کُچھ نہیں کہا ہے مما۔۔۔۔۔۔۔”
“تو ہوا کیا ہے پھر آپکو،کُچھ پتہ بھی تو چلے،کیوں اپنی مما کو پریشان کر رہے ہو،ابھی تو آپکے پاپا کو نہیں پتہ چلا ورنہ اُنکا تو پتہ ہے آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔”تہمینہ اعوان نے پیار سے اُسکی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔
“مما یہاں تکلیف ہو رہی ہے بہت،بے حد،مُجھ سے برداشت نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُنکا ہاتھ دل پر رکھ کر رو دی تھی جبکہ وہ پریشان سی ہو کر جینی کو آواز دینے لگیں۔
“جی میم۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوڑی آئی۔
“ڈاکٹر انفال کو کال کرو جلدی،بولو پانچ منٹ میں آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکے حکم پر وہ سر ہلاتی چلی گئی۔
“اشنہ میری جان۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے آنسو صاف کرنے لگیں جو پھلستے ہی جا رہے تھے اشنہ بے بس ہو کر روئے چلی جا رہی تھی۔
____________________
“یہ کسی بات کی سٹریس لے رہی ہے،اسے اس گُھٹن زدہ ماحول سے نکالو کُچھ دن کے لیے ورنہ یہ ٹینشن اسکے نروس سسٹم کو ویک کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ڈاکٹر انفال اشنہ کو انجیکشن لگاتے ہوئے بولیں جس سے تہمینہ اعوان پریشان سی ہو کر اشنہ کو دیکھنے لگیں جو نیند میں چلی گئی تھی مگر اُسکے رخساروں پر آنسوؤں کے نشان اُنکا دل چیر گئے تھے۔
“پتہ نہیں کیا ہو گیا ایک دم سے اسے،پہلے تو کبھی ایسا نہیں کیا اس نے،اسکے بابا آتے ہیں تو اسے ورلڈ ٹور پر لے کر جانے کا پروگرام بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”وہ گہرا سانس بھر کر بولیں تو ڈاکٹر انفال سر ہلا گئیں۔
اور پھر رات تک اشنہ نے خُود کو کافی حد تک سمھنبال لیا تھا اس لیے تہمینہ اعوان اور صغیر اعوان کو مطمئن کرتی وہ اپنے کمرے میں آئی ذخمی ہاتھ سے موبائل کو پکڑتی فردین مُصطفی کا نمبر ری ڈائل کر گئی جو دوسری بیل پر ہی کال پک کر لی گئی تھی۔
“فردین مُصطفی از ہیر۔۔۔۔۔”اُسکی گھمبیر آواز اشنہ کی آنکھیں نم کر گئی۔
“کوئی بولے بھی تو۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ جھنجھلائی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی اشنہ نے کال بند کر دی اور ایک سسکی لیتی آنکھیں بند کر گئی۔
_____________________
اگلے دن وہ زرلش کے گھر میں موجود تھی جو اسے بنا بتائے اپنے گھر آنے پر کافی حیران ہوئی تھی۔
“اشنہ تم،آؤ نہ۔۔۔۔۔۔۔”زرلش کے کہنے پر وہ اُسکی مانا اور بہن سے ملتی اس کے کمرے میں چلی آئی۔
“کیا کھاؤ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کُچھ بھی نہیں،تم یہاں آؤ بیٹھو مُجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنے ساتھ بٹھایا تو زرلش بھی اُس کے چہرے کے نا فہم تاثرات دیکھ کر کُچھ اُلجھی تھی۔
“جو بات میں تُم سے کرنے والی ہوں وہ کوئی بھی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بات تو کرنے والی ہے نہیں پر میں مجبور ہوں زری،پلیز مُجھے معاف کر دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زری کا ہاتھ تھام کر کہتی اُسے پریشان کر گئی۔
“کیا بات ہے اشنہ،معافی کیوں مانگ رہی ہو،تُم کہہ دو جو کہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے محبت ہو گئی ہے،مجھے تُمہارے شوہر فردین مُصطفی سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بات اتنی آسان نہ تھی جتنی آسانی سے وہ کر گئی تھی۔
______________________