No Download Link
Rate this Novel
Episode 05
Episode 05
صُبح اُسکی آنکھ کُھلی تو سات بج رہے تھے وہ کمبل پیچھے ہٹاتا جلدی سے اُٹھا تھا وہ تو بہت صُبح خیز تھا کیسے اتنی دیر تک سویا رہا حالانکہ ساری رات اس چھوٹے صوفے پر وہ بے سکون رہا تھا کمبل کو پیچھے کرتے اُس کے دماغ میں جھمکا ہوا کہ اُس نے تو رات کو کمبل لیا ہی نہیں تھا تو پھر کس نے دیا کیونکہ وہ غُصے میں ویسے ہی سو گیا تھا اُس کی نظر بے اختیار سامنے اُٹھی جہاں اشنہ بنا کُچھ لیے سُکڑی سمٹی لیٹی ہوئی تھی فردین نے تکیہ اُٹھایا اور غُصے سے اُس کے اُوپر پھینکا تھا مقصد اُسکی پُرسکون نیند میں خلل ڈالنا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا وہ ہڑبڑا کو تو نہیں پر درد سے کراہ کر اُٹھی تھی کیونکہ تکیہ سیدھا جا کر اُس کے ذخم پر لگا تھا۔
“کیا ہوا ہے،تُم نے میرا ذخم دکھا دیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی اور کلائی پکڑ لی۔
“تو تم سے کس نے کہا تھا دونوں نسیں کاٹ لو،تُمہارا کام تو ایک سے بھی چل جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے دونوں کلائیوں پر لگی بینڈیج پر چوٹ کرتے ہوئے بولا۔
“اگلی دفعہ ایک سے ہی کام چلا لونگی۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر وہ حیرانگی سے پلٹا۔
“مطلب تُمہارا پھر سے ایسا کرنے کا ارادہ ہے تو مائینڈ اٹ اشنہ اعوان وہ تُمہارے باپ کا گھر تھا جہاں تُمہیں بچا لیا گیا،یہاں سے ایسی کوئی توقع مت رکھنا میں ہرگز بھی ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھ آؤنگا جس میں تُمہاری جان بچ جانے کا زرا سا بھی چانس ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خُود تو جلا ہوا تھا مگر اسے جلانے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑ رہا تھا اشنہ نے اسکی بات کو تھوک نگلتے ہوئے ہضم کیا تھا۔
“کیا میرے مرنے سے تُمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔۔”
“پڑے گا نہ زندگی پُرسکون ہو جائے گی سب سے بڑی بات تُم سے جان چُھوٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بہت سخت دل تھا اس لیے تو باتیں بھی سخت کرتا تھا اشنہ کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے جن پر ایک نظر ڈالتا وہ وارڈرب کی طرف بڑھا۔
“اس سب میں میرا کوئی قصور نہیں فردین سوائے یہ کہ مجھے تُم سے محبت ہو گئی تھی ،بنا سوچے سمجھے کہ تم کون ہو کس کے شوہر ہو،میرا دل تُمہاری طرف کھینچ رہا تھا میں کیسے روکتی،کیا کوئی روک سکا ہے دل کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکا دل صاف کرنا چاہتی تھی کہ وہ غلط نہیں تھی۔
“ایسے کیسے ہو گئی تُمہیں مُجھ سے محبت،میں نہیں مانتا اس محبت کو جو کسی اور کی خُوشیاں برباد کر کے حاصل کی جائے۔۔۔۔۔۔۔”وہ کپڑے نکال کر اسکی طرف پلٹا تھا۔
“تُمہیں میری محبت پر یقین کب آئے گا فردین جب میں تُم سے تُمہاری زندگی سے دور چلی جاؤنگی کیا تب۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی پلکوں کے بند توڑ کر آنسو بہنے لگے تھے۔
“کاش تُم چلی جاؤ،پر اتنی قسمت اچھی کہاں اگر ہوتی تو اس وقت تُمہیں نہ دیکھ رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے اپنے لفظوں سے گھائل کرتا باتھ لینے چلا گیا۔
“____________________“
ڈرائیور کے ہاتھ تہمینہ بیگم نے اس کی ضرورت کی تمام اشیاء بھجوا دیں تھیں جنکو دیکھ کر سُلطانہ بیگم نے گلہ کیا۔
“یہ کیا اشنہ بیٹا،تُم نے اپنی ماما کے گھر سے یہ سب کیوں منگوایا،مجھے کہتی میں لا دیتے یا خُود لے آتی تُم،اس طرح اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔”
“میں نے کونسا کُچھ نیا منگوایا یہ سب میرے استمال کی چیزیں تھیں اگر میں نہ کرتی تو ایسے فالتو میں پڑیں رہتیں اس لیے میں نے منگوا لیں آپ کُچھ بُرا مت سوچیے گا،میں آپکے ساتھ جاؤنگی کسی دن شاپنگ کرنے،جب زرلش کی چیزیں لینے جانا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آخری بات پر سُلطانہ بیگم نے بہت سے اسے دیکھا تھا جس کے چہرے پر اُنکو کوئی تاثر نہ ملا جیسے اُس نے بہت ضبط سے کام لیا تھا۔
“اب کہاں،میں نے صفیہ اور مُرتضی بھائی سے بات کی تھی،مرتضی بھائی تو پھر بھی مان رہے مگر صفیہ اور زرلش ضد لگا کر بیٹھی گئی ہیں،فردین کے بابا بھی اب چُپ کر گئے ہیں کہتے ہیں کُچھ دن تک چُپ ہی اچھی ہے پھر دیکھی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ زری اور صفیہ آنٹی مان جائیں۔۔۔۔۔۔”اشنہ کے کہنے پر سُلطانہ بیگم نے اُسکی طرف دیکھا تھا جیسے کہہ رہی ہوں ہے نہ ایک طریقہ تُمہارا یہاں سے چلے جانا اشنہ اُنکی خاموشی کا مطلب سمجھتے ہوئے لب کاٹنے لگی۔
“یہ تو بہت مُشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا اُنکو منانا۔۔…..”سُلطانہ بیگم نے ا سکی ادھوری بات سے مطلب اُخذ کیا۔
“فردین کو چھوڑنا،بہت مُشکل ہے یہ انٹی،ایسا سوچتی بھی ہوں تو جان نکلتی ہے۔۔۔۔۔۔”آنسو ہمیشہ کی طرح بےاختیار ہوئے تھے اور پہلی دفعہ سُلطانہ بیگم کو اس پر ترس آیا تھا اُنہوں نے اُس کے سلکی بالوں پر ہاتھ پھیرا تھا۔
“یقین کریں آنٹی مُجھے بلکل نہیں تھا پتہ کہ فردین زری کا شوہر ہے یا کسی اور کا،مُجھے تو پتہ بھی نہیں چلا کب کیسے میرا دل میرے ہاتھوں سے نکل گیا اُس کے بعد میں نے فردین کو تلاش کیا مُجھے تب بھی نہیں پتہ تھا جب یہ مجھے ملا اس سے بات کی تب بھی نہیں اور جب مجھے پتہ چلا تو پہلے میں نے اپنے دل کو سمجھایا مگر وہ صرف فردین کی ضد لگا کر بیٹھ گیا تھا میں نے زری سے بات کی مجھے پتہ ہے بہت غلط بات کی تھی کیا کوئی اپنا شوہر دو حصوں میں بانٹ سکتا ہے بھلا پر میں تب پاگل ہو گئی تھی اُسی پاگل پن میں ،میں یہ کام کر گئی اور جب مجھے ہوش آیا مما پاپا کو روتے دیکھا تو فیصلہ کیا کہ میں اپنے دل کو مار دُونگی اور اپنے سے جُڑے رشتوں کو اب اور تکلیف نہیں دُونگی نہ فردین کو نہ ذری کو،میں نے فردین کو بُلایا بھی اس لیے تھا کہ میں چلی جاؤنگی مگر پھر یہ سب ہو گیا مجھے نہیں پتہ کب پاپا انکل کے پاس آئے مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُنکا ہاتھ پکڑ کر سچائی سے بولی تھی سُلطانہ بیگم نے سر ہلایا کہ اُنکو یقین ہے پر وہ پھر بھی روتے ہوئے بولی تھی۔
“میرا یقین کریں آپ مجھے پتہ زری اور فردین مُجھے غلط سمجھ رہے پر میں نے نہیں کیا یہ سب،مُجھ سے بس ایک غلطی ہو گئی مجھے کسی کے شوہر سے محبت ہو گئ یہ مانتی ہوں میں مگر میں فردین کو چھینوں گی نہیں اُس سے،یہ گھر زری کا ہے فردین اُسکا ہے میں یہ گھر اُسے دے دیتی ہوں پر اُسے کہیں کہ وہ صرف فردین کا نام میرے نام کے ساتھ رہنے دیں میں اپنی ساری زندگی اُس کے نام پر گُزار سکتی ہوں،آپ اُسے کہیں کہ مُجھے بے شک اس گھر میں نہ رہنے دے پر فردین کی زندگی میں رہنے دیں پلیز آپ زری کو بولیں کہ وہ مان جائے فردین کے پاس اپنے گھر میں آ جائے پلیز،ورنہ فردین مُجھے چھوڑ دے گا پلیز،مُجھ سے اُس کے بغیر نہیں جیا جائےگا۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے تڑپنے اور بلکنے پر سُلطانہ بیگم دم سادھے بیٹھیں تھیں وہ محبت میں ماری اس لڑکی کو دیکھ رہی تھیں جس کے لبوں پر صرف فردین کا ورد جاری تھا یہی محبت ہوتی ہے جو بندے کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے یہی محبت عشق مجازی سے عشق حقیق کی طرف لے جاتی ہے محبت کی یہی تڑپ تو بندے کو عاشق بنا کر گلیوں میں نچا دیتی ہے یہی تو ہے محبت کی وہ آخری حد جو بندے کے دل سے ہر طلب مٹا دیتی ہے صرف محبوب کا در ہو اور عاشق کا سر یہی تو عشق ہے جو کسی کو دُنیا بھلا دیتا ہے اور کسی کو خدا کسی کو غلط اور سہی کہ پہچان بھلا دیتا ہے تو کسی کو فقیر بنا دیتا ہے اس میں بندے کا کیا اختیار کے وہ اس سے بچ پائےاگر بچ پانا ممکن ہوتا تو ہیر اور سوہنی کا قصہ ہمیں کہانیوں میں نہ ملتا اگر بچ جانا آسان ہوتا تو محبت میں جان دینے والے بھی خُود کو بچا لیتے پر یہ تو بندے کو اندر سے نچوڑ لیتی ہے۔
سُلطانہ بیگم نے آنسو سے بھریں آنکھیں فردین مُصطفی پر ٹکا دیں تھیں جو لب بھینچ کر اُسے اپنی ماں سے لپٹا روتا دیکھ رہا تھا پھر اپنے قدم واپسی کو ہی موڑ لیے تھے مگر اسکی سسکیاں ابھی بھی اُس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔
“______________________“
نہا کر اُس نے ییلو کلر کا ڈریس پہنا شُکر تھا کہ تہمینہ اعوان نے اسکے سُسرال والوں کا ماحول دیکھ کر سارے نفیس اور کمفرٹیبل ڈریس ہی بھیجے تھے مرر میں خُود کو ایک نظر دیکھتی وہ بالوں کو کیچر میں مقید کر کے وارڈرب کی طرف بڑھی تا کہ کوئی ڈوپٹہ نکال سکے وہ سُلطانہ بیگم کو ڈوپٹہ اوڑھے دیکھ کر شرمندہ سی ہو جاتی تھی اس لیے وہ خُود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالنا چاہتی تھی تا کہ فردین کی پسند پر پُوری اُتر سکے۔
آج اُسکی بینڈیج بھی کُھل گئی تھی اس نے کلائیوں کو دیکھا جہاں بس نشان ہی رہ گئے تھے ڈوپٹے کو گلے میں ڈال کر وہ باہر جانے لگی تھی کہ فردین مُصطفی کو اندر آتا دیکھ کر رُک گئی وہ اس پر ایک نظر ڈالتا کپڑے نکالنے لگا شاید کہیں جانے کا ارادہ رکھتا تھا اشنہ اُسکو دیکھتے رہنے کے لالچ میں میں وہی صوفے پر بُک لیے بیٹھ گئی ویسے بھی وہ گھر ٹکرا کہاں تھا جو وہ اس کو فرصت سے دیکھ پاتی کتاب کی اوٹ سے اُسے دیکھنے لگی جو کپڑوں کو بیڈ پر رکھتا پینٹ کی جیب سے موبائل اور والٹ نکال کر ٹیبل پر رکھ رہا تھا پھر شرٹ اُتارتا کپڑے اُٹھا کر واش رُوم میں چلا گیا۔
“یہ چُپ کیوں ہے آج،مُجھے بھی اس رُوم میں برداشت کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سوچنے لگی پانچ منٹ بعد وہ بلیک جینز پر وائٹ شرٹ پہن کر باہر نکلا تھا اشنہ نے دل ہی دل میں اُسکی نظر اُتاری تھی جو خُود پر پرفیوم چھڑکتا اب بالوں کو سنوار رہا تھا وہ خُود پر اُسکی نظروں کا ارتکاز محسوس تو کر چُکا تھا مگر اگنور کیے اپنے کام میں لگا رہا تھا۔
“تُم کہیں جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے بُلانے سے خُود کو روک نہ پائی تھی مگر وہ چُپ رہا تھا۔
“فردین،تُم سے کُچھ پوچھا ہے میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اب کہ بار زرا تیز آواز میں بولی تھی۔
“سُن رہا ہوں بہرہ نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔۔”وہ بیڈ پر بیٹھ کر شُوز پہننے لگا۔
“تو پھر جواب کیوں نہیں دیتے ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“میں تُمہیں جواب دینے کا پابند نہیں ہوں،اس گھر کو تو اپنے نام کروا چُکی ہو مگر مُجھے تُم اپنی مرضی سے استمال نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔”
“میں نے کب تُمہیں استمال کیا،اور گھر کا تو مجھے بھی پتہ نہیں تھا کب یہ انکل نے کیا اس کا تو زمعدار مجھے مت ٹھہراؤ تُم،بلکہ میں تُمہیں اپنا حق مہر بھی معاف کرنے کو تیار ہوں یہ گھر بھی تُمہارے یا زری کے نام کرنے کو تیار ہوں پر میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ کتاب رکھتی اُس کے قریب آئی تھی جو شوز پہن کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
“مُجھے تُمہاری کوئی شرط نہیں ماننی۔۔۔۔۔۔۔”
“سُن تو لو کیا پتہ فائدے میں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہاری ہر بات ہر شرط میری ذات کے ارد گرد ہی گھومے گی اس لیے مجھے کُچھ نہیں سننا۔۔۔۔۔۔۔”وہ گھڑی پکڑتے ہوئے بولا اشنہ اُسکی بات پر زیر لب مُسکراتی اُس کے ہاتھ سے گھڑی پکڑ گئی۔
“پھر مانتے ہو نہ میری محبت کو،تُمہارے سوا کُچھ نہیں چاہئیے مُجھے۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکا بازو پکڑ کر گھڑی پہنانے لگی۔
“تُم تو پاگل ہو۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے چہرے پر چھلکتے خُوشی کے رنگوں سے نظریں چُرا گیا جو اتنے سے حق پر ہی خُوش ہو رہی تھی۔
“مُجھے پاگل کہتے ہو تم فردین،یہ بھی تو سوچو یہ پگلی ہوئی بھی تو تُمہاری چاہت میں ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے موبائل اور والٹ جیب میں رکھتے دیکھ کر بولی مگر وہ ان سُنی کرتا گاڑی کی کیز پکڑتا باہر نکل گیا۔
“______–_“
“کیا بات ہے،کُچھ اپ سیٹ نظر آ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض نے اُسے گُم صُم ایک مرکز پر ہی نگاہ جمائے دیکھ کر پوچھا تو وہ گہرا سانس بھر گیا۔
“آجکل تو پوری لائف اپ سیٹ ہو کے رہ گئی ہے یار۔۔۔۔۔۔”
“کیا زرلش بھابھی نہیں مانیں۔۔۔۔۔۔۔”
“کیسے مانے یار تُم ہی بتاؤ،وہ اُسکا وجود کیسے برداشت کرے۔۔۔۔۔۔”
“جیسے اشنہ بھابھی کرے گی ویسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کی بات پر وہ اُسے دیکھنے لگا جیسے اُسکی بات کا مطلب جاننا چاہ رہا ہو۔
“وہ تو اپنے شوق اور مجبوری کی وجہ سے برداشت کرے گی پر زری کو ایسی کوئی مجبوری یا شوق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اچھا تو کیا زرلش بھابھی کو تم سے محبت نہیں ہے،وہ بھی اپنی محبت کی مجبوری سے برداشت کر لیں اُنکو اور تُمہارے ساتھ ساری زندگی رہنے کے شوق سے کر لیں۔۔۔۔۔۔”
“تُم زری کو اُس کے ساتھ کیوں کمپیئر کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔”فردین اُسکی بات پر حیران ہوا تھا۔
“میں تو محبت کو کمپیئر کر رہا ہوں کہ دونوں تُم سے محبت کرتی ہیں تُمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہیں تو پھر دونوں ہی اپنی اپنی محبت کی خاطر کمپرومائز کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دونوں کی محبت کو کمپیئر کیسے کر سکتے ہو،زری کی محبت اپنے شوہر سے ہے جبکہ اُسکی محبت کسی کے شوہر سے جو غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات پر فیاض مُسکرایا تھا۔
“محبت غلط نہیں ہوتی ہے فردین،ہاں محبت غلط وقت پر یا غلط بندے کے ساتھ ضرور ہو جاتی ہے جیسے کہ بدقسمتی سے اشنہ بھابھی کو تُم سے ہو گئی ورنہ کیا اتنی امیر زادی کو جس نے آدھی دُنیا کو دیکھ رکھا ہے کیا وہ تُم پر دل ہار جاتی،اگر اُس کے بس میبں ہوتا تو وہ اپنی آسائشوں کو چھوڑ کر یوں تُمہاری ایک نظر کے لیے تڑپ رہی ہوتی بلکل نہیں فردین۔۔۔۔۔۔۔”
“تو تُمہاری نظر میں وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے ناگواری سے دیکھا تھا جس نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“اگر ٹھیک نہیں تو میری نظر میں وہ غلط بھی نہیں ہیں،پہلی بات تو اُنکو پتہ ہی نہیں تھا کہ تم شادی شُدہ ہو اگر پتہ ہوتا تو وہ پاگل نہیں تھیں جو تُم سے محبت کرتی ویسے بھی محبت تو خُود بخود ہو جانے والا فعل ہے اس میں تو ہم کسی بندے پر یہ الزام لگا ہی نہیں سکتے کہ اُس نے جان بوجھ کر کی ہے،وہ خُود کو نہیں روک سکیں تبھی تو اس مقام تک آ پہنچی ہیں،اور تُم اپنے نکاح شُدہ ہونے کی بات کر رہے ہو اس معاشرے میں،میں نے مرد اور عورتوں کو اپنے پانچ پانچ بچے بھی چھوڑتے دیکھا ہے محبت کے نام پر،لوگوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دیتے یا چار چار شادیاں کرتے بھی دیکھا ہے،کوئی محبت کے نام پر قتل کر رہا اور کوئی ہو رہا ہے،کسی کو اپنی منگیتر چھوڑتے دیکھا ہے تو کسی کو اپنا گھر اپنے والدین چھوڑتے دیکھا ہے محبت کے نام پر،اب یہ کہنا کہ اشنہ بھابھی غلط ہیں کسی کا شوہر تھا تو کیا ہوا،کہاں لکھا ہے کہ کسی کے شوہر سے محبت کرنا گناہ ہے،کیا شوہر کسی دوسری عورت سے محبت کر سکتا؟کیا کوئی مرد کسی کی بیوی سے محبت کرے تو جائز ہے؟تو پھر اشنہ بھابھی بھی غلط نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کی باتوں پر وہ بلکل چُپ رہا تھا۔
“جہاں تک اُن کے تُمہاری زندگی میں جس بلیک میلنگ سے آنے کی بات ہے تو وہ تُم انکل مُصطفی سے بات کرو وہ ہی سارا معاملہ کلئیر کر سکتے ہیں کہ آخر ایسا بھی کیا ہوا تھا جو وہ اتنا بڑا قدم اُٹھا گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بابا سیدھے مُنہ بات نہیں کر رہے اُنکو تو بس وہی نظر آ رہی ہے،اُسے چھوڑنے کی بات کرتا ہوں تو بابا پریشر میں آ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔”فردین غُصے میں آیا۔
“تُم نے اُنکو چھوڑنا کیوں ہے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کے پوچھنے پر فردین نے اُسے گھورا تھا۔
“تو اور کیا اُس مصیبت کے ٹوکرے کو ساری زندگی سر پر سجا کر رکھوں،زری کبھی بھی اُسے برداشت نہیں کرے گی،اُس کے ہوتے وہ رُخصتی نہیں کروائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فردین جب تُم کہہ رہے ہو کہ وہ اس بات پر ایگری ہے کہ وہ یہ گھر اور تُمہیں زری بھابھی کو دے کر چلی جائے گی تو پھر باقی مسلۂ کیا ہے،جب گھر زرلش بھابھی کا تُم اُسکے تُمہارا سارا وقت اور پیار اُنکے لیے تو پھر ایک نام اُسے دینے سے کیا جائے گا،وہ الگ اپنے گھر رہے گی کوئی ڈیمانڈ نہیں کرے گی پھر بھی مسلۂ ہے زرلش بھابھی کو،مرد تو ایک کو گھر میں بسا کر رکھتے ہیں دوسری کو ساری عُمر چُھپا کر رکھ لیتے ہیں اور تُم اپنا ایک نام نہیں دے سکتے،تُمہیں اُن پر ترس نہیں آتا کہ وہ ہر روز اپنی عزت نفس کو کُچل کر تُمہارے ساتھ کی بھیک مانگ رہیں،تُمہیں اتنا بتا دُوں جس دن تم اُنکو چھوڑ دو گئے نہ وہ سچ میں مر جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کی آخری بات پر فردین کا دل ایک پل کے لیے رُکا تھا پھر سر کو جھٹک کر ویٹر کی طرف دیکھنے لگا جو کھانا سرو کر رہا تھا۔
“______________________“
