No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
آج اسائمنٹ جمع کروانے کے چکر میں اُنکا پوائنٹ چُھوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے زرلش کو اب گھر کیسے جائے کی فکرمندی کھائے جا رہی تھی اور اشنہ اعوان جس کا گھر اُس کے رُوٹ کی طرف ہی تھا اُسے ڈراپ کرنے کی حامی بھرتے ہوئے اُسے اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور گاڑی سڑک پر فراٹے بھرنے لگی۔
“تُم اپنے شوہر نامدار کو کال کرتی کہ مُجھے آ کر پک لو،اسی بہانے ہم بھی اُسے دیکھ لیتے آخر یہ فردین مُصطفی چیز کیا ہیں جن کی وجہ سے زرلش مرتضی بلکہ زرلش فردین ہواؤں میں اُڑتی پھر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ جو اس سے کئ دفعہ فردین مُصطفی کو دیکھنے کی خواہش کر چُکی تھی مگر زرلش تھی کہ ہر دفعہ ٹال دیتی تھی اور ٹالنے کی وجہ کیا تھی یہ اشنہ کو ان چھ ماہ میں آج تک پتہ نہ چل سکا تھا۔
“بس میں چاہتی ہوں کہ جب تُم لوگ شادی پر آؤ تب ہی اُسے دیکھو اور۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور دیکھ کر بیہوش ہو جاؤ ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔”زرلش کی بات اشنہ نے شرارت سے کاٹی جس پر اُس نے گھور کر دیکھا۔
“یہ تو پتہ لگے گا کہ تُم بیہوش ہوتی ہو کہ ساکت اُسے دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا اتنا بُرا ہے،نام سے تو کافی پرسنالٹی والا لگتا ہے مُجھے،تُمہارے امی ابو کو ترس نہ آیا تُم پر اتنا کم شکل بندہ تُمہارے متھے لگا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کی آنکھوں میں شرارت اور لہجے میں تاسف تھا۔
“مار کھاؤ گی اب تُم مُجھ سے،لگتا ہے اب تُمہیں دکھانا ہی پڑے گا پھر ہی تم مانو گی کہ میرے ماں باپ نے وہ احسان کیا ہے مجھ پر جس کا میں کبھی بدلہ پُورا نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوئے ہوئے،اب تو دیکھنا ہی پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ اعوان کے لہجے میں تجسس صاف محسوس کیا جا سکتا تھا جو اُس کے گھر کے سامنے گاڑی روکنے تک قائم رہا تھا۔
“آ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش اُسے لیے اپنے پانچ مرلہ گھر میں لائی جو ہے تو چھوٹا سا گھر تھا مگر صاف سُتھرا تھا۔
“کیا تُمہارا شوہر یہاں رہتا تُم لوگوں کے گھر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ اعوان اس کے گھر کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“نہیں تو،اُنکا یہ سامنے والا گھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش کے اشارے پر اس نے مُڑ کر دیکھا وہ گھر زرلش کے گھر کے مقابلے میں کافی کشادہ اور دیکھنے میں اچھا خاصا تھا۔
“آؤ تُم اندر تو آؤ،امی اور مہوش سے بھی مل لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش نے اُسے وہی جمعے دیکھ کر کہا جو اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوئی جس کی بیل بجتے ہوئے اُسکی توجہ کا مرکز بن گئی۔
“جی ماما،اوہ شٹ،مُجھے تو بُھول گئی اُس کی برتھ ڈے،اوکے میں آ رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے اُس نے سیل آف کیا۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یار تُجھے صُبح بتایا تو تھا کہ نمل کی برتھ ڈے ہے رات کو،اُسکا برتھ ڈے گفٹ اُسکی پسند سے لینا تھا اور وہ اس وقت ہمارے گھر میں موجود ہے،اس لیے مجھے اب جانا ہوگا پھر کسی دن سہی اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ اعوان اُسے تفصیل سے بتا کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھی اور جب وہ گاڑی میں بیٹھ کر جا رہی تھی تبھی فردین مُصطفی کی بائیک اُن کے دروازے کے آگے رُکی تھی۔
“فردین،کاش تُم دو منٹ پہلے آ جاتے،میں نے تُمہیں اپنی دوست سے ملوانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش اُسے دیکھتے ہوئے اُس کے قریب آئی۔
“شُکر ہے میں لیٹ آیا ہوں کیونکہ مُجھے کسی سے بھی ملنے کا شوق نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بیزاری سے بولا جس پر زرلش مُسکرائی۔
“اس بات پر تو مجھے بہت خُوشی ہوتی ہے کہ تُم لڑکیوں سے الرجک ہو ورنہ تو مُجھے دھڑکا ہی لگا رہتا کہ کب تُم میرے ہاتھ سے نکل جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے ساتھ اُس کے گھر چلی آئی۔
“اتنا بے اعتبار سمجھ رکھا ہے کیا،اچھا میں فریش ہونے جا رہا ہوں اگر اس طرف آ ہی گئی ہو تو کھانا گرم دو،امی جان تو یقینناً نماز میں مصروف ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین مُصطفی اُسے کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ زرلش جسے خُود بھی بُھوک لگ رہی تھی اُسی کے ساتھ لنچ کرنے کے خیال سے مُسکراتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔
“_____________________“
“اُف ٹائم تو بہت ہو گیا،ایویں نمل کی باتوں میں آ گئی ورنہ ماما پاپا کے ساتھ ہی چلی جاتی میں۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔”وہ کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف نظر ڈال کر بڑبڑائی جہاں رات کے بارہ بج رہے تھے نمل جو اسکی خالہ کی بیٹی تھی جس کی برتھ ڈے پارٹی میں سب کزنز اکھٹے ہوئے تھے اور باتوں کے دوران وقت گُزرنے کا پتہ ہی نہ لگا تھا وہ جتنی مرضی آزاد خیال تھی مگر ہمیشہ رات کے سفر سے اُسکی جان نکلتی تھی اب ہر سُو پھیلے اندھیرے کو دیکھ کر وہ خُود کو ملامت کرنے لگی کہ کاش وہ صغیر اعوان اور تہمینہ اعوان کی بات مان کر اُنکے ساتھ ہی واپسی کی راہ لیتی یا نمل کے بے حد اصرار پر وہی رات ٹھہر جاتی اور وہ خُود کو کوس کر رہ گئی جب اُسکی گاڑی نے بھی اور چلنے سے انکار کر دیا تھا۔
“اوہ شٹ،اسے بھی ابھی ہی نخریلی دُلہن بننا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلی مگر سُنسان سڑک اور چار سو پھیلے اندھیرے کو دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوتی گاڑی میں بیٹھ کر ڈور لاک کرگئی اور موبائل نکالا جو کہ ڈیڈ ہوا پڑا تھا۔
“اوہ مائے گاڈ،یہ ہر مصیبت ایک ساتھ ہی نازل ہونی تھیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر کو تھام کر رہ گئی پھر گہرا سانس بھرتی گاڑی سے باہر نکلی اور سڑک کے دائیں بائیں دیکھا تبھی اُسے کسی گاڑی کی لائٹ پر اُسکی نظر پڑی جو رفتہ رفتہ اسکے قریب آ رہی تھی اُس سے مدد مانگنے کے خیال سے وہ تھوڑا سا چل کر سڑک کے درمیان آئی تا کہ گاڑی والا اسے دیکھ کر گاڑی روک دے اور ہوا بھی ویسا ہی تھا گاڑی رُک گئی تھی اور گاڑی سے نکلنے والا اُسکا سانس بھی روک گیا تھا۔
وہ جو کوئی بھی تھا اپنی پھر پور وجاہت سے اُسکا دل دھڑکا گیا تھا بیلو پینٹ پر وائٹ شرٹ ذیب تن کیے جس کے بازو فولڈ کیے ہوئے تھے سلکی بال جو کُچھ کشادہ ماتھے پر بکھرے تھے ستواں ناک بھرے بھرے لب جن کے اُوپر ترشی ہوئیں مونچھیں اور فیشنی داڑھی جو اُس کی مردانہ خوبصورتی میں اضافہ کیے ہوئے تھی اگر یہ کہا جائے کہ وہ حُسن میں یوسفِ ثانی تھا تو کُچھ غلط نہ ہوگا وہ اپنی پرسنالٹی اور وجاہت سے کسی بھی انسان کو پاگل کر سکتا تھا اور ایسا ہی اشنہ اعوان کے ساتھ ہوا تھا۔
“کیا مرد بھی اتنے گُڈ لکنگ ہوتے جیسے حُسن کا شاہکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے دماغ میں یہ بات آ سمائی یہ نہیں تھا اُس نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی خُوبصورت مرد نہیں دیکھے تھے دیکھے تو شاید ہزاروں تھے مگر جو اپنی خوبصورتی اور وجاہت سے سیدھا اس کے دل میں اُتر گیا تھا وہ یہی تھا ہاں وہ فردین مُصطفی تھا جس کے اندر اتنی کشش تھی کہ وہ کسی کو بھی مسرائمز کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا جسے بنا پلک جھپکے وہ دیکھ رہی تھی جو اب اسے اپنی طرف یوں ٹکٹی باندھے دیکھ کر کُچھ ناگواری سے دیکھ رہا تھا۔
“ایکسیوزمی مس،اگر آپ اپنے اس مراقبے سے نکل کر میری آواز سُن لیں تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہے تو بتائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین مُصطفی سپاٹ انداز میں بولتا اُسے شرمندہ کر گیا۔
“اوہ صوری،اصل میں،میری گاڑی خراب ہوگئ چل نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ اپنے دل کو سھنبالتے ہوئے بولی جو بار بار اُسے دیکھتے رہنے کی خواہش کر رہا تھا۔
ق”آپ پیچھے ہٹیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین مُصطفی نے اُسکی بلیک پجارو کی طرف نگاہ کی اور پھر اس کے پیچھے ہو جانے پر وہ گاڑی کا بونٹ اُٹھا کر دیکھنے لگا جبکہ اشنہ اعوان پھر سے اسے دیکھنے میں مصروف ہو چُکی تھی اُسکی گاڑی کے بونٹ پر وہ جُھکا جس سے اُسکی پیشانی کے بال اُسکے ماتھے پر آ گرے جن کو پیار سے پیچھے کرنے کی خواہش اشنہ اعوان کے دل نے کی جسے وہ بُری طرح ڈپٹ گئی۔
“کنڑول اشنہ،یہ کیا کر رہی ہو کیا پہلے کبھی خُوبصورت انسان نہیں دیکھا،پر دل کیوں اس کی طرف کھینچے جا رہا کیوں میرے اختیار سے باہر ہو رہا یہ،کیوں اس انسان کی طرف ہمک ہمک کر بڑھ رہا جس کے نام سے بھی واقف نہیں میں،آخر کیوں یہ ایسے دھڑک رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خُود سے ہمکلام تھی اور اُسے دیکھنے میں اتنی محو تھی کہ اُسے اپنی طرف حیرانگی سے دیکھتے پا کر نہ چونکی اور نہ اُسے اپنے قریب دیکھ کر حواسوں میں آئی۔
“آپکی گاڑی اب ٹھیک ہے،بس ایک چھوٹا سا مسلۂ تھا جو سولو ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ شُکریہ آپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرائی حالانکہ دل دُہائی دینے لگا تھا کہ کاش گاڑی ٹھیک نہ ہوتی۔
“ویلکم اینڈ بائے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا کہ بےاختیار اشنہ نے اُسے آواز دی تھی۔
“سُنیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُڑ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جو اب ہاتھ مسلتے ہوئے کُچھ سوچ رہی تھی شاید الفاظ جمع کر رہی تھی۔
“اب بولیں گی بھی کُچھ کہ میں چلوں۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ کُچھ جھنجھلا یا تھا۔
“وہ کیا میں آپکا نام پوچھ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”وہ جھجھک کرپوچھنے لگی۔
“کیوں،میرا نام جان کر آپ کو کیا کرنا ہے،میں نے آپکی پرابلم سولو کر دی اور آپ نے شُکریہ بھی کر دیا اب بات ختم۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جتنا خُوبصورت تھا اُتنا سڑو بھی تھا اس لیے تو اشنہ اعوان کو کسی خاطر میں نہ لایا تھا جو خُود حُسن میں کسی سے کم نہ تھی۔
“کتنا ایٹیٹیوڈ ہے اس میں،اُف ظالم کو سُوٹ بھی تو کرتا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی پُشت کو دیکھتے ہوئے بولی جو گاڑی میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا جبکہ اشنہ نے جلدی سے اسکی گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔
“تُمہیں تو اب ڈھونڈنا ناگریز ہو گیا ہے مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو ہو لی جتنا ناگوار یہ سفر اُسکو تھوڑی دیر پہلے لگ رہا تھا اُتنا ہی اب وہ انجوائے کرتی جا رہی تھی۔
“______________________“
“اشنہ بی بی اُٹھ جائیں،بڑی بیگم بُلا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جینی اُسے پانچویں دفعہ بُلانے آ چُکی تھی مگر وہ تھی کہ ٹس سے مس نہ ہو رہی تھی مگر تہمینہ اعوان کے آڈر کی تکمیل کرتے ہوئے اب اُسے اُٹھانا لازمی تھا اس لیے پُورے دس منٹ کی مشقت کرواتے ہوئے آخر کار وہ اُٹھ ہی گئی تھی۔
“کیا جینی اتنی جلدی اُٹھا دیا آج تو آف ہے میرا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انگڑائی لیتے ہوئے بولی۔
“بڑی بیگم یاد کر رہی ہیں آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔”جینی کی اطلاع پر وہ سر ہلاتی واش رُوم میں گئی وہاں سے تیار ہو کر وہ ناشتے کی ٹیبل پر آئی جہاں تہمینہ اعوان کہیں جانے کے لیے تیار تھیں۔
“مارننگ مام،ڈیڈ چلے گئے آفس۔۔۔۔۔۔؟
“جی وہ تو چلے گئے اور میں بھی انجیو جا رہی وہاں نیو برانچ کا آج افتتاح ہے،آپ ناشتہ کر کے بوتیک جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔”تہمینہ اعوان کی بات پر وہ مُنہ بسورنے لگی۔
“وہاں کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مسز ہمدانی چُھٹی پر ہیں اُنکی جگہ آج آپکو آفس کا ورک آؤٹ کرنا ہوگا،اوکے بائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی ساڑھی کا پلو دُرست کرتے ہوئے جینی کو اپنا بیگ اُٹھانے کا اشارہ کرتے ہوئے چلی گئیں اُنکے پیچھے جینی بھی چلی گئی۔
“اُف ایک تو رات بھر اُس مسٹر ایٹیٹیوڈ نے نیند اُڑائے رکھی اور اب باقی کی بورنگ آفس ورک۔۔۔۔۔۔۔”وہ جوس پیتے ہوئے خُود سے ہم کلام ہوئی پھر جیسے کوئی دماغ میں جھمکا ہوا تھا۔
“مُجھے یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑائی اور بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی موبائل پکڑ کر حیدر کا نمبر نکالا اور موبائل کان سے لگا کر دوسری طرف سے کال ریسیو ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
“ہاں بولو اشنہ خیریت۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اُسکا نمبر دیکھ چُکا تھا۔
“تُم اپنے آفس میں ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ابھی آیا ہوں،تُم بتاؤ پولیس والے سے کام ہے کہ اپنے کزن سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے بولنے پر وہ مُسکرائی۔
“پولیس والے سے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مُجھے کسی کے بارے میں ساری ڈیٹیلز چاہئیے،میرے پاس اُسکی گاڑی کا نمبر ہے،تُم پولیس میں ہو پتہ لگوا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ تو لگوا سکتا ہوں پر کون ہے وہ اور کیوں یہ کیا جان سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر ایک پولیس والا تھا یہ کیسے ہو سکتا تھا وہ بنا تفشیش کوئی کام کر دیتا اشنہ نے گہرا سانس بھرا اور گہرا جُھوٹ بولنے کے لیے خُود کو تیار کیا۔
“وہ کل میری گاڑی خراب ہو گئی تھی تو میں نے اس گاڑی والے سے لفٹ لی تھی اور میرا ہینڈ بیگ اُسکی گاڑی میں رہ گیا جو مجھے گھر آ کر یاد آیا اُس کے اندر میرا ڈائمنڈ کا سیٹ اور کُچھ ضروری ڈاکیومینٹس تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ،اوکے تُم نمبر سینڈ کرو میں پتہ کرواتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے اتنی جلدی مان جانے پر وہ شُکر کرتی اُسے نمبر لکھوا گئی جو وہ طوطی کی طرح رٹ گئی تھی۔
اور پھر پندرہ منٹ بعد اُسے حیدر کے نمبر سے ایک میسج وصول ہوا جو اُسے چونکا گیا۔
“نام فیاض چوہان،عُمر اٹھائیس سال،ورکشاپ کا اونر ہے اور اقبال ٹاؤن کا رہائشی ہے اس وقت تھانے میں ہے جلدی آؤ۔۔۔۔۔۔۔”
“اُف حیدر یہ کیا کیا تُم نے،کیا سوچے گا وہ میرے بارے ایک تو میری مدد کی اُلٹا اُس پر جھوٹا الزام لگوا کر پولیس اسٹیشن بلوا لیا اُف۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر تھام کر بیٹھ گئی۔
“اب کیا کروں حیدر تو ایسے اُسے چھوڑے گا نہیں،ایسا کرتی ہوں چلتی ہوں وہاں جا کر مُکر جاؤنگی کہ وہ کوئی اور تھا،ہاں یہی ٹھیک رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خُود کو تسلی دیتی خُود پر ایک نظر ڈالتی باہر چل دی۔
“__________________“
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ پولیس اسٹیشن میں قدم بڑھاتی حیدر کے کمرے کی طرف آئی اور ایک گہرا سانس بھر کر خُود کو اُسکا سامنا کرنے کے لیے تیار کیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی جہاں حیدر کے علاوہ ایک اور انسان بیٹھا تھا جو اُسکی طرف پیٹھ کر کے بیٹھا تھا اس لیے وہ اُسکا چہرہ دیکھ نہ پائے تھی۔
“آؤ اشنہ،تُمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا مگر فیاض صاحب تو مان ہی نہیں رہے۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے کہنے پر دونوں نے بے ساختہ ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا فیاض چوہان کے ایکسرپیشنز میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا مگر وہ مُنہ کھولے ہکا بکا رہ گئی۔
“میں تو ان میڈم کو دیکھ بھی پہلی مرتبہ رہا ہوں انسپکٹر صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کی بات پر حیدر نے سوالیہ نظروں سے اشنہ کو دیکھا۔
“ہاں یہ سچ کہہ رہے یہ وہ نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ پھیکے سے انداز میں بولتی کُرسی پر ٹک گئی۔
“مگر گاڑی تو انکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا پتہ انکی گاڑی میں کوئی اور ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کی بات پر فیاض نے سر نفی میں ہلایا۔
“میری گاڑی میرے پاس ہی رہتی ہے،اور کوئی کیسے لے کے جا سکتا ہے،ویسے کس دن کی بات ہے یہ محترمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کل رات کی۔۔۔۔۔۔۔۔”جواب حیدر کی طرف سے آیا تھا۔
“کل رات تو میرے ایک دوست نے مُجھ سے گاڑی لی تھی وہ بھی اُسکی بائیک خراب ہو گئی تھی مگر میں اُسکی گارنٹی کیا قسم بھی دینے کو تیار ہوں کہ وہ اس طرح کا کام کبھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ جو مُنہ لٹکا کر بیٹھ گئی تھی اُسکی بات پر پھر سے پُرجوش ہو اُٹھی تھی۔
“ہاں آپکے اُسی دوست نے چُرایا میرا بیگ۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر میم وہ ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“جیسا بھی ہے مسٹر فیاض آپ اُسے ابھی یہاں بُلائیے تا کہ یہ مسلۂ حل ہو جائے دیکھئیے آپ مُجھے بہت شریف انسان لگ رہے ہیں اس لیے میں یہ معاملہ ایسے ہی حل کر دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے نرمی سے کہنے پر وہ سر ہلاتا اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوا تو اشنہ جلدی سے اُسے ٹوک گئی۔
“نہیں نہیں آپ اُسے مت بلائیں یہاں میں خُود اُن سے کنفرم کر لونگی آپ بس اُنکا نمبر دے دیں مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر دونوں حیران ہی رہ گئے جبکہ وہ گڑبڑا کر وضاحت دینے لگی۔
“میرا کہنے کا مطلب ہے کہ انہوں نے ابھی کہا نہ کہ اُنکی گارنٹی یہ دیتے ہیں تو میں اپنی تسلی کے لیے اُن سے خُود پوچھ لیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو یہی سب کے سامنے بات ہو جائے تو ذیادہ اچھا ہے،آپ بُلائیے اُنکو۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے کہنے پر فیاض نے فردین مُصطفی کو ساری بات بتا کر آنے کا کہا جس پر وہ ششدرہ ہی تو رہ گیا کہ ایک تو اتنی رات گئے اُس لڑکی کی مدد کی دوسرا اُوپر سے یہ الزام کوئی بھی شریف آدمی یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔
اور جب دس منٹ بعد وہ انکے پاس آیا تو شرمندگی سے اشنہ اعوان سے سر ہی نہ اُٹھایا گیا بس نگاہ اُسکے لیدر کی چپل سے نکلتے سفید پاؤں پر ہی جمائی رکھی۔
“تو جی مس اب فرمائیے،کب لفٹ دی میں نے آپکو اور کب آپ اپنا بیگ میری گاڑی میں بُھول کر گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین مُصطفی نے بھینچے ہوئے لہجے میں کہا تھا جس پر وہ سر اُٹھا کر اُسے دیکھنے لگی جس کی گرے آنکھوں سے برہمی صاف دیکھی جا سکتی تھی وہ اس وقت سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس تھا اور یہ سادہ سا لباس بھی اُسکی شخصیت میں چار چاند لگا رہا تھا جو بات دن کے اُجالے میں اُسے روبرو دیکھنے کی تھی وہ رات کے اندھیرے میں کہا تھی وہ اُسکی سحر انگیز شخصیت سے بمُشکل خُود کو نکال پائی تھی۔
“یہ،یہ بھی وہ نہیں ہیں وہ کوئی اور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ حیدر سے بولی جو گہرا سانس لیتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
“اشنہ کیا ہو گیا ہے تُمہیں،گاڑی کا نمبر انکا تھا اور ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آئم صوری اصل میں مُجھے غلط فہمی ہو گئی تھی انکی گاڑی کا نمبر دیکھا تو سب گُھل مل گیا،آئم صوری فیاض صاحب اور مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھ کر لب کاٹ کر رہ گئی جس نے ایک تپتی نگاہ اس پر ڈال کر قدم باہر کو بڑھا دئیے تھے۔
“اٹس اوکے مس،ہو جاتا کبھی کبھی ایسے،اوکے انسپکٹر صاحب اب اجاذت ہے۔۔۔۔۔۔۔”فیاض نے اس سے کہہ کر حیدر کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے اُس نے خوشدلی سے تھام لیا۔
“میں معذرت چاہتا ہوں آپکو ایسے تکلیف دی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اٹس اوکے،کوئی بات نہیں،بائے۔۔۔۔۔۔۔۔”فیاض کہہ کر باہر چلا گیا تو حیدر نے غُصے سے اُسے گھورا جو کہ پلٹ کر باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔
“آئم صوری حیدر،بس غلطی ہو گئی پلیز تُم ماموں یا مما لوگوں سے کوئی بات نہ کرنا،باقی بات کال پہ ہو گی ابھی زرا جلدی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکے روکنے کے باوجود باہر آئی جہاں اُسے وہ فیاض کی گاڑی میں بیٹھتا ہوا دکھائی دیا اشنہ نے گاڑی اُنکی گاڑی کے پیچھے کر کے اُنکو اپنے فوکس میں رکھا جنہوں نے دس منٹ بعد ہی اپنی گاڑی کسی کیفے کے سامنے روکی تھی پھر دونوں اُتر کر اندر چلے گئے جبکہ اشنہ اعوان نے وہی دھوپ میں کھڑے ہو کر کبھی گاڑی کے اندر بیٹھ کر دو گھنٹے اُنکا انتظار کیا ایک عام سے انسان مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے فردین مُصطفی کا انتظار اشنہ اعوان نے کیا جس کی ماں تہمینہ اعوان سے مُلاقات کرنے کے لیے لوگ دس دن پہلے وقت لیتے تھے جس کے باپ صغیر اعوان سے ملنے کے لیے سب دُعائیں مانگتے تھے اُنکی اکلوتی بیٹی اشنہ اعوان نے ایک مرد کا انتظار اُس سڑک پر کھڑے ہو کر کیا جسکا اگر وہ اپنے بابا کو کہتی تو وہ پُورا کیفے ہی اسے خرید کر دے دیتا۔۔پر یہ محبت تھی جو یوں عام سے خاص اور خاص سے عام بنا دیتی ہے۔
“______________________“
