Dil Musafir Tum Manzil By Amreen Rayaz Readelle50191 Last updated: 25 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Dil Musafir Tum Manzil
By Amreen Rayaz
آج پھر وہ اُسی شو رُوم کے سامنے تھی جس کے سامنے کل اُس نے اُن دونوں کو اندر جاتے دیکھا تھا اور اسے یہ پتہ لگ چُکا تھا کہ یہ انکی ملکیت ہے آج بھی وہ یہاں آئی تو فیاض کو شو رُوم سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ شُکر کا کلمہ پڑھتی اُسے گاڑی میں جاتا دیکھ کر وہ شو رُوم کے اندر آئی جہاں ہر طرح کی گاڑیاں ڈسپلے کی ہوئی تھیں وہ اندر گئی تو ایک لڑکا بھاگتا ہوا اسکے قریب آیا۔ "ویلکم میم،آپکو کو کس طرح کی گاڑی چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔"اُس کے پوچھنے پر اشنہ نے ادھر اُدھر دیکھا اور پھر بولی۔ "مُجھے سوک چاہئیے نیو ماڈل،اصل میں،میں فیاض کی کزن ہوں تو اُس نے مُجھے کہا کہ آج آنا پر وہ خُود تو لگتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسکے جُھوٹ پر وہ لڑکا جلدی سے چوکس ہوا۔ "ارے میم آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپ سر کی کزن ہیں،آئیے نہ اُن کے آفس میں،سر کسی کام سے باہر گئے ہیں گھنٹے تک آئیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "اوہ اچھا،کوئی بات نہیں میں یہی کمفرٹیبل ہوں،کیا نام ہے آپکا۔۔۔۔۔۔۔" "جی ثقلین۔۔۔۔۔۔۔" "نائس نیم۔۔۔۔۔۔"اسکے سہرانے پر وہ خُوش ہوا۔ "تو ثقلین آپکے سر فیاض کا وہ دوست کیا نام تھا اُف بُھول گئی جو کل تین بجے فیاض کے ساتھ آیا تھا بلیک کپڑوں میں،کیا نام تھا اُسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "فردین صاحب۔۔۔۔۔۔۔"وہ جو ایکٹنگ کر رہی تھی اسکے بتانے پر خوشگوار مُسکراہٹ اُسکے لبوں پر پھیلی۔ "ہاں وہی فردین۔۔۔۔۔۔"اُس نے اپنے خُوبصورت لبوں سے یہ نام کسی ساز بجاتی دُھن کی طرح ادا کیا تو خُوشبو کی طرح وہ اُسکے اندر تک پھیل گیا۔ "تو آپکے پاس اُنکا نمبر تو ہوگا،اصل میں ابھی فیاض نے بتایا کہ وہ فردین کے ساتھ ہے اور اب فیاض کا نمبر بند جا رہا ہے تو میں نے سوچا اُنکو کال کر لُوں۔۔۔۔۔۔۔" "فردین صاحب کا نمبر میرے پاس تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسکی بات پر اشنہ مایوسی سے گہرا سانس بھر کر رہ گئی کہ جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اتنے جُھوٹ اور ڈرامے کر رہی تھی وہ تو اُسکے پاس تھی نہ۔ "پر مینیجر صاحب کے پاس ضرور ہوگا،وہ بھی اُنکے کالج فرینڈ رہ چُکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔" "ارے تو جائیے نہ،جلدی سے نمبر لے کر آئیے۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس کے کہنے پر وہ چلا گیا اور پانچ منٹ بعد آیا تو اُس نے ایک چٹ اشنہ اعوان کی طرف بڑھائی جس نے کسی خزانے کی طرح اُسے بے تابی سے پکڑا تھا۔ "اوکے شُکریہ مسٹر ثقلین،بائے۔۔۔۔۔۔۔"وہ جلدی میں کہتی اُسکا جواب سُنے بغیر باہر اپنی گاڑی میں آئی اور کاغذ پر لکھے فردین کے نام اور نمبر کو لبوں سے لگا لیا۔ "اب تُمہارے تک آنا مُشکل نہیں رہا فردین۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ مُسکرائی تھی اور پھر اس نام پر غور کرتی وہ کُچھ چونکی۔ "زرلش کے شوہر کا بھی یہی نام تھا،کئی نام ایک جیسے ہوتے ہیں،ویسے بھی کہاں زرلش اور کہاں میرا فردین،اُسکا کوئی اُس جیسا ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔"وہ دل کو تسلی دیتی گاڑی سٹارٹ کر گئی۔ "___________________________________"
