No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
وہ بہت خُوشی خُوشی زری کے گھر سے واپس آئی تھی کہ زری انکے رشتے کو برقرار رکھنے پر مان گئی تھی اور رُخصتی کروانے پر بھی رضامند ہو گئی تھی یہی بات آ کر جب اس نے فردین مُصطفی سے کی تو وہ حیرانگی سے اس کے چہرے پر چھائی خُوشی کو دیکھنے لگا۔
“تُم تو ایسے خُوش ہو رہی ہو جیسے اُس نے سُاری عمر تُمہیں سوکن کے رُوپ میں برداشت کرنے کا صندیسہ دے دیا ہو۔۔۔۔۔”فردین مُصطفی کو اُسکی خُوشی ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔
“تُمہارا نام مُجھ سے وہ چھین نہیں رہی کیا یہ کم خُوشی ہے فردین،تُم نہیں سمجھو گئے۔۔۔۔۔۔۔”وہ بیڈ پر آلتی پاتی مار کر بیٹھ گئی۔
“تُمہارا پاگل پن تو میں سمجھ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے گھورتا بیڈ پر آ کر لیٹ گیا اشنہ اسے بیڈ پر لیٹے دیکھ کر اُٹھنے لگی۔
“کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔”فردین بولے بنا نہ رہ سکا۔
“اپنے بستر پر۔۔۔۔۔۔۔”
“کُچھ دنوں کی مہمان ہو کیا بے آرام کروں تُمہیں یہی سو جاؤ۔۔۔۔۔۔”اشنہ تو اُسکی بات پر بھونچکی ہی رہ گئی جو اب کروٹ بدل گیا تھا وہ کنارے پر لیٹتی اُسکی پُشت دیکھنے لگی جو دوسری طرف مُنہ کیے لیٹا تھا وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے دوبارہ اسے صوفے پر لیٹے دیکھ کر پوچھا۔
“کیا فائد تُمہارے قریب لیٹنے کا جب تُم یوں چہرہ موڑ کے لیٹو گئے،اس سے تو بہتر یہ صوفہ ہے کم از کم نظروں کے سامنے تُمہارا چہرہ تو ہوتا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کے جواب پر وہ ساکن ہوا تھا بے خُود سا ہو کر اسے دیکھنے لگا جو آنکھوں میں محبت کی قندلیں لیے اسے آنکھوں سے دل میں اُتار رہی تھی۔
“زہر لگتی ہو تُم مجھے۔۔۔۔۔۔۔”فردین اپنی نظروں کی لگن کے برعکس بولا تھا۔
“اگر امرت لگتی تو کیا پی جاتےتُم۔۔۔۔۔۔”وہ کہاں آگے سے سیدھی تھی فوری جواب دے گئی فردین نے بھنویں اُچکا کر اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔
“اس بات کا مطلب سمجھتی ہو تُم۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں،تم بتا دو۔۔۔۔۔۔۔”
“اس طرح کی باتوں کے مطلب بتائے نہیں عمل کر کے سمجھائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ معنی خیز لہجے میں بولا تھا مگر اشنہ اسکے جملے زیر غور کرتی اُسکی آنکھوں کی انوکھی چمک کو فراموش کر گئی تھی جو اب گہرا سانس بھرتا سونے کی تیاری کرنے لگا تھا۔
“_____________________“
فردین مُصطفی نے جب زرلش سے بات کی تو وہ مُکر گئی۔
“ایک نمبر کی جھوٹی ہے وہ فردین،دیکھو تو اب تُمہیں مُجھ سے بدظن کرنے کے لیے جُھوٹوں پر اُتر آئی بھلا میں تُمہارا سودا کر سکتی ہوں کسی بھی قیمت پر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے یقین دلایا تھا فردین بے ایک نظر اُس کے چہرے پر ڈالی تھی جہاں اُس کے چہرے کا پھیکا رنگ اُسکے لہجے کی چُغلی کھاتا فردین کو اصل بات سمجھا گیا تھا۔
“وہ تو کہہ رہی تھی کہ تم اس بات پر راضی ہو،خیر میں بھی اب اس بات پر متفق ہوں کہ اُس کی بات مان لی جائے،وہ میرے نام پر ساری زندگی گُزارنا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے گُزار لے۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین کے کہے پر وہ چونکی۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو تُم،ہم کیسے اُسے عذاب کی طرح اپنے سر پر رکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“کیسا عذاب زری،جب وہ کہہ رہی کہ وہ ہماری زندگی سے دُور چلی جائے گی،کوئی حق کوئی طلب نہیں ہو گی اُسکی تو ہمیں پھر کس بات کی پریشانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہہ رہا تھا اور زری حیران پریشان اُسکی طرف دیکھ رہی تھی کہ کُچھ دن پہلے تک اُسکا نام نہ سُننے والا آج اُسکی حمایت میں بول رہا تھا اُسکے دماغ میں صفیہ کی کہیں باتیں گونجنے لگیں۔
“وہ صرف ڈرامہ کر رہی فردین کہ تُم اُسے طلاق نہ دو،تُم خُود سوچو کہ صرف نام پر وہ ساری زندگی کیسے گُزار سکتی ہے بلکہ کوئی بھی نہیں گُزار سکتا۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ گُزار سکتی ہے زری،بلکل پاگل ہے یار وہ بلکل،سر پھری ہے۔۔۔۔۔۔”اُس کے پاس سے اُٹھتا ہوا کہہ گیا۔
“تو نام کہ بغیر بھی گُزار لے،کوئی فرق تو نہیں پڑنا،تُم بس طلاق کے پیپرز بنواؤ میں تایا جان سے خُود بات کر لونگی،اس سے پہلے تُم اُس سے گھر اپنے نام کروا لینا۔۔۔۔۔۔”زرلش کی بات پر وہ مُڑ کر اُسے دیکھنے لگا۔
“گھر تو حق مہر میں لکھ دیا گیا ہے وہ کیسے واپس لے سکتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسکی شرط مان کر ہم اُس سے گھر واپس لکھوا لیتے ہیں،پھر اُسے طلاق کے پیپرز دے کر چلتا کر دیں گئے،وہ ہے بھی اسی لائق،اُسے بھی پتہ چلے کسی کا گھر اور شوہر چھیننا کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش زہرخند لہجے میں بولی تھی یہ نوٹ کیے بنا کہ فردین کے چہرے پر اُسکی بات سے کس قدر ناگواری آ گئی تھی۔
“___________________“
وہ کمرے میں آیا تو اشنہ کمرے میں نہیں تھی وہ واپس ہال میں آیا مگر وہ اُسے کہیں دکھائی نہ دی۔
“کہاں چلی گئی یہ۔۔۔۔۔”وہ ا سکی تلاش میں باہر جانے لگا کہ وہ اسے مُصطفی کمال کے کمرے سے نکلتی دکھائی دی ہاتھ میں کوئی فائل تھی۔
“آگئے تُم،انکل تُمہارا پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔”اسے دیکھ کر بولی جو بنا جواب دئیے کمرے میں چلا گیا اشنہ اس کے انداز پر غور کرتی کمرے میں آئی وہ صوفے پر بیٹھا تھا۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔”
“کُچھ نہیں تُم کیا لینے گئی تھی زری کے پاس،خبردار اگر آج کے بعد تُم اُس کے پاس گئی تو۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی انوکھی بات پر وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی۔
“کیا زری نے کُچھ کہا ہے۔۔۔۔۔؟وہ اسکے خواہ مخواہ کے غُصے سے اندازہ لگانے لگی۔
“جس نے بھی کُچھ کہا ہے تُمہیں اُس سے کیا،تُم کیا پوری دُنیا سے فردین مُصطفی کو مانگو گی،کیا تُمہاری کوئی عزت نفس بھی ہے کہ کوئی نہیں جو تم یوں سب کے ترلے کرتی پھر رہی ہو،اس طرح کرنے سے کیا تُمہیں میرا ساتھ مل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا لہجہ بہت تپہ ہوا تھا جس پر اشنہ بس چُپ چاپ اُسے بھڑکتا ہوا دیکھ رہی تھی جو اب سر ہاتھوں میں تھام گیا تھا۔
“میں بہت پریشان کر رہی ہوں تُمہیں فر۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دفعہ ہو جاؤ یہاں سے،میری نظروں سے دُور۔۔۔۔۔۔۔”وہ یکدم دھاڑ اُٹھا اشنہ ہڑبڑا کر کمرے سے نکلی تھی اُس کے جانے کے بعد فردین خُود کو کوس کر رہ گیا گہرا سانس بھرتا خُود کو ریلیکس کیا وہ حیران تھا اپنی حالت پر کہ اسے اچانک ہوا کیا ہے دس منٹ تک اُسکا انتظار کرتا رہا جب اُسکی واپسی نہ ہوئی تو اُٹھ کر باہر آیا۔
“کس کو ڈھونڈ رہے ہو فردین۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم نے اسے ادھر اُدھر دیکھتا پایا تو پوچھنے لگیں۔
“وہ ایک ہی جو ُمجھے پاگل بنا رہی ہے،کہاں گئی ہے۔۔۔۔۔۔”
“شاید کچن میں۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم نے اُسے کچن میں جاتے دیکھا تھا وہ سر ہلاتا کچن میں آیا جہاں وہ ٹیبل پر بیٹھی رونے میں مشغول تھی فردین خُود کو ملامت کرنے لگا۔
“کیا اس سے بہتر جگہ نہیں ملی تھی رونے کے لیے۔۔۔۔۔۔”فردین کی آواز پر وہ بے دردی سے آنسو صاف کرتی رُخ موڑ گئی۔
“میں تو ایک عذاب میں مبتلا ہو گیا ہوں،اُدھر جاؤں تو اُس کے آنسو ادھر آؤں تو تُمہاری آنکھوں سے بہتا جھرنا۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے ساتھ کُرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
“چُھوٹ جائے گی تُمہاری اس عذاب سے جان۔۔۔۔۔۔۔”آنسو لڑیوں کی صُورت بہنے لگے تھے جنکو فردین نے ہاتھ بڑھا کر شرف مقبولیت بخشا تھا اشنہ اسکی جسارت پر اُسے دیکھنے لگی فردین اسکی بھیگی پلکوں کو دیکھ کر بے خُود ہوا تھا پھر اسی بے خُودی میں جُھکتے ہوئے اُسکی بھیگی آنکھوں کو چومتا سب فراموش کر گیا تھا اشنہ تو دم بخود رہ گئی تھی۔
“مجھے نہیں لگتا اب مُجھے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔”فردین کے لبوں پر مُسکراہٹ چمکی تھی جس سے نظریں چُراتی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی اور بنا دیکھے کمرے میں چلی آئی اُسکی دھڑکن ابھی بھی معمول سے ہٹ کر چل رہی تھی۔
“یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔”فردین کے ہاتھ میں وہ فائل تھی جو کُچھ دیر پہلے وہ مُصطفی کمال کے رُوم سے لے کر نکلی تھی۔
“یہ گھر کے پیپرز ہیں،میں نے یہ گھر زری کے نام کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔”اشنہ کے بتانے پر وہ چونکا تھا اُس کے زہن میں زری سے ہوئی باتیں گونجنے لگیں اُس کے ماتھے پر آئے دو گہرے بل اشنہ صاف محسوس کر سکتی تھی۔
“تُمہیں اتنی اچھی بننے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے پیپرز پھاڑ دئیے۔
“یہ کیا کیا۔۔۔۔۔۔”اُسکا مُنہ حیرت سے کُھل گیا ۔
“یہ گھر تُمہیں حق مہر میں ملا ہے نہ تو اب اسے واپس کرنے کی کیا ضرورت۔۔۔۔۔۔۔”
“پر زری۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُس کے لیے اور گھر بن جائے گا۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے کہتے ہوئے لائٹ آف کی تھی جسکا مطلب تھا اب کوئی اور بات نہیں کرنی ہے۔
“____________________“
فردین مُصطفی عجیب سے دوڑاہے پر آ کھڑا ہوا تھا اُسکا دل ایک الگ ہی راگ الاپنا شروع ہو گیا جسکو وہ سمجھ کر بھی سمجھنا نہ چاہتا تھا۔
مُصطفی کمال اور سُلطانہ بیگم رُخصتی کی ڈیٹ فائل کر آئے تھے مگر زرلش فردین کو مسلسل اشنہ کو چھوڑنے پر زور دے رہی تھی اور اشنہ سب سے اپنا غم چُھپاتی اپنے دل کو سمجھانے میں مصروف تھی۔
آج سارا دن آفس میں بھی اُسکا سوچتے ہوئے ہی نکل گیا تھا اس لیے جب رات کو گھر آیا تو کسی سے بات اور ڈنر کیے بغیر ہی اپنے کمرے میں گُھس گیا۔
اشنہ بھی چند لقمے زہر مار کرتی کمرے میں آئی پر اُسے پینٹ کوٹ میں ہی بیڈ پر لیٹے دیکھ کر کُچھ حیران ہوتی اُسکے پاس آئی۔
“کیا ہوا فردین،تُم ٹھیک ہو؟کھانا بھی نہیں کھایا تُم نے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے پاس ٹک گئی جو آنکھیں بند کیے لیٹا تھا اس کی آواز پر بھی آنکھیں نہیں کھولیں تھیں۔
“فردین۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ نے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا جو اُس نے بُری طرح جھٹک دیا تھا اشنہ جو پہلے ہی اس سے دُور جانے کے خیال سے غمگین تھی اس کے طرز عمل پر آبدیدہ ہونے لگی ا س کے آنسو چھلکنے لگے جن کو چُھپانے کو وہ اُٹھنے لگی مگر فردین نے ہاتھ بڑھا کر نہ صرف اُسے روکا تھا بلکہ اپنے قریب کھینچ لیا تھا وہ جو پہلے ہی تڑپ رہی تھی اُسکی باہنہوں کا سہارا پاتے ہی پگھل گئی تھی۔
“میں تُم سے بہت پیار کرتی ہوں فردین بے حد بے حساب،تُم سے دور جانا بہت مُشکل ہے،تُمہیں دیکھے بنا رہنا بہت تکلیف دہ ہوگا،تُمہاری آواز سُنے بغیر وقت گُزارنا عذاب لگے گا فردین۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے سینے میں سر چُھپائے سسک رہی تھی۔
“میں غلط تھی پر میری محبت غلط نہیں تھی فردین،میں بے بس تھی اور آج بھی بہت بے بس ہوں پر میں اپنے کیے کی سزا زری کو یا تُمہیں نہیں دُونگی،میں خُود چلی جاؤنگی تُم سے تُمہاری زندگی سے دور،پر یہ سب جان لیوا ہے سوچتی ہوں تو جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا دل نوحہ کناں تھا فردین سُرخ آنکھیں لیے بس سُن رہا تھا جو اپنا دل اپنا دُکھ اپنی بے بسی سب اُسکے سامنے کھول کر رکھ رہی تھی۔
“بہت چاہتی ہوں تُمہیں،تُمہیں پانا چاہتی تھی زری سے چھیننا نہیں،پر یہ بھی بہت ہے اب کہ میں تُمہاری ہوں تُمہارے نام سے جانی جاؤنگی،اشنہ فردین بن کر رہونگی اب،تُمہارے ساتھ گُزارا ایک پل بھی میرے لیے پوری زندگی ہے اور میں تُمہارے ساتھ گُزارے ہر پل میں سو سو بار جیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں سے نکلے جھرنے اُسکی شرٹ کو بھگو گئے تھے مگر وہ بلکل ساکت تھا ان لمحوں میں ہی اُس نے جانا تھا کہ محبت کیا ہوتی ہے اُسکا درد کیا ہوتا ہے جو وہ اس وقت اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا۔
اپنی سوچوں کے بھنور میں سے باہر نکلا تو اُسے خاموش دیکھ کر اُسکے چہرے پر نگاہ ڈالی جو اب نیند کی وادیوں میں اُتر چُکی تھی فردین نے اُس اپنے سینے سے اُٹھا کر بیڈ پر لٹایا اُس کے رخساروں پر چمکتے آنسوؤں کو صاف کیا اُس پر کمبل دیتے اُٹھ کھڑا ہوا۔
فریش ہو کر نائٹ ڈریس میں باہر آیا لائٹ آف کرتا اُس کے قریب لیٹ گیا کمبل اُس پر اور خُود پر اوڑھ کر اُسکی پیشانی پر لب رکھے پھر اُسکی قمر میں ہاتھ ڈال کر اُسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا جو فیصلہ وہ اتنے دنوں سے کر نہ پا رہا تھا وہ اُس نے آج کر لیا تھا۔
“_____________________“
“مُجھے آپ سے بات کرنی ہے بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُصطفی کمال کے رُوم میں داخل ہوتا ہوا بولا جو فردین کو دیکھ کر کتاب بند کرتے سر ہلا گئے وہ اُنکے قریب ہی دیوان پر ٹک گیا۔
“ہاں بولو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی طرف متوجہ ہوئے۔
“آپ ناراض ہیں مُجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر وہ حیرانگی سے کہہ اُٹھا.
“تو پھر اتنے دن آپ مُجھ سے خفا کیوں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“خفا نہیں تھا،تُمہیں پریشر میں رکھا تھا کہ کہیں تُم اشنہ کو چھوڑ نہ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو اب یہ پریشر نہیں رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں۔۔۔۔۔؟
“اب ضرورت نہیں کیونکہ میں بھی دو آنکھیں رکھتا ہوں۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر وہ زیر لب مُسکرایا تھا جنکی آنکھوں میں مُسکراہٹ تھی۔
“تو کیا چھوڑنا چاہتے ہو اشنہ کو۔۔۔۔۔۔”اُنہوں نے اسکے مُنہ سے سُننے کے لیے پوچھا۔
“چھوڑنا چاہوں بھی تو چھوڑ نہیں پاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے بسی سے بولتا اقرار کر گیا تھا اگر اشنہ یہ سُن لیتی تو پتھر ہو جاتی فردین مُسکرایا تھا اُسکو یاد کر کے جب وہ سُنے گی کیا ری ایکٹ کرے گی۔
“دو کو سنھمبال پاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کوشش پوری کرونگا،آپ جیلس تو نہیں ہونگے آپکو اس عمر تک بھی دوسری نہ ملی اور مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”شرارت سے فردین نے بات اُدھوری چھوڑی تھی مُصطفی کمال قہقہ لگا گئے۔
“میں تُمہارے ہونے والے حال سے ہی مستفید ہوتا رہونگا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بابا،اُس رات کیا کہا تھا صغیر اعوان نے آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس اُلجھن کو بھی سُلجھانا چاہتا تھا۔
“اب جاننا ضروری تو نہیں فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کر اپنے بیڈ کی طرف بڑھے۔
“میں سب کلئیر کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میرے پاس آیا تھا،رو رہا تھا اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے،یہاں تک کہ میرے پیروں کو بھی پکڑ گیا تھا اور میں کسی باپ کی اتنی بے بسی نہیں دیکھ سکتا تھا،جس کی بیٹی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھی،ایک جُھوٹ بھی بولا تھا اُس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
“یہی کہ فردین نے اُنکی بیٹی کو ہرے باغ دکھا کر چھوڑا تھا،یہ بھی کہ تُم اُسے پسند بھی کرتے تھے مگر ہماری وجہ سے اُسے چھوڑنے پر مجبور ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“آپکو لگتا تھا کہ میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
“بلکل نہیں تُم میرے بیٹے ہو،پر اُس دن ہسپتال میں تُمہیں اشنہ کے ساتھ پا کر لگا شاید کُچھ ایسا ہو،اور دیکھ لو ویسا ہی ہوا،چلو چھوڑو یہ بتاؤ دونوں کو ساتھ رکھو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپکو لگتا ہے دونوں ساتھ رہ سکتی ہیں بلکل بھی نہیں،زری یہی رہے گی اور اشنہ جو آفس کی طرف سے گھر ملا ہے فلحال۔۔۔۔۔۔”وہ رات کو سب پلان کر چُکا تھا۔
وہ اشنہ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا اُس کے آنے کا انتظار کرنے لگا جو سُلطانہ بیگم کے ساتھ گئی ہوئی تھی۔
“آ بھی جاؤ مس پاگل۔۔۔۔۔۔”وہ زیرلب بولتا مُسکرایا تھا اُسکا دماغ اب بلکل ریلیکس تھا وہ دونوں کو ساتھ رکھنا چاہتا تھا اور خُود کو اس چیز کے لیے تیار کر چُکا تھا کہ وہ دونوں کے حقوق خُوش اسلوبی سے پُورے کرے گا۔
اپنے موبائل کی بجتی ٹون پر وہ خیالوں سے نکلا تھا سکرین کی طرف دیکھا جہاں اشنہ کالنگ لکھا تھا۔
“کہاں ہو تُم۔۔۔۔۔۔۔”وہ موبائل کان سے لگاتا بولا مگر دوسری طرف سے سُلطانہ بیگم کی روتی آواز پر ساکت ہوا تھا۔
“فردین جلدی آؤ،اشنہ،اشنہ کا ایکسڈنٹ ہو گیا،وہ روڈ کراس کر رہی تھی،تُم جلدی آؤ،وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“____________________“
وہ سب فوری ہسپتال پہنچے تھے جہاں اُسے ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا اُسے گاڑی ٹکراتی گُزر گئی تھی اُس کے سر پر گہری چوٹ لگی تھی خُون بہت زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ڈاکٹرز نااُمید تھے صفیر اعوان اور تہمینہ اعوان بھی پہنچ چُکے تھے سب اپنی اپنی جگہ گھبرائے ہوئے دُعاؤں میں مشغول تھے فردین کو تو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اُسکی یہ تڑپ زری کی آنکھوں سے مُخففی نہ رہ سکی۔
“صغیر صاحب ادھر آئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دو گھنٹے بعد ایک ڈاکٹر رُوم سے نکلتا صغیر اعوان کو لیے واپس رُوم میں چلا گیا وہی ڈاکٹر دس منٹ بعد کمرے سے نکلتا سب کے حواسوں پر بم گرا گیا۔
“آئم صوری۔۔۔۔۔۔۔”ڈاکٹرز کے الفاظ اُسے ساکت کر گئے تھے اُس کے پیچھے کھڑیں سُلطانہ بیگم اور تہمینہ اعوان بھی دل پر ہاتھ رکھے وہی گرتی چلی گئیں تھیں اور زرلش تو پھٹی پھٹی نگاہوں سے کبھی روتیں سلطانہ بیگم کو دیکھتی تو کبھی ساکت تہمینہ اعوان کو پھر اُسکی نگاہ فردین مُصطفی پر ٹکی تھی جو پتھر کا مجسمہ لگ رہا تھا بس اُس کی آنکھوں سے گرتے آنسو ہی اُس کے زندہ ہونے کی نشان داہی کر رہے تھے۔
“مُجھے پاگل کہتے ہو تُم فردین مُصطفی یہ بھی تو سوچو یہ پگلی ہوئی بھی تو تُمہاری چاہت میں ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہیں میری محبت پر یقین کب آئے گا فردین جب تُم سے تُمہاری زندگی سے دُور چلی جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔”
“میں ساری زندگی تُمہیں بس دیکھ کر بھی گُزار سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔”
“میں تو تم پر مر گئی،کہتے ہو تو ہزار بار مرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تب وہ اُسکی بات پر طنزیہ ہسنے والا آج اپنے دل کو ہزاروں ٹکڑوں میں بٹا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
“مجھے تو بے صبری سے اُس پل کا انتظار ہے جس دن تُم مُجھے پُکارو گئے،میرا نام اپنے لبوں سے لو گئے شاید خُوشی سے ہی اُس دن مر جاؤں میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اشنہ۔۔۔۔۔۔۔”آج اسکے لبوں سے اُسکا نام نکلا تھا مگر وہ خُوشی سے مرنے کے بجائے پہلے ہی مر گئی تھی کسی کا شوہر کسی کی محبت اُسے واپس کرنے کے لیے کیونکہ جیتے جی وہ فردین مُصطفی کو خُود سے الگ نہیں کر سکتی تھی۔
“زری یہ جو میری سانس چل رہی ہے نہ صرف فردین کی وجہ سے،جس دن وہ دُور ہو گیا یہ سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زری کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار ہوئے تھے وہ سوچ رہی تھی کیا محبت کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں اتنی شدید محبت کے اُسے خُوش کرنے کے لیے آسانی سے اپنی جان تک بھی اُس پر نچھاور کر دیتے ہیں کیا وہ لوگ جو محبت میں موت کو بھی ہس کر گلے سے لگا لیتے ہیں وہی امر ہوتے ہیں کیا اشنہ بھی اُنہی لوگوں میں سے تھی۔
