Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 1

میٹنگ کے ختم ہوتے ہی وہ وہاں سے اُٹھی اور رُوم میں آ کر فریش ہونے لگی ٹائم دیکھا تو فلائٹ میں دو گھنٹے رہتے تھے وہ وقت گُزارنے کو ہوٹل کے انٹرس ایریا کی طرف آ گئی اور نگاہ سامنے سڑک پر دوڑتی بھاگتی گاڑیوں پر جما دی وہ اسلام آباد نہیں آنا چاہتی تھی بلکہ پاکستان بھی نہیں مگر جو آرڈر وہ اپنی سرپرستی پر تیار کر رہی تھی اُسکی ڈیلنگ کے لیے اسے آنا پڑا تھا یہاں آ کر اُن سب یادوں نے اسے پھر سے جکڑنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے اُسکا پیچھا تو نہیں چھوڑا تھا مگر مصروفیات کو اس قدر اُس نے خُود پر حاوی کر لیا تھا کہ فردین کی یادیں بس رات کی تنہائی میں ہی اسے اپنے دیس کا مساف بناتی تھیں اور وہ رات آنسوؤں اور غم میں ڈوبی ہی نکل جاتی تھی ان چھ سالوں میں کوئی ایسی رات نہ تھی جس میں وہ اُس درد میں تڑپتی نہ ہو جو آج سے چھ سال پہلے وہ اپنے فیصلے کی بنا پر زندگی بھر کا روگ دل کو لگا گئی تھی۔
بہت تکلیف دہ تھا وہ فیصلہ جو اس نے اپنے دل کو مار کر کیا تھا صرف کسی کو اُنکی خُوشیاں لوٹانے کی خاطر یا یوں کہہ لیں اُن دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے جو اُسکی ذات اُن سب کو دے چُکی تھی۔
جب اسے ہوش آیا تھا تب ہی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب اور تکلیف یا بے سکونی زری یا فردین کو جو وہ دے چُکی ہے اب اور نہیں یہ فیصلہ آسان تو نہیں تھا بہت اذیت ناک تھا مگر وہ پھر بھی کر گئی تھی جب اس کے بُلاوے پر صغیر اعوان آئے تو کُچھ پل تو وہ بھی سناٹے میں رہ گئے تھے۔
“اشنہ،میری بچی یہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پلیز پاپا میری بات مان لیں،جا کر سب کو کہہ دیں کہ اشنہ مر گئی ہے،میں غلط تھی پاپا میری محبت غلط تھی میں نے مان لی اب اپنی غلطی،فردین اور زری کو بہت دُکھ پہنچ گئے میری ذات سے بہت نگل لیا اُنکی خوشیوں کو اب اور نہیں پاپا۔۔۔۔۔۔”اُس کے آنسو بے اختیار ہوئے تھے بے اختیار تو وہ خُود بھی محبت میں ہوئی تھی اُسی بے اختیاری کی تو سزا کاٹنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔
“مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ کسی کی زندگی میں تو ہم زبردستی گُھس سکتے ہیں مگر کسی کے دل میں زبردستی جگہ نہیں بنا سکتے اور نہ کسی کی محبت حاصل کر سکتے ہیں،فردین زری کا ہے اُسکا ہی رہے گا پر اگر میں رو دھو کر اُسکا نام حاصل کر بھی لیتی ہوں تو پھر بھی زری کبھی بھی فردین کے ساتھ پُرسکون زندگی نہیں گُزار پائے گی اُسے ہمیشہ لوٹ آنے کا دھڑکا لگا رہے گا،پلیز پاپا میں فردین کے نام کے ساتھ جینا چاہتی ہوں اُس سے دُور اس ملک سے دور جا کر پلیز۔۔۔۔۔۔۔”آنکھوں سے پانی کا سیلاب اُمڈ آیا تھا صغیر اعوان کا دل اُسکی حالت اور رونے پر خُون کے آنسو رو رہا تھا۔
“اگر وہ تُمہیں دیکھنا چاہے تو۔۔۔۔۔۔”اُن کے پوچھنے پر وہ مُسکرائی تھی ایک درد بھری مُسکراہٹ ۔
“ایسی قسمت کہاں پاپا آپکی بیٹی کی کہ فردین مُصطفی مجھے دیکھنے کو کہے،پر پھر بھی ایک وقتی صدمے کے زیر اثر کہے تو ایسا بولیے گا کہ وہ میرے تک نہ آ پائے۔۔۔۔۔۔۔”پھلستے آنسؤؤں کو صاف کرتی کُڑلاتے تڑپتے دل کو نظر انداز کرتی محبت کی آ ہوں کا گلہ گھوٹتی اپنے دل میں اُٹھی ہزار درد کی ٹھیسوں کو دباتی وہ اپنے اس فیصلے پر قائم رہی تھی۔
“فردین مُصطفی تم پہ پہلے خُود کو ہارا تھا آج تُمہارے لیے اپنی زندگی ہار رہی ہوں۔۔۔۔۔۔”بہت تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے یوں محبت کو چھوڑنا اس سے دور چلے جانا اُس انسان کے لیے عمر بھر ترسنا جس کو دیکھے بنا ایک پل بھی نہ گُزارا جائے۔
اُس لمحے کی تکلیف آج بھی وہ ویسے ہی اپنے دل پر محسوس کرتی تھی آج بھی ویسے ہی اُسکی آنکھیں بنا بادل برس جاتی تھیں اور اب بھی ویسا ہی ہوا تھا وہ فردین کی یادوں میں گُم اپنے چہرے پر پھلستے موتیوں کو فراموش کر گئی تھی۔
“اس سے اچھی جگہ نہیں ملی تُمہیں رونے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔”یہ آواز اُسے ساکت کر گئی تھی ہاں یہ آواز تو فردین مُصطفی کی تھی اس آواز کو تو وہ لاکھوں کی شور میں بھی پہچان سکتی تھی مگر آج اس آواز کی پہچان اُس پر حیرت کا شدید پہاڑ توڑ گئی تھی کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ جس آواز کو سُننے کے لیے آپکی سماعتیں ترس رہی ہوں کبھی وہی آواز آپ پر قیامت کی طرح ٹوٹے بلکل ویسا ہی اشنہ کے ساتھ ہوا تھا دھڑکتے دل کے ساتھ اُس نے آواز کے تعاقب میں دیکھا تھا اور اپنے کُچھ فاصلے پر فردین مُصطفی کو بلیک ٹو پیس میں ملبوس دیکھ کر اُسکا دل جیسے اُچھل کر حلق میں آگیا تھا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُسے دیکھتی وہ بت بن گئی تھی فردین تو خُود اُسے اپنے سامنے زندہ سلامت دیکھ کر ششدر تھا اُس کے اعصاب کو بھی جیسے شدید ترین جھٹکا لگا تھا ایک انسان جس کو چھ سال سے آپ مردہ تصور کر رہے ہو اگر اچانک سے آپ کے سامنے آ جائے تو بندے کی اُس حالت کا اندازہ لگانا مُشکل ہے وہی حالت فردین کی اس وقت تھی۔
“فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کے لبوں سے اُسکا نام ادا ہوا تھا وہ بے جان ہوتی وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔
“چلو شُکر ہے میرا نام تو یاد رہا تُمہیں۔۔۔۔۔۔۔”فردین جس نے اپنا نام بمُشکل سُنا تھا جتنا آہستہ وہ بولی تھی طنزیہ بولا جبکہ اشنہ کے رُخسار گیلے ہونے لگے۔
“چلو اُٹھو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔”لوگوں کو اپنی طرف عجیب نگاہوں سے متوجہ پا کر وہ اُس کے قریب گیا اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے ا س کے رُوم میں لایا جسکا وہ ریسیپشن سے معلوم کر کے آیا تھا اشنہ تو ایک ٹرانس کی کیفیت میں اُس کے ساتھ گھسٹتیی چلی آئی تھی۔
“تُم،تُمہیں کیسے پتہ چلا۔۔۔۔۔۔۔”ہوش و حواس کے آتے ہی وہ پوچھنے لگی۔
“یہ ایک الگ کہانی ہے،اسے فلحال چھوڑو،مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے آخر اپنی موت کا ڈرامہ کیوں کیا؟کیوں اتنا بڑا جُھوٹ بولا؟زندہ ہوتے ہوئے بھی مرے رہنے کا مطلب جان سکتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔”فردین کا انداز سپاٹ تھا۔
“مجھے تم دونوں کی زندگی اور ڈسٹرب نہیں کرنی تھی۔۔۔۔۔۔”اُسکا لہجہ آبدیدہ تھا۔
“اوہ رئیلی اشنہ،جب کہا تھا کہ دفعہ ہو جاؤ میری زندگی سے دور چلی جاؤ تب تو میرے پیچھے پڑی تھی تب تو مجھے پا لینے کا بھوت سوار تھا تب خیال نہیں آیا کہ تُم مجھے اور زری کو ڈسٹرب کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“اسی غلطی کو سنوارنے کے لیے یہ قدم اُٹھایا تھا میں نے۔۔۔۔۔۔”
“تو مجھ سے محبت کرنے کو تُم غلطی مانتی ہو۔۔۔۔۔”فردین اُسکی طرف پلٹا جو سر نفی میں ہلا گئی۔
“اگر وہ میری غلطی بھی تھی تو مُجھے اپنی جان سے بھی پیاری ہے پر دُنیا کی نظر میں میری محبت غلط تھی کسی کے شوہر کو چھیننا غلط تھا اور مجھے یہ غلطی سُدھارنے کا یہی طریقہ سمجھ میں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے اپنے آنسو صاف کیے جن کو فردین نے تاسف سے دیکھا تھا۔
“تُم دُنیا کی بات کرتی ہو؟اُنکی نظر میں کونسی محبت صحیح ہے بتانا زرا،وہ محبت جو ماتھے پر داغ لگواتی ہے یا وہ محبت جو غیرت کے نام پر قتل کروا دیتی،وہ محبت جو خُودکشی پر مجبور کر دیتی یا وہ محبت جو دُنیا بُھلا دیتی کونسی محبت دُرست ہے،یہ جو لوگ ہیر رانجھے اور سوہنی مہنیوال کے قصے اب بڑے فخر سے بتاتے ہیں ایسے لوگ ہی تب اُنکی محبت کے خلاف تھے اس دُنیا کے غلط نظریے کی وجہ وہ لوگ قبروں میں ہیں یہی لوگ ہیں جو اُس محبت پر لعنت بھیجتے ہیں جو بیوی سے ہو تو ماں کو بُھلا دے،اُسی محبت کو ذلیل کرتے ہیں سر بازار جو اُنکے لیے بدنامی کا داغ ماتھے پر سجا کر پھرتی ہے تُم لوگوں کی نظر سے محبت کو لو گی تو محبت کبھی نہیں پا سکو گی بلکہ یوں محبت کے غم میں مبتلا ہی زندگی گُزار دو گی۔۔۔۔۔۔۔”فردین اُس کے قریب آتا گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا تھا۔
“فیاض نے مجھ سے کہا تھا کہ محبت غلط نہیں ہوتی ہاں محبت غلط وقت پر غلط انسان سے ہو جاتی ہے اور ایسا ہی ہمارے ساتھ ہو تُمہیں محبت غلط انسان سے ہوئی اور مجھے محبت غلط وقت پر ہوئی پر اس میں قصو کس کا تھا میرا کہ تُمہیں اُس رات ملا یا تُمہارا جو میری زندگی میں زبردستی گُھسی،محبت نے تُم سے پوچھا تھا فردین کے ساتھ ہونے لگی ہوں یا مجھ سے پوچھا تھا کہ اشنہ کے بغیر تُمہارا گُزارا ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا ہاتھ پکڑتا بھاری لہجے میں بولتا اُسے حیران کر گیا وہ بے یقینی سے اُسکی آنکھوں میں چھلکتے رنگ دیکھ رہی تھی۔
“اگر چھ سال پہلے وہ فیصلہ کرنا تُمہارے لیے تکلیف دہ تھا تو چھ سال سے تُمہارے بغیر رہنا میرے لیے بھی اُتنا ہی تکلیف دہ تھا،اگر محبت میں تُم تڑپی ہو تو چین کسی پل مجھے بھی نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔”اسکی ساکت آنکھوں میں دیکھتا وہ زیرلب مُسکرایا۔
“تُم حیران ہو رہی کو گی کہ مجھے کیسے محبت ہو گئی تم سے اُسکا جواب تو میرے پاس بھی نہیں مُجھے خُود پتہ نہیں چلا کہ کب کیسے میرا دل میرا نہیں رہا،کب یہ مُجھے دغا دے گیا میں آج تک سمجھ نہیں سکا۔۔۔۔۔۔”فردین کے انداز میں بھی وہی بے بسی چھلکی تھی جو آج سے چھ سال پہلے اشنہ اعوان کے ہر انداز میں پائی جاتی تھی۔
اور اشنہ تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی طرح جامد تھی کیا جو اُسکی سماعتوں نے سُنا وہ سچ تھا کہ فردین مُصطفی کے دل میں اشنہ کی محبت پیدا ہونا کسی معجزے سے کم تھا کیا ممکن تھا کہ فردین مُصطفی اشنہ اعوان کے سامنے اظہار محبت کرے کیا سب ہوا تھا جو اُس نے خواہش کی تھی تو پھر وہ خُوش کیوں نہیں ہو رہی تھی اُسکی آنکھوں سے پانی کی ندیا کیوں بہہ رہی تھی۔
“آج سے چھ سال پہلے جب تم نے اظہار محبت کیا تھا میں نے تو ایسا ری ایکٹ نہیں کیا تھا جیسا تُم کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے مُسکراتے ہوئے اُسکے آنسو پونچھے تھے۔
“مجھے لگ رہا ہے،میرا دل بند ہو جائے گا،کیا میں اتنی خُوش نصیب ہوں۔۔۔۔۔۔”وہ ابھی بھی شاید بے یقین تھی۔
“فردین مُصطفی کی خُوش نصیبی کا اندازہ مجھے بھی تھوڑی دیر پہلے تُمہیں ہوٹل کے انٹرس ہال میں دیکھ کر ہوا تھا،کیا اللہ ایسے بھی بندے کو معاف کر کے نوازتا ہے۔۔۔۔۔۔”اُسکا ہاتھ لبوں سے لگاتے ہوئے کہہ گیا وہ دھڑکتے دل کو سھنمبالتی اُٹھی تھی فردین اُٹھ کر اُسکا ہاتھ تھام گیا۔
“چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
“کہاں۔۔۔۔۔۔”سوال کیا
“گھر اور کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چونکی
“نہیں مجھے نہیں جانا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہاتھ چھڑوا کر پیچھے ہٹی تھی فردین نے حیرانگی سے اُسے دیکھا شاید اُسے اس کے انکار کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔
“کیوں،تُمہیں کیوں نہیں جانا۔۔۔۔۔۔”
“پلیز فردین،میں زری کا سامنا نہیں کر سکتی،میں دوبارہ سے پھر اُس کے سر پر عذاب کی طرح مسلط نہیں ہونا چاہتی۔۔۔۔۔۔”زری کے نام پر فردین کے لب بھینچے تھے۔
“تُم میرے زندہ ہونے کا کسی کو مت بتانا پلیز۔۔۔۔۔۔”
“پتہ ہے سب کو۔۔۔۔۔”وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکلا۔
“پھر تو بلکل نہیں جانا مجھے وہاں،میں سب کا سامنا نہیں کر پاؤنگی مجھے شرمندہ نہیں ہونا سب کے سامنے پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہاتھ کھینچتی منت پر اُتر آئی تھی مگر فردین اپنی گرفت اُس پر مضبوط کرتا اُسے گاڑی تک لایا تھا۔
“سمجھنے کی کوشش کرو فردین،اوکے مجھے کُچھ ٹائم دو میں اپنے سٹاف سے بات کر لُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب مجھے تم پر اعتبار نہیں رہا،اس لیے تُمہیں ایک پل کے لیے بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ گاڑی کا رُخ ائیرپورٹ کی طرف کرتے بولا پھر باقی کا سارا راستہ اُس نے اپنے کان بند ہی کیے رکھے تھے۔
گھر میں فردین کے ساتھ مرے مرے قدموں کے ساتھ داخل ہوئی تھی اُسکا دل زری کا سامنا کرنے کے خیال سے ہی ڈوب رہا تھا کہ تب تو بڑی مہان بن کر کہتی تھی کہ زندگی بھر دوبارہ شکل نہیں دُکھ آؤنگی اور اب کیسے پھر سے مُنہ اُٹھا کر پھر اُنکی زندگی میں زہر گھولنے آ گئی۔
“اشنہ۔۔۔۔۔۔”جہاں سُلطانہ بیگم کا مُنہ حیرت سے کُھلا تھا وہی مُصطفی کمال بھی ٹھٹھک کر اُسے دیکھ رہے تھے۔
“یہ زندہ تھی تو پھر جُھوٹ کیوں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم کے سوال پر اشنہ کا شرمندگی سے سر مزید جُھک گیا اُسے رہ رہ کر خُود پہ غُصہ آ رہا تھا۔
“میں بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے ساری بات اُن کے گوش گُزار کر دی وہ دونوں میاں بیوی تاسف سے اسے دیکھنے لگے۔
“بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے،جب تُم ہماری زندگیوں میں داخل ہو گئی تھی تو پھر اپنا عادی بنا کر جانے کا فیصلہ کرنا دوہری اذیت میں مبتلا کرنا ہے اور تُمہاری موت کی خبر نے ہماری زندگیوں کو اُسی اذیت سے دو چار کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم نے اُسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔
“آئم صوری،میں نے بہت تکلیف دی آپ لوگوں کو یہاں آ کر بھی اور یہاں سے جا کر بھی،پر میں ہمیشہ اپنی عقل کے مطابق ہی سب کو خُوشی دینے کے چکر میں اُلٹا سب کو پریشان کر دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نم لہجے میں بولی تھی جس پر سُلطانہ بیگم نے اُسکی پیشانی چُومی تھی۔
“تُمہارا پھر سے ہماری زندگی میں آنا ہی تنہاری ہر غلطی کی معافی ہے۔۔۔۔۔۔”
“تصویر والی انٹی،میں نے کہا تھا پاپا وہ یہ تصویر والی انٹی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی احد اپنے رُوم سے نکلتا لاؤنج میں آیا تو اشنہ کو دیکھتے ہوئے فردین سے بولا اشنہ اس بچے کو دیکھ کر حیران ہوئی وہ وہی بچہ تھا جو اسے ائیرپورٹ پر ملا تھا۔
“یہ تو مجھے دبئی ملا تھا،یہ کون۔۔۔۔۔۔۔”وہ پانچ سالہ احد کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
“یہ میرا پوتا ہے،زری اور فردین کا بیٹا احد۔۔۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم احد کو پیار سے دیکھتے ہوئے بولیں جو مُصطفی کمال کی گود میں بیٹھ گیا تھا اشنہ کا پہلے تو دل رُکا تھا پھر ایک مُسکراہٹ اُسکے لبوں پر آئی تھی جسے غور سے فردین نے دیکھا تھا۔
“بہت کیوٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے اُسنے کچن اور کمرے کی طرف دیکھا تھا جیسے زری کو دیکھ رہی ہو کہ یا کچن سے نکلے گی یا اپنے رُوم سے اور آ کر کیسا ری ایکشن دے گی شاید اسے اس گھر سے دفعہ ہونے کا بولے یا شاید اسے معاف کر دے۔
“کسے ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے پوچھا تھا وہ گڑبڑائی۔
“نہیں وہ زری کہاں ہے۔۔۔۔۔۔”اُس کے سوال پر سب نے نظریں چُرائی تھیں۔
“میری ماما تو یہاں نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔.”جواب احد کی طرف سے آیا تھا۔
“ارے میرے شیر نے آج میرے ساتھ لُڈّو تو کھیلی نہیں ہے چلو ایک گیم کھیلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مُصطفی کمال اُسے اُٹھاتے ہوئے ہال سے نکل گئے۔
“کہاں ہے زری؟کیا اپنی ماما کے گھر۔۔۔۔۔۔؟اس نے دوبارہ سے پھر پوچھا تھا۔
“زری نہیں رہی،پانچ سال پہلے وہ اس دُنیا سے چلی گئی۔۔۔۔۔”سُلطانہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے اشنہ بھونچکی سی اُنکو دیکھنے لگی اُسکی سماعتوں پر جیسے بم پھٹا تھا۔
“م،مطلب،زری۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ نے اپنی پانی سے بھری آنکھیں فردین پر ٹکائیں تھیں جو سُرخ آنکھیں لیے چہرے کا رُخ موڑ گیا تھا اشنہ کا کلیجہ جیسے مُنہ کو آنے لگا تھا اسے اس وقت وہی تکلیف محسوس ہو رہی تھی جیسی فردین سے جُدا ہوتے ہوئے اُسے ہوئی تھی شاید اُس سے بھی بڑھ کر۔
“میرا رونا اُسے لے گیا،میں کھا گئی اُس کی خوشیوں کو اور آخرکار اُسے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شدت غم سے رونے لگی تھی جسکا ساتھ سُلطانہ بیگم نے بھی دیا تھا فردین لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا کوئی غم ایسے ہوتے ہیں جو آپکو دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ لیٹے ہیں فردین کو بھی زری کی موت کا غم ایسے ہی اندر اندر چاٹ رہا تھا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ زری کی موت کا قصوروار وہ تھا اُسکی وجہ سے زری موت کے گلے لگی تھی اگر وہ اشنہ کی محبت کو دل میں دفن کر لیتا اور زری سے سب چُھپا لیتا تو وہ بھی بچ جاتی پر منافقت کی زندگی تو گُزاری جا سکتی ہے پر محبت میں منافقت نہیں کی جا سکتی۔
______________________
کُچھ صدمے ایسے ہوتے ہیں جن سے باہر نکلنا مُشکل ہو جاتا ہے بلکل ایسا ہی اشنہ کے ساتھ ہوا تھا زری کی موت کی خبر اُس پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی وہ اپنی زات کو ہی اُسکی موت کا زمعہ دار سمجھ رہی تھی آخر اُس کے فردین سے محبت کرنے کی وجہ سے تو یہ سب کھیل شُروع ہوا تھا اگر کہا جائے کہ اشنہ کے اُنکی زندگی میں داخل ہونے سے ہی بھونچال آیا تھا تو کُچھ غلط تو نہ ہوگا۔
“میری وجہ سے جو آنسو زری کو ملے مُجھے تو اُنکی معافی مانگنی تھی،پر میری محبت نے تو اُسے قبر میں اُتار دیا یہ معافی کیسے مانگوں گی اُس سے،کیسے فردین۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نم لہجے میں فردین کو بولی جو گہرا سانس بھرتا ونڈو کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“یہ خلش تو میرے دل میں بھی ہے اشنہ،یہ جو ضمیر کی ملامت یا پچھتاوا ہوتا ہے بندے کو چین تو یہ بھی نہیں لینے دیتا،میں نے اُسے سب کُچھ دیا اگر نہیں دی تو وہ محبت نہیں جسکی اُسے ڈیمانڈ تھی اور وہ دینا میرے بس میں ہی نہیں تھا تب تو دل تو اختیار میں ہی نہ تھا اور شاید سنبھل بھی جاتا اگر وہ کُچھ وقت اور دیتی تو شاید مجھے بھی اب کسی چیز کا دُکھ نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔”وہ رُکا تھا
“جب بھی اُسکی قبر پر جاتا ہوں معافی تو میں بھی مانگتا ہوں کیونکہ محبت تو اُسے بھی تھی بلکہ ہم تینوں ہی اپنے دل کے ہاتھوں اپنی اپنی محبت کے ہاتھوں بے بس تھے اور شاید تقدیر میں لکھا بھی یہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے اپنی نظریں احد پر ٹکائیں۔
“احد،زری کی طرف سے دیا گیا انمول تحفہ،یہ احسان بھی عمر بھر چُکایا نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”اشنہ کی نظریں بھی احد پر اُٹھیں تھیں جو سُلطانہ بیگم کے ہاتھ سے میکرونی کھانے میں مصروف تھا۔
“احد،زری کا بیٹا معافی تو میرے سامنے ہے اور میں اُسکی تلاش میں بھاگ رہی ہوں،احد سے پیار ا سکی اچھی تربیت اور ا سے ایک اچھا اور قابل انسان بنانا ہی میری معافی ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ دل ہی دل میں مُخاطب ہوتی خُود سے عہد کرنے لگی۔