Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

بات اتنی آسان نہ تھی جتنی آسانی سے وہ کہہ گئی تھی اور یہ اشنہ بھی جانتی تھی اس لیے اُس مُشکل بات کو ہضم کرنے کے لیے زرلش کو کُچھ پل درکار تھے جو وہ ششدر سی رہ گئی تھی۔
“میں نے جب اُسے دیکھا مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ تُمہارا شوہر ہے،مجھے اس سے محبت ہوئی تب بھی نہیں جانتی تھی،جب میں اُس کے پیچھے بھاگتی پھر رہی تھی تب بھی معلوم نہ تھا،جب اُس کے سامنے اپنی عزت نفس کو کُچل کر اظہار کیا تھا تب بھی معلوم نہیں تھا کہ میں کسی کے شوہر بلکہ اپنی دوست کے شوہر کے سامنے یہ سب کر رہی ہوں ورنہ شاید میں خُود کو سمجھا لیتی اپنے قدم واپس موڑ لیتی مگر جب یہ جانا تو میں بہت آگے نکل چُکی تھی،وہاں سے واپسی اب ناممکن ہے زری۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں سے آنسو بے اختیار ہوئے تھے جو زرلش کے ساکت وجود میں ہلچل مچا گئے تھے۔
“یہ تُم کیا کہہ رہی ہو،یہ۔۔۔۔۔۔”اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے جو اُس کے سامنے اُس کے شوہر سے اظہار محبت کا اعتراف کر رہی تھی۔
“مجھے پتہ ہے یہ سب تکلیف دہ ہے تُمہارے لیے مگر میں۔۔۔۔۔۔۔”
“جب یہ جانتی ہو کہ یہ سب تکلیف دہ ہے میرے لیے تو پھر کیوں آئی ہو میرے پاس۔۔۔۔۔۔”اب کہ بار اُسکا لہجہ کُچھ تلخ ہوا تھا جسکو اشنہ نے محسوس کیا تھا۔
“کیا تُم اپنا شوہر میرے ساتھ شیئر کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔۔۔”زرلش تو بھونچکی رہ گئی تھی بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی جو پُر امید نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہوش میں تو ہو تُم اشنہ اعوان،وہ میرا شوہر ہے کوہی کتاب نہیں جسے تُم شیئر کرنے کی بات کر رہی ہو،ایسا کہتے ہوئے بھی تُمہیں شرم آنی چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”
“شرم آئی تھی زری،آ بھی رہی ہے پر کیا کروں زری یہ درد سہا نہیں جا رہا،پلیز تُم فردین کو کہو گی تو وہ مُجھ سے بات کرے گا میری طرف دیکھے گا بھی ورنہ میں مر جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو مر جاؤ اشنہ اعوان،ویسے بھی کسی دوست سے اُسکا سہاگ مانگتے ہوئے تُمہیں مر ہی جانا چاہئیے تھا،پر تم مری نہیں کیونکہ تم ڈھیٹ ہو،مجھے تو خُود سے بھی شرم محسوس ہو رہی ہے تُمہیں اپنا دوست کہتے ہوئے،نکل جاؤ میرے گھر سے مجھے اب تم سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش سپاٹ انداز میں کہتی رُخ موڑ گئی تھی اشنہ نے سختی سے اپنے لب بھینچ لیے۔
“تُم جو مانگو گی میں تُمہیں دینے کو تیار ہوں بس تُم فردین مُصطفی مُجھے دے دو،مکمل نہ سہی آدھا تو دے سکتی ہو نہ،ہم دونوں اُسکے ساتھ رہ سکتی ہیں تُم چاہے چھ دن اُسے اپنے پاس رکھنا ایک دن بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہاں کوئی اور لڑکی ہوتی تو اُسکا مُنہ میں تھپڑوں سے لال کر دیتی مگر تم دوست تھی اس لیے کہہ رہی ہوں دفعہ ہو جاؤ میری نظروں سے اور ہماری ذندگیوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش چٹخ کر اسکی بات کاٹ گئی اور پھر روتے ہوئے اسکے گھر سے بھاگ گئی تھی۔
______________________
اور زرلش نے یہ بات جب فردین مُصطفی کے گوش و گزار کی تو کُچھ لمحوں کے لیے وہ بھی بولنے کے قابل نہ رہا تھا۔
“تُم مجھ سے کیوں یہ سب چُھپایا فردین۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اتنی خاص بات نہ تھی زری،پر مجھے نہیں پتہ تھا وہ اس حد تک آ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ابھی بھی بے یقین تھا۔
“یہ امیر لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں انکو نہ تو اپنی عزت کی پرواہ ہوتی نہ دوسروں کی،بس آج سے کبھی بھی تم اُسے ملو گئے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پہلے کونسا میں جا کر ملتا تھا اسے۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین نے ناگواری سے کہا تھا۔
“ہاں پر اب وہ ملنے بھی آئے تو مت ملنا،میں تو پچھتا رہی اُس سے دوستی کر کے،دیکھو تو اُوپر سے تُمہیں شئیر کرنے کی بات کر رہی ہے،اتنی گری ہوئی بات وہ کر کیسے سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُس سے کوئی بھی گری ہوئی حرکت ایکسپٹ کی جا سکتی ہے،تم یہاں رہو میں کسی کام سے جا رہا ہوں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین اُسے کہہ کر وہ باہر آیا اور موبائل نکال کر اشنہ اعوان کا نمبر ملایا۔
“نمبر تو پہچان چُکی ہو گئی تم اور آواز بھی،میں تم سے ملنا چاہتا ہوں اپنے گھر کا ایڈریس سینڈ کرو مجھے۔۔۔۔۔۔”اتنا کہہ کر اُس نے کال کاٹ دی جبکہ اشنہ اعوان حیران ہوتی اُسے ایڈریس سینڈ کر گئی جو دس منٹ کے بعد اُس کے گھر اُس کے سامنے تھا۔
“فردین تم یہاں۔۔۔۔۔۔۔”وہ خوشگواریت سے کہتی مُسکرائی تھی مگر اُس کے چہرے کے پتھریلے تاثرات پر ٹھٹھک کر دیکھنے لگی۔
“جب کہا تھا کہ مجھ سے دور رہو تو تم کیوں گئی زری کے پاس،جب مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں تو اُس سے یہ سودا کرنے کیوں گئی تم۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم زری سے پیار کرتے ہو اُسے چھوڑ نہیں سکتے تو نہ چھوڑو میں کب کہہ رہی ہوں کہ تم اُسے چھوڑو یہی کہنے میں زری کے پاس گئی تھی کہ ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں ہیں بہت سے لوگ دو دو بیویوں کے ساتھ رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شرم آنی چاہئیے تُمہیں ایسا سوچتے ہوئے بھی پر افسوس تُمہارے اندر تو شرم ہے ہی نہیں اگر تُم میں شرم ہوتی تو تُم یوں اپنی دوست کا گھر برباد کرنے کا نہ سوچتی اشنہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین مُصطفی نے اُسے شرم دلانی چاہی تھی مگر وہ ڈھیٹ تھی اور اُسکی اگلی بات نے یہ ثابت بھی کر دیا تھا کہ فردین مُصطفی کی باتوں کا اُس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
“شرم کس بات کی،میرے نزدیک اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لیے کُچھ بھی کرنا پڑے تو کر دینا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چاہے بغیرتی کی آخری حد کو بھی کراس کرنا پڑے ہے نہ مس اعوان۔۔۔۔۔۔۔”فردین مصطفی کے طنزیہ لب و لہجے میں ایک کاٹ تھی جس سے اشنہ اعوان کا چہرہ سُرخ ہوا تھا مگر وہ ہضم کر گئی تھی آخر محبوب جو تھا اُسکا اور محبوب کے مُنہ سے نکلی ہر بات اُس کے لیے کسی امرت سے کم نہ تھی۔
“تُم اسے کُچھ بھی کہو،بے شرمی یا بیغیرتی میرے نزدیک یہ محبت ہے جو میں تُم سے بہت زیادہ کرتی ہوں اور تُمہیں اتنا ندازہ تو ہو گیا ہوگا کہ تُمہیں پانے کے لیے میں کسی حد تک بھی جا سکتی ہوں فردین۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور بہت افسوس کے ساتھ مُجھے کہنا پڑ رہا ہے اشنہ اعوان کہ تُم ہر حد کو پھلانگ کر بھی فردین مُصطفی کو پا نہیں سکو گی یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُنگلی اُٹھا کر سخت لہجے میں بول کر پھر وہاں رُکا نہیں تھا جبکہ اشنہ اعوان جلتا دل لیے سر نفی میں ہلاتی چلانے لگی تھی۔
“چھین لونگی میں تُمہیں زرلش سے اس دُنیا سے فردین کیونکہ تُم صرف اشنہ اعوان کے ہو صرف اشنہ اعوان کے اس کے لیے مُجھے کسی کا قتل بھی کرنا پڑے تو میں کر دُونگی سُن لو تم بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جنونی ہو کر چلا رہی تھی مگر وہ وہاں سے جا چُکا تھا اپنی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتی اس نے ایک نظر اشنہ پیلس پر ڈالی تھی۔
“کاش یہ دولت اس بنگلے اور ان گاڑیوں کے بجائے اللہ مُجھے زرلش مُرتضی بنا کہ بھیج دیتا مُجھے فردین مُصطفی یوں بھیک کی طرح گڑ گڑا کر تو نہ مانگنا پڑتا،کتنی آسانی سے اُس پانچ مرلے کے گھر میں رہنے والی کو فردین مُصطفی مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔”آنسو اُسکی آنکھوں سے تسبیح کے دانوں کی طرح پھسلتے جا رہے تھے۔
_____________________
اور پھر یہ منتیں کرنے کا سلسلہ یہاں تک جاری نہیں رہا تھا اشنہ اعوان تو جیسے پاگل ہو گئی تھی ہر فُون کال پر وہ فردین کا دماغ خراب کر رہی تھی۔
“ایسا مت کرو فردین میں کب تُمہیں اس سے چھین رہی ہوں،جہاں اتنی محبت اُسے دو گئے وہی کُچھ پل میری جھولی میں ڈال دینا،پلیز فردین سمجھنے کی کوشش کرو میں مر جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو مر جاؤ میری طرف سے۔۔۔۔۔۔۔”غُصے سے کہتا کال بند کر گیا۔
فردین کو پروموشن مل چُکی تھی جس کے ساتھ اُسے گھر اور گاڑی بھی ملی تھی اُس نے اپنے گھر والوں کو شادی کا کہہ دیا تھا پہلے تو وہ زرلش کے ایگزائمز کی وجہ سے چُپ تھا مگر اب اشنہ اعوان کی بڑھتی دیوانگی سے اُسے نامعلوم سا خوف محسوس ہو رہا تھا جس کی وجہ سے وہ جلدی سے زرلش کی رُخصتی چاہتا تھا اور زرلش کو اُس نے سختی سے منع کیا تھا اُسے بتانے سے وہ کسی قسم کی بھی ڈسٹربنس نہیں چاہتا تھا۔
_____________________
“آؤ زرلش۔۔۔۔۔۔۔”فردین اُسے دروازے میں ایستادہ دیکھ کر بولا جس پر وہ گہرا سانس بھرتی کمرے میں داخل ہوئی اور ایک نظر اپنے خوبرو ہمسفر پر ڈالی جو بلیک جینز پر وائٹ شرٹ ذیب تن کیے اپنی مردانہ وجاہت کا مُنہ بولتا ثبوت تھا ایویں تو نہیں امیر باپ کی اکلوتی بیٹی اشنہ اعوان اس پر مر مٹی تھی وہ ہے ہی اتنا پُرکشش تھا کہ زرلش ہر روز رب کا شُکر بجا لاتی تھی جس نے بنا مانگے اس کی جھولی میں فردین مُصطفی ڈال دیا تھا۔
“خیر تھی زری۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے گُم صُم اپنی طرف تکتا پا کر حیران ہوا۔
“تُم کہیں جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُلٹا وہ پوچھنے لگی۔
“ہاں ایک دوست کی طرف جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”وہ والٹ اور موبائل جیب میں رکھنے لگا۔
“وہ اشنہ اعوان مُجھ سے ملنے آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر فردین مُصطفی نے چونک کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو پھر۔
“اُسے اماں نے بتا دیا کہ اگلے ہفتے میری رُخصتی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو اس میں اتنا گھبرانے والی کونسی بات ہے زری،اچھا ہے اُسے پتہ چل گیا کم از کم جان تو چھوڑےگی۔۔۔۔۔۔۔”وہ نارمل انداز میں بولا۔
“وہ کہہ کر گئی تھی کہ وہ خُودکشی کر لے گی۔۔۔۔۔۔۔۔”زرلش نے پریشانی سے بتایا جس پر وہ گہرا سانس بھر کر کہنے لگا۔
“ایسے لوگوں کے لیے سو سائیڈ بھی ایک کھیل سے زیادہ نہیں ہوتی اس لیے تُم اس بات کا سٹریس نہ لو،خودکشی کرتی ہے تو ہماری بلا سے سو بار کرے۔۔۔۔۔۔۔۔”فردین مُصطفی کندھے اُچکا کر بولا اپنی طرف سے اُسے ریلیکس کرنے لگا مگر اُسکی اگلی بات پر خُود ساکت ہوا تھا۔
“اُس نے سو سائیڈ کمٹ کر لی ہے فردین۔۔۔۔۔۔۔”زرلش نے اُسکی طرف دیکھا جس کا چہرہ بے تاثر تھا۔
“مُجھے لیٹ ہو رہی ہے ،چلتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔”وہ بنا اُسکی طرف دیکھے لمبے لمبے ڈگ بھرتا گاڑی کے پاس آیا تھا اور پھر رُک کر دو گہرے سانس بھرے تب بھی سکون نہ ملا تو گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی فیاض کے گھر کے راستے میں ڈال دی مگر وہاں جا کر بھی ایک پل کے لیے بھی اُس کے زہن سے اشنہ اعوان مخو نہیں ہوئی تھی طبیعیت میں چھایا اضطراب تھا کہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
_____________________
“میں تُم سے آخری بار ملنا چاہتی ہوں فردین،پھر میں تُمہاری زندگی سے ہمیشہ کے لیے چلی جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔”رات کو ہی فردین کو اپنے نمبر پر یہ میسج موصول ہوا تھا اور ساتھ ہسپتال کا ایڈریس،جائے کہ نا جائے کی کشمکش میں گرا وہ پیشانی مسلنے لگا پھر ایک فیصلہ کرتا گاڑی نکالتا ہسپتال چلا آیا۔
ریسپشن سے پوچھ کر اُس کے رُوم میں داخل ہوا تھا وہ زرد چہرہ لیے آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی اسے دیکھ کر بے تابی سے اُٹھنے لگی مگر ہاتھ پر لگی ڈرپ نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
“مُجھے لگتا تھا تُم نہیں آؤ گئے۔۔۔۔۔۔”وہ آہستہ سے بولی جسکی نظریں اُسکی دونوں کلائیوں پر بندھی بینڈیج پر تھی وہ گہرا سانس ہوا کے سُپرد کرتا بولا۔
“اس پاگل پن سے کیا حاصل ہوا تُمہیں،جان اتنی معمولی چیز نہیں جسے یوں کسی پر بھی وار دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُم ایک جان کی بات کرتے کو میرے پاس اگر سو بھی ہوتیں تو میں تم پر وار دیتی فردین میری نظر میں تم میری جان سے بھی عزیز ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سچ میں پگلی تھی جس کا آج فردین مُصطفی کو بھی یقین بھی آ گیا تھا اس لیے تاسف سے اُسے دیکھتا افسوس میں سر ہلانے لگا۔
“محبت ہو گئی میں مان جاتا ہوں پر یوں یہ سب تو محبت میں نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“محبت میں یوں بے رُخی بھی نہیں دکھاتے فردین،اور اب تم فکر نہ کرو میں نے ایک فیصلہ کر کے ہی تم سے رابطہ کیا تھا کہ میں یہ ملک چھوڑ کر چلی جاؤنگی اور یہ میری طرف سے پُرسکون زندگی کا تحفہ ہوگا تُمہارے اور زری کے لیے۔۔۔۔۔۔”آنسو ہمیشہ کی طرح آنکھوں سے چھلک پڑے تھے جن کو بے دردی سے صاف کرتی وہ مُسکرائی تھی اور پہلی دفعہ فردین کو اپنے ان الفاظ پر شدید ملامت ہوئی تھی جن کی بدولت وہ اس لڑکی کو کئی دفعہ چوٹ پہنچا چُکا تھا۔
“مجھے معاف کر دینا میں نے تُمہیں بہت تنگ کیا ہے فردین۔۔۔۔۔۔”وہ آہستہ سے اُٹھ کر بیٹھنا چاہتی تھی فردین اُس کے قریب ہوا تھا تا کہ اُسے اُٹھنے میں مدد دے سکے اُس نے اُسے سہارا دے کر بٹھایا تھا تبھی دروازہ کُھلا تھا اور آنے والی شخصیت کو دیکھ فردین مُصطفی چونکا تھا وہ کوئی اور نہیں اُسکا باپ مُصطفی کمال تھے جو ایسی نظروں سے اُسے دیکھ رہے تھے کہ وہ جلدی سے اُس سے دُور ہٹا تھا۔
“اعوان صاحب مُجھے پُورا یقین ہے آپکی بات پر،قصور آپکی بیٹی کا نہیں میرے خُون کا ہے اس لیے آج ابھی اسی وقت میں آپکی بیٹی کو اپنی بہو بنا کر لے کے جانا چاہتا ہوں،آپ مولوی صاحب کا بندوبست کریں۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات تھی کہ کرنٹ جو فردین کو کسی الیکٹریک شاک کی طرح لگی تھی بے یقینی کی کیفیت میں تو اشنہ بھی رہ گئی تھی جو آنے والے انجان آدمی کو یک ٹک دیکھ رہی تھی۔
“اگر چاہتے ہو کہ میں تُمہیں اپنا مرا ہوا مُنہ نہ دکھاؤں تو فردین مُصطفی بنا کسی سوال جواب کے نکاح نامعے پر سائن کر دو،ورنہ مُجھ میں اتنی برداشت نہیں کہ اتنے سال کی اپنی بنائی گئی عزت کا یوں جنازہ نکلتے دیکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
مُصطفی کمال نے اُسے شش و پنج اور مزاحمت کرتے دیکھ کر سپاٹ انداز میں کہہ کر اُسے بے بس کر دیا تھا وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے باپ کے چہرے کے پتھریلے تاثرات کو دیکھتا نکاح نامے پر سائن کر گیا تھا۔