Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dard E Dil by Asra Khan Last Episode

Dard E Dil by Asra Khan Last Episode

شہیر گھٹنوں کے بل گرا۔۔۔
وہ لکڑی کی ایک ہلکی سی سٹک تھی جس سے اسکے سر پر پیچھے زوردار طریقے سے وار کیا گیا تھا۔۔۔۔
بہر حال سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ اچانک خود کو سنبھال نہیں پایا تھا۔۔۔۔
وہ لڑکا مسلسل ہانی کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔۔۔
ہانی بری طرح ہچکیاں لیتی پیچھے کی طرف ہٹ رہی تھی۔۔۔
آنکھوں سے لگا تار آنسو بہ رہے تھے۔۔۔
شہیر نے سر پر ہاتھ رکھے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔
ساتھ میں اسے بڑے سائز کا پتھر پڑا ہوا ملا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں اچانک چمک آ گئی تھی۔۔۔
اسنے پتھر اٹھایا۔۔۔ اور آؤ دیکھا نا تاؤ وہ پتھر ہانی کر طرف اس پیش قدمی کرتے غنڈے کی طرف زور سے پھینکا۔۔۔
پتھر اسکی پیشانی پر زور دار انداز میں لگا۔۔۔۔
وہ درد سے بلبلاتا وہیں گر گیا۔۔۔۔
ہانی بھاگ جاؤ۔۔۔ ہانی جلدی کرو۔۔۔۔
شہیر با مشکل کھڑا ہوتا ہوا چلایا۔۔۔
اسکی آواز سے ہانی ہوش میں آئ۔۔۔۔
وہ پیچھے کی طرف مڑی ۔۔۔۔ اور اس جنگل نما جگہ میں گھس گئی۔۔۔۔
اوۓ اس سالی کو پکڑو ۔۔۔
وہ غصّے سے چلایا۔۔۔
اسکے سارے ساتھی اسے چھوڑ کر ہانی کی طرف لپکے۔۔۔۔ جو اندر کہیں غائب ہوگئی تھی ۔۔۔
وہ اندر بھاگتی جا رہی تھی۔۔۔۔ کوئی پتا نہیں تھا اسکا دوپٹا کہاں کھو گیا تھا۔۔۔۔
بغیر دیکھے وہ آگے دوڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔
پیچھے سے آتی قدموں کی آواز پر اسکی رفتار میں مزید اضافہ ہوا۔۔۔۔
دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
بھاگ بھاگ اسکی ٹانگیں شل ہو گئیں تھیں۔۔۔۔
آنسو خشک ہوگئے تھے۔۔۔۔
مزید بھاگنے کی ہمّت اس میں ختم ہو گئی تھی۔۔۔۔
سامنے ایک درخت تھا۔۔۔ جو زیادہ اونچا نہیں تھا۔۔۔۔ اردگرد کے ویران ماحول میں پتا نہیں کسکا بویا ہوا درخت تھا جو کھڑا تھا۔۔۔۔ ہانی کو بچنے کا راستہ نظر آیا۔۔۔۔
با مشکل کسی طرح ہمّت کرتے ہوئے وہ اسکے اوپر چڑھ گئی۔۔۔ اس درخت پر چڑھتے ہوئے اسے کتنی کھرونچیں آئیں اسکی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔
با مشکل خود کو سنبھالے وہ دم سادھے وہاں بیٹھ گئی۔۔۔۔
آوازیں قریب سے قریب تر ہو رہی تھیں۔۔۔۔
وہ اپنے منہ کو ہاتھ سے سختی سے دباۓ اپنی چیخوں کو کنٹرول کئے بیٹھی تھی۔۔۔۔
کدھر گئی۔۔۔۔ کہاں نکل گئی سالی۔۔۔۔
وہ اسی درخت کے نیچے کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔
ہانی کو لگ رہا تھا کہ وہ اسکی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ ہے۔۔۔۔
چل آگے دیکھتے ہیں۔۔۔ کہاں تک جائے گی۔۔۔۔ وہ باتیں کرتے آگے بڑھ گئے۔۔۔۔۔
ہانی نے بے اختیار سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔
💔💔💔💔
سالے تیری ہمّت کیسے ہوئے مجھے پتھر مارنے کی ۔۔۔۔
وہ غنڈا ایک ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھے دوسرے ہاتھ سے پسٹل پکڑےشہیر کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔۔۔۔
شہیر کا ہاتھ اپنے پیر کی طرف دھیرے سے بڑھا۔۔۔۔۔
بغیر ظاہر کۓ اسنے اپنی جراب کے کے نیچے سے کچھ نکالا۔۔۔۔۔
سالے ایس پی۔۔۔۔ آج تو ختم۔۔۔ تو نے راجہ کومارا۔۔۔ آج راجہ تجھے ختم کرے گا۔۔۔۔
اسنے ہاتھوں سے شہیر کے بال پکڑ کر اسکا سر اونچا کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
آاااااااا۔۔۔۔۔
اگلے لمحے اسکی خوف ناک چیخ نے ماحول کے سکوت میں بری طرح سے خلل ڈالا تھا۔۔۔۔
شہیر نے ہاتھ میں پکڑا ہوۓ چاقو سے اسکی پنڈلی پر وار کیا تھا۔۔۔۔
درد کی شدّت سے وہ بری طرح تڑپ رہا تھا۔۔۔
مجھے مارے گا تو۔۔۔۔۔؟ ہاں۔۔۔۔؟ مجھے مارے گا۔۔۔۔۔ شہیر نے اسکے زخم پر اپنا جوتا رکھ کر اسے تڑپنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
ایس پی شہیر کو مارنے چلا تھا۔۔۔۔۔ اسے جو زندگی کے کسی میدان میں نہیں ہارا ۔۔۔۔
اب تو اپنی ہار دیکھ۔۔۔۔ ایک لات اسے رسیدکرتے ہوئے وہ اس جگہ کی طرف بڑھا جہاں اسنے ہانی کو بھاگنے کے لئے کہا تھا۔۔۔۔۔
اسے ہانی کی فکر کھاۓ جا رہی تھی۔۔۔۔۔
شہیر۔۔۔۔۔۔۔!!!
آواز پر اسکے بڑھتے قدم رک گئے تھے۔۔۔۔
اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔ وہاں سارم بے تابی سے اسکی طرف لپکا تھا۔۔۔۔۔
💚💚💚💚💚
سارم ماہی کے ساتھ بیٹھا شہیر سے بات کر رہا تھا۔۔۔
شہیر کی جھڑپ وہ دونوں ہنستے ہوئے سن رہے تھے۔۔۔۔
جب ہی ہانی کی خوف زدہ آواز پر وہ دونوں گھبرا گئے۔۔۔۔
ہانی ڈونٹ وری یہ غنڈے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔۔۔
کال نا کٹنے کی وجہ سے وہ ساری گفتگو سن رہے تھے۔۔۔۔
وہ سمجھ چکا تھا وہ دونوں کسی مصیبت میں پھنس چکے ہیں۔۔۔۔
ماہی بری طرح رونا شروع ہو چکی تھی۔۔۔
اسکے پاس اتنا وقت نا تھا کہ وہ اسے دلاسہ دے سکتا۔۔۔۔
حامد صاحب کو کال کر کہ ساری صورت حال سے انھیں آ گاہ کیا۔۔۔۔
تھوڑی دیر وہ انہیں ٹریس کرتے پولیس کی نفری سمیت وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔
🧡🧡🧡🧡🧡
سارم اسکے گلے آ لگا۔۔۔
شہیر نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔ جہاں ڈی ایس پی (حامد صاحب) کے ساتھ باقی پولیس بھی تھی۔۔۔ سارم کو اس غنڈے کو گرفتار کرنے کا اشارہ کر کہ وہ جنگل کی طرف لپکا۔۔۔ شہیر کہاں جا رہا ہے۔۔۔ سارم بھی اسکے ساتھ آگے بڑھا تھا۔۔۔۔
ہا۔۔۔ہانی۔۔۔کک کو دھونڈنے۔۔۔۔ وہ اٹکتا ہوا بولا۔۔۔ اسے چکّر آ رہے تھے۔۔۔
میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔۔۔۔
آپ لوگ اس طرف سے جائیں۔۔۔۔ حامد صاحب باقی پولیس والوں کو ہدایت دینے لگے۔۔۔
سارم اسے سہارا دئے آگے بڑھ گیا۔۔۔
💛💛💛💛💛
ہانی۔۔۔۔
ہانی کہاں ہو۔۔۔۔
ہانی پلیز جواب دو۔۔۔ میں شہیر۔۔۔۔
شہیر ہر قدم بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسلسل اسے آوازیں لگا رہا تھا۔۔۔
سارم پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہانی۔۔۔۔!! شہیر نے ایک بار پھر آواز لگای تھی۔۔۔۔
یہ یہ۔۔۔ تو شہیر کی آواز ہے۔۔۔۔ ہانی کچھ آوازیں محسوس کر کہ بڑبڑای۔۔۔
ہانی۔۔۔۔ آواز ایک بار پھر آئ تھی۔۔
شش۔۔۔شہیر۔۔۔ خوشی سے اسکی آواز تک نا نکل پا رہی تھی ۔۔۔۔
جلدی سے وہ درخت سے اترنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔
ہانی۔۔۔ ایک بار پھر آواز آئ۔۔۔ بہت ہی قریب سے۔۔۔ وہ دونوں درخت کے قریب ہی تھے۔۔۔
وہ شاخوں کی آڑ سے انہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔
پتوں کی سرسراہٹ سن کر ان دونوں نے چونک کر درخت کی طرف دیکھا۔۔۔۔
جہاں وہ ڈرتی کانپتی نیچے اترنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
ہانی۔۔۔۔
وہ بے قراری سے اسکی طرف لپکا۔۔۔
اور آگے بڑھ کر اسکی اترنے میں مدد کرنے لگا۔۔۔
نیچے اترتے ہی ہانی اسکے سینے سے لگ کر بری طرح رونے لگی۔۔۔
تم ٹھیک ہو ہانی۔۔۔ کسی نے تمہیں کچھ کہا تو نہیں۔۔۔۔
شہیر اسکے چہرے کو بار بار چھو کر بے تابی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
جوابا ہانی ناں میں سر ہلاتی دوبارہ اسکے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نا۔۔۔ وہ اسے اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔۔۔
اچانک سارم کے فون کے رنگ کرنے پر وہ دونوں چونکے۔۔۔ جیسے انھیں احساس ہوا ہو کہ ان دو کے علاوہ کوئی تیسرا بھی یہاں پر ہے۔۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔۔ آپ پلیز جاری رکھیں۔۔۔ کال اٹینڈ کرتے ہوئے سارم انھیں چھیڑنانہیں بھولا۔۔۔ نا چاھتے ہوئے بھی وہ اسکی بات پر مسکرا اٹھے۔۔۔
چلو بھئ۔۔۔ حامد انکل کی کال تھی۔۔۔ سب گرفتار ہو گئے ہیں۔۔۔۔
اب یہاں سے نکلنا ہے ۔۔۔
اچانک بادل گرجے تھے ۔۔ اور بجلی کی چمک نے ارد گرد کے ماحول پر مزید خوف ناک سا منظر پیش کیا تھا۔۔۔۔۔
ہم نہیں جا رہے تم جاؤ۔۔۔ آ جائیں گے ہم۔۔۔۔۔ شہیر نے سارم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
پر شہیر۔۔۔۔؟؟
سارم حیران تھا۔۔۔۔
میں نے کہا نا۔۔۔ وہ اٹل لہجے میں بولا۔۔۔۔
یار پر خطرہ ہے۔۔۔۔
سارم فکر مند تھا۔۔۔۔
کوئی خطرہ نہیں۔۔۔ سمجھا کر۔۔۔۔۔
شہیر نے آنکھیں دکھائیں۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ مطلب امتحان۔۔۔ مطلب میری محنت کا امتحان۔۔۔۔۔؟؟
سارم تو سمجھتے ہی اچھلنے لگا تھا۔۔۔۔
ہانی نے نا سمجھی سے ان دونوں کو دیکھا۔۔۔
اوکے۔۔۔۔
سارم فورا سے سر کھجاتا شہیر کو بیسٹ آف لک کہتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
بادل مسلسل گرج رہے تھے۔۔۔۔
ہانی شہیر کے یہاں ٹھرنے کی منتق تلاش کر رہی تھی۔۔۔۔
جب ہی شہیرنے اسے پکارا۔۔۔۔۔
ہانی۔۔۔۔۔!!!
ہمممم۔؟ اسکے سینے سے سر ٹکاۓ اسکی شرٹ کو پکڑے وہ بولی۔۔۔
میری طرف مت دیکھنا۔۔۔ جو میں تمہیں کہنے جا رہا ہوں اسکے بعد۔۔۔۔
وہ بیچارگی سے بولا۔۔۔۔
ہممم۔۔۔ کہو۔۔۔ ہانی کو کسی خاص بات کی امید نہیں تھی۔۔۔۔
“I…. I Love You….. “
وہ جھجکتے ہوۓ بول چکا تھا۔۔۔۔۔
مگر ہانی وہیں ساکت رہ گئی تھی۔۔۔۔ اس بات کی اسنے توقع نا کی تھی ۔۔۔
مگر اس کے لئے اسنے بہت دعائیں کی تھیں۔۔۔۔۔
آج اسکی وہ دعا کیسے قبول ہوئی تھی۔۔۔ کس وقت۔۔۔۔۔۔جسکا وہ خواب بھی نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔۔
جھٹکے سے سر اٹھا کر اسنے شہیر دیکھا۔۔۔
میں نے کہا تھا نا مجھے مت دیکھنا۔۔۔۔ وہ منہ بناتا ہوا بولا۔۔۔۔
کک۔۔۔ کیا کہا تم نے ۔۔۔۔؟ مم۔۔۔مجھے یقین نہیں آ رہا۔۔۔۔
ہانی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔۔
اب تو آ گیا نا یقین۔۔۔ شہیر نے دھیرے سے اپنے لب اسکے ماتھے پر رکھے۔۔۔
اسی وقت بارش کا قطرہ ان پر گرا تھا۔۔۔۔
ہانی کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔ شہیر نے آج تک اسے اس انداز سے اپنی محبّت کا احساس ہی نہیں دلایا تھا۔۔۔ اسکی محبّت کا انداز ہی نرالا تھا۔۔۔۔
مگر آج۔۔۔۔!!
اسنے دھیرے سے اسکی طرف نگاہیں اٹھائیں۔۔۔۔ وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ شرما کر دوبارہ نگاہیں اٹھا گئی۔۔۔۔
بارش اب زور پکڑ رہی تھی۔۔۔
اچھا سنو شہیر۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہانی نے اسے مخاطب کیا۔۔۔۔
ہمممم۔؟ وہ محبّت سے بولا۔۔۔
بارش میں وہ بھیگتے جا رہے تھے۔۔۔
میں نے سنا ہے۔۔۔ کہ بارش میں دعا مانگو تو قبول ہوتی ہے۔۔۔
اچھا۔۔۔۔!!
ہاں تو پھر تم کیا دعا مانگو گے۔۔۔
وہ اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی ہوئی بولی۔۔۔۔
پانچ بچوں کی۔۔۔۔!!
وہ اطمینان سے بولا۔۔۔۔
واٹ۔۔۔۔۔؟؟
وہ اسے گھورتی ہوئی بولی۔۔۔۔
ہاں نا تمھیں کیا امید نہیں ہے۔۔۔۔؟؟
نہیں مجھے تو ایک کی بھی امید نہیں ہے۔۔۔۔
وہ بڑبڑائ۔۔۔
مگر اتنا اونچا کہ ساتھ کھڑے شہیر نے آسانی سے سن لیا تھا۔۔۔
اسکا جاندار قہقہہ فضا میں گونجا تھا۔۔۔۔
ہانی نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔۔ مگر اسکی شرارتی نگاہیں دیکھ کر اسکے سینے پر مکّہ مارتی ہنس پڑی تھی۔۔۔۔
بارش کی ان دونوں پر پڑتی پھوار۔۔۔۔ اور ان دونوں کے چہرے کی خوشی اور محبّت نے وہاں پر ایک حسین سا منظر پیش کیا تھا۔۔۔
اب ایک خوشیوں بھری زندگی انکی منتظر تھی۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
(چھ سال بعد)
ہیپی برتھ ڈے حرم۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے۔۔۔۔۔
ہانی شہیر، سارم اور ماہی مسکراتے ہوئے شہیر کے بیٹے کو پانچویں سالگرہ وش کر رہے تھے۔۔
تالیوں کی گونج میں حرم نے کیک کاٹا۔۔۔
ماہی کی تین سالہ بیٹی مناہل جوش سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
پیس کاٹ کر سب کے منہ کے ساتھ ناک پر لگاتا کیوٹ سا حرم اپنی حرکتوں اور شرارتوں میں بلکل سارم پر گیا تھا ۔۔ اور اسکے بعد بچنے کے لئے شہیر جیسا معصوم چہرہ بنانے کے لئے اسنے اپنے باپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔۔۔ اور اسکی شرارتوں کا نشانہ ہمیشہ مناہل بنتی تھی۔۔۔۔
مگر وہ چونکہ سارم کی بیٹی تھی۔۔۔ سو اس کو ہینڈل کرنا اچھے سے جانتی تھی۔۔۔
چلیں سب نے کھا لیا۔۔۔ اب میری کیوٹ سی کزن کی باری۔۔۔
حرم کیک کا بڑا پیس اٹھاۓ مناہل کی طرف بڑھا ۔۔۔۔
بیٹا تھوڑا چھوٹا۔۔۔۔ شہیر ٹوکنا نہیں بھولا تھا۔۔۔
مگر وہ کونسا کسی کی سنتا تھا۔۔۔
منہ کھولو۔۔۔ بڑا والا۔۔۔۔
اسنے مناہل کو کہا۔۔۔
شہیر نے بے اختیار ہانی کی طرف دیکھا۔۔۔ کسی یاد نے انکے ذہن پر دستک دی تھی۔۔۔ وہ دونوں مسکرا اٹھے تھے۔۔۔ سارم اپنی باتوں سے الگ ماہی کو ہنسا رہا تھا۔۔۔
مناہل نے منہ کھولا۔۔۔۔
حرم نے آو دیکھا نا تاؤ پورا پیس اسکے منہ میں گھسا دیا۔۔۔۔
ہیری۔۔۔۔!!
وہ چاروں غصّے سے بولے۔۔۔
مگر وہ اگنور کۓ اپنے ننھے ہاتھوں سے تالیاں بجاتا اپنی کامیابی کو سیلیبریٹ کر رہا تھا۔۔۔
مگر اسکی سیلیبریشن کو بریک تب لگی۔۔۔ جب مناہل نے اپنے منہ والا کیک ہی اسکے چہرے پر تھوپ دیا تھا۔۔۔
وہ چاروں ہنس پڑے تھے۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے باہر نکل گئے ۔۔
سارم اور ماہی اپنی محبّت میں تو تھے ہی با کمال۔۔۔۔
مگر ہانی اور شہیر کی محبّت بھی نرالی تھی۔۔۔۔
پیاری پیاری سی نوک جھوک کے ساتھ وہ ایک خوبصورت زندگی بسر کر رہے تھے۔۔۔ ہانی نے شہیر کی تھوڑی کھڑوس سی نیچر کے ساتھ گزارا کرنا سیکھ لیا تھا۔۔۔۔
جس میں ایک دوسرے کے لئے پیار محبّت اور سب سے بڑھ کر اعتبار تھا۔۔۔
ختم شد۔۔۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *