Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dard E Dil by Asra Khan Episode04

Dard E Dil by Asra Khan Episode04

پلیز مجھے جانے دو میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔ ہانی نے روتے ہوۓ اپنا بازو چھڑوانے کی کو شش کرتے ہوۓ کہا۔ ۔ ۔ شہیر کے چہرے پر شرارت بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔ اسکا رخ حال روم کی طرف تھا ۔ ۔ ۔ اب یہ مجھے سب کے سامنے گولی مارے گا ۔۔ ۔ وہ سوچنے لگی۔۔۔۔ جسم پر کپکپاہٹ ویسے جاری تھی۔۔۔اسنے کلمے کا ورد شروع کر دیا تھا ۔۔ ۔جیسے ہی وہ حال میں پہنچی۔ ۔۔ وہاں بہت سے لڑکے اور لڑکیاں سہمے ہوۓ کھڑے تھے۔ ۔ ۔شہیر نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑا۔ ۔ ہانی نے بے یقینی سے اسے دیکھا ۔ ۔ مگر وہ ہانی کو نہیں دیکھ رہا تھا۔ ۔۔ہانی نے ایک لمحہ ضائع کۓ بغیر تیزی سے سے سپیڈ لگائی اور بھاگ کر آیان کے پیچھے چپ گئی۔ ۔۔ شہیر اسکی حرکت پر مسکراہٹ چھپا نا سکا۔ ۔۔ ہانی تم ٹھیک ہو۔ ۔۔ ۔؟ آیاں نے پوچھا۔۔ ۔ تمہیں کیا میں ٹھیک لگ رہی ہوں۔ ۔ ۔ ؟؟ ہانی نے اپنی سانسوں کو کنٹرول کرتے ہوۓ اسے غصّے سے گھورا۔ ۔۔ کیوں تمہیں کسی نے کچھ کہا۔ ۔ ۔ ہاں یہ جو غنڈا ہے اس نے مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی دی ہے۔ ۔ ۔ ہانی نے آیاں کو بتاتےہوۓ انجانے میں خوف سے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔۔ آیاں نے حیرانی سے اسکی حرکت کو دیکھا ۔۔ ۔ اور مسکراہٹ دبا گیا۔ ۔ مگر چھپا نا سکا ۔ ۔ ۔تمہیں ہنسی آ رہی ہے میری باتوں پر۔ ۔ ۔۔؟ ہانی نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ ہانی مجھے ہنسی جس بات پر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ جس کو تم غنڈا سمجھ رہی ہو وہ ایس پی شہیر ہیں۔ ۔۔ یہی ہیں جو فورا وقت پر پہنچے۔ ۔ ۔اور ارمغان شاہ کو پکڑ کر لے کر گۓ ۔ ۔ ۔ جس نے فہد ملک پر گولی چلائی۔۔۔ کیا۔۔ ۔ ۔ ۔؟؟؟ ہانی کا منہ شاک کے مارے کھل گیا۔ ۔۔ اسنے فورا شہیر کی طرف دیکھا. ۔ ۔ جو سٹوڈنٹس کو کچھ کہ کر اب جا رہا تھا ۔۔ ہانی کے دیکھنے پر اسنے اسکی طرف دیکھا اور شریر اور دل کش مسکراہٹ اسکی طرف اچھالتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ ۔ کمینے کی مسکراہٹ۔ ۔ ۔ ہانی منہ میں بڑبڑائ۔ ۔ ۔ اور پھر دل پر ہاتھ رکھا جو شہیر کی حرکت کے بعد پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
ویسے یہ بتاؤ شاہ اور فہد کی لڑائی کس بات پے ہوئ۔۔ ۔۔ ہانی نے آیاں سے پوچھا۔۔۔ اب وہ کافی حد تک خود کو کنٹرول کر چکی تھی ۔۔اور اپنی کچھ دیر پہلے والی حالت پر دل ہی دل میں ڈوب جانے کی خواہش کر رہی تھی۔ ۔۔
نہیں پتا کہ کیوں لڑائی ہوئی۔۔ بس اتنا پتا چلا کہ وجہ کوئی لڑکی ہے۔۔۔ جو شاہ کو پسند تھی اور اسے فہد نے چھیڑنے کی ہمّت کر لی۔ ۔ ۔ آیاں بتا کر اسے بتا کر اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا ۔ ۔۔ “”وہ لڑکی جو شاہ کو پسند تھی ۔۔ ۔ وہ کون ہو سکتی ہے۔ ۔؟ ہانی سوچنے لگی ۔ ۔۔ اچانک اسکے ذہن میں دھماکہ ہوا۔۔۔۔ “” یار وہ دیکھ آیٹم بڑا ٹائٹ ہے۔ ۔۔””” فہد کے گھٹیا جملے ۔ ۔ ۔ اور ہاں میں نے وہاں شاہ کو بھی دیکھا تھا۔ ۔ وہ مجھ ہی تو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ مطلب کہ وہ لڑکی میں ہوں جسکی وجہ سے شاہ نے اس سے لڑائی کی ۔ ۔ نہیں اللّه جی رحم کریں ۔ ۔۔۔ ساری کڑیاں جڑتی جا رہی تھی۔۔ ۔ انجام برا نظر آ رہا تھا۔۔۔ ہانی کا سانس کہیں اٹک کر رہ گیا تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔
۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔
کس کی جراّت۔ ۔ ۔ جس نے میرے بیٹے کو سلاخوں کے پیچھے کیا۔۔۔ کامران شاہ فون ہاتھ میں لۓ دھاڑ رہا تھا۔۔۔ دوسری جانب فون سننے والے کے پسینے چھوٹ رہے تھا ۔ ۔۔ ۔ سر ۔ ۔ سر ۔ ۔ وہ آپ فہد ملک کے باپ سے بات کریں جب تک وہ صلح پر راضی نہیں ہوتے چھوٹے شاہ باہر نہیں آ سکتے۔ ۔ ۔ ۔ بکوااااااااس بند کرو۔ ۔ ۔۔ کامران غصّے سے دھاڑا ۔۔ ۔ ۔ اور فون سامنے دیوار پر دے مارا۔ ۔ ۔ اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔ کیوں کہ اسے اپنے بیٹے کو بچانے کے لۓ کچھ بھی کرنا تھا ۔۔ ۔۔ چاہے وہ اکرام ملک سے صلح ہی کیوں نا ہو۔۔۔۔
زمین پر ٹکڑے ٹکڑے ہوا فون اپنی ناقدری پر افسوس کرتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔
************
وہ ایئر پورٹ پر کھڑا تھا آج اسکی فلائٹ تھی ۔ ۔۔ ۔ کینیڈا کی طرف ۔۔ ۔۔!! اسکے باپ نے فہد کے باپ سے ڈیلنگ کر کہ اسے بامشکل چھڑوایا تھا ۔۔ ۔ وہ تو بیٹے کی محبّت میں مجبور تھا ۔ ۔ اسکی خاطر اپنے آپ کو جھکایا ۔۔ ۔ “”کیوں کہ وہ ایک باپ تھا ۔ ۔۔ ۔!!!!”” ایک بگڑی ہوئی اولاد کا بے بس باپ۔ ۔ ۔ “”اس میں سارا قصور شاہ کا نہیں تھا۔ ۔ ۔ قصور کچھ کامران شاہ کی تربیت کا بھی تھا۔ ۔۔ کیوں ماں باپ اولاد کی محبّت میں انھیں اتنی چھوٹ دے دیتے ہیں۔۔۔ کہ وہ تباہی کی منزل کی طرف چل پڑتے ہیں۔ ۔۔جہاں سے اگر وہ چاہیں تو بھی واپس نا آ سکیں۔ ۔ ۔
شاہ نے گہرا سانس بھرا ۔ ۔اور آگے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ دو سے تین ماہ تک اسکے باپ نے اسے پاکستان آنے سے منع کر دیا تھا۔ ۔۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا ۔۔کہ فہد ٹھیک ہونے کے بعد شاہ سے بدلہ لینے کی کوشش ضرور کرے گا ۔ ۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ اسکا باپ بزنس ڈیلنگ کے بعد ہی صلح پر راضی ہوا تھا۔۔ ۔۔ شاید اسکے نزدیک بیٹے کے خون کی اہمیت ہی اتنی تھی ۔۔۔۔
اسنے اپنی نشست پر بیٹھ کر اپنی آنکھیں موند لیں ۔۔۔ ۔ ۔ اور اپنے اگلے پلانز سوچنے
لگا۔ ۔ ابھی ہانی کی زندگی میں زہر گھولنا باقی تھا۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہانی کلاس سے باہر نکلی۔ ۔ ۔ اسکا رخ کینٹین کی طرف تھا ۔ ۔ بھوک کی وجہ سے اسکے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھا۔ ۔ ۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتی جا رہی تھی ابھی دو تین سیڑھیاں باقی تھیں۔ ۔ ۔ جبھی وہاں سے ایک کپل افراہ تفری میں گزرا۔ ۔۔ تیزی سے جاتی ہوئی لڑکی کا ہاتھ زور سے ہانی کو لگا۔ ۔ اسے زور سے جھٹکا لگا۔ ۔ توازن بگڑنے کی وجہ سے وہ نیچے زمین پر آ گری۔ ۔ ۔ درد کی شدّت سے اسکی سسکیاں نکل گئیں۔ ۔ ۔ پیر کی موچ نکل گی تھی۔ ۔ اور ہونٹ کا کنارا پھٹ گیا تھا ۔۔ ۔ ۔ اسنے بمشکل چہرہ اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔ ۔ کچھ سٹوڈنٹس اسکی طرف آ رہے۔ ۔ ہانی نے دیکھا۔ ۔ فضہ اسکی طرف بڑھی۔ ۔ لیکن رک کر کچھ سوچا اور اسکی طرف دیکھے بغیر واپس چلی گئی۔ ۔ ہانی کے دل میں ایک ہوک اٹھی ۔ ۔ کیا بس یہی اہمیت تھی اسکی دوستی کی کہ اسکی اپنی بچپن کی دوست اسے تکلیف میں دیکھ کر منہ موڑے چلی گئی ۔۔۔ ہانی تم ٹھیک ہو۔ ۔ ۔۔ ۔ ؟؟ آیاں پریشانی سے فورا اسکے پاس آیا۔۔ ۔ ہانی نے ڈبڈبائ آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔اور نفی میں سر ہلایا ۔۔ چلو تم۔ ۔ ۔ ! آیاں نے کھڑا ہوتے ہوۓ کہا۔ ۔۔ ۔ کیا تم چل لو گی ۔۔۔ ۔؟ ہانی نے روتے ہوے پھر سے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔۔ وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی ۔ ۔۔ آیاں نے پریشانی سے اسے دیکھا۔ ۔۔اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکی کھڑا ہونے میں مدد کی ۔۔۔آج ہانی نے اسے خود کو چهونے پر کچھ بھی نہیں کہا ۔ ۔ ۔ اور اسے لۓ آگے بڑھ گیا۔۔ ۔ ہانی نے تشکر بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔ ۔۔۔ آیاں کی محبّت کا بیج اسکے دل میں اسی لمحے بو گیا تھا۔۔۔ ۔۔
************
دن پر لگا کر اڑتے گۓ۔ ۔ ۔ ہانی کے دل میں آیان کی محبّت گہری ہوتی گئی۔۔۔۔ اور ادھر آیاں تو پہلی نظر میں اسکی محبّت میں گرفتار ہوگیا تھا۔ ۔ ۔ شاہ کو گۓ دو مہینے سے زیادہ ہو گۓ ۔ ۔ ۔ ہانی خدا کا شکر ادا کرتے نا تھکتی تھی کے اسکی زندگی سے شاہ نکل گیا تھا۔ ۔ ۔۔ اسکی خوش فہمی کے سوا وہ کچھ نا تھا۔ ۔۔۔!!!!! ابھی تک آیاں اور ہانی دونوں میں سے کسی نے اظہار محبّت نا کیا تھا۔ ۔ ۔۔ ۔ مگر ہانی چاہتی تھی۔۔۔۔ کہ پہل آیاں ہی کرے۔ ۔۔ اور آیاں تھا کہ موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ ۔۔۔
ہانی آیاں اور رمشہ کے ساتھ بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھی۔۔۔ رمشہ کے ساتھ اسکی دوستی آیاں کی بدولت ہی ہوئی تھی۔ ۔۔ تم دونوں بیٹھو میں کچھ کھانے کے لۓ لاتی ہوں ۔۔۔ رمشہ خوش دلی سے کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔ ۔ ۔ آیاں کچھ دیر بیٹھا رہا۔۔۔۔ پھر وہ بھی رمشہ کے پیچھے جانے کا بہانہ کر کہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ ۔۔ ہانی ویٹ ۔۔۔میں ابھی آیا ۔۔۔ ۔اوکے ۔۔۔۔۔!!! ہانی نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ ۔۔ وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔ ۔۔ ۔
نسبتا ایک سنسان جگہ پر آ کر اس نے اپنا پسینہ صاف کیا ۔۔ ۔ اب وقت آ گیا تھا۔ ۔۔ کہ اسے ہانی کو پرپوز کر دینا چاہیے تھا۔۔۔ “کیوں کہ وہ ہانی کی آنکھوں میں اپنے لۓ پسندیدگی دیکھ چکا تھا۔۔۔ اس نے فون نکالا۔۔۔ اور گہری سانس بھرتے ہوۓ ہانی کو مسیج سینڈ کیا۔۔۔۔
ہانی وہاں بیٹھی ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی۔ ۔۔ جب مسیج کی بیل پر وہ فون کی طرف متوجہ ہوئی۔ ۔ ۔ سامنے آیاں کا نام چمکتا دیکھ کر اسکا دل زور زور سے ڈھڑکنے لگا۔۔۔۔ اسنے کانپتے ہوۓ ہاتھوں سے فون اٹھایا اور مسیج کھولا۔۔۔۔۔
Haani agr main tum sy kuch mangun to mjha do gi……????
اسنے ڈھڑکتے ہوۓ دل سے جواب ٹائپ کرنا شروع کیا۔ ۔۔۔
Kaho…? Kia chahiya tmhen……?
آیاں کا حوصلہ اسکا مثبت جواب دیکھ کر کچھ بڑھا۔۔۔ اور خود سے کہا۔ ۔۔ آیاں آج بول دے ۔۔۔ آج نہیں تو پھر کبھی نہیں۔۔۔۔ اور پھر اسنے وہ خواہش کر دی جس کے کرنے کا انتظار ہانی کر رہی تھی۔۔۔
Tmhara sath….!!🌹
Kia tum mujh sy shaadi kro gi…..??
بیل کی آواز پر ہانی نے تیزی سے مسیج کھولا ۔۔۔۔ مسیج پڑھ کر اسکی خوشی کی انتہا نا رہی۔ ۔۔ اسکی دعا قبول ہو چکی تھی۔ ۔۔ مثبت جواب سینڈ کر کے ہانی نے ادھر ادھر دیکھا ۔ ۔۔ اور خوشی سے مسکرائی۔۔ اسے اپنا آپ بہت خوش نصیب لگ رہا تھا۔۔۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی۔۔ کہ بعض خوشیوں کی مدّت بہت کم ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن اور گزر گۓ۔۔۔ آیاں اور ہانی کی محبّت کو مضبوط بناتے گۓ۔ ۔ ۔ آیاں نے اس سے وعدہ کیا تھا۔۔۔ کہ وہ جلد اپنے پیرنٹس کو اسکے گھر بھیجے گا۔۔۔۔
اب ہانی کو اسکے ساتھ ڈنر لنچ اور شاپنگ پر جانا بلکل گناہ نہیں لگتا تھا۔ ۔ ۔ وہ اسے ابھی سے اپنا محافظ سمجھ بیٹھی تھی۔ ۔ “” کوئی مرد کسی عورت کا بغیر رشتے کے محافظ نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ یہ محبّت کے نام پر کۓ جانے والے جھوٹے وعدے ہوتے ہیں۔۔۔ محبّت کے نام پر دھبّہ”””” آیاں اور ہانی بھی اسکو داغدار کر رہے تھا۔۔۔۔۔۔۔
*************
اسکا فرسٹ سمسٹر ختم ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ انھیں چھٹیاں مل گئی تھیں۔ ۔ سب سٹوڈنٹس خوش تھے۔ ۔ ہانی اور آیاں خوش تو تھے مگر ایک دوسرے سے الگ ہونے کا خیال انکے دل کو اداس کر رہا تھا۔ ۔ ۔ کچھ دنوں کی تو بات ہے آیاں ۔ ۔ ۔ !! ہانی نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔ ۔ ہاں ہیں تو کچھ دن پر تمھارے بغیر ایک پل بھی صدیوں کی طرح لگنے لگتا ہے۔ ۔ یہ جو دل ہے نا یہاں درد سا ہونے لگتا ہے۔ ۔ آیاں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھتے ہوئے کہا۔ ۔ ہانی کے وجود میں چونٹیاں سی رینگ گئیں۔ ۔ ۔ ۔ گناہ کے احساس نے اسکے لیا مسکرانا دو بھر کر دیا۔ ۔ ۔۔ اسنے آہستگی سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالا۔ ۔ آیاں کو محسوس تو ہوگیا پر اس نے نظر انداز کر دیا۔ ۔ چلو جانے سے پہلے ایک بار کافی پی لی جاۓ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ آیاں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ہانی نے ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے مسکرا کر سر ہلا دیا ۔ ۔ ۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ غصّے کی شدّت سے کمرے میں ہر چیز کو ٹھوکریں مار رہا تھا ۔ ۔۔۔ پاکستان آۓ اسے کچھ دن ہو گۓ تھے۔ ۔ ۔ اسکے ایک دوست نے جب اسے یہ خبر دی کہ ۔۔ ۔ ہانی کا ایک لڑکے کے ساتھ افیئر چل رہا ہے ۔ ۔ تو شاہ کو لگا اسکا دماغ غصّے سے پھٹ جاۓ ہے۔ ۔۔ ۔۔ اس کمینی کی اتنی جراّت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!!! شاہ کی نظر جب اس پر پر گئی تو اسکی ہمّت بھی کیسے ہوئ کسی اور کو دیکھنے کی۔ ۔ ۔ ۔اس نے ڈیکوریشن پیس دیوار پر دے مارا۔۔ ۔ اسکے دوست یہ دیکھ کر فورا عادی کو کال ملانے لگے ۔۔ ۔ عادی کو شاہ کا دوست بنے کچھ عرصہ ہوا تھا۔ ۔ ۔پتا نہیں اس میں کیا فن تھا ۔۔ اسنے شاہ کو اپنے قابو میں کر لیا تھا ۔ ۔۔ شاہ کو اسکی کوئی بات بری نا لگتی۔ ۔ ۔ اور غصّے کے وقت وہی شاہ کو سنمبھالتا تھا۔ ۔ ۔ اسکے گھر والوں کے بارے میں بھی کوئی نہ جانتا تھا ۔۔ ۔ وہ اکیلا فلیٹ میں رہتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ولید نے عادی کو کال ملائی ۔۔ ۔ ہاں یار عادی بات سن۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
بابا جی سامان گاڑی میں رکھ دیں۔ ۔ ۔ ہانی نے اللّه بخش سے کہا۔ ۔ ۔وہ انکا بیس سال پرانا ملازم تھا۔ ۔ ۔ اسکی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ۔ بیوی بھی کئ سال پہلے مر گئی تھی۔ ۔ ۔اسنے ہانی اور ماہین کو بیٹیوں کی طرح پالا تھا۔۔ ۔ جی بیٹا میں رکھ دیتا ہوں آپ گاڑی میں بیٹھیں باہر ٹھنڈ پڑ رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہانی نے مسکرا کر سر ہلایا۔ ۔ ۔ اور اندر بیٹھ گئی۔ ۔ ۔
راستے میں وہ اللّه بخش سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔ ۔ ۔ جب ہی اس نے محسوس کیا کہ گاڑی کی رفتار کچھ زیادہ ہی تیز ہوگئی ہے۔۔ ۔ بابا جی آہستہ چلائیں۔ ۔ کیا ہوگی۔ ۔ وہ جو آیاں کو مسیج کا جواب دے رہی تھی ۔۔ ۔ ایک دم گھبرا کر بولی۔۔۔ بی بی جی یہ گاڑی کب سے ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ ۔ وہ گھبراۓ ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔ ہانی خوفزدہ ہو گئی ۔ ۔ اسنے چہراموڑ کر دیکھا۔ ۔۔ پچھلی گاڑی میں سامنے شاہ کا چہرہ واضع ہوا۔۔۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔ جو ہانی کے دیکھنے سے مزید گہری ہوگئی۔ ۔ ۔ بابا جلدی کریں۔ ۔۔ ہانی ایک دم گھبرا گئی ۔۔۔ ہانی بیٹا ڈرو مت میں آپکے ساتھ ہوں۔۔۔ اللّه بخش نے اسے تسلّی دیتا ہوئے گاڑی کی رفتار کو مزید تیز کر دیا ۔۔ ۔اچانک سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھ کر اسے بریک لگانی پر ۔ ۔۔ اب پیچھے بھی گاڑی تھی۔ ۔ اور آگے بھی۔۔ ۔ اور ادھر ادھر جھاڑیاں۔۔۔۔ وہ تھوڑا عجیب اور سنسان علاقہ تھا۔۔۔ ہانی کو اپنی موت صاف نظر آ رہی تھی۔۔۔ آیاں کے مسیج آ رہے تھا۔ ۔ ۔ پر اسے جواب دینا یاد نا تھا۔۔۔ شاہ پورا تفاخر کے ساتھ گاڑی سے نکلا اور چلتا ہوا ہانی کی گاڑی تک آیا۔۔۔ اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا۔۔۔ ہانی کا سانس بند ہو رہا تھا ۔۔۔ خبر دار جو ہانی بی بی کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ اللّه بخش فورا شاہ کی طرف بڑھا پر پیچھے سے ولید کے وار نے اسے زمین بوس ہونے پر مجبور کر دیا۔۔ شاہ نے ہاتھ آگے بڑھایا اور ہانی کو بازو سے پکڑ کر باہر نکالا ۔۔۔ ہانی کی آنکھیں خوف کی شدّت سے پھیلیں ہوئی تھیں ۔۔ ۔ براؤن شرٹ جس کے گریبان کے بٹن کھلے ہوۓ تھے۔ ۔۔ جس میں سے لا تعداد چینز نظر آ رہی تھیں۔ ۔۔ پھٹی ہوئے جینز پہنے اپنے مخصوص لوفرانہ حلیہ میں تھا ۔ ۔ ۔ ہانی نے دیکھا ۔۔ اللّه بخش سر پر ڈنڈا پڑنے کی وجہ سے بیہوش ہو چکا تھا ۔۔ ۔ ۔ کچھ کہو گی ہانی یہ منظر دیکھ کر ۔ ۔۔ آیاں نے اسکے بازو کو سختی سے جکڑے ہوئے اس سے انتہائی میٹھے لہجے میں پوچھا۔ ۔ ۔ مم۔۔ مم ۔ ۔ ۔ مجھے جانے دو۔۔ ۔ وہ بہتے آنسوؤں اور خوف سے بس اتنا ہی کہ پائی۔ ۔ ۔شاہ اور اسکے دوستوں نے مشترکہ قہقہہ لگایا ۔۔ کوئی تھا۔۔ ۔ جو سنجیدگی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
**************
شاہ نے ہانی کے بازو کو پکڑے ہنستے ہوئے طنز سے اسے دیکھا۔ ۔ ۔ وہ سسکیاں لیتی اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ۔ خدا کا واسطہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے جانے دو۔ ۔۔ وہ روتے ہوئے اسکی منتیں کر رہی تھی۔ ۔ ۔۔۔ پر اس سفاک انسان پر اسکی کسی فریاد کا اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے انسان کہنا بھی انسانیت کی بےعزتی تھی۔۔۔۔۔ اسکے اندر کوئی صفت ایسی نا تھی کہ اسے انسان کہا جا سکتا۔۔۔۔۔۔ وہ تو جانوروں سے بھی بد تر تھا۔ ۔۔۔ کہ اپنی انا کے پیچھے کسی کی زندگی کو برباد کر رہا تھا۔۔۔۔۔ شاہ نے اسے بالوں سے پکڑا ۔۔۔۔۔ ہانی کی درد کی شدّت سے چیخ نکل گئی۔۔۔۔۔ وہ اسے لۓ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ عادی ۔۔۔۔۔۔۔۔!!! شاہ نے اسے پکارا۔۔۔۔۔۔ عادی جو سنجیدگی سے سارا معاملہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اچانک گھبرا سا گیا۔۔۔۔۔ جی شاہو۔۔۔۔؟؟؟؟ اسنے خود کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ عادی یار کام کر تو اس بڈھے کو اٹھا اور اسکی گاڑی لے کر چل ۔۔۔۔۔ میں اپنی بےبی کے ساتھ جا رہا ہوں اور ولید مولوی کا انتظام کر ۔۔۔۔ آج ہم نیک کام کریں گے چلو کوئی نیکی تو ہمارے نامہ اعمال میں بھی ہو۔۔۔۔۔۔ اسنے بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ ہانی کے سر پر جیسے بم پھٹا۔۔۔۔ اسکا دماغ جیسے شل ہوگیا۔۔۔۔ پر شاہ اسکی غلطی کیا ہے۔۔۔ اتنی بڑی سزا کیوں دے رہا ہے تو اسے۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عادی کو ابھی تک سمجھ نہ آئ تھی۔۔۔۔ تجھے جو کہا ہے وہ کر زیادہ سوال نہیں کرنے کا ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟ شاہ نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔۔۔۔ اوکے اوکے۔۔۔ اسنے فورا سر جھکا دیا۔۔۔۔ چلیں میری “”بیگم مستقبل””۔۔۔؟؟؟ اسنے بے غیرتی سے کہا۔۔۔۔ ہانی نے ادھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔ اسکی آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ اپنے ہوش کھو چکی تھی۔۔۔ شاہ نے اپنے دوستوں کو اشارہ کیا اور ہانی کو لۓ گاڑی کی طرف بڑھ گۓ۔ ۔۔ عادی کو اپنی ذمہ
داری سنبھالنےکا اشارہ دیۓ۔۔۔ ۔۔ اور عادی کو اپنی ذمہ داری اچھے سے پوری کرنی آتی تھی۔ ۔ ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *