Dard E Dil by Asra Khan NovelR50781
Last updated: 17 July 2026
Dard E Dil by Asra Khan Episode01Dard E Dil by Asra Khan Episode02Dard E Dil by Asra Khan Episode03Dard E Dil by Asra Khan Episode04Dard E Dil by Asra Khan Episode05Dard E Dil by Asra Khan Episode06Dard E Dil by Asra Khan Episode07Dard E Dil by Asra Khan Episode08Dard E Dil by Asra Khan Episode09Dard E Dil by Asra Khan Episode10Dard E Dil by Asra Khan Episode11Dard E Dil by Asra Khan Episode12Dard E Dil by Asra Khan Episode13Dard E Dil by Asra Khan Episode14Dard E Dil by Asra Khan Episode15
Dard E Dil by Asra Khan
شہیر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔۔ بلینکٹ میں منہ چھپاۓ ہوئی ہانی کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔۔ شہیر نے ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی اور وارڈروب سے ڈریس نکالے شاور لینے چلا گیا۔۔۔۔ اسکے جانے کے بعد ہانی نے جھٹکے سے اپنے منہ پر سے بلینکٹ اتارا۔۔۔ اور گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔۔ تھوڑی بعد دروازہ کھلنے پر وہ غراپ سے منہ پھر سے اندر چھپا گئی۔۔۔۔
شہیر ٹاول سے بال خشک کرتا ہوا باہر نکلا۔۔۔ اور ایک بار اس چھپے ہوئے وجود پر نگاہ ڈالی۔۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر اسکی طرف بڑھا ۔۔۔ اور ایک جھٹکے سے اسکا بلینکٹ کھینچا۔۔۔۔ ہانی ایک دم ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔۔۔۔۔
وہ گڑبڑا کر اٹھی۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔ وہ غرائ۔۔ یہ بدتمیزی نہیں کمفرٹر ہے۔۔۔۔ شہیر نے اسکا مزاق اڑایا۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہانی نے اپنی مٹھیاں بھینچیں۔۔۔۔ کیا تم۔۔۔۔؟؟ شہیر نے اسی کے انداز میں سوال کیا۔۔۔۔ تم بہت ہی گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔ اسکے منہ سے بے اختیار پھسلا۔۔۔۔ پھر اس نے خوف زدہ نگاہوں سے شہیر کی طرف دیکھا۔۔۔۔ وہ لال آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا اسکی طرف آیا۔۔۔ اور اسے بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے کھڑا کیا۔۔۔۔۔ ہانی کی زبان پر اب قفل لگ چکا تھا۔۔۔۔ دوبارہ مجھے گھٹیا کہنے سے پہلے سو بار سوچنا۔۔۔۔ اور اپنے دماغ سے یہ خوش فہمی نکال دو کہ میں حسن پر مرنے والا شخص ہوں۔۔۔۔ اسنے اسے جھٹکا دے کر چھوڑا۔۔۔ اور واپس بیڈ کی طرف مڑا۔۔۔ جب کہ ہانی توازن برقرار نا ہونے کی وجہ سے صوفے پر جا گری۔۔۔۔ بےوقوف۔۔۔۔ وہ غصّے سے چلائ۔۔۔ تمیز سے نہیں چھوڑ سکتے تھے۔۔۔۔ اپنے لئے ایک اور خطاب سن کر شہیر کو اپنے کانوں کی لوئیں گرم ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔۔ پھر سے بکواس کی۔۔۔۔۔ وہ غصّہ سے بلند آواز میں کہتا ہوا مڑا۔۔۔۔ اسی وقت حامد صاحب جو شہیر سے ضروری بات کے لئے انکے کمرے کے باہر کھڑے تھے۔۔۔۔ اندر سے آنے والی آوازیں سن کر چونک گۓ۔۔۔۔۔ وہ ممممم مم۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔۔ ہانی انگلیاں چٹخانے لگی۔۔۔۔ اسی وقت دروازہ دھڑ دھڑ کی آواز کے ساتھ زور سے بج اٹھا۔۔ وہ دونوں چونکے۔۔۔۔ شہیر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔۔۔۔ اریے بابا۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔؟؟ خیر تو ہے۔۔۔۔ سوۓ نہیں ابھی تک۔۔۔۔ وہ انکے چہرے کے تاثرات کی پرواہ کئے بغیر بولے جا رہا تھا۔۔۔۔ خیر تو بیٹا تمہاری نہیں ہے۔۔۔۔ وہ غصّے سے بولے۔۔۔۔ شرم آنی چاہیے تم دونوں کو ۔۔۔۔ انہوں نے ہانی کو بھی ساتھ لتاڑا۔۔۔۔ ابھی ایک دوسرے کی شکل تو سہی سے دیکھی نہیں۔۔۔۔ اور لڑنا پہلے شروع ہوگئے۔۔۔۔ بیٹا گھر ایسے نہیں بسا کرتے۔۔۔۔۔ انکا لیکچر شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔ جب کہ وہ دونوں بے زاری سے سر ہلاتے ہوئے انکی باتیں سن رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
صبح آذانوں کے وقت اسکی آنکھ کھلی ۔۔۔۔ انگڑائ لیتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔۔ کچھ یاد آتے ہی اسکی نگاہ صوفے پر گئی۔۔۔۔ وہاں ہانی بے خبر سوئی پڑی تھی۔۔۔۔ اسکے سونے کے انداز پر اسکے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔۔۔۔ چہرے پر سارے بال پھیلاۓ اور ایک بازو اور ایک پیر اسکا زمین کو چھو رہا تھا۔۔۔۔ رات اسے شہیر نے آفر کی تھی کہ اگر وہ بیڈ پر سونا چاہتی ہے۔۔۔۔ تو وہ صوفے پر سو جائے گا۔۔۔ لیکن ہانی نے اسکی یہ آفر نخرے دکھاتے ہوئے ٹھکرا دی تھی۔۔۔۔۔ اسے بھلا کیا اعتراض تھا۔۔۔۔ وہ نماز پڑھنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ ہانی کے پاس پاس سے گزرتے ہوئے اسکی نگاہ اس پر پڑی۔۔۔ یہی لمحہ تھا۔۔۔ جب ہانی نے نیند میں ہی کروٹ بدلی۔۔۔۔ جس سے سو فیصد اسکے زمین پر گرنے کا خدشہ تھا۔۔۔۔۔ شہیر بجلی کی تیزی سے اس تک پہنچا اور اسے سائیڈ پکڑ کر سیدھا کیا۔۔۔ نیند میں ہی ہانی کو اپنی بازوؤں پر نرم گرم لمس محسوس ہوا۔۔۔۔ اسنے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔ سامنے شہیر کا دھندلا سا عکس نظر ہوا۔۔۔۔ جو حیرت اور غصّےکی وجہ سے پوری آنکھیں کھلنے سے اچھی طرح واضع ہوگیا تھا۔۔۔۔ دور ہٹو۔۔۔۔ اسنے شہیر کو سینے پر ہاتھ رکھ کر دھکا دیا۔۔۔۔ وہ اس حملے کا لئے تیار نا تھا۔۔ اسلئے لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔ اسنے غصّے اور حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔ واہ بدتمیزی بھی میں نے کی ہے۔۔۔۔ اسنے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تم شاید میری رات والی بات بھول گئی ہو۔۔۔ وہ بھی اسلئے کیوں کہ تمہارے پاس دماغ نہیں ہے۔۔۔۔۔ اسنے اسکے ماتھے پر دو انگلیاں مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور فریش ہونے چلا گیا۔۔۔ جب کہ ہانی اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔۔ کہ اس میں اسکا کیا ہوگا۔۔۔۔۔
**********
وہ ہاتھوں میں گاڑی کی کیز گھماتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ آج ولیمے کا فنکشن تھا۔۔۔۔ ہانی تو اپنے گھر رسم کے مطابق جا چکی تھی۔۔۔۔ اور حامد صاحب کو کسی کام سے کہیں جانا تھا۔۔۔۔ ایک نظر کمرے کی طرف دیکھ کر اسے اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ شکر جو ایک ہفتے کے لئے تو میری ہانی سے جان چھوٹی رہے گی۔۔۔ ایک دن میں ہی اسنے مجھے بابا سے ڈانٹ پڑوائ۔۔۔ میسنی نا ہو تو۔۔۔۔۔ وہ دل ہی دل میں ہانی کو صلواتیں سناتا کپڑے اٹھا کر شاور لینے گھس گیا۔۔۔۔
بالوں کو کنگھی کرتے ہوئے وہ دھیمے دھیمے گنگنا رہا تھا۔۔۔ خود پر پرفیوم کا اچھے سے سپرے کر کہ وہ بیڈ کی طرف آیا۔۔۔ اور چھلانگ لگا کر اس پر چڑھا۔۔۔ اپنے دونوں بازو پھیلاۓ اسنے ایک نظر کمرے کی طرف دوڑائ اور پرسکون سا آنکھیں بند کر گیا۔۔۔۔ اسکی حرکتیں دیکھ کر کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ یہ ذمّہ دار پولیس آفسر ہے۔۔۔۔۔۔۔
پردے ہٹنے سے کمرے میں روشنی سی پھیلی۔۔۔۔ جس نے ہانی کی نیند میں بڑی بری طرح سے خلل ڈالا۔۔۔۔ مندی مندی آنکھوں سے اسنے اردگرد کا جائزہ لیا۔۔۔۔ سامنے مما ناشتے کی ٹرے اسکی سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہی تھیں۔۔۔۔ اٹھو مما کی جان۔۔۔۔ شاباش جلدی سے فریش ہو کر ناشتہ کر لو۔۔۔۔ گیارہ بج چکے ہیں۔۔۔ انہوں نے اسکے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ وہ منہ بناتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔ کیا مما۔۔۔۔ آج بھی اتنی جلدی اٹھا دیا۔۔۔۔ اسنے نیند بھری آواز میں کہا۔۔۔۔ مما نے ہنس کر اسکا ماتھا چوما۔۔۔ میرے بچے گیارہ بجنے اٹھنا جلدی نہیں ہوتا۔۔۔۔ چلو جلدی سے فریش ہو جاؤ شہیر اور حامد بھائی آنے والے ہونگے۔۔۔ انہوں نے اسکے سر پر دھماکہ کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ آج ہی۔۔۔۔؟؟ وہ روہانسی ہوئی۔۔۔۔ جی بیٹا اسلئے کہ رہی ہوں جلدی کرو پھر میں نے بیوٹیشن کو بھی بلوایا ہے وہ آپکو تیار کر دے گی۔۔۔۔ مجھے نہیں تیار ہونا۔۔۔ اسنے غصّے سے کہا۔۔۔ خبردار ۔۔۔ وہ ایک لمحے میں پہلے والی مما بن گئیں۔۔۔ جلدی کرو نہیں تو۔۔۔۔۔ وہ اسے وارن کرتی جا چکی تھیں۔۔۔۔
شہیر بیٹا تیار ہوگئے۔۔۔ حامد صاحب نے اسکے کمرے میں جھانکا۔۔۔ جہاں وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا منہ کے زاویے بگاڑے بال بنا رہا تھا۔۔۔۔ حامد صاحب کی آواز پر چونکا۔۔۔ بس بابا آیا۔۔۔۔ اسنے دھیمی سی آواز میں کہا۔۔۔ اوکے میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔ وہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے۔۔۔۔
""شیرو بیٹا کل ہانی کے گھر جانا ہے اسے لینے۔۔۔ بھئ میں نے کہا رسموں کو چھوڑو پڑے۔۔۔ ہانی بس کل ہی گھر واپس آ جائے۔۔۔ میں جانتا ہوں تم اسے مس کر رہے ہوگے۔۔۔۔""
اسکے ذہن میں حامد صاحب کی کہی جانے والی باتیں گھوم رہی تھیں۔۔۔۔ ""کہیں مس کر ہی نا لوں میں اس کو""" اسنے کوفت سے سوچا اور کیز اٹھاۓ باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
