Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dard E Dil by Asra Khan Episode02

Dard E Dil by Asra Khan Episode02

ہانی غصہ سے فضہ کے پاس گئی جو کسی بات بار خود ہی سے مسکرا رہی تھی وہ سیدھی اسکے سر پر جا پہنچی۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ فضہ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ اس نے غصہ سے اسے بلایا۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ارے ہانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا بات ہے تم تو بڑ ے دنوں بعد نظر آی کہاں بزی ہوتی ہو ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ہانی نے سخت نظروں سے اسے دیکھا اور بولی یہ کہنا چاہۓ۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ کہ تم اپنے اس گھٹیا بواۓ فرینڈ کی وجہ سے اندھی ہو گئی ہو کہ تمہیں اس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فضہ نے 1 نظر اسے دیکھا وہ نظر ہانی کو بہت کچھ سمجھا گئی تھی ہانی پہلی بات تمہیں میری زندگی میں دخل اندازی کرنا کا کوئی حق نہیں اور دوسری بات میں تمہیں اپنے ساتھ باندھ کر تو نہیں رکھ سکتی یہی لائف ہے جسے ہم انجواۓ کر سکتے ہیں بعد میں ایسی زندگی جینا ایک خواب ہو جاتا ہے تو پلیز تم بھی ذرا اپنے پینڈو ماحول سے باھر اؤ اسنے ہانی کے حجاب پر طنز کیا ورنہ ایسے معصوم حسن پر کون فدا نا ہو وo ہانی کو آنکھ مارتے ہوۓ بولی۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ بھاڑ میں جاؤ تم ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہانی غصے سے کہتی چلی گئی ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ فضہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گئی
*********
ہانی فضہ سے لڑ کر باہر نکلی ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ آنسؤں نے آنکھوں کے سامنے دھند سی کر دی تھی ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ وہ تیزی سے جا رہی تھی جبھی اسے سامنے سے ایان آتا ہوا دکھا۔۔ ۔۔ ۔ ۔ اس نی نظر بچا کر جانا چاہا مگر وo اسے دیکھ چکا تھا ہانی تم رو رہی ہو۔۔؟ اسنے بے چینی سے پوچھا۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ نن۔۔ ۔ ۔۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔۔ نہیں تو۔ ۔ اسنے جلدی سے وہاں سے بھاگنا چاہا مگر اسکا بازو ایان کی گرفت میں آگیا۔ ۔ ۔ ۔۔ ہانی نی بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ oh sorry…….!!! اسنے جلدی سے اسکا بازو چھوڑ دیا شاید وہ تھوڑی دیر والی بات بھول چکا تھا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہانی سنو۔۔۔ ۔ ۔ ایان نے سر جھکا کر کھڑی ہانی کو ریکھتے ہوۓ بلایا۔ ۔ ۔۔ ۔ ہانی نے ایک نظر اسے دیکھا اور دھیمی آواز میں بولی “جی”۔ ۔ ۔۔ ۔۔؟ آیان کو لگا اسکا دل ہاتھوں
سے پھسل ہی نہ جاۓ۔۔۔۔۔ ہانی میں صرف تمہارا فرینڈ بننا چاہتا ہوں تم نے صبح شاید مجھے غلط سمجھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بہت ہرٹ ہوا تم مجھ پر ٹرسٹ کر سکتی ہو میں تمہارا بہت اچھا دوست بنوں گا کیا تم مجھ پے یقین کر سکتی ہو۔۔۔۔؟ اسنے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جسے ہانی نے تھوڑی شش و پنج کے بعد تھام لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلیں۔۔۔۔۔۔؟ ایان نے خوشی سے مسکراتے ہوے کھا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ہانی نے مسکرا کر سر ہلا دیا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ وہ ایک ایسے سفر کی طرف چل پڑے تھے جسکی کوئی منزل نہیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
**********
اسکی آنکھ صبح آذان کا وقت کھلی ایک منٹ کی سستی کا بغیر وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ ۔۔ ۔۔ غسل کے لۓ وہ واشروم میں گھس گیا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ٹاول سے بالوں کو خشک کرتا ہوا اسکی نظر سامنے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑی۔۔۔ ۔ ۔ ۔ اسکا دل جسی کیسی نے مٹھی میں لے کر جکڑا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سامنے 1 لڑکی کی تصویر تھی جس میں وہ اپنی دلکش مسکراہٹ لۓ کھڑی تھی ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسنے سر جھٹک کر اپنا دیہان ہٹایا اور نماز کی نیت باندھ لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔
۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
ہانی آیان کے ساتھ کینٹین میں بیٹھی برگر اور کوک سے انصاف کر رہی تھی اسے ہفتہ ہوگیا تھا آیان ک ساتھ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ وo ہر وقت اسی کا ساتھ نظر آتی تھی فضہ کو اسنے مکمّل طور پر نظر انداز کیا ہوا تھا ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ اب بھی وہ آیان کا ساتھ برگر کھانے میں مصروف تھی اسنے یہ سوچ کر اپنے دل کو تسلّی دے دی تھی کہ وہ صرف آیاں کی دوست ہی بن کر رہے گی اور اسنے نہیں بلکہ آیاں نے اسے دوستی کی آفر کی تھے اس سوچ کو لۓ وہ مطمئن تھی ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ شطان آہستہ آہستہ اپنا جال بچھا رہا تھا ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
فضہ ہانی کو منانے کے لۓ اسے ڈھونڈتی ہوئی کینٹین تک پہنچی ۔۔ ۔ ۔ سامنے کا منظر کافی حیران کن تھا ہانی آیان کے ساتھ اپنا ٹائم شیئر کر رہی تھی ان دونوں کی بے تکلفی۔ ۔۔ ۔۔ فضہ کی آنکھیں پھٹنے کو آ گئیں۔ ۔ ۔ ۔ واہ ہانی تم تو مجھ سے بھی تیز نکلی ۔ ۔ ۔ ۔ اتنی جلدی اس ہینڈسم کو پھنسا لیا
فضہ کی آنکھیں پھٹنے کو آ گئیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واہ ہانی تم تو مجھ سے بھی تیز نکلی اس ہینڈ سم کو اتنی جلدی پھنسا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ واہ ہانی واہ۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ وo آنکھوں میں حسد لیا پلٹ گئی ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دن پر لگا کر اڑتے گے۔ ۔۔ ۔ ۔ ہانی اور آیاں کی دوستی مضبوط ہوتی چلی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اب ہانی کو نا اس سے چڑ محسوس ہوتی تھی نا کوفت اور نا ہے خوف۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ وہ خوف جو اسے ہر پراۓ مرد کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا ۔۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ شاید اسکا ایمان کمزور تھا جو وہ جلدی شیطان کے جال میں پھنس گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔۔ اپنے باپ سے کۓ ہوۓ وعدوں کو بھول گئی تھی ۔۔ ۔ ۔ ۔ عورت محبّت کے بارے میں کافی بیوقوف رہی ہے ۔۔ ۔۔ ۔۔ یہی حال تو ہانی کا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ یونیورسٹی کے لان میں بیٹھی اسائمنٹ بنانے میں مصروف تھی۔۔ ۔ ۔۔ ۔ آیاں ساتھ میں بیٹھا اسکی مدد کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ساتھ میں اسے اپنی باتوں سے ہنسا رہا تھا اسنے آیاں کی کسی بات قہقہہ لگایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔
۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
ارمغان ۔۔ ۔ ۔ اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں جا رہا تھا جبھی اسکی نظر سامنے ایک ہنستی ہوئی لڑکی پر پڑی ۔۔ ۔ ۔ ۔ گلابی دوپٹے کے حالے میں وہ حسینہ سیدھا اسکے دل پے وار کر گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ وہیں رک کر اسے دیکھنے لگا ۔ ۔۔ ۔ ۔ شاہ کیا بات ہے ۔ ۔کسے دیکھ رہا ہے ۔۔ ۔ ۔۔ *********
یار یہ گولڈن بیوٹی کون ہے ۔۔ ۔ ۔ ؟ شاہ ہانی کو تکتا ہوا بولا ۔۔ ۔ ۔ ۔ عادی نے اسکی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا ۔ ۔ ۔۔ سامنے وہ لڑکی اسے ہنستی ہوئی نظر آئ ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ اسنے دل ہی دل میں ہانی کی خیریت کی دعا مانگی ۔ ۔۔ ۔ کیوں کہ وہ شاہ کی نظروں میں آ گئی تھی ۔ ۔ ۔۔ اور اس سے وہ صرف موت کی ہی صورت میں بچ سکتی تھی ۔ ۔ ۔۔ اچھا جو بھی ہے بعد میں دیکھیں گے۔ ۔۔ ۔۔ وہ اسے کھنچتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آیاں کی نظر ہانی سے بات کرتے ہوۓ سامنے کی طرف پڑی ۔ ۔ ۔۔ سامنے اسے وہ انسان ہانی کو تکتا ہوا نظر آیا اسکا اندر خطرے کی گھنٹی بجنے لگی سنو ہانی ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اسنے ہانی کو بلایا۔ ۔ ۔ ۔۔ ہممم۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔؟ ہانی نے کتاب پر نظریں جماۓ مصروف انداز میں پوچھا ۔ ۔ ۔۔۔ ۔
تمہاری کبھی ارمغان شاہ سے بات ہوئی ۔۔ ۔ ۔ ۔؟ وہ کون ہے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ؟ ہانی نی حیرت سے پوچھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ اوہ۔ ۔ ۔ ۔ !! تو تم اسے نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔ اچھا سنو اس سے بچ کر رہنا ۔ ۔۔ ۔ بہت ہی گھٹیا انسان ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔ پھر آیاں اسے شاہ کی تفصیل بتانے لگا ہانی کے اندر خوف کی ایک لہر دوڑ گئی تھے ۔ ۔۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
*******
وہ اس وقت پارٹی میں موجود تھا ۔ ۔۔ ۔ وہاں کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی ۔ ۔ ۔ آج اسکی برتھڈے تھی جسکی خوشی میں کامران شاہ نے اپنے اکلوتے سپوت کے لیا بھرپور تقریب کا انتظام کیا تھا ۔۔ ۔ مگر شاہ دماغی طور پر وہاں پر موجود نہیں تھا ۔ ۔ ۔۔ وہی چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے موجود تھا ۔ ۔ ۔ ۔۔ جسے وہ جھٹکنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا ۔ ۔ ۔
وہ کیسا انسان تھا ۔ ۔ ۔ ۔۔ وہ ایسا مرد تھا جسکے نزدیک عورت ذات ایک کھلونا تھی جس سے جب چاہا کھیل لیا اور جب چاہا ۔ ۔ ۔ ۔ توڑ کر پھینک دیا ۔ ۔ ۔۔ ۔ اسکا نزدیک عورت ایک پھول کی طرح تھی جب چاہا اسکی خوشبو سے لطف اندوز ہو لیا اور جب چاہا بیدردی سے مسّل کر رکھ دیا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “” عورت ذات کیوں اپنے آپ کو بے مول کرتی ہے ۔ ۔۔ ۔ کہ ہر کوئی اس سے کهیلنے کو تیار ہوتا ہے کیوں اپنے آپ کو اتنا نازک کرتی ہے کہ ہر کوئی اسے مسلنے کو تیار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ ایک عورت کی سب سے بڑی طاقت اسکی عزت ہوتی ہے عزت اسکے پاس ہے تو سب کچھ ہے عزت نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ جب وہ خود اپنی عزت اپنی طاقت کو دھتکارے گی تو کون ہے اسے روکنے والا ۔ ۔۔۔۔۔ جبکہ زمانہ بھیڑیوں سے بھرا ہوا ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔ “” شاہ نے سامنے ناچتی بےحیائی کا مجسمہ بنی لڑکی کو دیکھتے ہوۓ شراب کا چھٹا گلاس حلق میں انڈیلا ۔ ۔ ۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے ہوش کھو رہا تھا ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔
*****
ہانی کلاس سے باہر نکلی ۔ ۔ ۔ اسکا دماغ آیاں کی باتوں میں اٹکا ہوا تھا جو اس نے شاہ کا بارے میں بتائیں تھی ۔۔ ۔ ۔
ہانی اس سے بچ کر رہنا ۔۔ ۔ بہت ظالم ہے وہ ۔ ۔۔ ۔ خوبصورت لڑکیاں تو ویسے اسکی کمزوری ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اسکے ذہن میں آیاں کی باتیں گونج رہی تھیں ۔۔ ۔ اور سنو ہانی تمہیں پتا ہے اسکی وجہ سے ایک لڑکی نے خود کشی کی تھی ڈی ایس پی کی بیٹی تھی وہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اس نے اس ظالم انسان کے لۓ اپنی جان دے دی ۔۔ ۔ تم پلیز اپنا خیال رکھنا ۔ ۔ ۔ آیاں کا لہجہ کی بےچینی وہ محسوس کر سکتی تھی اور اسکی وجہ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔؟؟ وجہ کو جانتے ہوۓ بھی جھٹلانے کی کو شش کر رہی تھی ۔ ۔۔ ۔ میں دیہان رکھوں گی آیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسنے خود سے کہا اور آگے کی طرف بڑھ گئی۔ ۔۔ ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *