Dard E Dil by Asra Khan NovelR50781 Dard E Dil by Asra Khan Episode01
Rate this Novel
Dard E Dil by Asra Khan Episode01 (Watching)Dard E Dil by Asra Khan Episode02 Dard E Dil by Asra Khan Episode03 Dard E Dil by Asra Khan Episode04 Dard E Dil by Asra Khan Episode05 Dard E Dil by Asra Khan Episode06 Dard E Dil by Asra Khan Episode07 Dard E Dil by Asra Khan Episode08 Dard E Dil by Asra Khan Episode09 Dard E Dil by Asra Khan Episode10 Dard E Dil by Asra Khan Episode11 Dard E Dil by Asra Khan Episode12 Dard E Dil by Asra Khan Episode13 Dard E Dil by Asra Khan Episode14 Dard E Dil by Asra Khan Episode15 Dard E Dil by Asra Khan Episode16 Dard E Dil by Asra Khan Episode17 Dard E Dil by Asra Khan Episode18 Dard E Dil by Asra Khan Episode19 Dard E Dil by Asra Khan Episode20 Dard E Dil by Asra Khan Episode21 Dard E Dil by Asra Khan Episode22 Dard E Dil by Asra Khan Episode23 Dard E Dil by Asra Khan Episode24 Dard E Dil by Asra Khan Episode25 Dard E Dil by Asra Khan Episode26 Dard E Dil by Asra Khan Episode27 Dard E Dil by Asra Khan Last Episode
Dard E Dil by Asra Khan Episode01
Dard E Dil by Asra Khan Episode01
وہ ہوا کے رخ پر کھڑی تھی…… ٹھنڈی ہوا سے اسکے سیاہ گھنے بال اڑ رہے تھے…… وہ چہرے پے دھیمی سی مسکراہٹ لۓ چاند کو دیکھ رہی تھی…. ماضی کی یادوں میں گم…… اچانک اسے اپنے پیچھے سے کسی کے قدموں کی آواز آٸ…… جسے سن کر اسکے چہرے پہ بےحد دلکش مسکراہٹ آ ٹھری….. یہ وہ شخص تھا جس نے اسکے ماضی کو خوشگوار بنایا تھا…. جس نے اسے تب عزت دی جب وہ زمانے میں رسوا ہونے والی تھی…. بےشک وہ ایک منفرد مرد تھا…..
وہ دھیمے سے چلتا ہوا آیا اور اسکے ساتھ کھڑا ہو گیا…. ہانی نے ایک نظر اسے دیکھا….. اور اسکے کندھے پر سر رکھ دیا….. وہ دونوں اب چاند کی روشنی سے اپنی آنکھوں کو منور کر رہے تھے…….
_________________*********_______________
ہانی …….. ہانی بیٹا اٹھو….. اٹھو میری رانی…. آج آپکی یونیورسٹی کا فرسٹ ڈے ہے…. اٹھ بھی جاٶ…… امینہ بیگم پچھلے آدھے گھنٹے سے ہانی کو اٹھا رہی تھیں….. مگر ہانی تھی کے ہلنے کا نم ہی نہ لے رہی تھی….. اتنے میں ماہین کمرے میں داخل ہوٸ….. وہ ہانی کی چھوٹی بہن تھی….. تھی تو اس سے چھوٹی….. مگر اسے کسی خاطر میں نہ لاتی تھی…. اب بھی وہ چہرے پے شریر مسکراہٹ سجاۓ کمرے میں داخل ہوٸ….. امینہ بیگم کچن میں گٸ ہوٸ تھیں….. اور وہیں سے ہانی کو آوازیں دینے مصروف تھیں…..
وہ ہانی کے قریب آٸ… ایک نظر اپنے ہاتھ میں موجود ٹھنڈے پانی کے جگ کو دیکھا…. اور پر دوسری نظر منہ کھول کر سوٸ ہوٸ ہانی کو دیکھا….. اور انتہاٸ اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہوتے پورا کا پورا جگ اس پہ انڈیل دیا…….
ہانی جو اس وقت خواب میں پرستان میں پہنچی ہوٸ تھی اور بس اسے وہاں پریوں کی ملکہ بنایا جارہا تھا….. اس افتاد پر بوکھلا گٸ اور اوراسے شدید کھانسی کا دورہ پڑا…. کیونکہ منہ کھلا ہونے کی وجہ سے پانی ڈاٸرکٹ اسکے حلق میں چلا گیا تھا….. ہوش آنے پر اس نے اپنی قہر آلود نگاہیں اوپر اٹھاٸں….. سامنے ماہی خالی جگ اٹھا کر اسے چڑھاتی ہوٸ نظر آٸ…. اس سے پہلے کے وہ اس پر حملہ کرتی…. ماہی وہاں سے نو دو گیارہ ہوگٸ….. ہانی نے مٹھیاں بھینچے اسے دیکھا اور چلاٸ امی……..
امینہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸ….. وہ جانتی تھیں ہانی کو ماہی کے سوا کوٸ نہ اٹھا سکتا تھا….
ہانی نے کافی دیر انتظار کیا کہ شاید امی اسے آ کر پیار کریں مگر انتطار لا حاصل………
تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اور پیر پٹختی واش روم فریش ہونے چل پڑی………
______________********__________________
واٶ یار ہانی…… کیا کمال کی یونیورسٹی ہے….. فضاٰ نے بےزاری سے ادھر ادھر دیکھتی ہانی کو ٹہو دیا… وہ اس وقت GCU میں کھڑی تھیں ……. وہ لاہور کی یونیورسٹی تھی….. ہانی کا تو وہاں کے آزادانہ ماحول کو دیکھ کر دم گھٹ رہا تھا…… کیونکہ بہادری نام کی چیز سے مس ام ہانی صاحبہ بلکل واقف نہ تھیں…….. ہانی وہ دیکھ کتنا ہینڈسم لڑکا ہے فضا جوش سے چیخی….. میں ابھی اس سے فرینڈ شپ کرکے آٸ…. وہ خوشی سے کہتی بھاگ گٸ….. فضی…. رک…. ہانی اسے روکتی رہ گٸ پھر ادھر ادھر آتے جاتے لڑکوں کو دیکھ کر گھبرا کر فضا کے پیچھے بھاگی…… کہ ساتھ آتے شخص سے بری طرح ٹکراٸ…. کتابیں چھوٹ کر نیچے جا جاگریں….. ہانی کا دماغ گھوم کر رہ گیا…. سوری….. سوری میں نے دیکھا نہیں….. ہانی نے آواز پر پرنگاہیں اٹھا کر دیکھا… سنہری رنگت والا وہ ہینڈسم سا لڑکا شاٸستگی سے معذرت کرتا الٹا سارا الزام اپنے سر لے رہا رہاتھا….. ہانی اسے دیکھ کر ایک لمحے کو مبہوت رہ گٸ تھی…..
ہانی مبہوت سی اسے دیکھے گٸ……… جیسے اس نے کتابیں سمیٹ کر اسکی طرف بڑھاٸں….. ہانی نے گڑبڑا کر جلدی سے اپنی نگاہیں ہٹا لیں…. اور جلدی سے اٹھ کھڑی ہوٸ….. وہ بھی اسکے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا….ہانی دوپٹہ سنبھالتی جلدی سے واپس جانے کیلۓ مڑی…. جب ہی اس کی آواز پر اسے اپنے قدم روکنے پڑے…. مس…. کیا میں آپکا نام جان سکتا ہوں…..? انتہاٸ شاٸستہ آواز میں سوال کیا گیا تھا….. ہانی گہری سانس بھرتے ہوۓ واپس مڑی اور نظر نظراسکے چہرے پر ڈالے بغیر بولی “ام ہانی……”
“Friends……..?
ایان نے ہاتھ آتے بڑھاتے ہوۓ پوچھا…. ہانی نے گھبرا کے اسے دیکھا…..جج….جی…..? ہانی نے بوکھلاتے ہوۓ اس سے عجیب سا سوال کر ڈالا…. جی جی بلکل….ایان نے مسکرا کر ذرا سا خم دیتے ہوۓ کہا…. ہانی بےچارگی سے اسے دیکھنے لگی.. اسکی زندگی میں ایک شخص تھا جس سے وہ سب سے زیادہ پیار کرتی تھی….. وہ تھے اسکے بابا جانی….. دولت کی ریل پیل ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اتنی آزادی نہیں دی تھی… ہاں یہ ضرور تھا کہ انہیں اپنی بیٹیوں پر پورا اعتبار تھا…. یونیورسٹی میں آتے ہوۓ انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا…. وہ ان کی مسکراوٹ سے پہچان جاتی تھی ان کے دل کی بات کو…. میرا وعدہ ہے آپ سے بابا… اس نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا….
ایان ابھی تک پرامید نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا… اس نے کچھ سوچتے ہوۓ ہوۓایان کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو تھام لیا…. ایک وعدہ چھن سے ٹوٹ گیا تھا………….. ” باقی تعارف کرنے پر پتا چلا کہ وہ دونوں ایک ہی سبجیکٹ میں ہیں…. جسکو سن کر ایان بہت خوش ہوا تھا…. مگر… ہانی کے چہرے پر یو سنتے ہی بارہ بج گۓ تھے…….. اففففففف یہ عذاب….. اس نے منہ بناتے ہوۓ سوچا تھا……..
_________________********________________
وہ میز پر جھکا ایک اہم File پڑھنے میں مصروف تھا…. پین ہاتھوں میں گھماتے ہوۓ اپنے بھورے ماتھ پہ بکھرے ہوۓ بالوں کو پیچھے کی طرف ہٹاتا وہ پوری طرح سے اپنے کام کی طرف مگن تھا….. جب ہی دروازے پر ہلکے سے ناک ہوا….. یس…. اس نے اسی طرح جھکے ہوۓ جواب دیا…. دروازے سے سر نکال کر اس نے شہیر کی طرف دیکھا جو برے طریقے سے سےاپنے کام میں غرق تھا….. اس نے اطمینان سے اپنی جیب سے کچھ نکالا…. اور نشانا لگا کے اسکے سامنے پھینکا….. شہیر اس افتاد پر بوکھلا گیا اور دم اچھل کر پیچھے ہوا….. پھ سامنے پڑی نقلی چپکلی کو دیکھ اسکے چہرے پر کراہت آ گٸ…. وہ ان چیزوں سے بےحد خار کھاتا تھا….. وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ کسکا کام ہے….. اس نے نےاپنی گھورتی ہوٸ نگاہیں اوپر اٹھاٸں….. سامنے سارم اسے پیٹ پکڑ کر ہنستا ہوا نظر آیا….. اسکے گھورنے پر بمشکل ہنسی روکتااس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا….. شہیرابھی تک اسے گھوررہا تھا….. اوکے سوری…. اس نے سیریس ہوتے ہوۓ کہا…. جی تو ایس پی صاحب کیا حال ہے…..? سارم نے ہاتھ بڑھاتے ہوۓ پوچھا جسے شہیر نے تھام کر ہولے سے سر ہلا دیا….. کیا ہوا یار آج پریشان لگ رہ رہا ہے کیا بات ہے….. کچھ نہیں یار ایک کیس آیا ہے میرے پاس….. اسی کے بارےمیں سوچ رہا رہاتھا…. اس نے پیشانی مسلتے ہوۓ کہا.. تو کب سے پریشان ہونے لگا ہے میرے دوست….. کونسا کوٸ پہلا کیس ہے…… سارم نے بےفکری سے کہا….نہیں یار اس بار جنگ برابر کے بندے سے ہے…… وہ پرسوچ انداز میں بولا…. کون ہے وہ….? سارم نے تجسس سے پوچھا وہ تھا تو بزنس مین… پر اپنے شوق کی وجہ سے اس نے کٸ کیسز میں شہیر کی مدد کی تھی… “ارمغان شاہ” …….اس نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا….. سارم نے اسکے چہرے پر موجود مسکراہٹ کو بغور دیکھاتھا………..
______________**********_________________
ہانی چہرے پہ بےزاری سجاۓ کلاس سے نکلی…..پہلا دن ہی اسکا بہت برا گزرا تھا فضا کا ڈیپارٹمنٹ الگ تھا اور اوپر سے ایان زبردستی کا دوست….. اب وہ اسے اپنے ساتھ کینٹین چل کر کچھ کھانے پینے کی آفر کررہا تھا…. مگر ہانی نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاتے ہوۓ شاٸستگی سے انکار کر دیا….. وہ کندھے اچکاتا As you wish…… کہہ کر چلا گیا…. مگر سامنے سے آتی فضا کی نظر اس پر پڑ گٸ تھی….کون تھا وہ……? اس نے آتے ہی نہایت تجسس سے سوال کیا…. ہانی کا اسکی بات سن کر کڑوا ہوگیا….. چلو کینٹین چلتے ہیں…. اس نے فضا کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوۓ کہا….. ویسے بندہ بڑا ہینڈسم ڈھونڈا ہے ….. فضا باز نہ آٸ…… فضی…….. ہانی غصے سے چیخی…. فضہ قہقہ لگاتی بھاگ گٸ…. ہانی وہیں غصے سے سرخ چہرہ لۓ اسے گھورتی رہ گٸ………..
_________________*******_________________
وہ اپنے گیلے بالوں کو ٹاول سے رگڑتا واش روم سے باہر نکلا…. ٹیبل پہ پڑا اسکا فون مسلسل رنگ کر رہا تھا… اس نے دیکھا سامنے بابا جانی کالنگ لکھا آرہا تھا…. اس نے تیزی سے کال پک کی… اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُه…. اس سے ہشاش بشاش لہجے میں انہیں سلام کیا……وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیسا ہے میرا شیر…. انہوں نے محبت سے چور لہجے میں پوچھا…. وہ دھیمے سے مسکرایا…. اسکی مسکراہٹ بہت پرکشش تھی…. بالوں پہ چمکتی ہوٸ پانی کی بوندیں دھیرے دھیرے سے زمین بوس ہورہی تھیں….. میں بالکل پر پرفیکٹ بابا جان آپ سناٸں ….. میڈیسن ٹاٸم پر لیتے ہیں ناآپ….. جی جی میرا بچہ اور مجھے پتا آپ نے جو مخبر رکھے ہوہۓ ہیں میرے لۓ…. میں بھلا کیسے بھول سکتا ہوں…. شہیر نے ایک جاندار قہقہ لگایا اسے لگا تھا کہ شاید بابا کو نہیں پتا…… بیٹا کیس کا کیا بنا…. ? انہوں نے موضوع پر آتے ہوۓ کہا…. بابا آپ نے جو آرڈر دیا تھا اسکے مطابق ہمارے دو بندے 24 گھنٹے اس پر نظر رکھیں گے… اور جیسے ہی کوٸ خاص خبر ملے گی ہمیں فوراً انفارم کیا جاۓ گا…. ان شاء اللہ ہم کامیاب ہونگے…..وہ آہستہ آہستہ انہیں تفصیل بتانے لگا اسکے چہرے پہ عزم دِکھ رہا تھا…….
________________******_________________ُ
ہانی اپنے نوٹس سینے سے لگاۓ کلاس سے باہر نکلی…. اسکا ارادہ فضہ کے پاس جانے کا تھا… ماما اور بابا جانی کو یاد کرکے اسکا دل بہت اداس تھا اسے ہاسٹل صرف فضہ کی وجہ سے رہنا پڑ رہا تھا فضہ کے مطابق وہ یہاں پر خوب خوب انجواۓ کر سکتے تھے اس نے ضد کرکے ہانی کو بھی منا لیا تھا…. ورنہ حسن صاحب ماننے کو تیار نہیں تھے لیکن ہانی کی ضد کے آگے ہار مان گۓ تھے… ا ب وہ یہاں آکر سہی معنوں میں پچھتا رہی تھی… فضہ کو اپنے تازہ بناۓ ہوۓ بواۓ فرینڈ کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا …. ہانی جلی بھنی اسے دو تین سنوانے کا سوچتی نوٹس اور کتابیں اٹھاۓ باہر نکلی …. وہ بے دیہانی سے چلتی جا رہی تھی…. اس نے نگاہ سامنے اٹھاٸ…. فضہ اسے سامنے دکھاٸ دی لب بھینچے اس نے سیڑھی پر جو پیر رکھا اسکا پاٶں پہلے زینے کی بجاۓ دوسرے زینے پر گیا اس کا توازن بگڑ گیا اس سے پہلے کے وہ گرتی…. پیچھے سے آتے ایان نے اسے تیزی سے تھام لیا… ہانی نے سختی سے آنکھیں بند کی ہوٸ تھیں خوف سے اسکا جسم لرز رہ تھا اس نے کسی کے لمس کو محسوس کرکے جھٹ سے آنکھیں کھولیں ایان کو اتنے قریب دیکھ کر اسکا اوپر کا سانس اوپراور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا اس نے ایک جھٹکے سے خود کو چھڑوایا اور اپنا دوپٹا ٹھیک کرتی تیزی سے وہاں سے چلی گٸ ایان نے بے یقینی سے جاتی ہوٸ ہانی کو دیکھا …. جبکہ ہانی کی حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں اسے آج تک کسی غیر مرد نے نہ چھوا تھا اور آج…. اس نے بےدردی سے اپنے آنسو رگڑے تھے…..
_______________*******__________________
آج وہ کافی دن بعد یونیورسٹی آیا…. وہ جانتا تھا کے اسکے دوست اسے کافی مس کر کررہے تھے جیسے ہی اس نے یونیورسٹی میں قدم رکھا… بہت سے چہروں کو کواسے دیکھ کر خوشی کچھ کو دیکھ کر خوف آیا تھا اور کچھ تو اس سے انجان تھے…. شاہ کیسا ہے…. اس کے دوست نے اس سے بغل گیر ہوتے ہوۓ کہا ….. اسکا انداز کسی وفا دار کتے کی طرح تھا …. کتا بھی اپنے مالک کا خالص وفادار ہوتا ہے جبکہ یہ وہ لوگ تھے جو شاہ کے ساتھ پیسے کی وجہ سے وفادار تھے……. شاہ نے ایک نظر نظراسے دیکھا اور بےنیازی سے اپنے ٹھیک ہونے ہونےکا اشارہ کیا اور اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں آگے بڑھ گیا……
(جاری ہے)……
