Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dard E Dil by Asra Khan Episode12

Dard E Dil by Asra Khan Episode12

انکی شادی کو ایک مہینہ ہونے کو تھا۔۔۔۔ ہانی کا رویہ شہیر کے ساتھ ویسا ہی تھا۔۔۔۔ جسکو شہیر نے بہت اچھے سے نوٹ کیا تھا۔۔۔۔ مگر شاید یہ نکاح کے دو بولوں کا اثر تھا کہ وہ شہیر کو اچھی لگنے لگی تھی۔۔۔۔ اسکے دل میں ہانی کے لئے نرم گرم جذبات جنم لے رہے تھے۔۔۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب ہانی کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرے گا۔۔۔۔ لیکن ابھی ایک اور طوفان آنا باقی تھا۔۔۔۔۔۔
💔💔💔💔
ہانی یار سر میں درد ہے پلیز ایک کپ چاۓ لے اؤ۔۔۔۔۔ شہیر نے کچن میں کھڑی ہانی کو آواز لگائی۔۔۔ جی لاتی ہوں۔۔۔۔ ہانی نے منہ بنا کر جواب دیا۔۔۔۔ وہ شہیر کے سارے کام خود کرتی تھی مگر اس سے دور رہتے ہوئے۔۔۔۔
یہ لیں چاۓ۔۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔ جبھی ہانی کی آواز پر اسنے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔ انگوری کلر کا جوڑا پہنے نکھری نکھری وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔ شہیر نے ایک نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔۔ اسکا دل اسے چھونے کے لئے مچلنے لگا۔۔۔۔ اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسنے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا۔۔۔۔ ہانی کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔۔۔۔ مم۔۔۔ مم ۔۔۔میں پانی لے کر اتی ہوں۔۔۔۔ اسنے جلدی سے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور جانے کے لئے مڑی۔۔۔ مجھے اس وقت پانی کی نہیں تمہاری ضرورت ہے۔۔۔ شہیر کی بوجھل آواز پر اسے اپنی ہتھیلیاں بھیگتی ہوئ محسوس ہوئیں۔۔۔۔ شہیر کے ساتھ جتنا عرصہ وہ رہی تھی۔۔۔۔ اس نے آج تک نہ ایسی کوئی بات تھی۔۔۔ اور نا کوئی حرکت۔۔۔۔۔!!! مگر آج۔۔۔۔؟؟؟ ہانی کا دل باہر نکلنے کو تھا۔۔۔ وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔ مگر شہیر اس سے پہلے ایک جست میں دروازے کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔ مم ۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔ کام کرنا ہے۔۔۔۔ اسنے سر جھکاۓ کپکپاتی آواز میں کہا۔۔۔۔۔ مگر وہ مطمئن سا کھڑا اسکے چہرے کے رنگوں کو بدلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ ہانی نے اسے سائیڈ پر کر کہ باہر چاہا۔۔۔ مگر اسکی کلائ اسکی گرفت میں آ گئی۔۔۔۔ دور بھاگنے کی وجہ۔۔۔۔؟؟ وہ سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔۔ وہ یہ سب کچھ اسی لئے کر رہا تھا۔۔۔۔ تا کہ ہانی دباؤ میں آ کر سچ بتا دے۔۔۔۔ ورنہ وہ اتنا کمزور مرد نہیں تھا۔۔۔۔ کہ ایک لڑکی کو وہ بھی جو اس سے دور بھاگتی ہو اپنے اعصاب پر ہاوی کر لے
آیان۔۔۔۔۔!!! ہانی نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا۔۔۔۔ شہیر نے بے یقینی نے سے اسے دیکھا۔۔۔ اسے لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔۔۔ ہانی۔۔۔۔؟؟؟ سچ کہ رہی ہوں میں شہیر۔۔۔۔ سچ کہ رہی ہوں۔۔۔۔ وہ چلّا اٹھی۔۔۔۔ کس قدر سنگ دل ہو چکی تھی وہ ایک غیر مرد کی محبّت میں۔۔۔۔ اسکا اندازہ آج اسے خود بھی ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
ہانی نے اسے ایک ایک حرف سچ بتا دیا۔۔۔۔ اتنے دن کا دباؤ۔۔۔ ٹینشن۔۔۔ اور شہیر کی وہ حرکت۔۔۔۔ اس سب نے اسے اپنے دل کا وہ بوجھ اتارنے کا موقع دے دیا۔۔۔ سب کچھ سچ بتانے کے بعد اب وہ نظریں جھکاۓ مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔۔۔۔ دل اس خوف سے لرز رہا تھا۔۔۔ کہ کیا وہ سب کو اسکے بارے میں بتا دے گا۔۔۔۔؟؟؟ ہانی نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔ مگر اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر خوف سے دروازے کے ساتھ چپک گئی۔۔۔
اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ہانی خوف سے دروازے کے ساتھ چپک گئی۔۔۔۔ شہیر نے ایک نظر آنکھیں بند کئے کھڑی ہوئے ہانی پر ڈالی۔۔۔ اسکی آنکھیں ضبط سے لال ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔ ایک جھٹکے سے ہانی کا بازو پکڑ کر وہ بیڈ کی طرف لایا۔۔۔۔
ہانی کا جسم خوف سے لرز رہا تھا۔۔۔۔ شہیر کے اس انداز نے اسکی بولتی بند کروا دی تھی۔۔۔۔۔
شہیر نے اسے بیڈ پر بٹھایا۔۔۔ اور خود گہرے گہرے سانس لے کر خود کو کنٹرول کرنے لگا۔۔۔۔۔۔ پھر اسنے سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا جگ اٹھایا۔۔۔۔ تین گلاس پانی پینے کے بعد اسے اپنا آپ کچھ کنٹرول ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔ “تم آیاں سے بہت محبّت کرتی ہو۔۔۔۔۔؟؟؟” اسنے ہانی کے سامنے بیٹھتے ہوئے نارمل انداز میں پوچھا۔۔۔۔ جیسے اسے اس بات سے کچھ فرق ہی نا پڑا ہو۔۔۔۔ اسکے باوجود ہانی کا چہرہ شرمندگی سے جھک گیا تھا۔۔۔۔ “” وہ کتنے بڑے ظرف کا مالک تھا۔۔۔ کوئی اور مرد ہوتا تو دو تھپڑ لگا کر گھر سے نکال چکا ہوتا”” ہاں بہت پسند کرتی ہوں اور وہ بھی۔۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ پہلے والی ہانی بن گئی۔۔۔صرف اپنی خوشیوں کو پانے والی ہانی۔۔۔۔۔ شہیر ایک لمحے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ ” میں ایسا مرد نہیں ہوں جو کسی عورت کو اپنے ساتھ زبردستی باندھ کر رکھے۔۔۔۔ میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی تم اور آخری بھی تم۔۔۔۔۔۔۔!!!!” اب میری زندگی میں عورت کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی۔۔۔۔ میں خود تمہاری شادی آیاں سے کرواؤں گا۔۔۔۔ ہانی نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔۔ آنکھوں میں بےیقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔ مگر وہ بولے جا رہا تھا۔۔۔ میں تمہیں اسکے پاس خود لے کر جاؤں گا۔۔۔۔ اگر وہ تمہیں اپنانے کو تیار ہے۔۔۔ تو میں تمہیں طلاق دے کر تمہاری شادی اس سے کروا دوں گا۔۔۔ چاہے اس میں کسی کی رضا مندی ہو یا نہیں۔۔۔ ” آخر تمہاری بھی تو اپنی لائف ہے نا۔۔۔۔؟” اسنے بھنویں اچکا کر سوال کیا۔۔۔۔ ہانی لب کچلے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔۔ میں کسی پر زبردستی بوجھ نہیں بننا چاہتا۔۔۔۔ یہ کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ ہانی نے ایک نظر اپنے محسن کو دیکھا۔۔۔ وہ شخص ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دل کا بھی بہت پیارا تھا۔۔۔۔۔ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔
💔💔💔💔💔
گاڑی ریسٹورنٹ کے آگے آ
رکی۔۔۔۔ ہانی دروازہ کھول کر باہر نکلی۔۔۔ اندر آیاں بیٹھا انک ویٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ہانی نے آیاں کے بارے میں جتنا شہیر کو بتایا تھا۔۔۔ شہیر نے اسی کے ذریعے اسکا پتا کروایا اور اسکو یہاں تک لایا تھا۔۔۔۔۔ تم جاؤ۔۔۔ جب بات ہو جائے مجھے بلا لینا ۔۔۔ شہیر نے اسکی طرف نگاہ ڈالے بغیر کہا۔۔۔۔ وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ سامنے کونے والی ٹیبل پر وہ ظالم بیٹھا تھا۔۔۔ جسکے لئے وہ اتنا تڑپی تھی۔۔۔۔ گلاس ہاتھ میں پکڑے سلش کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتا ہوا وہ ہانی کے دل میں مزید اپنے لئے دیوانگی پیدا کر گیا۔۔۔۔ آیاں۔۔۔۔۔!! ہانی نے وہیں سے اسے پکارا۔۔۔۔ آیاں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔اور وہیں سے ہاتھ ہلایا۔۔۔۔ ہانی جو یہ امید لگاے بیٹھی تھی کہ آیاں تو اسے دیکھ کر بھاگتا ہوا اسکے پاس ہے گا مگر یہ کیا۔۔۔۔ بجھے بجھے قدموں سے چلتی ہوئی وہ اسکے پاس گئی۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔؟؟ آیاں نے دوستانہ انداز میں پوچھا۔۔۔ کہاں وہ محبّت کے نرم گرم جذبات جنکی ہانی نے امید کی تھی یہاں تو نارمل انداز تھا۔۔۔ جیسے انکے بیچ کچھ تھا ہی نہیں۔۔۔۔ تمھارے بغیر کیسی ہوں گی۔۔۔۔؟ ہانی نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے الٹا اس سے سوال کر ڈالا۔۔۔ نا چاھتے ہوئے بھی آیاں نظریں چرا گیا۔۔۔۔ آیاں آج میں اپنی ساری کشتیاں جلا کر تمہارے پاس ای ہوں۔۔۔۔ تمہاری بننے کے لئے۔۔۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گے۔۔۔۔۔؟؟؟ اسنے آیاں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا۔۔۔۔ مگر اسکی آنکھوں میں اترتی سرد مہری اور غصّے کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے سہم گئی۔۔۔۔ “” میں کیسے یقین کر لوں کہ تمہیں شاہ نے اغوا کیا تھا۔۔۔ یا۔۔۔۔۔!! تم اسکے ساتھ خود گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ اسنے جوس کا سپ لیتے ہوئے ہانی کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔۔۔ ہانی کو لگا وہ پتھر کی ہوگئی ہے۔۔۔۔ زبان تالو سے چپک گئی۔۔۔۔ ہونٹ سل گئے تھے۔۔۔۔۔ آیاں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کچھ لمحے بعد وہ اتنا ہی کہ سکی۔۔۔۔ کیا نہیں تھا اسکی آواز میں۔۔۔۔۔” مان ٹوٹنے کا درد، دل کے چھلنی ہونے کی جلن۔۔۔۔۔” آہ۔۔۔۔!! آج اسے اپنی بے بسی پر سچ میں رونا آیا۔۔۔۔ ” جن سے ہم وفا کی امید کرتے ہیں اگر وہی بے وفائی کریں تو درد زیادہ ہوتا ہے۔۔۔۔ اپنوں کی بے وفائی کا درد تو زیادہ ہوتا ہے نا۔۔۔۔!!
آج اسے بھی وہ درد ملا جو اسنے اپنے کسی خاص چاہنے والے کو دیا تھا۔۔۔۔۔۔ درد دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *