Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dard E Dil by Asra Khan Episode03

Dard E Dil by Asra Khan Episode03

وہ لائبریری میں بیٹھی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت وہاں پر اسکے علاوہ اور کوئی نا تھا ۔ ۔ ۔۔ ۔ اسکا پورا دیہان کتاب کی طرف تھا۔ ۔ ۔۔ جب اچانک فضا میں گولی کی آواز گونجی ۔ ۔۔ ۔ ہانی نے چونک کر سر اٹھایا ۔ ۔۔ اسکا دل اچانک دوسو ستر کی رفتار پکڑ گیا تھا ۔ ۔۔ ۔ اس سے تھوڑا دور کھڑکی پر گولی آ لگی ۔ ۔ ۔ شیشہ زور دار آواز کے ساتھ زمین پر جا گرا ۔ ۔ ۔ ہانی کا پورا جسم پسینہ سے شرابور ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور ٹانگیں بری طرح لرز رہی تھیں۔ ۔ ۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کو مضبوطی سے پکڑا ۔ ۔ ۔ اور دیوار کے ساتھ سکڑ کر بیٹھ گئی۔ ۔ ۔ ۔ خوف کی شدت سے اسکی ہر صلاحیت مفلوج ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
– ——————-****——————————
یار وہ دیکھ۔ ۔ ۔ سامنے والا آیٹم بڑا ٹائٹ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ فہد نے آنکھ مارتے ہوۓ اپنے دوست کو ٹہو دیا ۔ ۔۔ ۔ وہ سارے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ سامنے سے جاتی ہوئی ہانی نے تیزی سے اپنا دوپٹا سنبھالا ۔۔ ۔ اور آگے کی طرف بڑھ گئی ۔ ۔۔ ۔ جبکہ وہاں پر ہانی کو ڈھونڈتا ہوا ارمغان یہ بات سن چکا تھا ۔۔ ۔ ۔ کیا بولا بے تو؟۔ ۔ ۔ ۔ یہ حسینہ صرف میری ہے ۔ ۔ ۔ اسنے فہد کا گریبان پکڑتے ہوۓ کہا ۔۔ ۔۔ فہد خباثت سے ہنس پڑا۔ ۔ ۔ اب تو یہ صرف میری ہوگی۔ ۔۔ اسنے ارمغان کو چڑھایا۔ ۔ ۔ تیری تو۔ ۔ ۔ ۔ ارمغان نے بڑی سی گالی بکتے ہوۓ ایک جھٹکے سے ریوالور اسکے سر پر تان لیا فہد نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنے دوستوں کو اشارہ کیا ۔۔ ۔ جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
******
سر آپکی کال آئ ہے ۔ ۔۔ ۔ ملازم نے فون اسکو دیا ۔ ۔ ۔ شہیر نے جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھا ۔ ۔ ۔۔ سکرین پر چمکتا نام دیکھ کر وہ چوکنا ہو گیا ۔ ۔ ۔۔ ہیلو۔ ۔ ۔ !!!!
سر ۔ ۔ ۔ ۔ سر ۔ ۔ ۔ ۔!!! دوسری طرف جو بھی تھا ۔ ۔ گھبرایا ہوا تھا ۔۔ ۔ کیا ہوا ہے ۔۔ ؟ شہیر اٹھ کھڑا ہوا ۔ ۔ ۔ کشادہ پیشانی پر بل پر گۓ تھے۔ ۔ ۔ سر شاہ اور اسکے دوستوں نے مل کر آج فہد ملک کے دوستوں کے ساتھ لڑائی کی ہے اور یونی میں فائرنگ کر کہ وہاں کے سٹوڈنٹس کو ہراساں کیا ہے ۔ ۔۔ خبر کے مطابق اسکی وجہ کوئی لڑکی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سر آپ جلدی وہاں پہنچیں۔ ۔ ۔ ۔
ایسا کرو تم تین گاڑیاں تیار کرو۔ ۔ ۔ میں ابھی پہنچتا ہوں۔ ۔ ۔ اس نے جلدی سے گاڑی کی کیز اور فون اٹھایا۔ ۔ ۔ اور گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔ وہ گھر والے کپڑوں میں ملبوس تھا۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شاہ میری بات سن۔ ۔ ۔ ۔ تو اس دو ٹکے کی لڑکی کا لۓ ہم سے لڑائی کر کہ اچھا نہیں کر رہا ۔۔ ۔ ۔ ۔ پچھتاۓ گا۔ ۔ ۔ ۔ فہد نے خود کو شاہ کی پسٹل کا نشانہ بنا دیکھ کر کہا ۔۔ ۔ ۔ بکواس بند کر ۔ ۔۔ ۔۔ سالے کمینے ۔ ۔ ۔ تیری ہمّت کیسے ہوئی سالے ۔۔ شاہ کی چیز پر نظر رکھنے کی۔ ۔ ۔۔ تجھے میں نہیں چھوڑوں گا ۔۔ ۔ ۔ ۔ شاہ نے پسٹل باقائدہ لوڈ کر کہ اسکی کنپٹی پر رکھا ۔۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی غلطی کرتا ۔۔ ۔ ۔ اسے پیچھے سے کسی نے دھکّا دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ منہ کے بل گرا۔۔ ۔ ۔ فہد موقع کا فائدہ اٹھا کر بھاگنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ شاہ نے بے یقینی سے خود کو زمین پر پڑا دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔ وہ غصّہ سے پاگل ہوگیا ۔ ۔ ۔ اسنے بغیر سوچے سمجھے بھاگتے ہوۓ فہد کو نشانہ بنایا اور گولی چلا دی۔ ۔ ۔ فضا میں گولی کی آواز کے ساتھ فہد کی چیخ بھی گونجی۔ ۔ ۔ خون کے چھینٹے شاہ کے چہرے پر پڑے۔۔ ۔ ۔ مگر وہاں صرف طاقت کا جنوں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کہ دنیا میں ظلم کی ابتدا تھا۔ ۔ جو طاقت پہلے ظالم مظلوم پر استعمال کرتا تھا۔ ۔ ۔ آج وہ سب آ پس میں کر رہے تھ۔ ۔ ۔ اور یہ تباہی کی پہلی سیڑھی تھی۔۔۔ ۔ ۔
*************
ہینڈز اپ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔ !! شاہ جیسے ہی کھڑا ہوا ۔ ۔۔ پیچھے سے گرج دار آواز آئ۔۔ ۔ ۔ فہد کے سارے دوست اسکے گرد جمع ہو گۓ تھے۔ ۔ ۔اسکے کندھے پر گولی لگی تھی ۔۔ ۔ وہ درد کی شدّت دے بری طرح تڑپ رہا تھا ۔ ۔ ۔ شاہ نے اپنا رخ بدلہ۔ ۔ ۔ سامنے ایک شخص ریوالور اسکی طرف تانے چہرے پر سختی لۓ اسے دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ اسکے ارد گرد بہت سے اہلکار کھڑے تھے۔ ۔ ۔۔ وہ ایک لمحے میں سمجھ گیا کے وہ کون تھا ۔ ۔۔ ۔ ماضی کی ایک یاد نے ذہن پر دستک دی تھی۔ ۔ ۔ شہیر نفرت بھرے تاثرات لۓ اسے دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ شاہ نے ہاتھ کھڑے کر دیۓ ۔۔ ۔ اسکے دوستوں نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔ ۔ ۔ شہیر نے اشارہ کیا۔ ۔۔ ۔ فہد کو اٹھا کر فوری طور پر ایمبولس میں لے گۓ تھے۔ ۔ ۔ ۔ اسکا بہت خون ضائع ہو چکا تھا ۔۔ ۔ ۔ شہیر نے شاہ کو گریبان سے پکڑا ۔۔ ۔ ۔ ۔ اسکی آنکھیں غصّے کی شدّت سے لال ہو رہی تھیں ۔۔ ۔ ۔ “بہت شوق ہے تمہیں اپنی طاقت دکھانے کا ۔۔ ۔ ؟ بہت شوق ہے تمہیں لوگوں کو اذیت دینے کا۔ ۔ ۔ ۔؟ خود کو بہت طاقت ور سمجھتے ہو تم۔۔ ۔ ۔ تمہیں پتا ہے سب سے بڑے بزدل ہو تم ۔۔ ۔ ۔ یہ جو طاقت کا زور دکھاتے ہو نا حقیقت میں یہ سب دولت کی وجہ ہے۔ ۔۔ ۔ نہیں تو تم جیسے لونڈے مکھی مارنے کا قابل بھی نا ہوں ۔۔ ۔ ۔” شہیر غصّے کی شدّت سے دھاڑا تھا ۔ ۔۔ ۔ شاہ کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ۔ ۔ اسکے علاوہ وہ کچھ بھی نا بولا۔ ۔ ۔ ۔ لے جاؤ اسے۔ ۔ ۔ شہیر نے اسے آگے کی طرف دھکّا دیا ۔۔ ۔ شاہ کو ہتکڑیاں لگا دی گئیں ۔۔ ۔ اور بات سنو۔ ۔ شہیر نے اپنے خاص بندے کو اشارہ کیا۔ ۔۔ سارم فورا سر جھکاۓ آگے بڑھا۔ ۔ ۔ جی سر۔ ۔ ۔۔ ؟؟؟؟ اسنے تا بعداری سے سر جھکا کر کہا ۔ ۔۔ ۔ شہیر نے اپنے لب کچلے۔ ۔ ۔ اسے بہت ہنسی آئ۔ ۔۔ سارم وہ انسان تھا ۔ ۔جو سواۓ کسی کی موت کے کسی اور معاملے میں سیریس نہیں ہو سکتا تھا۔ ۔ ۔ اسنے مشکل سے خود کو کنٹرول کیا۔ ۔ اور مسکراہٹ دباۓ سامنے چہرے پر شریر مسکراہٹ سجاۓ سارم کو دیکھا۔ ۔ ۔ ” ایسا کرو اسکو لے لے کر چلو تھانے ۔۔۔ ۔ ۔ اسنے شاہ کی طرف دیکھا ۔ ۔۔ جو ابھی تک چہرے پر زہریلی مسکراہٹ سجاۓ کھڑا تھا ۔۔ ۔ اور ہاں ڈی ایس پی صاحب کو بولا لینا ۔ ۔۔ ان سے کہنا کے آج ان سے خاص مہمان ملنے آۓ ہیں۔ ۔ ۔ اسنے طنز سے شاہ کو دیکھا۔ ۔ ۔ اور آگے بڑھ گیا۔ ۔ ۔
**********
شہیر نے ساری یونی پر نظر دوڑائ۔ ۔ ۔ تمام سٹوڈنٹس کو وہ نکال چکے تھے جو خوف کی شدّت سے چھپے ہوۓ تھے۔ ۔۔۔ وہ اپنا کام کر کہ واپس جا رہا تھا ۔۔ جب اسکو لائبریری کے سامنے سے گزرتے ہوۓ کسی کی سسکیوں کی آواز سنائی دی ۔۔ ۔ اوہو۔ ۔۔ ۔ !! لگتا ہے یہاں بھی کوئی بیچاری پھنسی ہوئی ہے۔ ۔ ۔ وہ سوچتا ہوا بند دروازے کے آگے آ کھڑا ہوا ۔ ۔۔ اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا ۔ ۔ ۔۔
۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دروازہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ کھلا….. کتاب کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھی ہوٸ ہانی کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا…. اس نے بامشکل نگاہیں اٹھا کر سامنے کی طرف دیکھا….
اسے دروازے میں ایک شخص کھڑا ہوا نظر آیا…. جسے دیکھ کر ایک لمحے کو وہ مبہوت رہ گٸ……. بلیک جینز پر گرے شرٹ پہنے پرکشش نقوش والا وہ شخص ہانی کو ہی دیکھ رہا تھا اسکے بھورے بال ماتھے پر سٹا۶لش انداز میں بکھرے ہوۓ تھے……
ہانی کی نظر ہوتے ہوتے اسکے داٸں ہاتھ پر پڑی جہاں ریوالور صاف نظر آ رہا تھا….
خوف کے مارے اسکا چہرہ سفید پڑ گیا…. یہ بھی انہیں غنڈوں میں سے ایک ہے…. اس نے کانپتے ہوۓ سوچا…. یہ مجھے بھی مار ڈالے گا … وہ ایک کتاب کو مضبوطی سے تھامے کھڑی ہوٸ….. اس وقت اسے یہ کتاب کل کاٸنات لگ رہی تھی….. اس نے ایک نظر اپنی طرف بڑھتے ہوۓ اس شخص کو دیکھا اور پر اس نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بھاری کتاب اسکی طرف اچھالی……….
شہیر اس لڑکی کی طرف بڑھا تھا جو شکل سے ہی اسے بےانتہا خوفزہ دکھاٸ دی…. وہ اسے اعتماد میں لے کر باہر جانا چاہ رہا تھا جب اس لڑکی نے یکایک حرکت کی اور اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب اسکی اچھالی اور بھاگنا چاہا….. شہیر پھرتی سے اس کتاب سے بچتا ساٸڈ پے ہوا….
اور پھر اس نے پھرتی سے بھاگتی ہوٸ ہانی کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا…… ہانی کا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا اور جسم کانپ کانپ کر گویا واٸبریشن پر لگ گیا تھا……….
پلیز مجھے جانے دو میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے غنڈا بھائی ۔۔ ۔؟؟ غنڈا۔ ۔ ۔۔ ؟ شہیر نے سوچا۔ ۔ ۔ اسکی آنکھوں میں شرارت چمک اٹھی تھی ہمیشہ. غلط ٹائم پر اسے الٹے کام یاد آتے تھے۔ ۔ ۔ اسنے ہانی کو سر سے پکڑ کر آگے کھنچا۔۔ ۔۔اور پسٹل اسکے سر پر تانتے ہوۓ بولا۔ ۔ ۔ یہ تو تب پتا چلے گا جب تمھارے بھیجے میں یہ گولی گھسے گی۔ ۔ ۔ وہ مصنوئ سختی سے بولا۔ ۔ ۔ ۔ نہیں پلیز ۔ ۔ ۔وہ سسک اٹھی۔ ۔ ۔ ۔
چلو میرے ساتھ۔ ۔ ۔ وہ اسے کھینچتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ ۔ ۔ ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *