Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dard E Dil by Asra Khan Episode05

Dard E Dil by Asra Khan Episode05

جیسے ہی گاڑی نظروں سے اوجھل ہوئی ۔۔۔۔ عادی نے ایک لمحے کی دیری کے بغیر فون نکالا اور اپنے مطلوبہ نمبر پر کال کی ۔۔۔۔ کال فورا ریسیو کر لی گئی۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
سر جی ڈی ایس پی آپ سے ملنے آۓ ہیں ۔۔۔۔ ملازم نے آ کر حسن صاحب(ہانی کے والد) کو اطلاع دی۔۔۔۔۔ میں ابھی آیا ۔۔۔ وہ خوشی سے بولے۔۔۔۔ اور اٹھ کر ڈرائنگ روم میں چلے گئے۔۔۔ السلام و علیکم ۔۔۔۔۔۔! سیٹھ صاحب کیا حال ہے۔۔۔ حامد صاحب(ڈی ایس پی) خوش دلی سے اٹھ کر حسن صاحب سے ملے۔۔۔۔ وہ بہت پرانے دوست تھے۔۔۔۔ جگری یار۔۔۔۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں تم آج کل کہاں ہوتے ہو۔۔۔ حسن صاحب نے محبّت سے انکا ہاتھ تھامے پوچھا۔۔۔ میں تو یہیں ہوتا ہوں۔۔۔ آپکے دل کے آس پاس۔۔۔۔ حامد صاحب شریر ہوئے۔۔۔۔ یار مجھے لگتا ہے تم نے ساری زندگی ایسی حرکتیں کرنی ہیں۔۔۔ شہیر کو بھی تم نے اپنے جیسا بنا دیا ہے۔۔۔۔۔ حسن صاحب نے انکی بات پر ہنستے ہوئے کہا۔۔۔ وہ بھی ہنس پڑے۔۔۔ اچھا اور سناؤ ہانی بیٹی کب آ رہی ہے۔ ۔۔۔ ۔؟؟ بس آنے والی ہے میں نے اللّه بخش کو بھیج دیا ہے۔ ۔ ۔۔ اچانک حامد صاحب کا فون بجنے لگا۔۔۔۔ انہوں نے کال ریسیو کی۔۔ ۔ آگے سے جو خبر ملی۔۔۔ اس نے انکے ہوش اڑا دیۓ۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 ا
اسکی آنکھ کھلی۔۔۔۔ اسنے خود کو رسیوں میں جکڑا ہوا پایا۔۔۔۔ وہ اتنی مضبوطی سے بندھی ہوئی تھی کہ ہل بھی نا سکی ۔۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ۔ ۔ اللّه پاک پلیز میری مدد کریں۔۔۔ مجھے رسوا ہونے سے بچا لیں ۔ ۔۔ آنسو تھے کہ کنٹرول ہی نا ہوتے تھے۔ ۔ ۔ ۔
اب تمہیں خدا یاد آ رہا ہے ۔۔۔ جب اسکی نافرمانی کر کہ تم اس غیر مرد کے ساتھ گھومتی تھی۔۔۔۔ تب تمہیں خدا یاد نا تھا۔۔۔۔ ضمیر اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
پر میں نے اس سے صرف محبّت کی ہے۔۔۔ اسنے اپنا رفاع کیا۔۔۔ اسے محبّت نہیں محبّت کو ناپاک کرنا کہتے ہیں۔۔۔ جواب حاضر تھا۔۔۔ وہ لاجواب ہو گئی۔۔۔۔۔ اچانک دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔ ہانی دل و جان سے لرز گئی تھی۔۔۔۔۔
دروازہ کھلا۔۔۔۔ سامنے شاہ کا چہرہ واضع ہوا۔۔۔۔ ہانی کا رنگ سفید پر گیا تھا اسکے چہرے پر شیطانیت دیکھ کر۔۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اسکے پاس آیا،۔۔۔۔ نیند پوری ہوگئی میری ہنی کی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اسنے اسکے سامنے چیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔ ہانی اپنے لۓ واہیات لفظ سن کر لب بھینچ گئی۔۔۔۔ چلو اب کھانا کھا لو۔۔۔۔ پھر مولوی صاحب بھی آنے والے ہیں۔۔۔۔۔ آخر ایسے جگہ پر کونسا مولوی آنا پسند کرے گا۔۔۔۔۔ اسے بھی تو تمھاری طرح لانا پڑے گا نا ۔۔۔ وہ اسے آنکھ مارتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ کیا مطلب ایسے جگہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہانی کے منہ سے کپکپاتی ہوئے آواز نکلی۔۔۔۔۔ بےبی تم بھی نا پتا نہیں کب بڑی ہو گئی۔۔۔۔ وہ اسکے سر پر چپت لگاتے ہوئے مصنوعی لاڈ سے بولا۔۔۔۔ ہانی کا جی چاہا ۔۔۔۔ وہ اس گھٹیا انسان کا منہ توڑ دے۔۔۔۔۔ بےبی یہاں پر تو میں اپنی بہت سی گرل فرینڈز کو لاتا ہوں میرا اڈا بنا ہوا ہے یہاں۔۔۔۔ تم واحد لڑکی ہو جس سے میں نکاح کر رہا ہوں۔۔۔ باقی سب سے تو ایسے کام چل جاتا ہے۔۔۔ وہ ڈھٹائ کی تمام حدود پر کرتا ہوا اسے بتا رہا تھا۔۔۔۔ ہانی کا سانس اٹک گیا تھا۔۔۔ چلو اب کھانا کھاؤ۔۔۔ اسنے چمچ اسکی طرح بڑھایا۔۔۔ تمہیں اپنے ہاتھ سے کھلا رہا ہوں۔۔۔ پر ہانی نے نفرت سے چہرہ موڑ لیا۔۔۔۔۔ ہنی۔۔۔۔۔۔۔!!! شاہ کی آواز میں ابھی بھی نرمی تھی۔۔۔ پر ہانی ٹس سے مس نا ہوئی۔۔۔۔ لگتا ہے تم ایسے نہیں مانو گی۔۔۔۔ اچانک شاہ کی آواز میں سختی آ گئی۔۔۔۔ ہانی نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ سمجھتی۔۔۔ شاہ نے اسے دونوں جبڑوں سے سختی سے پکڑ لیا۔۔۔۔ اور چاولوں سے بھرا چمچ اسکے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔۔ ہانی بے اختیار رونے لگی۔۔۔۔ اور پھر اسنے اس نوالے کو تھوک دیا۔۔۔ بس اتنا کافی تھا۔۔۔ شاہ نے زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا۔۔۔۔ وہ کرسی سمیت اوندھے منہ جا گری۔۔۔ شاہ آرام سے اسکے پاس پنجوں کے بل بیٹھا۔۔۔ یہ نخرے اپنے اس تھرڈ کلاس بواۓ فرینڈ کو دکھانا۔۔۔ اور اسکا منہ جھٹکتا اسے اسی حال میں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔ وہ پیچھے تکلیف کے مارے سسکتی رہ گئی۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کیا ہوا حامد خیریت تو ہے۔۔۔۔۔۔ ؟؟ حسن صاحب پریشان ہو گۓ ۔۔۔۔ خیریت تو نہیں ہے۔۔۔۔ وہ بڑبڑاۓ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے مجھ تو بتاؤ۔۔۔۔ انہوں نے نرمی سے حامد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھا۔۔۔۔ کیا تم میں حوصلہ ہوگا سننے کا۔۔۔۔۔۔؟؟۔ کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ وہ آہستگی سے بولے۔۔۔ انکی چھٹی حس نے انہیں پہلے ہی خبر دار کر دیا۔۔۔۔ حامد۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ حسن صاحب جب بولے تو انکی آواز بہت دھیمی تھی۔۔۔۔ ہانی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔۔۔ انہوں نے حسن کے سر پر گویا دھماکہ کیا۔۔۔ انکا سر گھوم کر رہ گیا۔۔۔۔ حسن۔۔۔۔!! حسن ۔۔۔ ہوش کرو۔۔۔ یہ وقت اپنی طبیعت بگاڑنے کا نہیں ہے۔۔۔۔ ہمیں سب پتا چل گیا ہے کہ اسے کس نے اغوا کیا۔۔۔۔ وہ محفوظ ہے ۔۔۔۔وہ انھیں بتاتے جا رہے تھے پر حسن صاحب کو کچھ نہیں سن رہا تھا۔۔۔۔ انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر درد کنٹرول کرنے کی گویا کو شش کی۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ لہرا کر گرے تھے۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ اسی حالت میں زمین پر پڑی سسک رہی تھی۔۔۔۔ بابا ۔۔۔۔۔۔!!! اسنے اپنے خون بہتے ہونٹوں سے باپ کو پکارا۔۔۔ دل تھا کہ غم کی شدّت سے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔ کوئی اسکے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔۔۔۔ کوئی ہانی کو اتنا درد کیسے دے سکتا ہے۔۔۔ وہ روتے ہوئے سوچنے لگی۔۔ میں تو اپنے بابا کی پرنسیس تھی۔۔۔ اب جب میں واپس جاؤں گی تو لوگ مجھ جسم فروش ، گھر سے بھاگی ہوئ لڑکی سمجھیں گے۔۔۔ کوئی میری کہاں سنے گا۔۔۔ سب مجھ پر تھوکیں گے۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اسکی سوچوں کو بریک لگی۔۔۔ کوئی اندر داخل ہوا۔۔۔ اور اسے سیدھا کیا۔۔۔ ہانی بےاختیار بڑے بڑے سانس بھرنے لگی ۔۔۔ کیوں کہ اسکو اس حالت میں گرے ہوئے بہت ٹائم ہو گیا تھا۔۔۔ اور سانس لینے میں بھی مشکل ہو رہی تھی۔۔۔ اسنے سامنے دیکھا۔۔۔ عادی اسے سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسنے ایک بیگ اسکی طرف بڑھایا۔۔۔ اور سامنے واشروم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ جو فریش ہو کر یہ لباس پہنو۔۔۔ نکاح کی تیاری ہو چکی ہے۔۔۔۔ تم جلدی سے اسے پہن لو وہ اسکی رسیاں کھولتا ہوا بولا۔۔۔ جلدی کرو اب اسنے بیگ سے سوٹ کا پیکٹ نکل کر اسے بڑھایا۔۔۔۔ اگر تم نے ایسا نا کیا تو یہ سوچ لو وہ تمہیں نکاح کے بغیر چھونے کی طاقت رکھتا ہے۔۔۔ اپنی عزت بچاؤ اور جلدی سے اسے پہن لو۔۔۔ وہ کہ کر واپس پلٹ گیا۔۔۔ اسکے چہرے پر گہری سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔۔۔۔ ہانی نے ایک نظر جوڑے کو دیکھا۔۔۔ اور اسے پہننے کے لیا اٹھ کھڑی ہوئ۔۔۔ اسے عادی کی بات پر عمل کرنا ہی تھا۔۔۔
**********
حسن صاحب (icu) میں تھے۔۔۔ انھیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔۔۔ آمنہ بیگم کی رو رو کر حالت خراب تھی۔۔۔ شوھر کی یا حالت اور بیٹی کی عزت خراب ہوتی دیکھ کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھیں۔۔۔ ماہی انھیں چپ کرواتے کرواتے خود بھی رو پڑی۔۔۔ وہ کتنا صبر کرتی وہ خود اک نازک سی لڑکی تھی۔۔۔ جس کے دو پیارے اس حالت میں ہوں۔۔۔۔ وہ کہاں خود پر کنٹرول کر سکتا ہے۔۔۔۔ اس کھیل میں تو بڑے بڑے ہار جاتے ہیں۔۔۔ وہ تو ایک نازک سی لڑکی تھی۔۔۔ وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی۔۔۔۔ حامد صاحب نے انھیں سنبھالا ہوا تھا۔۔۔ ہر جگہ وہی بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔۔۔۔ آخر دوستی کا حق جو نبھانا تھا۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
وہ جوڑا پہن کر تیار بیٹھی تھی۔۔۔ آنسوؤں پر تو کنٹرول نا تھا۔۔۔ مگر اسے اپنی عزت بچانی تھی تو جو کچھ شاہ چاہتا تھا اسے کرنا تھا۔۔۔ ورنہ وہ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔۔۔!! عادی پتا نہیں کب اندر آیا۔۔۔ اسکی آواز پر وہ چونکی۔۔۔۔ اسکا دل اچانک پھٹنے آگیا تھا۔۔۔۔ اس نے عادی کے پاؤں پکڑ لئے۔۔۔ پلیز مجھ بچا لو۔۔۔ خدا کا واسطہ تمہیں۔۔۔ وہ روتے ہوئے اسکی منتیں کرنے لگی۔۔۔۔۔ عادی کو اس کی حالت پر افسوس ہوا۔۔۔ اسنے اسکے ہاتھ دور کۓ اور اسے آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ ہانی نے بےبسی سے اسے دیکھا۔۔۔ آخری امید کا دیا بھی بجھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
شاہ سفید رنگ کا کرتا اور اوپر سیاہ واسکٹ پہنے اپنے دوستوں کے جھرمٹ میں قہقے لگا رہا تھا۔۔۔ شاہ کہیں تو کسی مولوی کی صحبت میں تو نہیں رہ رہا۔۔۔ نکاح جیسا نیک کام کر رہا ہے۔۔۔۔ یا مولوی صاحب کے یہاں آنے سے برکت ہوئے تو تو نیکی کے راستے پر چل پڑا ہے ۔۔۔۔ ولید نے مولوی صاحب کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ شاہ سمیت سب منہ پھاڑ کر قہقہہ لگانے لگے۔۔۔۔ مولوی صاحب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھا۔۔۔ یہ لوگ انھیں دھوکے سے یہاں لاۓتھے۔۔۔۔۔
لو جی دولہا بھائی ۔۔ ہماری بھابی بھی آ گئیں۔۔۔۔ ولید نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔ کانپتی ہوئے ہانی کو شاہ کے برابر صوفے پر بٹھا دیا گیا۔۔۔۔ کیا لڑکی نکاح کے لئے راضی ہے۔۔۔۔۔؟؟ قاضی نے سختی سے پوچھا۔۔۔۔ جی جی بلکل راضی ہے۔۔۔ آپ اپنا کام شروع کریں۔۔۔ ولید نے ریوالور ان کے سر پر رکھا۔۔۔ انکے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئ
مولوی صاحب نے کاروائی پوری کرنے کے بعد نکاح پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔ ” جی تو ارمغان شاہ ولد کامران شاہ آپکو ام ہانی ولد حسن خان پانچ لاکھ روپے حق مہر گواہوں کی موجودگی میں اپنے نکاح میں قبول ہیں” قبول ہے۔۔۔!!!! اس نے سینہ تان کر جواب دیا۔۔۔ ہانی کے گلے میں آنسوؤں کا گولہ پھنس گیا۔۔۔۔۔ ہانی سے پوچھا گیا۔۔۔ وہ خاموش تھی۔۔۔ ہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! آیاں نے اسے گھورا۔۔۔۔ وہ کانپ گئی۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے جواب دینے کا لۓ لب کھولے۔۔۔۔۔ باہر سے فائرنگ کی آواز آنے لگی۔۔۔۔ سب نے چونک کر دیکھا۔۔۔ اسی لمحے دروازہ ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔
***********
ہیلو۔۔۔۔۔۔!! عادی نے وہاں سے کال ریسیو ہوتے ہی جلدی سے کہا۔۔۔۔ ہاں کہو عادی کوئی خاص خبر ۔۔۔۔۔؟؟ شہیر نے مصروف لہجے میں کہا۔۔۔۔ سر آج ہی تو خاص خبر ہے۔۔۔۔ عادی پرجوش سا بولا۔۔۔۔ کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ وہ بےاختیار اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ سر شاہ ایک لڑکی کو اغوا کر کہ جا رہا تھا۔۔۔ اور اس جگہ پر جسکی ہمیں تلاش تھی۔۔۔۔ عادی اسے تفصیل بتانے لگا۔۔۔۔ شہیر کے چہرے پر جوش بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔ وہ اسکی بات سننے کے ساتھ ساتھ جلدی جلدی باقی آرڈرز بھی جاری کر رہا تھا۔۔۔۔ اس نے ایک لمحے کی دیری کے بغیر ڈی ایس پی صاحب کو کال کر کے سمجھایا۔۔۔۔ اور روانہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہینڈز اپ۔۔۔۔۔۔۔!!! شہیر نے گرج دار آواز میں کہا۔۔۔۔۔ شاہ کا رنگ فق ہو گیا۔۔۔ آج وہ پکڑا جا چکا تھا۔۔۔۔ اس نے ایک نظر ہانی کو دیکھا۔۔۔۔ جو خوشی کے آنسو لئے شہیر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کے ذہن میں ایک لمحے میں شیطانی خیال آیا۔۔۔ اس نے تیزی سے ہانی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔ تا کہ اسکے ذریعے شہیر کو بلیک میل کر سکے۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ ایسا کرتا۔۔۔ اسکا ہاتھ بیچ میں سے کسی نے پکڑا اور اسے دھکّا دیا۔۔۔ وہ اوندھے منہ نیچے جا گرا۔۔۔۔۔
جیسے ہانی کو اسنے گرایا تھا۔۔۔ اب خود اسی حال میں پڑا تھا۔۔۔۔عادی نے تیزی سے ہانی کو بازو سے پکڑ کر شہیر کی طرف دھکیلا۔۔۔ وہ سیدھا اسکے سامنے آ پڑی۔۔۔ شیری نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ ۔ میرے پیچھے ہو جاؤ۔۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔۔ ہانی تیزی سے اسکے پیچھے چھپ گئی۔۔۔۔ دیکھو مسٹر ارمغان شاہ۔۔۔۔۔!! ہارنا تو تمہیں ہے۔۔۔ تو اس سے بہتر نہیں کہ تم اپنے آپ کو میرے حوالے کر دو۔۔۔۔ ورنہ نتائج کے ذمّہ دار خود ہوگے۔۔۔ وہ لاپرواہی سے بولا۔۔۔۔ شاہ کی آنکھیں شعلے اگل رہی تھیں۔۔۔۔ وہ حیرانی سے عادی کو دیکھ رہا تھا کہ وہ اس سے کیسے دھوکہ کھا گیا۔۔۔۔ پر جب اسکے دوستوں نے سر جھکا دیا۔۔۔ تو وہ بھی مجبور ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ لے چلو انہیں۔۔۔ “عزت اور احترام سے۔۔۔۔۔” شہیر نے دلکش مسکراہٹ لئے شاہ کو دیکھا۔۔۔ باقی کانسٹیبل دانت نکالنے لگے۔۔۔ تم بھی چلو۔۔۔ شیری نے ہانی کو اشارہ کیا۔۔۔ وہ سر جھکاۓ اسکے پیچھے چل پڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔
*******
دیکھو عادی ریہان سے جانا۔۔۔ کوئی گڑبڑ نا ہو۔۔۔ شہیر نے تمام مجرموں کو اپنی نگرانی میں گاڑی میں بٹھایا اور اب عادی کو ضروری ہدایت دے رہا تھا۔۔۔ جی سر۔۔۔ انشاءلله کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔۔۔۔ گڈ مجھے تم پر فخر ہے تم نے اپنا مشن کامیابی سے پورا کیا۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپکا۔۔۔ اور اپنی گاڑی کی طرف آیا۔۔۔ جہاں ہانی دلہن کا جوڑا پہنے رونے کا شغل کر رہی تھی۔۔۔۔اسے اس پر ترس آیا۔۔۔ اور بےاختیار کسی کی یاد نے فورا دستک دی تھی۔۔۔۔ مگر اسنے اسے جھٹک دیا۔۔
اسی لمحے اسکا فون بجنے لگا۔۔۔ بابا کی کال تھی۔۔۔۔ شہیر مجھ تم پر فخر ہے تم نے آج اپنا کام پورا کر دیا۔۔۔۔ انہوں نے کال ریسیو ہوتے ہی خوشی اور محبّت کے ملے جلے جذبات لئے کہا۔۔۔۔ بابا یہ سب آپکی دعاؤں کا اثر ہے بابا۔۔۔ وہ عاجزی سے بولا۔۔۔۔ بیٹا ہانی کے بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔ ہانی کو تم ہسپتال ہی لانا۔۔۔۔ اوہ۔۔۔۔۔۔!!!! اس نے بےاختیار ہانی کی طرف دیکھا۔۔۔۔ ان سے بات کر کہ وہ فون ہاتھ میں پکڑے گاڑی کی طرف آیا۔۔۔ کال کاٹے بنا جلدی سے ۔۔۔۔اور پچھلی سیٹ سے چادر اٹھا کر اسکی طرف پھینکی۔۔۔ اور فرنٹ پر بیٹھتے ہی شرارت سے بولا۔۔۔۔۔۔
تم میرے ساتھ فرنٹ پر بیٹھ رہی ہو….. لوگ سمجھیں گے میں دولہن بھگا کر جا رہا ہوں….. مجھے بخش دو…. شہیر نے شرارتی لہجے میں کہا…. ہانی غصے سے دروازہ کھولنے لگی…. مگر وہ کھل نہیں رہا تھا… شہیر ہنسی قابو کۓ بیٹھا ہانی کی بے وقوفی دیکھ رہا تھا جو لاک دروازے کو کھول رہی تھی…….
حامد صاحب جو کال کاٹنے ہی لگے تھے۔۔ شہیر کی بات سن کر سوچ میں پڑ گۓ۔۔ کمال ہے مجھے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔۔۔ ہمممم۔۔۔۔ سوچنا پڑے گا۔۔۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے سوچا اور کال کاٹ دی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *