Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dard E Dil by Asra Khan Episode26

Dard E Dil by Asra Khan Episode26

ہانی کہاں ہو۔۔۔۔۔؟
جلدی کرو یار۔۔۔۔ مت بھولو کہ دلہن کی بہن ہو۔۔۔۔ استقبال کے لئے ہمیں ہی ٹھہرنا ہے۔۔۔۔
اور تم ہو کہ لیٹ کرواۓ جا رہی ہو۔۔۔۔ شہیر ہانی کو مسلسل بلانے میں مصروف تھا۔۔۔
بس آ رہی ہوں۔۔۔۔
ہانی نے جلدی سے آخری نگاہ شیشے میں خود پر ڈالی۔۔۔
خوبصورت ڈارک ریڈ فراک میں وہ کھلتا ہوا ریڈ گلاب لگ رہی تھی۔۔۔۔
دوپٹا اٹھا کر وہ تیزی سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے شہیر نے ہیل کی ٹک ٹک پر نگاہ اٹھائ۔۔۔
جہاں ہانی اپنا فراک سنبھالے سہج سہج کر سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔ ۔
اسے دیکھ کر وہ ایک لمحے کو مبہوت رہ گیا۔۔۔۔
ہانی کے گال سرخ پڑ گئے تھے۔۔۔۔
اسکے کان اپنی تعریف سننے کے منتظر تھے۔۔۔۔
چلیں۔۔۔۔۔دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔جوں ہی وہ اسکے پاس کھڑی ہوئی۔۔۔۔ شہیر فورا سے کہتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
ہانی نے بے بسی سے اس ہینڈسم کھڑوس کو دیکھا۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ خدایا۔۔۔!! وہ گہرے گہرے سانس بھرتی اپنے غصّے کو کنٹرول کرتی پیر پٹختی اسکے پیچھے نکل گئی ۔۔۔۔۔
💕💕💕💕
جی تو ماہین حسن ولد احمد حسن آپکو سارم خان ولد وسیم خان پانچ لاکھ روپے حق مہر اپنے نکاح میں قبول ہیں۔۔۔۔؟
قاضی صاحب نے تیسری بار ماہی سے پوچھا۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔
ماہی کی دھیمی سی آواز آئ۔۔۔
ہر طرف مبارک کا شور مچ گیا۔۔۔۔
سب گلے لگا کر ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے۔۔۔۔
ہانی نے ماہی کو گلے لگا لیا۔۔۔۔
آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔۔۔ اسکی بہن آج پرائ ہو گئی ۔۔۔
مرد حضرات کاروائی کے بعد جا چکے تھے ۔۔ حسن صاحب نے ماہی کو پیار کر کیا۔۔۔ اور آنسو چھپاتے وہاں سے چلے گئے۔۔۔ شہیر ماہی کو سر پر پیار کرنےکے بعد وہیں ٹھر گیا۔۔۔۔
آنسو صاف کرتے ہوئے ہانی نے چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا۔۔۔۔
جہاں شہیر اسے اپنی نگاہوں کے حصّار میں لئے کھڑا تھا۔۔۔۔
“میں زمین تو آسمان
میں داغ ہوں تو چاند سا
تو بارش ہے میں ریت ہوں
میں دھن کوئ تو راگ سا
مینو اپنا بنا لے میری ہیریئے۔۔۔۔۔
مینو اپنا بنا لے میری ہیریئے۔۔۔۔”
پیچھے سے آتی گانے کی آواز اور شہیر کی کچھ بولتی نگاہیں۔۔۔۔
ہانی کا سانس بند ہونے لگا۔۔۔۔
افففف۔۔۔ چھچھورا دیکھتا ہی رہے گا۔۔۔۔ منہ سے کبھی کچھ نہیں پھوٹے گا۔۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں سوچتی شہیر کو ایک زبردست گھوری سے نوازتی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔۔۔۔
شہیر بیچارہ نے سر کھجایا اور ادھر ادھر دیکھ کر دولہے میاں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
💓💓💓💓💓
سر ہماری پکچرز بہت لے لیں آپ نے۔۔۔ اب یہ جو ساتھ میں کپل کھڑا ہے نا ان کی چوری چوری سے لے لیں کچھ پکچرز۔۔۔۔
سارم نے ماہی کو شرارت سے دیکھتے ہوئے کیمرہ مین کو کہا۔۔۔۔
سارم۔۔۔ کبھی تو ان بچاروں کو چھوڑ دیا کریں۔۔۔۔
ماہی نے ایک تھپڑ اسکے کندھے پر مارا۔۔۔
جوابا وہ صرف ڈھیٹائ سے مسکرا دیا۔۔۔
ہانی یار بات تو سنو۔۔۔۔
شہیر نے کوئی دسویں بار ہانی کو بلایا۔۔۔ جو اسکے آس پاس تو منڈلا رہی تھی۔۔۔۔ مگر کسی کام کا بہانہ کرتے ہوئے اسے اگنور کئے۔۔۔۔
ہانی۔۔۔۔۔!!
اب کی بار شہیر نے اسکی کلائ پکڑ لی۔۔۔
کمرے کا بٹن دبتے ہی یہ سین محفوظ ہو گیا تھا۔۔ ۔
اسکی طرف پشت کئے کھڑی ہانی کا سانس رک گیا۔۔۔ شاید آج۔۔۔ آج وہ اس سے کچھ کہنے والا تھا۔۔۔۔
ہانی کب سے بلا رہا ہوں۔۔۔ کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ مگر تم سنتی ہی نہیں ہو۔۔۔۔ تمہیں ذرا خیال نہیں ہے.۔۔ اپنے شوہر کی فیلنگز کا۔۔۔۔
انکی باتیں کان لگا کر سنتے سارم نے تیزی سے کیمرہ کھولا۔۔۔ اس سین کو محفوظ نا کرنا بیوقوفی تھی۔۔۔
وہ یہ بھول چکا تھا کرہ وہ دولہا ہے ۔اسے بس یہی یاد تھا۔۔۔ کہ اس نے شہیر کو اظہار محبت کے بہت سے سبق یاد کرواۓ تھے. ۔۔۔ جن کہ اب امتحان کا وقت تھا۔۔۔
ہانی آہستہ سے واپس مڑی۔۔۔۔ کیا کہنا ہے۔۔۔ اسکی پلکیں یہ بات پوچھتے ہوئے لرز رہی تھیں۔۔۔۔
ارے یار۔۔۔ تمہیں میری بھوک والی فیلنگز کا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔۔ یہ مہمانوں کے چکّر میں کیا میزبان بھوکے رہیں گے۔۔۔ عجیب مصیبت ہے۔۔۔ وہ ہانی کے تاثرات کودیکھے بغیر نان سٹاپ شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔
اوہ گاڈ۔۔۔۔۔ ہانی اپنے بالوں کو تقریبا نوچتے ہوئے بولی۔۔۔
کک۔۔۔ کیا ہوا ہانی۔۔۔۔ شہیر بیچارہ گھبرا ہی گیا تھا۔۔۔
تم۔۔۔ تم چپ ہی رہو ایڈیٹ۔۔۔ اسکا دماغ ہی گھوم گیا تھا۔۔۔۔
پیر پٹختے ہوئے وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
اسے کیا ہوا۔۔۔ وہ سوچتا ہی رہ گیا۔۔۔۔
پھر کسی چیز کے گرنے کی آواز پر اس سمت دیکھا۔۔۔۔
وہاں سارم غضب ناک نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔
اسکا فون نیچے گرا ہوا تھا۔۔۔۔
ارے سارم تیرا فون۔۔۔۔ شہیر نے اسکے موبائل کے بارے میں فکر مندی ظاہر کی ۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔!! سارم غرایا۔۔۔۔
ارے۔۔۔۔۔؟ شہیر حیران ہی رہ گیا۔۔۔۔۔
ثابت ہوگیا۔۔۔ کہ تو ایک فیلیر انسان ہے۔۔۔ ایڈیٹ کہیں کے۔۔۔۔
وہ تن فن کرتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
اب اسے کیا ہوگیا۔۔۔۔
شہیر ایک بار پھر سے سوچ میں گم ہوگیا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕
رخصتی کا وقت آ پہنچا تھا۔۔۔ ماہی بابا کے سینے سے لگی بری طرح رو رہی تھی۔۔۔
آنسو تو ہانی کے بھی تھم نہیں رہے تھے۔۔۔۔
ٹشو۔۔۔
سوں سوں کی مسلسل آواز پر شہیر نے اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔!! ہانی نے اسے گھورا اور ماہی کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔۔۔۔
شہیر کندھے اچکاتے ہوئے بڑبڑایا۔۔۔۔
اور وہ بھی ماہی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ اسے رخصت کرنے۔۔۔
بڑے بھائی کی طرح اس نے شادی کی ہر ذمہ داری سنبھالی تھی۔۔۔۔
جو بات اس نے ماہی کے لئے اپنے غصّے کے وقت کہ دی تھی۔۔۔
آج اسکا ازالہ وہ کر چکا تھا۔۔۔۔
💓💓💓💓
اگلے دن ولیمے کا فنکشن خیر خیریت سے ہوگیا۔۔۔
ہانی کے چہرے کی چمک اور مسکراہٹ اسکے بے انتہا خوش ہونے کا پتا دے رہی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں انہیں دیکھ کر خوش تھے۔۔۔
مگر شہیر کو سارم کہ گھورنے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔
اب وہ واپس گھر کے لئے روانہ ہو رہے تھے۔۔۔۔
رات کا وقت تھا۔۔۔۔
ہانی فرنٹ سیٹ پر منہ شیشے کئ طرف کۓ باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی۔۔۔
شہیر پورے دیھان سے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔۔۔۔
جیسے اس کے علاوہ کوئ اور دنیا میں اہم کام ہو ہی نا ۔۔۔۔
ہانی بار بار پیچھے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
شہیر نے نوٹ تو کیا۔۔۔ مگر پوچھا نہیں۔۔۔۔
شہیر۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
تھوڑی دیر بعد ہانی کی کپکپاتی آواز نکلی۔۔۔۔
شہیر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔
اسکے چہرے پر خوف دیکھ کر شہیر کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔🌹

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *