Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Jor by Zoya Hassan Last Episode

Be Jor by Zoya Hassan Last Episode

“جب میں پہلی بار تمہیں ملی تھی تو میرے دل میں تمہارے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گرزتا گیا، وہ نفرت محبت میں بدل گئی۔ تم میرے لیے میرا سب کچھ بن گئے۔ بیتے ایک سال میں میری دنیا تم سے شروع ہوکے تم پہ ہی ختم ہوتی تھی۔
لیکن تم اپنے حصے کی محبت پہلے ہی کسی اور کے نام کر چکے ہو اور میں تمہارے لیے بس ایک فرض ہوں جسے تم بخوبی نبھا رہے ہو۔ میں جانتی ہوں اپنی خوشیوں کا گلہ گھونٹ کے کسی اور کو خوش رکھنا بہت ہی کٹھن ہوتا ہے لیکن تم بنا کسی شکائیت کے ہر روز یہ قربانی دیتے آرہے ہو۔
جو محبت میں تم سے کرتی ہوں اسکا یہی تقاضہ ہے کہ میں تمہیں تمہاری زندگی جینے کا ایک اور موقع دوں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم حمنہ کی طرف لوٹ جاؤ۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جب تک میں تمہاری زندگی میں رہوں گی یہ ممکن نہیں ہو پائے گا۔ اس لیے میں اس بے جوڑ بندھن سے تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد کرتی ہوں۔
تم نے مجھے ہمدردی میں اپنایا تھا میں تمہیں محبت میں چھوڑ رہی ہوں۔۔۔۔۔ “
میں نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پہ یہ تحریر لکھ کے احتشام کے لیے چھوڑ دی۔ اور خود انجانے رستوں پہ نکل پڑی۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ایک سال بعد ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“آپ خوامخواہ اتنی پریشان ہو رہی تھیں، دیکھا۔۔۔۔ ! سب کچھ کتنے آرام سے نمٹ گیا” میں نے مسکراتے ہوئے خالہ کی طرف دیکھا۔ وہ میری طرف آئیں
“بینا بیٹا۔۔۔۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔ اگر تم نہ ہوتی تو اتنی بڑی ذمہ داری پوری کرنا میرے بس میں کہاں تھا” انھوں نے میرا گال تھپتھپایا۔
“یہ صرف میری وجہ سے نہیں بلکہ ہم دونوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے” میں نے انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
“بینا۔۔۔۔۔ !” وہ میری آنکھوں میں دیکھ کے بولیں
“جی۔۔۔۔ !” میں نے جواب دیا
“تم نے کیا سوچا ہے ۔۔۔۔ ؟” انھوں نے پوچھا
“کس بارے میں۔۔۔۔؟” میں نے سوال کیا
“اپنی زندگی کے بارے میں۔۔۔۔ ! میرا مطلب تم کب تک ایسے۔۔۔۔۔ ؟” وہ بولیں
“میری زندگی بالکل ٹھیک جارہی ہے۔ رابعہ کے بعد آپ اور دانی میرے ساتھ ہیں۔۔۔ اور احتشام بھی تو ہے۔۔۔۔ احتشام سے یاد آیا۔۔۔ اسے بھی تو رابعہ کی شادی کے بارے میں سب کچھ بتانا ہے” میں یہ کہہ کہ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“احتشام۔۔۔ !
بلآخر رابعہ کی شادی ہوگئی، خالہ اسکی شادی کو لے کے اتنی پریشان تھیں کہ پوچھو مت۔ لیکن اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ سب کچھ بڑے آرام سے ہوگیا۔ رابعہ کی رخصتی کے وقت مجھے اپنی رخصتی یاد آگئی۔ تمہیں یاد ہے میں کتنا روئی تھی، مجھے تو ایسے لگا تھا جسے موت کی طرف بڑھ رہی ہوں۔ پر تم نے جیسے میرا ہاتھ تھاما سب کچھ بدل گیا۔ تم ایک اجنبی تھے پر اب زندگی کا ایسا محور ہو جس کے گرد میری تمام خواہشیں، جذبات اور خوشیا ں گردش کرتی ہیں۔ تمہارا اور میرا ساتھ امر ہوگیا ہے، جو میری آخری سانس تک ایسے ہی قائم رہے گا۔۔۔۔
کل میری مارننگ ڈیوٹی ہے تو اسپتال جلدی پہنچنا ہے۔ میں اب سوتی ہوں۔ تم اپنا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔۔ گڈ نائٹ۔۔۔۔۔ !”
میں نے ڈائری تکیے کے نیچے رکھی اور آنکھیں بند کر لیں۔
ایک سال پہلے میں جب احتشام کو چھوڑ کے نکلی تھی تو میرے پاس رہنے کو گھر تھا نہ کہنے کو کوئی اپنا۔ ماں باپ کے گھر لوٹ کے جانا میرے ضمیر کی موت تھی اس لیے میں نے وہ راستہ چنا ہی نہیں۔ اللہ پاک کی ذات مسبب الاسباب ہے ۔ احتشام کے آفس میں کام کرنے والی ریسپشنسٹ رابعہ میرے لیے مسیحا بنی۔ جب میں نے اسے فون کرکے مدد مانگی تو نہ صرف اس نے مدد کی بلکہ اپنی چھوٹی سی فیملی کا حصہ بھی بنایا۔ رابعہ احتشام کے آفس کی نوکری چھوڑ کے ایک اسپتال میں نرس لگ گئی۔ میں نے بھی رابعہ اور اسکی ماں کے مشورے سے نرسنگ کورس مکمل کیا اور چھ مہینے قبل ایک پرائیویٹ اسپتال میں نوکری شروع کردی۔ وقت بھی کس ظالم چیز کا نام ہے، کہاں میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کے سپنے دیکھتی تھی اور کہاں قسمت نے ایک نرس بنا دیا۔
میں بے شک احتشام سے بہت دور چلی آئی تھی لیکن اسکا نام اپنے نام سے کبھی مٹنے دیا اور نہ ہی میرے دل میں اسکے لیے محبت کم ہوئی۔ میں نے خیالوں کا ایک ایسا احتشام بنا لیا جو ہر پل میرے ساتھ ہوتا ۔ جس سے میں دل کی ہر بات کرتی۔ پورے دن کے آپ بیتی ڈائری پہ آکے ایسے لکھتی جیسے احتشام میرے سامنے بیٹھا میری ہر بات سن رہا ہو۔ میں اس زندگی سے مطمئن تھی۔ احتشام کی خوشیوں کی دعائیں ہر پل میرے لبوں پہ ہوتی۔
آنکھ کھلتے ہی میری نظریں وال کلاک پہ تھیں۔ ساڑھے آٹھ بج چکے تھے۔ میں ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھی۔ دس منٹ میں تیار ہوئی اور اسپتال کی طرف نکل پڑی ۔ خالہ آوازیں دیتی رہیں کہ ناشتہ کرلوں لیکن میں پہلے ہی بہت لیٹ تھی۔ اسپتال پہنچتے پہنچتے چالیس منٹ لگتے تھے۔
میں جیسے ہی وارڈ میں داخل ہوئی، سسٹر شائستہ میری طرف دوڑتی ہوئی آئی۔
“بینا۔۔۔۔ !” اس نے پیچھے سے آواز دی
میں مڑ کی اسکی طرف دیکھنے لگی۔
“بچو۔۔۔ ! آج تمہاری خیر نہیں ہے۔۔۔ ہیڈ نرس کے عتاب سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا” اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا
“اف۔۔۔۔ بس آدھا گھنٹہ تو لیٹ ہوں۔۔۔ ہیڈ نرس کو تو میرے ساتھ کوئی اذلی دشمنی ہے” میں چڑ کے بولی
“اب کوسنا بند کرو۔۔۔ اور جلدی چلو۔۔۔ وہ تمہیں بلا رہی ہیں۔۔۔ شائد تمہاری ڈیوٹی گائنی وارڈ سے بدل دیں” شائستہ نے ایک اور بری خبر سنائی
“ارے کچھ دن پہلے تو میری ڈیوٹی چینج ہوئی ہے۔۔۔۔ پھر سے۔۔۔” میں تلملا گئی
میں شائستہ کے ساتھ ہیڈ نرس کی طرف چل پڑی۔ جیسی میں اسکے سامنے پہنچی تو اس نے تیوری چڑھا لی
“سسٹر بینا۔۔۔۔ لگتا ہے آپکا کام میں دل نہیں لگتا۔۔۔ یا پھر یہ نوکری آپکے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔ ” ہمیشہ کی طرح وہ منہ سے آگ برسانے لگیں
“نہیں میم ۔۔۔ وہ ۔۔۔ کل میری بہن کی شادی تھی تو گھر میں کافی کام تھا اس لیے۔۔۔” میں سر جھکا کے بولی
“پرائمری سکول کے بچوں والے بہانے ہیں آپکے۔۔۔۔۔ اگر آپ کا دل نہیں ہے تو یہ جاب چھوڑ کے جاسکتی ہیں۔۔۔۔ تمہارے طبقے کی لڑکیوں کا یہی تو مسئلہ ہے، نوکری نہیں ملتی تو آنسو بہاتی رہیتی ہیں اور جب مل جائے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے۔۔۔ مجھے آپکی رپورٹ کرنی ہی پڑے گی” وہ دھمکی لگانے لگی۔
میں سر جھکائے کھڑی رہی۔
روم کا دروازہ کھلا
“سسٹر۔۔۔ ! میرے وارڈ میں جلدی سے ایک نرس بھیج دیں ۔ وہاں بس سسٹر شازیہ ہیں ان کے لیے سارے پیشنٹ سنبھالنا بہت مشکل ہے” ڈاکٹر اسد اکرام کی آواز میرے کانوں میں پڑی، جو ہیڈ نرس سے مخاطب تھے۔
“اف۔۔۔۔ خدایا اس آدمی سے بچانا مجھے۔۔۔” میں نے دل ہی دل میں دعا کی۔ پر شائد قبولیت کی گھڑی نہیں تھی۔
“سسٹر بینا۔۔۔۔ آپ سرجیکل وارڈ میں سسٹر شازیہ کے ساتھ ڈیوٹی کریں گی۔۔۔ جلدی سے وارڈ میں پہنچیں۔۔۔” مجھے ایسے لگا جیسے ہیڈ نرس نے عمر قید کی سزا سنائی ہو۔
“جی۔۔۔ میم۔۔۔ ” میں یہ کہہ پیچھے مڑی۔ ڈاکٹر اسد اکرام وہاں سے جا چکے تھے۔
میں سرجیکل وارڈ میں پہنچی اور سسٹر شازیہ کو سلام کرکے اپنا بیگ دراز میں رکھا۔
“بینا۔۔۔ پلیز۔۔۔ ڈاکٹر اسد کو انکے کیبن سے بلا لاؤ۔۔۔ پیشنٹ کافی سیریس ہے” سسٹر شازیہ نے کہا اور میں جلدی سے ڈاکٹر کے کیبن کی طرف مڑ گئی۔
ڈور ناک کیا
“کم ان۔۔۔۔ !” آواز آئی
میں دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئی
“یس ۔۔۔۔ ! ” انکا دھیان موبائل فون پہ تھا۔
“سر۔۔۔ پیشنٹ کافی سیریس ہے آپکو چلنا ہوگا” میں نے کہا
“اوہ۔۔۔ مس بینا۔۔۔۔ ! آپ کی ڈیوٹی یہاں ہے۔۔۔۔ ” میری آواز سن کے انھوں نے سر اٹھا کے میری طرف دیکھا۔
“یس سر۔۔۔۔ ! “میں نے جواب دیا
گلے میں سٹیتھو سکوپ ڈال کے وہ کیبن سے باہر آئے اور میں انکے پیچھے پیچھے چل پڑی
سسٹر شازیہ پہلے سے پیشنٹ کے پاس موجود تھی۔ ڈاکٹر اسد نے اسے دوسرے پیشنٹس کی طرف بھیج دیا اور مجھے اپنے ساتھ روک لیا۔
پیشنٹ کا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔ تھوڑی دیر کی تگ ودو کے بعد اس کی حالت نارمل ہونے لگی۔ ڈاکٹر اسد اپنے کیبن کی طرف جانے لگے اور میں پیشنٹ کے پاس رک گئی
“مس بینا۔۔۔۔۔ !” انھوں نے جاتے جاتے آواز دی۔
چارو ناچار مجھے بھی انکے پیچھے پیچھے جانا پڑا۔ میں کیبن میں داخل ہوئی تو انھوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“نو تھینک یو۔۔۔ میں ٹھیک ہوں” میں نے بیٹھنے سے انکار کردیا۔
“مس بینا۔۔۔۔ آپ نے کیا سوچا ؟” اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“سر ۔۔۔ کس بارے میں۔۔۔۔ ؟” میں انجان بننے لگی
“آپ بخوبی جانتی ہیں میں کس بارے میں بات کررہا ہوں” انھوں نے مجھے گھورا
“سر ۔۔۔۔ اگر آپکا سوال آج بھی وہی ہے تو یقین جانیے میرا بھی جواب نہیں بدلا” میں نے سنجیدہ ہو کے کہا
“آخر کیوں۔۔۔۔۔؟” انھوں نے پوچھا
“میں آپکو بتا چکی ہوں کہ میں شادی شدہ ہوں۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
“آپ شادی شدہ تھیں لیکن اب آپکی سیپریشن ہو چکی ہے۔ آپ اپنی خالہ کے ساتھ رہیتی ہیں۔ اور آپکے ہزبنڈ کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔۔ ایم آئی رائٹ۔۔۔؟” ان کی نظریں میری چہرے پہ مرکوز تھیں
“مجھے جان کے خوشی ہوئی کہ آپ نے میرے متعلق بائیو ڈیٹا اکھٹا کیا۔۔۔۔ میں اپنے خاوند کے ساتھ نہیں رہیتی یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن میری ان سے سیپریشن نہیں ہوئی۔ میں اب بھی انکے نکاح میں ہوں۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
“مس بینا۔۔۔۔ سیپریشن اور کیا ہوتی ہے؟”
“سوری سر ۔۔۔ میرے لیے سیپریشن کا مطلب کچھ اور ہے”
“تو آپ انکی زندگی میں لوٹ جائیں۔۔۔۔ ؟”
“میں انکی زندگی میں لوٹ جاؤں یا نہیں اسے سے ہمارے رشتے پہ فرق نہیں پڑتا”
“آئی ڈونٹ نو۔۔۔۔۔ آپ اتنی سجھدار ہیں پھر بھی ایسی بے وقوفی۔۔۔۔ جس بندے نے آپکو مڑ کے نہیں دیکھا، آپ پھر بھی اسکے سہارے جی رہی ہیں۔۔۔۔”
“سر اٹس مائی پرسنل میٹر۔۔۔۔ “
“آئی نو۔۔۔۔ پر اب میرا بھی یہ پرسنل میٹر بن چکا ہے۔ سیدھی سی بات ہے، میں آپکو پسند کرتا ہوں، اور شادی کرنا چاہتا ہوں، مجھے آپکے ماضی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے “
“سر ۔۔۔ میرا جواب اب بھی وہی ہے ۔۔ میں شادی شدہ ہوں۔۔۔”
“اوہ کم آن بینا۔۔۔۔ کیوں اپنی زندگی تباہ کر رہی ہو، چند ہزار کی نوکری کرتی ہو۔ میں تمہیں ایک بہتر زندگی دے سکتا ہوں۔۔۔۔” وہ سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے
“بہتر زندگی۔۔۔۔ ؟ آپکے حساب سے بہتر زندگی کیا ہوتی ہے؟”
“بہتر زندگی یہ ہے کہ تمہیں یہ چھوٹی سی نوکری نا کرنی پڑے، اپنی خواہشوں کو نہ مارنا پڑے، اچھا گھر، کھانا اور پہننا۔۔۔ یہ بہتر زندگی ہے۔۔۔ “
“چلیں۔۔۔ میں آج آپکو اپنا تعارف کراتی ہوں۔۔۔ بینش اشفاق ۔۔۔۔ فیصل آباد کے مشہور ٹیکسٹائل بزنس مین کی لاڈلی بیٹی۔۔۔۔ جن کے پاس دولت جائیداد بے بہاہ ہے۔ لاہور کی مشہور سافٹ وئیر کمپنی کے مالک احتشام احمد سے شادی کرکے بینش احتشام بنی۔۔۔ شادی کرنے کے بعد بھی ایک پر آسائش زندگی میسر تھی۔ اب میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ جو زندگی میں چھوڑ کے آئی ہوں کیا اس سے بھی بہتر زندگی آپ مجھ دے سکتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟” میں نے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا
انکے پاس کوئی جواب موجود نہ تھا۔
“بہتر زندگی کبھی دولت سے نہیں خریدی جا سکتی۔ پتا ہے بہتر زندگی کسے کہتے ہیں۔۔۔۔ ؟ جب آپ اپنا سب کچھ کسی کے لیے قربان کر دو، تب جا کے بہتر زندگی ملتی ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے میں ایک بہتر زندگی جی رہی ہوں۔۔۔۔ ” میں نے اپنی بات مکمل کی اور انکے کیبن سے باہر جانے لگی
“مس بینا۔۔۔۔ !” انھوں نےآواز دی
“بینش احتشام احمد۔۔۔۔ ری ممبر مائی نیم۔۔۔۔ ” میں نے مڑ کے جواب دیا
“اوکے سوری۔۔۔۔ بس ایک سوال کا جواب دے دیں۔۔۔ ” وہ بولے
“جی۔۔ پوچھیں۔۔۔” میں نے کہا
“احتشام نے آپکو کیوں چھوڑا۔۔۔۔ ؟” انھوں نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا
“سر۔۔۔ احتشام نے مجھے نہیں چھوڑا۔۔۔ میں نے احتشام کو چھوڑا۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
“کیوں۔۔۔؟ کیا تم اسکے ساتھ خوش نہیں تھی۔۔۔؟” انھوں نے ایک اور سوال کیا
“خوشی بہت چھوٹا لفظ ہے۔۔۔۔ احتشام کے ساتھ گزرا ہر ایک پل بالکل ایسے تھا جیسے میں کسی جنت میں ہوں۔۔۔۔ “
“پھر کیوں چھوڑا۔۔۔؟”
“کچھ فیصلے جتنے کٹھن ہوتے ہیں اتنے ہی ناگزیر بھی۔۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
” اس میں کیا مصلحت ؟ جب دونوں ایکدوسرے کے ساتھ خوش تھے پھر جدا ہوکے تڑپنا کیوں چنا۔۔۔۔؟” انکے سوال ختم ہی نہیں ہورے تھے
“ہمارے معاملے میں تقسیم کچھ اسطرح سے تھی کہ جدائی میرے حصے میں آئی اور خوشیاں اسکے حصے میں۔۔۔”
“تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ خوش ہے ۔۔۔؟ ” انھوں نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا
“میری قربانی کے بعد بھی اگر وہ خوش نہیں ہے تو میرا شکوہ اس ذات پاک سے ہے” میں نے آسماں کی طرف اشارہ کرکے کہا
“تم نے کبھی مڑ کے دیکھا۔۔۔ وہ کہاں ہے اور کس حال میں۔۔۔۔؟” انھوں نے پوچھا
“نہیں دیکھا۔۔۔۔ ڈرتی تھی کہ اگر میں نے مڑ کے دیکھا تو اسکی خوشیوں کو کہیں گرہن نہ لگ جائے” یہ کہہ کے میں انکے کیبن سے باہر نکل آئی
اسپتال سے ڈیوٹی آف ہوئی تو میں گھر واپس پہنچی۔ بھوک نہیں تھی اس لیے کھانا کھائے بنا ہی جا کے بستر پہ لیٹ گئی۔ پر نیند نہیں آرہی تھی۔ ڈاکٹر اسد کی ایک بات بار بار میرے دماغ کی گھنٹیاں بجا رہی تھی
“تم کیسے کہہ سکتی ہوں کہ وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔۔۔ تم نے تو کبھی مڑ کے خبر تک نہیں لی”
دل عجیب ہی کشمکش میں تھا۔ دماغ دل کو تسلیاں دیتا رہا پر دل تھا جو کچھ سننے کو تیار نہ تھا۔
رات بھر نیند نہیں آئی۔ اسپتال پہنچی تو سسٹر شازیہ پہلے سے ہی وارڈ میں موجود تھی۔ کل کافی مریضوں کو جنرل وارڈ میں شفٹ کیا۔ اس لیے آج سرجیکل وارڈ میں مریضوں کا رش کم ہی تھا۔
“سسٹر بینا۔۔۔۔ !” شازیہ میرے پاس آ کے بولی
“جی۔۔۔۔ !” میں نے جواب دیا
“ڈاکٹر اسد اکرام کیبن میں موجود نہیں ہیں، میں انھیں بلا کے لاتی ہوں ۔ چار نمبر بیڈ والا پیشنٹ کافی سیریس ہے، تب تک تم اسے یہ انجیکشن لگا دو” وہ میرے ہاتھ میں انجیکشن تھمائے وارڈ سے باہر چلی گئی
میں جلدی سے پیشنٹ کے بیڈ کی طرف کی گئی۔ پیشنٹ کے چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔ اور وہ بالکل کوئی حرکت نہیں کر رہا تھا۔ میں گھبرا گئی۔ میں نے اسکا ہاتھ اوپر اٹھایا اور نبز چیک کرنے لگی۔ اسکی نبز تو ٹھیک چل رہی تھی لیکن میری دھڑکنیں بڑھنے لگیں۔ اسکے ہاتھ کی حدّت نہ مجھے چونکا دیا۔ میں جلدی سی پیچھے ہٹی اور بوکھلا کے واپس جانے لگی۔ میری کلائی پکڑ کے کسی نے مجھے پوری طرح گھومایا
” پتا ہے۔۔۔۔ ! تمہاری چٹھی پڑھنے کے بعد میں حمنہ کا پاس گیا اور کہا کہ میں اسے اپنانے آیا ہوں۔ وہ میرے پاس آئی۔۔۔۔ آنکھوں میں دیکھ کے بولی۔۔۔۔ روح کہاں ہے تمہاری؟ تم تو خالی جسم لے کے آئے ہو۔ اسکا میں کیا کروں گی۔۔۔۔ ؟ ” اس نے میری دونوں کلائیوں سے پکڑ کے ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔
“احتشام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !” میرے کانپتے لبوں سے بس اتنا ہی نکلا
“اور تب سے اب تک میں اپنی روح ڈھونڈ رہا ہوں۔ گلی کوچے چھان مارے پر کہیں سے کوئی خبر نہیں ملی۔۔۔۔۔ اور ہاں تمہارے گھر بھی گیا۔۔۔۔ وہاں پہ بھی کچھ نہیں ملا۔ ۔۔۔۔ ہر اپنے پرائے سے پتا پوچھا۔۔۔ سب انجان تھے۔۔۔۔ پر میں نے ہمت نہیں ہاری ۔۔۔۔ مجھے یقین تھا ایک نہ ایک دن میری روح میرے جسم سے آکے ضرور ملے گی۔۔۔۔ اور دیکھو نہ مل گئی۔۔۔ ” اس نے مجھے اپنے بازؤں پہ اٹھا لیا۔۔۔۔
ایک ایک قدم بڑھاتے وہ وارڈ سے کوریڈور میں آیا۔۔۔۔ سامنے ہی ڈاکٹر اسد اکرام کھڑے تھے، جن کے چہرے کی مسکراہٹ صاف بتا رہی تھی کہ اس سب کے پیچھے وہی ہیں۔
ڈاکٹرز، نرسز اور پیشنٹس کی سر گوشیاں میرے کانوں میں پڑتی رہیں پر اب کی بار میری نگاہیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔۔۔۔ میں پلکیں جھپکنابھول گئی۔ سب کچھ ایک خواب سا تھا۔ دل دھڑکنا بھول گیا اور سانسیں تھم سی گئیں۔ میری باہیں اسکی گردن کے گرد حائل تھیں اور اسکی نگاہیں میری آنکھوں سے دل کی دھڑکنوں میں سرائیت کررہی تھیں۔
“وہ دیکھو۔۔۔۔ !” اس نے آنکھ کے اشارے سے سامنے دیکھنے کو کہا
میری نظریں اس طرف اٹھیں۔۔۔۔
میرے سبھی رشتہ دار، ماں باپ، کاشف بھائی، حنا، فرزانہ ، ممانی، ماموں ، نانا اور پھوپھو۔۔۔ ایک قطار میں کھڑے مسکرا رہے تھے۔ میں بھی مسکرا دی۔ اور پھر سے میری نگاہیں احتشام کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔۔۔۔
میں کہاں ہوں۔۔۔ کس جگہ ہوں۔۔۔۔ کسی بات کی کوئی خبر نہیں تھی۔ بس میں اسکی باہوں میں تھی اور وہ مجھے اٹھائے قدم بڑھا رہا تھا۔
“ملکہ عالیہ۔۔۔۔ ! میں شاہی سواری نہیں ہوں جو اپنے ہاتھوں پہ اٹھائے آپکو گھر تک لے چلوں گا” اس نے آرام سے مجھے نیچے اتارا اور گاڑی کا دروازہ کھول کے اندر بٹھایا۔
“یا تو یہ ایک حسین خواب ہے یا پھر میں مر چکی ہوں۔۔۔۔ ” میں نے اپنے آپ سے سرگوشی کی۔
وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ آکے بیٹھ گیا۔
میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک لڑی جاری تھی۔ وہ اپنا چہرہ میرے چہرے کے پاس لایا اور میرے گالوں سے ٹپکتے آنسوؤں پہ اپنے ہونٹو ں کا بند بنا دیا۔ وہ اور زیادہ قریب ہوا۔ میرے ماتھے پہ بھوسا دیا ۔۔۔۔۔ میرا دل پھر سے دھڑکنا شروع ہوا اور سانسیں پھر سے چلنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *