Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771 Be Jor by Zoya Hassan Episode08
Rate this Novel
Be Jor by Zoya Hassan Episode01 Be Jor by Zoya Hassan Episode02 Be Jor by Zoya Hassan Episode03 Be Jor by Zoya Hassan Episode04 Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01) Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02) Be Jor by Zoya Hassan Episode06 Be Jor by Zoya Hassan Episode07 Be Jor by Zoya Hassan Episode08 (Watching)Be Jor by Zoya Hassan Episode09 Be Jor by Zoya Hassan Episode10 Be Jor by Zoya Hassan Last Episode
Be Jor by Zoya Hassan Episode08
Be Jor by Zoya Hassan Episode08
“اف۔۔۔ اب اگر تم نے بال کھینچے تو نیچے پٹخ دوں گا۔۔۔۔ ” وہ جھلا کے بولا
“پٹخ دو۔۔۔۔ مجھے بھی شوق نہیں ہے تمہارے ہاتھوں پہ سوار ہونے کا۔۔۔” میں بو لی
“پھینک دوں نیچے۔۔۔۔ ؟”
“ہاں ۔۔۔ پھینک دو”
“چلو۔۔۔ یہ لو۔۔۔۔ ” اس نے اپنے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کردی۔
“نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں گر جاؤں گی” میں نے اسکی شرٹ کے کالر ز پکڑ لیے
“پھر بال کھنیچو گی۔۔۔۔؟” وہ گھورتے ہوئے بولا
“نہیں۔۔۔ نہیں کھنیچوں گی۔۔۔” میں نے التجا کی
“پکا۔۔۔۔؟” وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگا
“ہاں۔۔ ہاں۔۔۔ پکا” میں نے اسے یقین دلایا
“گڈ۔۔۔۔ ” ایک معنی خیز مسکراہٹ اسکے لبوں پہ اتر آئی
میں اندر ہی اندر جل بھن گئی
“کافی وزنی ہو تم۔۔۔۔ کیا کھاتی ہو؟” وہ پھر سے بولا
“وزنی۔۔۔؟ میں۔۔۔ ؟ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔” میں بولی
“اف ۔۔۔۔۔!بازو تھک گئے میرے۔۔۔۔۔ آہ” وہ کراہتے ہوئے بولا
“تو کیا میں نے کہا تھا کہ مجھے اٹھاؤ؟” میں چڑ کے بولی
“چلو۔۔۔ ! اترو پھر۔۔۔ ” اس نے میرے چہرے پہ اپنی نظریں گاڑ دیں
“نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں کیسے اتروں۔۔۔۔ ڈاکٹر نے بولا ہے نہ پاؤں پہ وزن نہیں ڈالنا” میں نے درخواست کی
“ملکہ عالیہ۔۔۔۔ ! آپ نے مجھے شاہی سواری سمجھ رکھا ہے۔۔۔۔؟۔۔۔۔ گھر تک ہاتھوں پہ اٹھا کے نہیں لے جا سکتا۔۔۔ گاڑی آگئی ہے” اس نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔
” اوہ۔۔۔ اچھا۔۔۔ ” میں گاڑی کی طرف دیکھ کے بولی
اس نے بڑے آرام سے مجھے نیچے اتارا اور گاڑی کا دروزاہ کھول کے مجھے بٹھایا۔
ہم گھر پہنچے تو اماں اور ذکیہ پہلے سے ہی باہر کھڑیں ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ احتشام نے گاڑی سے اتر کے دروازہ کھولا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ میں نے ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“پلیز ۔۔ اماں اور ذکیہ کے سامنے شرمندہ نہ کرو مجھے، میں نہیں چاہتی تم ان لوگوں کے سامنے مجھے اٹھاؤ۔۔۔ ” میں نے کہا
“اماں۔۔۔ ! ” وہ اماں کی طرف مڑ کے بولا
“جی بیٹا۔۔۔؟” اماں پاس آکے بولیں
“آپ بینا کو کمرے تک اٹھا کے لے جاسکتی ہیں۔۔۔۔ ؟” اس نے پوچھا
“نہیں ۔۔۔ بیٹا۔۔۔ میری کمرمیں اتنا زور کہاں” اماں ہنس پڑیں
“ذکیہ تم اٹھا لو گی۔۔۔ ؟” وہ ذکیہ کی طرف مڑا
“نہیں صاحب۔۔۔ ” ذکیہ بھی مسکرانے لگی۔۔۔
“دیکھا ۔۔۔ ! تم کتنی وزنی ہو۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں اٹھا سکتا۔۔۔۔ ” وہ میری طرف دیکھ کے بولا
میں نے غصے سے اسے گھورا
“اوہ۔۔۔ یس۔۔۔۔ خادم چچا تمہیں اٹھا لیں گے۔۔۔ ” وہ گیٹ کی طرف جانے لگا،
“اف۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔ ” میں جھلا کے بولی
“مجھ سے کچھ کہا۔۔۔۔ ؟” وہ بناوٹی معصومیت سے بولا
میں نے اپنے بازو پھیلا دیے۔۔ وہ میرے پاس آیا پ اور اپنی باہوں میں اٹھا کے اندر لے گیا۔ ذکیہ اور اماں کی ہنسی میرے کان میں پڑی
“میں حنا کے کمرے میں رہوں گی۔۔۔۔ “وہ ڈرائنگ روم سے گزرا تو میں بولنے لگی
“اوہ۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ دیکھو میں نے تمہیں جہاں سے اٹھایا تھا وہاں پہ چھوڑوں گا، وہاں سے تم جہاں مرضی چلی جانا۔۔۔ ” وہ کندھے اچکا کے بولا
میں بے بسی سے اسے دیکھتی رہی۔ اس نے جا کے اپنے بیڈ پہ مجھے لٹا دیا۔
اماں اور ذکیہ بھی پیچھے پیچھے آگئیں
“بیٹا۔۔۔ کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔۔ ؟” اماں آتے ہی بولیں
احتشام نے ڈاکٹر کی ساری بات انھیں بتائی اور تاکید کی کہ وہ ہر وقت میرا خیال رکھیں۔ اماں نے تسلی دی کہ وہ میرا بہت خیال رکھیں گی۔
” ذکیہ۔۔۔۔ کوفی لاؤ یار۔۔۔۔ بہت تھک گیا ہوں۔۔۔ کافی وزن اٹھانا پڑا آج” اس نے ذکیہ سے کہا وہ اور اماں مسکراتے ہوئے باہر چلی گئیں۔ میں نے منہ دوسری طرف کر لیا۔
“اسکے کس روپ پہ یقین کروں، ا س پہ جو سامنے ہے یا پھر اس پہ جو وہ دکھانا نہیں چاہتا ۔ دل چاہتا ہے کہ اس پہ یقین کرلوں، پر دماغ دل کی ہر دلیل رد کر دیتا ہے”
خود سے سوال جواب کرتے جانے کب آنکھ لگ گئی۔
“بی بی۔۔۔۔ بینا بی بی۔۔۔ اٹھیں۔۔۔۔ ” ذکیہ کی آواز پہ میری آنکھ کھلی
“جی۔۔۔۔ !” میں نے نیم خماری میں اسے جواب دیا
“یہ یخنی پی لیں۔۔۔۔ !” وہ ہاتھ میں یخنی کا پیالہ لیے کھڑی تھی
“مجھے نہیں چاہیے۔۔۔۔ لے جاؤ” میں نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں، وہ واپس چلی گئی
ایک ہی منٹ گزرا تھا زور سے دروازہ کھلا، میں نے آنکھ کھولی تو سامنے احتشام ہاتھ میں یخنی لیے کھڑا تھا۔
“اٹھو اور فٹا فٹ پی لو۔۔۔ پھر دوائی بھی لینی ہے۔۔۔ ” میرے بازو سے پکڑ کے اٹھانے لگا
“میں نے کہا نہ نہیں پینی۔۔۔۔۔ سمجھ نہیں آتی کیا۔۔۔ ” میں غصے سے چلائی
“ایسے کیسے نہیں پینی۔۔۔۔۔ ؟” وہ اپنی آنکھیں پھیلا کے بولا
“زبردستی پلاؤ گے۔۔۔۔؟” میں نے جھلا کے کہا
“ضرورت پڑی تو کرلوں گا۔۔۔۔ ” اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا
“ایکسکیوز می۔۔۔۔۔ ! سوچنا بھی مت۔۔۔۔ ” میں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا
“اماں۔۔۔ ذرا اندر آئیں۔۔۔۔ جلدی۔۔۔ آپکی ضرورت پڑ گئی ہے” اس نے اماں کو آواز دی
اماں بھاگتی ہوئی اندر آئیں
“جی بیٹا۔۔۔ “
“آپ اسے سمجھائیں کہ چپ چاپ یخنی پی لے۔۔۔۔ ورنہ مجھے اور بھی طریقے آتے ہیں” وہ دھمکی دیتے ہوئے بولا
“بینا۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔ ! کیوں ضد کررہی ہو، پی لو نہ تمہارہ ہی فائدہ ہے اس میں۔۔۔ ” اماں مجھے سمجھانے لگیں
“ہر گز نہیں۔۔۔۔ پہلے پی لیتی پر اب انھوں نے دھمکی لگائی ہے۔۔ اب تو بالکل نہیں پئیوں گی” میں نے بھی ضد ٹھان لی
“اماں۔۔۔ ! آپ ذرا ہٹیں۔۔۔۔ یہ ایسے نہیں مانے گی”
احتشام نے اماں کو سائیڈ پہ کیا اور یخنی والا پیالا انھیں پکڑا کے بیڈ پہ چھلانگ لگا دی۔ میں جیسے لیٹی تھی وہ بالکل میرے اوپر آگیا۔ میری ایک سائیڈ پہ اس نے اپنا ایک گھٹنا ٹیک دیا اور دوسری سائیڈ پہ دوسرا۔۔۔۔ میں ہاتھ پاؤں مارنے لگی تو اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔ میں بالکل بے بس ہوگئی۔ میں چلاتی رہی۔ اس نے اماں کو اشارہ کیا اور وہ چمچ کے ساتھ یخنی میرے منہ میں انڈیلنے لگی۔ دو چار منٹ پھڑپھڑانے کے بعد میں نے ہار مان لی اور ان سے وعدہ کیا کہ مجھے چھوڑ دو میں آرام سے پی لیتی ہوں۔
“اب یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو کہ تمہاری بلاوجہ کی ضد بالکل نہیں چلنے والی” وہ انگلی لہراتے ہوئے بولا
میں نے اپنا پورا دھیان یخنی پہ ہی رکھا۔
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ اماں اور ذکیہ کو میری وجہ سے کافی دیر ہوگئی۔ انھوں نے اجازت چاہی اور اپنے گھر کی طرف نکل پڑے۔ احتشام میرے پاس ہی کھڑا رہا
” عورت ذات کے ساتھ زور آزمائی کرنا مردانگی نہیں ہے۔۔۔۔” میں نے طنزیہ لہجے میں کہا
“بالکل صحیح فرما رہی ہیں آپ۔۔۔۔ لیکن اگر عورت ذات پاگل ہوجائے تو اسکا بس یہی علاج ہے” اس نے مجھے گھورا
“میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ ؟” میں تلملا گئی
“سارے پاگل یہی کہتے ہیں۔۔۔ !” یہ کہتے ہوئے وہ باہر چلا گیا
میں خونخوار نظروں سے اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔
یخنی کے بعد وہ میرے لیے دوائی لے آیا۔ میں نے چپ چاپ دوائی کھا لی۔ مزاحمت کرنے کا نتیجہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی
رات کے کسی پہر شدید درد کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے کراہتے ہوئے کروٹ بدلی تو وہ بیڈ سے اپنی پشت لگائے بیٹھے بیٹھے ہی سو رہا تھا۔ ایک پل کے لیے مجھے میرا درد بھول گیا اور میں غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔ نیند میں مدہوش اسکی چہرے پہ ایک معصومیت تھی۔ اور میں اسکی اس معصومیت میں سچائی ڈھونڈنے لگی۔ اسکی ایک دم سے آنکھیں کھلی ۔ اور اس نے فورا ً سر میری طرف موڑا
“کچھ چاہیے۔۔۔۔؟ درد تو نہیں ہو رہا؟” مجھے جاگتا ہوا دیکھ کے وہ ہڑ بڑا کے پوچھنے لگا۔
“ہاں۔۔۔ شدید درد ہورہا ہے۔۔۔۔ ” میں نے کراہتے ہوئے کہا
اس نے جلدی سے دراز میں سے ٹیبلٹ نکالی اور پانی کا گلاس اور ٹیبلٹ میری طرف بڑھا دی۔ ٹیبلٹ کھانے کے دس منٹ بعد ہی درد غائب ہوگیا۔ میں بیڈ کی ٹیک لگائے بیٹھی رہی
“تم سوئے کیوں نہیں۔۔؟” میں نے پوچھا
“کیسے سوتا۔۔۔؟ تمہیں کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو۔۔؟۔۔۔ اور دیکھو نہ میں سو جاتا تو ابھی بھی تم درد برداشت کررہی ہوتی۔۔۔ ” وہ میرے پاؤں کی طرف دیکھ کے بولا
میں مسکرا دی
“چلو اب تم سو جاؤ۔۔۔۔ ” وہ لیٹنے میں میری مدد کرنے لگا
“احتشام۔۔۔ !” میں نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“جی۔۔۔ !” اس نے جواب دیا
“مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔۔ ” میں نے اسے کہا
“اوہ۔۔۔۔۔۔ !” ایک پل کے لیے وہ چپ ہوگیا
پھر بولا
“چلو۔۔۔ میں تمہیں واش روم لے چلتا ہوں”
“نہیں۔۔۔ تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی”
“ارے یار۔۔۔ ہر بات پہ ضد کرتی ہو۔۔۔”
“ضد نہیں ہے یہ۔۔۔۔ “
“تو کیا ہے۔۔۔ ؟”
“ایسے کیسے میں تمہارے ساتھ واش روم جاسکتی ہوں”
“اسکے علاوہ حل نہیں ہے نا۔۔۔”
“ٹھیک ہے میں صبح تک انتظار کرلیتی ہوں، صبح ذکیہ لے جائے گی”
“اوہ۔۔۔ کم آن۔۔۔ پاگل مت بنو”
“میں نے کہا نا ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔”
“تمہارا بس ایک ہی علاج ہے۔۔۔۔ “
“کیا۔۔۔۔؟”
اس نے مجھے پھر سے اپنے بازوں پہ اٹھا لیا
“احتشام۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ اتارو مجھے”
میری بات کو ان سنا کرکے اس نے واش روم میں جا کے آرام سے نیچے اتار دیا
“اب تم باہر جاؤ۔۔۔”
“تم گر گئی تو۔۔۔؟”
“نہیں گرتی۔۔۔۔”
“میں ایسا رسک نہیں لے سکتا۔۔۔ میں دوسری طرف منہ کرکے آنکھیں بند کرلیتا ہوں” اس نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔
“اور کانوں میں بھی انگلیاں ڈالو۔۔۔۔ ” میری ہنسی نکل گئی
“اوکے۔۔۔۔۔۔۔ !” اس نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں
اگلے دن احتشام میرے لیے وہیل چئیر لے آیا۔۔۔۔ میں نے خدا کا شکرا ادا کیا کہ چلو ۔۔۔ یہ بار بار بچوں کی طرح مجھے اٹھا لیتا ہے۔ اس سے تو جان چھوٹی۔۔۔ پورا دن اماں اور ذکیہ وہیل چئیر پہ مجھے گھر میں گھماتی رہیں۔
شام میں احتشام آفس سے واپس آیا تو میرے لیے موبائل فون بھی لایا۔ میں نے لینے سے انکار تو کیا لیکن اس نے کب سننی تھی۔ اپنے نمبر سمیت اماں اور خادم چچا کا بھی نمبر سیو کر دیا۔ تاکہ جب بھی کسی چیز کی ضروت ہو میں کال کرلیا کروں۔
اماں اور ذکیہ کے جانے کے بعد وہ مجھے روم میں لے آیا اور بیڈ پہ لٹا دیا۔ میں کافی دیر کروٹیں بدلتی رہی۔ نیند نہیں آرہی تھی۔ لیکن وہ پورے دن کا تھکا ہوا تھا سو گیا۔ سونے سے پہلے اس نے مجھے تاکید کہ جس وقت بھی مجھے کسی چیز کی ضرورت ہو میں اٹھا دوں۔
رات کا ایک بج رہا تھا، نیند کے دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے۔ میرے دماغ میں بس احتشام چل رہا تھا۔ میری نظریں اسکے چہرے پہ تھیں۔ وہ جتنا زیادہ میرا خیال رکھ رہا تھا میں اتنی ہی زیادہ الجھ رہی تھی۔ کئی سوال تھے جنھوں نے دل دماغ میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اس سے پوچھوں گی تو کبھی بھی سیدھا جواب نہیں دے گا۔ ایسا کیا کروں کہ ساری اصلیت کھل جائے۔
“کہتے ہیں سچ انسان کی پیشانی پہ لکھا ہوتا ہے، بس کوئی پڑھنے والا چاہیے۔۔۔” امی اکثر یہ بات کیا کرتی تھیں۔
وہ نیند میں مدہوش تھا ، میں آہستہ سے اسکے پاس آگئی۔ میرا چہرہ اس کے چہرے کے عین اوپر تھا۔ میں اسکے خدوخال کا جائزہ لینے لگی۔ گہرے گلابی رنگ کے ہونٹ، تیکھی سی ناک جو غصے میں پھول جاتی ہے، اور بڑی بڑی آنکھیں ، جن میں دیکھتے ہی ڈوبنے کا دل کرتا ہے۔ ہلکی ہلکی شیو۔۔۔۔ بہت ہی پرکشش نین نقش کا مالک تھا۔ ایکدم سے میری نگاہ اسکی کشادہ پیشانی پہ پڑی۔ جس پہ بال بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے اسکی چھاتی پہ ایک ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی پیشانی سے بال ہٹانے لگی۔ تاکہ اسکی پیشانی پہ لکھی سچائی پڑھنے کی کوشش کروں۔
“ہونہہ۔۔۔۔۔ ! میری نیند کا فائدہ اٹھا رہی ہو۔۔۔۔ ” اس نے ایکدم سے آنکھیں کھول دیں
میں ہڑ بڑا کے پیچھے ہٹی۔۔۔
“نہیں وہ ۔۔۔ میں پیشانی۔۔۔۔ ” میں گھبرا گئی
“پیشانی۔۔۔۔۔؟ کیا ہوا پیشانی کو۔۔۔۔” وہ اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولا
“پیشانی۔۔۔ ؟کیا پیشانی ۔۔۔۔؟ مطلب کونسی پیشانی۔۔۔۔۔ کس کی۔۔۔۔؟ کون بولا۔۔۔۔ ” میں بری طرح بوکھلا گئی۔
“میڈم۔۔۔۔ ابھی ابھی آپ ہی کچھ کہہ رہی تھیں” اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا
“میں۔۔۔۔ میں کب۔۔۔ ؟ میں تو بول رہی تھی۔۔۔ پین۔۔۔ پین ہو رہا ہے مجھے۔۔۔ ہائے ۔۔۔ بہت پین ہورہا ہے” میں نے جھوٹ موٹ کا کراہنا شروع کردیا۔
اتنا سمجھدار تو وہ تھا کہ میرا جھوٹ پکڑلے۔ پھر بھی اس نے مجھے ٹیبلٹ لا کے دی۔ میں نے جلدی سے ٹیبلٹ نگل لی اور لیٹ گئی
“بینا۔۔۔۔۔ !” وہ میرا ہاتھ پکڑ کے بولا اور میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“کیا بات ہے۔۔۔۔ ؟ کیوں پریشان ہو” وہ پوچھنے لگا
“نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
“دیکھو۔۔۔۔ ! میں جانتا ہوں، تمہارے دماغ میں میرے بارے میں کئی سوال ہوں گے۔ میں چاہتا ہوں تمہیں سب کچھ بتا ؤں لیکن۔۔۔ ۔۔۔ ” یہ کہہ کے وہ چپ ہوگیا
“لیکن کیا۔۔۔۔؟” بتاؤ
“کچھ نہیں۔۔۔ تمہیں جو پوچھنا ہے پوچھ سکتی ہو” اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا
“احتشام۔۔۔ مجھے اماں نے کہا تھا کہ آدھا سچ جان کے انسان کوکبھی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے میں پورا سچ جاننا چاہتی ہوں” میں اٹھ کے بیٹھ گئی
“کیسا سچ۔۔۔ ؟” اس نے سوال کیا
“تمہارا سچ۔۔۔۔ ، حنا کا سچ۔۔۔۔ اس شادی کا سچ۔۔۔ مجھے سب کچھ جاننا ہے۔۔۔۔ ” میں اصل مدعے پہ آگئی
” ٹھیک ہے پھر سنو۔۔۔ !
حنا اور میں بہت اچھے دوست تھے۔ ۔۔۔ انفیکٹ اب بھی ہیں۔ جب حنا یہاں پڑھنے کے لیے آئی تھی تو تائی کی پوری کوشش تھی کہ میری اور حنا کی شادی ہوجائے۔ انھوں نے تایا کو زور دینا شروع کیا۔ یہ بات جب ہم دونوں تک پہنچی تو ہم بوکھلا گئے، کیونکہ ہم نے کبھی ایکدوسرے کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ اور سب سے خاص بات یہ کہ وہ تمہارے بھائی کو پسند کرتی تھی اور ایک اچھا دوست ہونے کے ناتے مجھے ہر بات کا علم تھا۔ پہلے پہل تو ہم دونوں اپنی شادی والا مدعا ٹالتے رہے لیکن تائی کی طرف سے ایکدم سے زور بڑھنا شروع ہوا۔ صرف اتنا ہی نہیں تائی نے حنا اور میرے نکاح کی تاریخ بھی طے کردی۔ اس وقت جلد بازی میں ہمیں کچھ اور نہیں سوجھا۔ حنا نے کاشف کو یہاں بلایا اور ہم تینوں نے اس مسئلے کے حل پہ غور کیا۔ اس وقت ہمیں بس یہی حل سوجھا کہ حنا اور کاشف کورٹ میں جا کے شادی کرلیں۔ ان دونوں کے نکاح کے بعد میں نے ہی تایا اور تائی کو اطلاع دی کہ یہ سب کچھ ہوا ہے، حنا نے مجھے سختی سے منع کیا کہ میں اس بات کا ذکر بالکل نہ کروں کہ اس سب میں مَیں بھی شامل تھا ۔
تایا نے مجھے گاؤں بلایا، وہاں پہنچ کے میرے سر پہ پہلا بم یہی پھوٹا کہ ان لوگوں نے عزت کے بدلے عزت مانگی ہے۔ ہم لوگوں کو ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ جو بیوقوفی ہم کرنے جا رہے ہیں اس سے اتنی زندگیاں برباد ہوں گی تو کبھی بھی یہ قدم نہیں اٹھاتے۔ تایا اور تائی کے اس فیصلے کے بارے میں جب حنا اور کاشف کو میں نے مطلع کیا تو وہ مجھ سے زیاد ہ پریشان ہو گئے۔ تایا نے حنا کے بڑے بھائی جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہیں انکو دوسری شادی کے لیے منا لیا تھا۔
یہ خبر کاشف تک پہنچی تو وہ حنا کو لے کے تایا کے سامنے آنے کو بضد تھا۔ میں یہ بات اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اگر وہ لوگ آئے تو سوائے موت کے انھیں کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن کاشف کسی صورت تمہیں اس جہنم میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ اس وقت صرف میں ہی تھا جو اس مسئلے کو سلجھا سکتا تھا۔ میں تایا کے سامنے جا کے کھڑا ہوگیا۔ اور کہا کہ کیونکہ حنا میرے نام سے منسوب تھی اس لیے حنا کے بدلے کاشف کی بہن سے اصولاً مجھے شادی کرنی چاہیے۔ تائی ماننے کوتیار نہ تھیں لیکن تایا کے دل کو یہ بات لگی اور انھوں نے ہاں کر دی۔ میں نے کاشف کو تسلی دی اور وعدہ کیا کہ میں ہمیشہ تمہارا خیال رکھوں گا۔۔۔۔ بس اتنی سی سچائی ہے” اس نے حقیقت میرے سامنے رکھ دی۔
مجھے یہ سچ جان کے خوش ہونا چاہیے یا اداس۔۔۔ فلحال تو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر تھی لیکن اسکی نم ہوتی آنکھیں اس بات کی ناشاندہی ضرور کررہی تھیں کہ اب بھی کچھ باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
