Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771 Be Jor by Zoya Hassan Episode09
Rate this Novel
Be Jor by Zoya Hassan Episode01 Be Jor by Zoya Hassan Episode02 Be Jor by Zoya Hassan Episode03 Be Jor by Zoya Hassan Episode04 Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01) Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02) Be Jor by Zoya Hassan Episode06 Be Jor by Zoya Hassan Episode07 Be Jor by Zoya Hassan Episode08 Be Jor by Zoya Hassan Episode09 (Watching)Be Jor by Zoya Hassan Episode10 Be Jor by Zoya Hassan Last Episode
Be Jor by Zoya Hassan Episode09
Be Jor by Zoya Hassan Episode09
مجھے یہ سچ جان کے خوش ہونا چاہیے یا اداس۔۔۔ فلحال تو اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر تھی لیکن اسکی نم ہوتی آنکھیں اس بات کی ناشاندہی ضرور کررہی تھیں کہ اب بھی کچھ باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
اپنی بات مکمل کرکے وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگا کہ شائد میں کوئی جواب دوں گی۔ پر میری مسلسل خاموشی کے بعد وہ اٹھ کے بیڈ پہ آگیا۔ اس رات ہم دونوں ایکدوسرے کی طرف پشت کیے سوچوں میں ڈوبے رہے۔
صبح اماں اور ذکیہ اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھے ، میں وہیل چئیر پہ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی اور احتشام آفس کے لیے تیار ہورہا تھا۔ ایک دم سے کیچن سے اماں کے چلانے کی آواز آئی، ہم سب چونک گئے۔ اماں کو فون پہ خبر ملی کہ انکے بیٹے کا رکشہ کسی گاڑی سے ٹکرایا ہے۔ اور اماں کے بیٹے کی حالت بہت نازک ہے۔ یہ خبر سنتے ہی ہم سب کے اوسان خطا ہوگئے۔ احتشام نے گاڑی نکالی اور فوراً ذکیہ اور اماں کو اس اسپتال لے گیا جہاں انکا بیٹا داخل تھا۔ احتشام نے جاتے ہوئے خادم چچا کو تاکید کی کہ وہ میرا خیال رکھیں۔ میں حیران اور پریشان سی اماں کے بیٹے کے لیے دعائیں کرنے لگیں۔ خادم چچا بار بار اندر آکے مجھ سے پوچھتے کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ پر میں ہر بار منع کر دیتی۔ صبح سے دوپہر ہوگئی لیکن ابھی تک احتشام کا فون نہیں آیا۔ میری پریشانی بڑھتی رہی۔ بلآخر میں نے خود ہی اسکا نمبر ڈائل کیا۔
“ہیلو۔۔۔۔۔ !” اسکی آواز میرے کانوں میں پڑی
“سب ٹھیک ہے وہاں پہ؟” میں نے پوچھا
“نہیں یار۔۔۔۔ بیچارے کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔۔۔ ” وہ مایوسی سے بولا
“اوہ۔۔۔ اماں اور ذکیہ۔۔۔۔وہ کیسی ہیں۔۔۔ ؟”
“انکی حالت بہت خراب ہے، جوان بیٹے کی موت نے اماں کو توڑ دیا ہے، بڑی ہمت والی عورت تھیں”
“کاش میں انکے پاس ہوتی۔۔۔۔ ” مجھے بہت دکھ ہو رہا تھا
“تم نے دوائی لی۔۔۔۔ ؟” اس نے پوچھا
“نہیں ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ میں” میں ہڑبڑانے لگی
“کچھ کھایا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔ ؟” اس نے ایک اور سوال داغا
“ابھی کھا لیتی ہوں۔۔۔۔۔ وہ ذرا” میں صفائی دینے لگی
“شٹ اپ یار۔۔۔۔۔۔ میں ابھی گھر پہنچتا ہوں” اس نے فون بند کردیا
دو ہی منٹ گزرے ہوں گے خادم چچا بھاگتے ہوئے اندر آئے
“بی بی۔۔۔۔ میں نے آپ سے پوچھا بھی تھا کہ کچھ چاہیے تو بتا دیں۔۔۔۔ صاحب فون پہ مجھ پہ غصہ کر رہے ہیں” وہ کافی پریشان تھے
میں شرمندہ ہوگئی۔ فوراً میرے دماغ میں آیا کہ اس کے آنے سے پہلے کھانا اور دوائی کھا لیتی ہوں۔ صبح کا ناشتہ تو تیار پڑا تھا لیکن صورت حال ایسی بن گئی کہ سب نکل گئے۔ خادم چچا نے ناشتہ گرم کرکے میرے آگے رکھ دیا۔ کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کررہا تھا پھر بھی احتشام کے ڈر سے میں نے جلدی جلدی نگلنا شروع کردیا۔ ناشتے کے بعد میں نے دوائی لی۔ خادم چچاواپس گیٹ پہ چلے گئی۔
میں وہیل چئیر گھسیٹتی ہوئی واش روم کے دروازے تک پہنچی۔ اور بڑے آرام سے ایک پاؤں واش روم کے فرش پہ رکھ دیا۔ میں جیسے ہی وہیل چئیر سے اٹھی اور ایک پاؤں کے سہارا کھڑی ہوئی، میراپاؤں پھسلا۔ اب کی بار تو بچنا ہی مشکل ہے۔ میں نے چپ چاپ آنکھیں بند کر لیں۔ میں بس اس انتطار میں تھی کہ اب فرش سے جا کے ٹکراتی ہوں یا پھر دیوار سے۔۔۔۔۔۔ پر ایک دم سے کسی نے آ کے مجھے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ میں نے آنکھیں کھول دیں
“میرے آنے تک رک نہیں سکتی تھی۔۔۔۔؟” احتشام مجھے سیدھا کھڑا کرتے ہوئے بولا
میرا جسم کانپ رہا تھا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا۔ میں نے اپنا سر اسکے سینے پہ رکھ کے پلکوں کے دریچے بند کرلیے۔ اس نے میرے جسم کو اپنی باہوں میں مظبوطی سے جکڑا۔ میرے سارے حواس کھو سے گئے۔ بس اتنا ہی محسوس کرپائی کہ میری بے قابو دکھڑکنیں اسکے سینے میں پیوست ہورہی تھیں اور اسکی دھڑکنیں میری رگوں میں سرائیت کرنے لگیں۔ اس پل نہ میں بینا تھی اور نہ ہی وہ احتشام۔۔۔۔ ہم دونوں ایک ہو گئے۔ میرے سارے سوال اور واہمے دور بیٹھے سرگوشیاں کرتے رہے اور میں اسکی باہوں کے گھیرے میں ہر چیز سے لا تعلق سی ہوگئی۔
میں نے دماغ کو لوری دے کے سلا دیا۔ پر وہ جلدی ہی بیدار ہوگیا۔
“احتشام۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !” میں بولی
“جی۔۔۔۔۔۔۔ !” اس نے آنکھیں کھولیں اور میرے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا
“کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “میں اسکی آنکھوں میں ڈوبنے لگی۔
وہ مجھے واش روم سے بیڈ پہ لے آیا۔
“کھانا کھا لیا۔۔۔۔۔؟ اور دوائی۔۔۔۔ ؟” اس نے پوچھا
“جی کھانا کھا لیا ہے اور دوائی بھی لے لی” میں نے جواب دیا
“اماں اور ذکیہ شائد کچھ عرصے کے لیے کام پہ نہ آ پائیں، جلد ہی ملازموں کا انتطام کرنا پڑے گا” وہ پریشانی میں بولا
میں نے جواباً سر ہلایا۔
صبح میری آنکھ دیر سے کھلی، مجھے فوراً خیال آیا کہ آج اماں اور ذکیہ تو آئیں گی نہیں۔ احتشام کے لیے ناشتہ کون بنائے گا۔ مجھے اسکی فکر ہونے لگی۔ پاس ہی پڑی وہیل چئیر میں نے گھسیٹی اور بڑی مشکل سے اسکے اوپر بیٹھ گئی۔ میں جیسے کمرے سے نکل کیچن کے طرف آئی تو مجھے میری آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔ حال سے بے حال ہوا وہ ناشتہ بنانے میں مصروف تھا۔
“ایکسکیوز می۔۔۔۔۔ !” میں نے مکسراتے ہوئے آواز دی۔
“اوہ ۔۔۔ تم اٹھ گئی۔۔۔۔۔ ” اس نے مڑ کے میری طرف دیکھا۔
“جی میں اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔ آپ کس کام میں مصروف ہیں؟” میں نے سوال کیا
“تمہارے لیے ناشتہ بنا رہا ہوں، لیکن کچھ گڑ بڑ ہوجاتی ہے۔۔۔۔ دیکھو نہ کبھی بریڈ جل جاتی ہے تو کبھی املیٹ خراب ہو جاتا ہے۔ تین بار کوشش کر چکا ہوں” وہ معصومیت سے بولا
“ارے ۔۔۔۔ میں بناتی ہوں۔۔۔۔ مجھے کیچن میں لے جاؤ” میں نے اسے کہا
“تم رہنے دو میں کر لوں گا۔۔۔۔ آرام سے بیٹھو میں ابھی ناشتہ لے کے آیا” وہ مجھے تسلی دینے لگا۔
“جس طرح سے ناشتہ بنانے کا پروگرام چل رہا ہے، شام تک بھی نہیں بن پائے گا۔۔۔۔ پلیز مجھے اندر لے جاؤ” میں نے ضد کی
“اچھا ۔۔۔۔ بابا۔۔۔ تم بس مجھے بتاتی جاؤ میں کرتا جاؤں گا” وہ میری طرف آ کے بول
میں اندر بیٹھ کے اسے انسٹریکشن دیتی رہی لیکن جب اس سے کچھ نہیں ہو پایا تو مجھے کھڑے ہونا ہی پڑا۔ اس نے میرے ایک ہاتھ کو سہارا دیا۔ اور میں کام کرنے لگی۔ ایک ہاتھ سے کام کرنا قدرے مشکل ہو رہا تھا۔ میں بے بسی سے اسکی طرف دیکھنا شروع ہوگئی۔
“میرے پاس ایک اور حل ہے۔۔۔۔۔ ” وہ بولا
“کیا۔۔۔۔؟” میں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
اس نے اپنا ایک بازو میری کمر کے گرد حائل کیا اورمجھے تھوڑا سا اوپر اٹھایا۔ میرا جو پاؤں ٹھیک تھا اسے میں نے اس کے ایک پاؤں پہ رکھ دیا۔ اس نے میرے پورے جسم کو اپنے جسم کا سہارا دیا۔ اب میرے دونوں ہاتھ بالکل آزاد تھے۔ میں نے جلدی جلدی کام کرنا شروع کردیا۔ ناشتہ تیار ہوگیا لیکن اب بھی وہ مجھے جکڑے ہوئے کھڑا تھا۔
“اب تو چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔ ” میں نے اسے کہا
“اوہ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ ” وہ چونک کے بولا
میں ہنسنے لگی تو وہ ہڑا بڑا گیا۔
ہم ناشتہ کرنے لگے تو وہ ایک دم سے بولا
“ناشتہ کر کے تم جلدی سے تیار ہوجاؤ۔۔۔۔”
“تیار۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ کیوں۔۔۔۔ کہاں جانا ہے؟” میں نے پوچھا
“آفس۔۔۔۔۔ میرے ساتھ۔۔۔۔۔ “
“میں آفس کیا کرنے جاؤں گی۔۔۔۔؟”
“تم وہاں پہ صرف آرام کرو گی۔۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔”
“آفس میں کون آرام کرتا ہے۔۔۔۔۔ میں تو نہیں جا رہی”
“بینا ۔۔۔۔ ! پلیز بچوں والی ضد مت کرنا۔۔۔۔ یہاں پہ تمہارا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ میں اس حالت میں تمہیں چھوڑ کے نہیں جا سکتا۔۔۔۔ کل رات دیکھا تھا ۔۔۔۔ خدا نخواستہ کچھ ہوجاتا تو۔۔۔۔۔ ” وہ سنجیدہ ہو کے بولا
مجھے ہار ماننی ہی پڑی۔
راستے میں میرے دل ودماغ میں بس یہی چل رہا تھا کہ پہلی بار احتشام کے آفس جارہی ہوں اور وہ بھی اس حالت میں۔۔۔ احتشام نے مجھے پریشان دیکھا تو تسلی دینے لگا۔
گاڑی سے اتر کے اس نے مجھے وہیل چئیر پہ بٹھایا ہم دونوں آفس کے اندر داخل ہوئے تو آفس کا پورا سٹاف میرے استقبال کھڑا تھا۔
“ویلکم میڈم۔۔۔۔۔۔ ! ” سب نے یک زبان ہو کے کہا، اور خوبصورت پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔
کبھی کبھی زندگی کا کوئی ایک پل دامن میں اتنی خوشیاں بھر دیتا ہے کہ دور کھڑے غم بھی مسکرانے لگتے ہیں۔ پر پھر بھی یہ آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ آج اگر میں اتنی نگاہوں کا محور تھی تو اسکی وجہ احتشام تھا، میری نظریں اسکی طرف اٹھیں۔ وہ میری طرف دیکھ کے مسکرایا اور میرا کندھا تھپتھپا کے یہ احساس دلایا کہ “میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں”
احتشام ایک سافٹ وئیر کمپنی کا مالک تھا۔ اس نے اپنے منیجرز سے لے آفس بوائز تک کا تعارف کرایا۔ اسکے بعد سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے اور مجھے ریسٹ روم میں آرام کرنے کے لیے بٹھا دیا گیا۔ آفس میں لیڈیز سٹاف بھی تھا۔ ان کی خاص ڈیوٹی یہی تھی کہ وہ میرا خیال رکھیں اور مجھے کسی بھی صورت بور نہ ہونے دیں۔
لنچ ٹائم پہ احتشام نے میرے ساتھ لنچ کیا اور پھر اپنے کیبن میں جا کے کام دیکھنے لگا۔ میں ذرا بور ہونے لگی تو آفس بوائے میرے کہنے پہ وہیل چئیر ریسپشن پہ لے آیا ۔
“ہیلو میم ۔۔۔۔۔۔ !” ریسپشنسٹ رابعہ میرے لیے کھڑی ہوگئی
“بیٹھو پلیز۔۔۔۔۔۔۔ !” میں نے اسے بیٹنھے کا اشارہ کیا۔
وہ اپنی سیٹ پہ بیٹھ گئی۔۔۔ اور میں نے اپنی وہیل چئیر اسکے ڈیسک کے بالکل پاس لگا لی۔
رابعہ سے باتیں کرتے کرتے نا صرف میرا وقت اچھا گزرا بلکہ میری اس سے دوستی بھی ہوگئی۔ وہ اپنے گھر والوں کے بارے میں بتانے لگی کہ اسکی ماں کسی سرکاری اسپتال میں نرس ہیں اور وہ خود بھی نرسنگ کا کورس کر رہی ہے۔ جب بھی نرسز کی سیٹیں آئیں تو وہ ضرور اپلائی کرے گی یا پھر کسی پرائیویٹ اسپتال میں نوکری کرلے گی۔ ایک چھوٹا بھائی جو کہ آٹھویں کلاس کا طالب علم ہے۔ والد کی پہلے ہی وفات ہوچکی ہے۔
“میم ۔۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔۔؟” اس نے میری طرف دیکھ کے کہا
“ہاں پوچھو۔۔۔۔۔” میں سر ہلایا
“سر سے آپکی لوّ میرج ہوئی ہے نا؟” اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا
میں ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی۔ کیا جواب دیتی کہ ہماری شادی کیسے ہوئی۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔۔۔ ؟” جواب دینے کی بجائے میں نے الٹا اس ہی سوال کرلیا
“بس ۔۔۔ آپ لوگوں کو دیکھ کے محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔” اس نے جواب دیا
“ارے۔۔۔ کوئی تو نشانی ہوگی، جس سے یہ پتا چلتا ہوگا” میں نے حیرانی سے پوچھا
“آپ دونوں جب ایکدوسرے کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آنکھوں کی چمک بتا دیتی ہے کہ دونوں کے بیچ میں کتنا گہرا پیار ہے” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
میرے چہرے پہ بھی ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔
میں رابعہ کے ساتھ باتوں میں مگن تھی۔ احتشام ہمارے پیچھے آکے کھڑا ہوگیا۔ اور گلا صاف کرتے ہوئے میرے دھیان اپنی طرف موڑا۔ میں چونک کے پیچھے مڑی
“میم۔۔۔۔۔ ! اگر آپکی باتیں ختم ہوگئی ہیں تو کیا ہم اب آفس والوں کو چھٹی دے دیں۔ انکا بھی گھر بار ہے۔۔۔۔ ” اس نے ٹونٹ کیا۔
“جی۔۔۔۔ بالکل۔۔۔۔۔ ” میں نے احتشام کو گھورا
آفس سٹاف کے ساتھ ساتھ ہم بھی نکل پڑے۔
“تم نے کبھی بتایا نہیں کہ سافٹ وئیر کمپنی کے مالک ہو۔۔۔۔ ” راستے میں مَیں نے اس پوچھا
“تم نے کبھی پوچھنا گوارا ہی نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ ” وہ خفا ہو کے بولا
“کبھی ایسا موقع ہی نہیں آیاکہ میں تم سے تمہارے کام کے بارے میں پوچھ پاتی۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
“تو ۔۔۔۔ ! تم کیا سمجھی تھی کہ ہر روز سوٹ بوٹ میں گھر سے چنے بیچنے کے لیے نکل آتا ہوں” اس نے میری طرف دیکھا
“ارے نہیں۔۔۔۔۔۔ بس کبھی دماغ میں نہیں آیا۔۔۔۔” میں ہنس پڑی
تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی پھر میں بولی
“تم سافٹ وئیر کمپنی کے مالک ہو میرا ایک کام ہی کرا دو۔۔۔۔ ” میں نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کیسا کام۔۔۔۔۔؟”
“میری ایک دوست ہے ، اسے موبائل اپلیکیشن ڈویلپ کروانی ہے”
“کونسی تمہاری دوست۔۔۔۔ “
“زویا۔۔۔۔۔ !”
“وہ زویا حسن۔۔۔۔۔ ؟ جو فیس بک پہ لکھتی ہے”
“جی ۔۔۔۔ وہی”
“لکھنا تو اسے آتا نہیں ہے خود کو رائٹر سمجھتی ہے”
“ارے۔۔۔۔ آجکل وہ ایک افسانہ لکھ رہی ہے۔۔۔ “بے جوڑ”۔۔۔ لوگ بہت پسند کررہے ہیں”
“اچھا۔۔۔۔۔ اگر لوگوں کی سپورٹ رہی تو شائد وہ آگے بڑھ سکے ورنہ تو مشکل ہے”
“ہاں۔۔۔۔ یہ تو ہے۔۔۔۔ پر لوگ اسکا پھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔۔۔۔ “
“چلو۔۔۔۔ ! دیکھتے ہیں”
“ویسے۔۔۔۔ ہم جا کہاں رہے ہیں۔۔۔؟” مجھے اندازہ ہوا کہ گاڑی گھر کے راستے پہ نہیں تھی
“میڈم جی۔۔۔۔ آج ڈاکٹر کے ساتھ اپوئنٹمنٹ ہے۔۔۔ بھول گئیں” وہ میری طرف دیکھ کہ بولا
“اوہ ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ یاد آیا ” میں سچ میں بھول گئی تھی۔
کچھ ہی دیر میں ہم ڈاکٹر کی کلینک پہنچے، ڈاکٹر نے بتایا کہ پاؤں کافی بہتر ہے اب، مزید کچھ دن تک میں چلنے پھرنے کے قابل ہو جاؤں گی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اس نے کچھ میڈیسن لکھ دیں اور ہم نے واپسی کا رستہ پکڑ ا۔
گھر کی طرف جاتے ہوئے، ہم اس کوفی شاپ کے سامنے سے گزرے جہاں کچھ دن پہلے احتشام مجھے لے کے آیا تھا۔
“تمہاری فیورٹ کوفی شاپ میں کوفی پیتے ہیں۔۔۔۔” میں نے اسے رکنے کا اشارہ کیا
“جو حکم ۔۔۔۔ملکہ عالیہ۔۔۔۔۔۔ ! “اس نے گاڑی بیک کی اور کوفی شاپ کے سامنے روک دی
“آپ یہیں بیٹھ کے کوفی پینا پسند کریں گی یا پھر اندر چلیں گی” وہ گاڑی سے اترتے ہوئے بولا
“گاڑی میں پیتے ہیں۔۔۔۔ ایسی حالت میں اندر کیسے جاؤں گی؟” میں نے مایوسی سے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا
“میم۔۔۔۔ خادم حاضر ہے۔۔۔ آپ حکم تو کریں” اس نے میری سائیڈ والا ڈور کھولا اور سہارا دے کہ باہر اتارا۔۔۔
“وہیل چئیر۔۔۔۔۔ ؟” میں نے اس سے پوچھا
“ارے ۔۔۔۔ دو ہی قدم تو ہیں۔۔۔۔ میں ایسے ہی لے چلتا ہوں” اس نے میرے ہاتھ سے پکڑ کے سہارا دیا۔ میں مسکراتے ہوئے اسکے ساتھ ایک پاؤں پہ چلنے لگی۔
ہم نے جیسے ہی شاپ کی انٹرنس پہ قدم رکھا ، شاپ کا ڈور کھلا اور تیزی سے ایک لڑکی باہر نکلی۔۔۔۔ میرا پورا دھیان اپنے پاؤں کی طرف تھا۔ وہ جو بھی تھی احتشام کے سامنے آ کے ایک پل کے لیے رکی۔ اس سے پہلے کے میں اسکا چہرہ دیکھ پاتی وہ چھلاوے کی طرح وہاں سے نکل گئی۔ باہر روشنی کافی مدھم تھی میں اسکا چہرہ نہیں دیکھ پائی۔ احتشام کی نظریں اس پہ جمی تھیں اور وہ بالکل ساکت کھڑا تھا۔ جس ہاتھ سے اس نے مجھے تھاما ہوا تھا اس ہاتھ کا سہارا کمزور پڑنے لگا۔ اتنا کمزور کہ میں ایک پاؤں کے سہارے مزید کھڑی نہیں رہ پائی۔ میرا پاؤں پھسلا
“احتشام۔۔۔۔۔۔۔ !” میں نے بے ساختہ پکارا۔ لیکن اسکا دھیان اب بھی اسی طرف تھا جس طرف وہ لڑکی گئی تھی۔
میں فرش پہ جا گری اور میرا متاثرہ پاؤں پھر سے مڑا اور ایک درد بھری چیخ میرے گلے سے ہونٹوں کا سفر طر کرتی پاس سے گزرتے لوگوں کو سنائی دی۔ لیکن وہ اب بھی بے خبر تھا۔ اس بات نے میری تکلیف اوربڑھا دی۔
“سر۔۔۔۔ سر۔۔۔۔ ایکسکیوز می۔۔۔۔ !” کسی نے جا کے اسکا کاندھا تھپتھپایا تب جا کے اسکا سکتہ ٹوٹا۔
“بینا۔۔۔۔۔۔ !بینا۔۔۔۔! ” وہ میری طرف لپکا
میں درد سے کراہتی رہی اسکے بعد مجھے کوئی ہوش نہیں رہا۔ جیسے کیسے اس نے مجھے گھر پہنچایا اور پین کلرز دیں۔۔۔۔ کافی دیر بعد میں اپنے حواس میں لوٹی۔
“مجھے معاف کردو۔۔۔۔ میں تمہیں سنبھال نہیں پایا۔۔۔۔” اسکے چہرے سے ندامت صاف ٹپک رہی تھی۔
“ارے معافی کیوں مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔ ضرور کوئی بڑی وجہ ہی ہوگی جس نے اتنے مظبوط سہارے کو کمزور کر دیا” میں نے اسکی طرف دیکھا
میری بات کا جواب دیے بنا ہی وہ جا کے لیٹ گیا۔
میں پھر سے وہم کی آندھیوں میں خشک پتے کی طرح ہواؤں کے رخ پہ اڑتی چلی گئی۔ رات کے دو بج گئے لیکن نیند کوسوں دور تھی۔ کبھی اس کروٹ تو کبھی اس کروٹ۔۔۔۔ پل تھے جو کٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ۔۔۔۔
