Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771
Last updated: 10 July 2026
Be Jor by Zoya Hassan Episode01Be Jor by Zoya Hassan Episode02Be Jor by Zoya Hassan Episode03Be Jor by Zoya Hassan Episode04Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01)Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02)Be Jor by Zoya Hassan Episode06Be Jor by Zoya Hassan Episode07Be Jor by Zoya Hassan Episode08Be Jor by Zoya Hassan Episode09Be Jor by Zoya Hassan Episode10Be Jor by Zoya Hassan Last Episode
Be Jor by Zoya Hassan
"بھائی کے کرتوت دیکھ لیے؟۔۔۔۔ میں نے کئی بار بھابی کو سمجھایا کہ اولاد کو اتنا سر نہ چڑھاؤ، پر وہ میری سنتی کہاں ہیں" اس بار امی کے خلاف انکے پاس مظبوط مدعا تھا۔
"پھوپھو۔۔۔ اس میں امی کی کیا غلطی ہے۔ کوئی ماں ایسا تھوڑی نہ چاہے گی کہ اولاد انھیں یہ دن دکھائے" میں نے امی کی طرف داری کی
"برا مت ماننا ۔۔۔ پر یہ جو کچھ بھی ہوا ہے تمہارے ننھیال والوں کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ تمہارے ماموں نے اپنی اولاد کو سر چڑھا رکھا ہے ۔ انکی دیکھا دیکھی تمہارا بھائی بھی بگڑ گیا۔ تمہاری ماں کو کئی بار سمجھایا کہ کاشف کو ننھیال کے زیادہ چکر نہ لگوائے۔ پر میری سنتا کون ہے" میرے ننھیال کی برائی کا تو انکو بہانا چاہیے ہوتا ہے
"پھوپھو۔۔۔۔ ! بھائی کی اس غلطی کا خمیازہ سب سے زیادہ میرے ننھیال والے ہی بھگت رہے ہیں" میں نے انھیں گْھورا
"ساجدہ۔۔۔۔ ! بات سن۔۔۔۔" وہ میری بات کو ان سنا کرکے ماسی کو آوازیں دینے لگیں
"کل رات سے کچھ نہیں کھایا، میرے لیے بھی ایک پراٹھا بنا دے۔ اس پریشانی میں تو بھوک ہی مر گئی تھی۔ ابھی بینا کو دیکھا ناشتہ کرتے تو سوچا میں بھی کچھ نہ کچھ کھا لیتی ہوں" وہ چور نظروں سے مجھے دیکھنے لگیں
"اف ۔۔۔ اپنے بل بوتے پہ تو کچھ کر نہیں سکتیں" میں دل ہی دل میں انھیں کوسنے لگی
"جی ۔۔۔ باجی ۔۔۔ لاتی ہوں۔۔۔۔ "ساجدہ کیچن کی طرف چل پڑی
"سنو ! بھابھی نے اوپر والی الماری میں دیسی گھی رکھا ہوگا ، پراٹھے پہ ڈال دینا ذرا۔۔۔" وہ ساجدہ کو آواز دے کے بولیں
"بس اتنی ہی فکر تھی بھائی کی۔۔۔۔۔ "میں دل ہی دل میں بولی
میں نے چائے ختم کی اور اٹھ کے جانے لگی تو وہ بولیں
"تمہارا داخلہ ہوگیا؟ سنا ہے کراچی جا رہی ہو۔۔۔۔ "
"جی ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ آج ہی جانا تھا لیکن اب حالات ایسے ہیں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا" میں نے چڑ کے جواب دیا
"دیکھتے ہیں تم کیا گل کھلا کے آتی ہو۔۔۔۔۔۔ " وہ لبوں میں بڑبڑانے لگیں
میں نے خونخوار نظروں سے انھیں گھورا۔ وہ ہڑبڑا کے بولیں
"ارے۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب ہے اتنی دور جا رہی ہوں۔ کراچی کے حالات آئے دن خراب رہیتے ہیں۔ میں تو بس اس لیے بول رہی تھی۔۔۔۔۔ پیسہ بھی تو بہت لگنا ہے۔ جو بھی ہو میرے بھائی نے اولاد پہ دولت خوبی لٹائی ہے۔۔۔۔۔" انکی جلی کٹی پھر سے شروع ہوگئی۔
"بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے والدین کو بہت کچھ داؤ پہ لگانا پڑتا ہے۔ آپ بھی صوفیہ آپی پہ کچھ پیسے خرچ کرتیں تو انھیں ایم اے اسلامیات کر کے گھر میں نہ بیٹھنا پڑتا" وہ پھوپھو تھیں تو میں بھی بھتیجی۔۔۔۔ حساب برابر کردیا
"اچھا۔۔۔ دیکھتے ہیں ۔ تم کب ڈاکٹر بن کے آتی ہو۔۔۔" وہ تیوری چڑھا کے بولیں
میں اٹھ کے اپنے کمرے میں آگئی۔ دو بج گئے تھے لیکن ابھی تک امی کا فون نہیں آیا ۔ میری پریشانی میں اضافہ ہوا۔ میں نے خود ہی امی کا نمبر ڈائل کیا۔ بیل جانے لگی پر انھوں نے فون نہیں اٹھایا۔ مجھے گھبراہٹ ہورہی تھی۔ میں اٹھ کے ٹی وی لاؤنج میں آگئی۔ وہاں پہ پہلے سے ہی پھوپھو براجمان تھیں۔ میں نے سوچا کہ انکے ساتھ بیٹھنا بلاوجہ کی بحث مول لینا ہے۔ بہترہے میں ان سے دور ہی رہوں۔ میں کیچن کی طرف بڑھ گئی تاکہ ساجدہ سے کہوں کہ ایک کپ چائے بنا دے۔ پھوپھو کی نظر مجھ پہ پڑ ہی گئی۔
"بینا۔۔۔۔ ! بات سنو۔۔۔!" وہ مجھے آواز دینے لگیں تو میں دانت پیس کے رہ گئی
"جی پھوپھو۔۔۔۔ آئی۔۔۔۔ " چارو ناچار مجھے انکے پاس جانا ہی پڑا
"جی بولیں۔۔۔۔۔ " میں پاس جا کے کھڑی ہوگئی
"بات ہوئی تمہاری ؟ کوئی خیر خبر۔۔۔۔۔ ؟" جوس کا گلاس میز پہ رکھتے ہوئے وہ بولیں
"نہیں ہوئی پھوپھو۔۔۔۔۔ آپ اپنےبھائی کو فون کرکے خیر خیریت پوچھ لیتیں" میں نے انھیں ٹونٹ کیا
"ارے بھئی۔۔۔۔ بھیا وہاں مرودوں کے بیچ میں بیٹھے ہوں گے۔ا للہ جانے کیا بات چل رہی ہوگی۔ میں ایسے بیچ میں فون کرنا شروع کرودں۔۔۔ نا بھئی نا" انھوں نے پہلی بار کوئی ڈھنگ کا کام کیا تھا۔
میرے فون کی بیل بجنے لگی۔ میں نے دیکھا تو امی کے نمبر سے کال آرہی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔
"کس کا فون ہے۔۔۔۔ ؟" فون اٹینڈ کرنے سے پہلے پھوپھو کے سوال جواب شروع ہوگئے
"امی کا۔۔۔۔۔ " میں نے تنک کے جواب دیا اور کال اٹینڈ کی
"ہیلو۔۔۔ امی ۔۔۔۔"
"میری بات کراو۔۔۔ میں پوچھتی ہوں بھابھی سے۔۔۔۔۔ " پھوپھو میری طرف لپکیں
میں نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا۔
"امی۔۔۔ کیا ہوا؟ میں کب سے آپکے فون کا انتطار کر رہی تھی۔۔۔" میں پریشانی میں پوچھنے لگی۔
"ارے بیٹا ۔۔۔ ہونا کیا ہے۔ تمہارے نانا اور بابا سر جوڑ کے بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی بلایا ہوا ہے۔ بڑے اثر و رسوخ والے لوگ ہیں۔ تمہارے نانا نے یہاں کے ایم این اے سے درخواست کی ہے کہ یہ معاملہ رفع دفع کروا دیں۔ اس نے چھ بجے کا ٹائم دیا ہے۔ اب دیکھو کیا ہوتا ہے۔۔۔۔ تمہارے بھائی نے کہیں کا نہیں چھوڑا ہمیں۔۔۔۔ " وہ رونے لگ گئیں
"اچھا آپ روئیں مت اللہ پاک سب ٹھیک کردیں گے، یہ بتائیں کہ وہ لڑکی کہاں ہے؟ واپس بھجوا دیا ؟ " میں نے پوچھا
"ارے کہاں واپس بھجوایا۔۔۔۔ ! تمہارے نانا نے کہا ہے کہ اگر لڑکی واپس بھجوا دی تو ہم لوگ زیادہ مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ اب تو نکاح بھی ہوگیا ہے۔ لڑکی تو رکھنی پڑے گی۔۔۔۔"
اس سے پہلے میں ان سے کچھ اور پوچھ پاتی پھوپھو نے میرے ہاتھ سے فون چھین لیا۔
"ہیلو ۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔ دیکھ لیا اب۔۔۔ میں نہ کہتی تھی کے تمہارے بیٹے کے لچھن ٹھیک نہیں ہیں ….. اس وقت میری بات سن لی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا" پھوپھو ایسے حالات میں بھی اپنی فطرت سے باز نہیں آرہی تھیں۔ انکی نان سٹاپ چلتی گاڑی کو روکنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ میں نے فون انکے ہاتھ سے چھین لیا۔ اور امی کو خدا حافظ بول کے بند کردیا
"بینا۔۔۔ ! یہ کیا بد تمیزی ہے؟ بات کیوں نہیں کرنے دی مجھے۔ میں نےابھی کچھ پوچھا ہی نہیں تھا" وہ تلملاتے ہوئے بولیں
"اچھا۔۔۔ جو آپ کر رہی تھیں وہ کیا تھا۔ آپ کو ہماری پریشانی سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ امی کو تانے کوسنے دینے کا آپکو گولڈن چانس ملا ہوا ہے کیسے ہاتھ سے جانے دیتیں" میں پھٹ پڑی
"اے۔۔۔ لڑکی۔۔۔ کچھ تو شرم کرلے، کیسے کیسے گھٹیا الزام لگا رہی ہے۔ خدا کی قسم اگر بھائی جان کا خیال نہیں ہوتا تو ایک منٹ نہ رکتی اس گھر میں۔۔۔۔ اتنی بے عزتی۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔ " پھر سے انکا ڈرامہ شروع ہوگیا۔ میں پاؤں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
مغرب کا وقت ہوا تو میں نے جائے نماز بجھائی اور نماز کے بعد گڑ گڑا کے اللہ پاک سے اپنے گھر پہ آئی مصبیت ٹلنے کی دعائیں کرنے لگی۔ میں نماز پڑھ کے فارغ ہوئی تو ساجدہ میرے کمرے میں آئی اور کہنے لگی کہ کھانا لگ گیا ہے، اور پھوپھو میرا انتظار کر رہی ہیں۔ نا چاہتے ہوئے بھی مجھے جانا پڑا۔ پتا نہیں کب امی واپس آئیں گی، تبھی تو پھوپھو سے جان چھوٹے گی۔
"سنو۔۔۔ ! تم نے دیکھا تھا اس لڑکی کو؟ شکل و صورت کی کیسی تھی" میں ابھی کرسی پہ بیٹھی ہی تھی کہ پھوپھو نے سوالوں کا سلسلہ شروع کردیا۔
"کونسی۔۔۔ لڑکی؟" میں انجان بننے کی کوشش کی
"ارے وہی۔۔۔۔ جسے تیرا بھائی بھگا لایا" وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھیں
"میں نے نہیں دیکھا، وہ لوگ صبح صبح ہی نکل گئے تھے۔ میں تب سورہی تھی" میں نے پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے کہا
"ساجدہ بتا رہی تھی کہ بڑی ماڈرن لڑکی ہے۔ عجیب سے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سوچو سچ مچ وہ تمہاری بھابھی بن کے آگئی تو۔۔۔؟تمہاری ماں کا تو جینا حرام کردے گی۔۔۔۔" وہ لوگوں کی قسمت کا فالنامہ ہاتھ میں لے کے گھومتیں ہیں۔
"میری ماں کا جینا حرام کرنے والے پہلے ہی بہت لوگ ہیں۔ ایک اورکا اضافہ ہوجائے گا" میں نے انکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میری اس بات پہ انھوں نے چپ سادھ لی۔
رات کے دس بج گئے تھے۔ میں نے امی کا نمبر ڈائل کیا۔ انھوں نے فون اٹھایا اور بس اتنا بولیں کہ ہم یہاں سے گھر کی طرف نکل رہے ہیں، وہاں پہنچ کے ساری باتیں ہونگی۔ مجھے تسلی ہوئی کہ شکر ہے وہ لوگ واپس آرہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ پھوپھو کو بھی بتا دوں۔ ساجدہ نے بتایا کہ وہ امی کے کمرے میں ہیں۔ میں وہاں پہنچی تو وہ خراٹوں پہ خراٹے دے رہی تھیں۔ میں نے سوچا چلو میں بھی تھوڑی دیر سو ہی جاتی ہوں۔ سب لوگ آگئے تو پھرجانے کب تک جاگنا پڑے۔۔۔
Rate this Novel
Categories:
Action & Adventure Adventure Romance Age Difference Based betrayal Black Magic Emotional Drama Family Story funny Hero Based Jin-based Fiction love after marriage Mafia Daddies Multiple Couple Phycological Thriller REVENGE Revenge Base Rude Hero
Tags:
