Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Jor by Zoya Hassan Episode03

Be Jor by Zoya Hassan Episode03

“میں نے اپنا گھر کھویا ہے۔ ماں ، باپ،بھائی ،رشتہ دار۔۔۔۔ سب کچھ چھوٹ گیا مجھ سے۔۔۔۔۔” میری آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈآیا۔ وہ پاؤں پٹختا باہر جانے لگا
“اور سن لو۔۔۔۔ میں نے سپنے کھوئے ہیں۔۔۔۔ اور۔۔۔ زندگی بھی۔۔۔۔۔ “
وہ ایک پل کے لیے رکا نظر بھر کے مجھے دیکھا اور پھر چلا گیا۔
میں نے ایک جھٹکے سے بالوں میں پھنسا جھمکا نکال کے پھینک دیا۔
اور فرش پہ ہی بیٹھ گئی
“بی بی جی۔۔۔۔۔! ” ذکیہ نے میرا کندھا ہلایا تو میں چونک گئی
“جی۔۔۔۔ ! ۔۔ ہاں۔۔۔ !۔۔۔۔ کیا؟” میں ہڑ بڑا سی گئی
“وہ میں پوچھنے آئی تھی کہ آپ کھانا باہر کھائیں گی یا پھر یہاں لے آؤں۔۔۔؟” وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔
“کھانا۔۔۔ ! مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔” میں ابھی تک بدحواس تھی
“جی۔۔۔ اچھا۔۔۔ !”یہ کہہ کے وہ واپس مڑی
“سنو۔۔۔ ! میں نے اسے آوازدی
“جی ۔۔۔۔۔۔ بی بی۔۔!” ذکیہ نے رک کے میری طرف دیکھا
“تمہارے پاس کوئی ایکسٹرا سوٹ نہیں ہے؟” ایک نوکرانی سے ایسی بات کرتے ہوئے میں شرم سے پانی پانی ہورہی تھی۔ ذکیہ کی عمر پندرہ سولہ کے قریب ہوگی۔ اسکا قد مجھ سے کم تھا لیکن میرا اندازہ تھا اسکے کپڑے مجھے پورے آجائیں گے۔ وہ تھوڑی دیر تک بنا کچھ بولے میرا چہرہ دیکھتی رہی۔
“اگر نہیں ہے تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی” اسکی خاموشی میری شرمندگی میں اضافہ کررہی تھی۔
“نہیں نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میرے پاس کافی سوٹ ہیں۔ میں کل صبح آتے ہوئے لے آؤں گی” اس نے پھیکی سی مسکراہٹ سے جواب دیا
“صبح لے آؤ گی مطلب۔۔۔۔؟ تم رات میں یہاں پہ نہیں ہوتی ہو؟” مجھے ساجدہ یاد آگئی جو بے چاری دن رات ہماری خدمت کرتی تھی۔ دو چار مہینوں میں اسکی ایک آدھ چھٹی بھی امی کو بہت مہنگی پڑتی تھی۔
“نہ بی بی۔۔۔ صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک ہم یہاں پہ کام کرتے ہیں پھر گھر چلے جاتے ہیں” وہ معصومیت سے بولی
“ہم۔۔۔ ؟ تمہارے علاوہ اور کتنے ملازم ہیں یہاں۔۔۔۔؟” میں نے مزید تفصیل پوچھی
“میں اور اماں ہی ہیں بس۔۔۔۔ اماں صاحب کے لیے کھانا بناتی ہیں اور میں گھر کی صفائی وغیرہ کرتی ہوں۔۔۔ اور ہاں چچا خادم بھی ہیں ۔ وہ گیٹ پہ ہوتے ہیں۔ انکی دن رات کی ڈیوٹی ہے۔۔۔ پہلے انکا بھتیجا بھی یہاں پہ کام کرتا تھا۔۔۔۔ باہر سے سودہ سلف وغیرہ لا کے دیتا ، پچھلے ہفتے کام چھوڑ کے بھاگ گیا ۔۔۔۔ ” اس نے سارے ملازموں کی تفصیل بتا دی
“ہوں۔۔۔۔ ! اچھا گھر میں کتنے لوگ ہیں۔۔۔۔” میں نے سوچا لگے ہاتھوں ساری ضروری باتیں پوچھ لوں
“صاحب ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔ بس۔۔۔ پہلے حنا بی بی بھی یہاں صاحب کے ساتھ رہیتی تھیں لیکن اب تو۔۔۔۔۔۔ ” وہ یہ کہہ کے خاموش ہوگئی
“ذکیہ۔۔۔۔ !۔۔۔۔۔ ذکیہ !۔۔۔۔ کدھر مر گئی ہے؟” باہر سے ذکیہ کی ماں کی آواز پہ ہم دونوں چونکے
“اماں ۔۔۔۔ آئی۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا بی بی میں جاتی ہوں اماں بلا رہی ہے” وہ جلدی سے باہر نکل گئی
میں پھر سے سوچوں میں ڈوب گئی۔ اللہ خیر ہی کرے۔۔۔۔ ذکیہ اور اسکی ماں چلے جائیں گے تو مجھے اس آدمی کے ساتھ اس گھر میں اکیلے رات کاٹنی پڑے گی۔۔۔۔۔ مالک اپنی حفظ و امان میں رکھنا۔۔۔۔ میں کافی گھبرا گئی۔ میں فرش سے اٹھ کے کھڑی ہوگئی۔ سامنے لگی ڈریسنگ ٹیبل میں اپنا حلیہ دیکھ کہ مجھے خود پہ شدید غصہ آیا۔ بکھرے بال اب تک گھونسلہ بن چکے تھے۔۔۔ فرزانہ نے بھاگ دوڑ میں جو میک اپ میرے چہرے پہ تھونپا تھا آنسووں کے سمندر میں سب بہہ گیا، جو نشان باقی رہ گئے تھے ان سے میں کسی چڑیل کی سگی بہن لگ رہی تھی۔ اور سونے پہ سہاگہ فرزانہ کی بھابھی کا شادی کا جوڑا جو اب مجھ سے منسوب ہوچکا تھا۔ میرون کلر کے اس سوٹ پہ بھاری بھرکم کام ہوا وا تھا۔ انکے لیے تو شائد پرفیکٹ ہو لیکن میرے لیے کافی لوز تھا۔ اس حالت میں مجھے اندھیرے میں کوئی دیکھ لے تو چیخیں مار مار کے دم توڑ دے گا۔ فلحال اس سوٹ کا تو کچھ نہیں ہو سکتا ، حنا کے کپڑے پہننے کو من راضی نہیں تھا۔ چلو چہرے کا نقشہ ہی درست کر لیتے ہیں۔ یہ سوچ کہ میں واش روم میں گھس گئی۔ اندر قدم رکھتے ہی احساس ہو جیسے کسی باربر شاپ میں آگئی ہوں۔ اوپر نیچے مرادنہ لوازمات سے اٹا واش روم صاف صاف بتا رہا تھا کہ اسکے آس پاس سےکبھی عورت ذات کا سایا بھی نہیں گزرا ہوگا۔ میں نے ادھر ادھر کا سرسری جائزہ لیا اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اف خدایا۔۔۔۔ کیا حال کرلیا ہے۔ میں نے جلدی سے پانی کے چھینٹے منہ پہ مارنا شروع کیے۔ پتا نہیں فرزانہ نے میک اپ میں کونسا گریس مکس کرکے میرے منہ پہ لگایا تھا۔ اتر ہی نہیں رہا ۔ مجھے سامنے پڑا فیس واش دکھائی دیا۔ امپورٹد تھا لیکن مرد حضرات کے لیے ۔۔۔۔ میرے پاس اور راستہ نہیں تھا۔ چاروناچار اسی سے منہ دھو کے باہر نکل آئی۔
“سلام بی بی۔۔۔۔۔ !” ذکیہ کی اماں نے مجھے سلام کیا
“وعلیکم السلام۔۔۔۔! “میں نے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا
انھوں نے ذکیہ کو اشارہ کیا جو ہاتھ میں بڑی سی کھانے کی ٹرے لے کے کھڑی تھی۔ اس نے ٹرے ٹیبل پہ رکھ دیا
“آنٹی۔۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔ سچ میں ۔۔۔۔ میں نے ذکیہ کو بھی بولا تھا” میں سمجھ گئی کہ وہ میرے لیےکھانا لے کے آئی ہیں۔
“بچے۔۔۔۔ ! بھوک کیسے نہیں ہے؟ تھوڑا بہت تو کھانا پڑے گا۔۔۔ اور ویسے بھی بڑے کہتے ہیں رات میں خالی پیٹ نہیں سونا چاہیے۔۔۔۔ ” انکی بات سن کی مجھے امی کی یاد آگئی۔ میں جب بھی رات کا کھانا کھانے سے منع کرتی تو زور زبردستی کھلاتی تھیں اور ہمیشہ یہی کہتیں کے بڑے کہتے ہیں رات میں خالی پیٹ نہیں سونا چاہیے۔۔۔ میری آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے بامشکل اپنے آپکو کو کنٹرول کیا۔
“اچھا ۔۔۔۔ ! آپ کہتی ہیں تو میں تھوڑا سا کھا لیتی ہوں۔ لیکن واقعی مجھے بھوک نہیں ہے” میں انھیں انکار نہیں کر پائی۔ میں صوفے پہ بیٹھ گئی اور ٹرے پہ نظر ڈالی
دال، سبزی۔ قورمہ، کھیر۔۔۔۔ اور پتا نہیں کیا کچھ ٹرے میں موجود تھا۔
“آنٹی۔۔ ! آپ اتنا کچھ لے آئی ہیں۔۔۔ یہ تو میں پورے مہینے میں بھی نہیں کھا سکتی” میں نے مسکراتے ہوئے کہا
“چلو ! جتنا کھا سکتی ہو کھا لو بیٹا۔۔۔۔ اور مجھے آنٹی نہ کہو۔۔۔ اماں بولو۔۔۔۔ سب مجھے اماں بلاتے ہیں۔۔۔۔۔ ” وہ کہنے لگیں
میں پالک کی سبزی سے ابھی پہلا نوالہ منہ تک لے کے ہی گئی تھی، انکی یہ بات سن کے میرا ہاتھ رک گیا۔ پھر سے آنکھیں بھر آئیں
“کیا ہوا بچے۔۔۔؟ کھانا اچھا نہیں لگا؟” وہ پریشان ہوکے بولیں
“ارے نہیں۔۔۔ بہت اچھا ہے۔۔۔ واقعی” میں نے جلدی سے نوالہ منہ میں ڈالا اور چبانے لگی
“تمہارے خاوند کو بھی میرے ہاتھ کا کھانا بہت پسند ہے۔ کہتا ہے جو مزہ اماں کے ہاتھ میں ہے وہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی نہیں ملتا” وہ مسکرانے لگیں
خاوند ۔۔۔۔۔ ! یہ لفظ پھر سے مجھے سوچوں کے سمندر میں ڈبونے لگا
“بچے۔۔۔ ؟ میں آپ سے تم تم کرنے لگی ہوں ، برا تو نہیں لگا؟ ” وہ میرا چہرہ پڑھنے لگیں
“بالکل برا نہیں لگا۔۔۔۔ جب آپ نے خود ہی کہا کہ میں آپکو ‘اماں’ بولوں تو کونسی ماں اپنی بیٹی کو آپ آپ کر کے بات کرتی ہے؟” میں نے انھیں تسلی دی
“بیٹا۔۔۔ تمہارے خاوند نے ہی میری عادتیں خراب کی ہیں۔ ورنہ نوکروں کی کیا مجال جو تم کرکے بات کریں۔ شروع شروع میں جب میں صاحب جی بولتی تھی تو وہ برا مان جاتا۔۔۔۔ دل سے ماں مانتا ہے” وہ بھرائی آواز میں بولیں
انکی باتوں میں مگن مجھے اپنی سپیڈ کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ ذرا چکھنے کی غرض سے کھیر کا ایک چمچ لیا تھا۔ پر کب چٹ کر گئی پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔ ، ذکیہ کی نگاہیں مجھ پہ تھیں پر اماں اب بھی باتوں میں لگی تھیں۔
“اماں۔۔۔ ! آپ نے کھیر تو کمال کی بنائی ہے۔ میں تو خود کو روک ہی نہیں پائی” میں نے شرمندگی چھپاتے ہوئے کہا
“اور لاؤں ۔۔۔۔ بچے۔۔۔؟” انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور ذکیہ کو اشارہ کیا
“نہیں نہیں۔۔۔۔ اماں ۔۔۔ اور نہیں چاہیے” میں نے ذکیہ کو رکنے کا اشارہ کیا
“اچھا بیٹا۔۔۔ اب ہم چلتے ہیں۔ میرا بیٹا باہر رکشے میں ہمارا انتظار کررہا ہے۔۔۔۔ ” وہ یہ کہہ کے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ذکیہ نے ٹرے اٹھائی اور وہ دونوں سلام کرکے باہر چلے گئے
دکھ میں مجھے بھوک کا احساس نہیں ہوا لیکن کھانا پیٹ میں جاتے ہیں سکون سا آگیا تھا۔ کھانا کھائے ہوئے چوبیس گھنٹے بیت چکے تھا۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور اماں کا بھی۔
اصل مسئلہ تو اب درپیش تھا۔ پوری رات اس بندے کے ساتھ کیسے گزاروں گی۔۔۔۔۔ میں کمرے میں یہاں سے وہاں چکر کاٹنے لگی۔ میں بچپن سے ہی اکیلی سونے سے گھبراتی تھی۔ گھر میں بھی ساجدہ کو اپنے ساتھ سلاتی اور جب کبھی ساجدہ چھٹی پہ ہوتی تو امی کو میرے ساتھ سونا پڑتا تھا۔ اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔؟ میں اپنے آپ سے سوال کرنے لگی۔
“جو بھی ہو۔۔۔۔ اس آدمی کے ساتھ ایک کمرے میں تو نہیں سوؤں گی” میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا۔ لیکن مسئلہ یہ بھی تھا کہ مجھے کچھ بھی کرکے اس کے آنے سے پہلے اس کمرے سے باہر جانا تھا۔ میں نے ہلکا سا دروازہ کھولا اور باہر جھانکنے لگی۔ ٹی وی لاؤنج سے ٹی وی کی آواز آرہی تھی لیکن وہ کہیں دیکھائی نہیں دیا۔ اب کیا کروں۔۔۔ ؟۔ دروازہ بند کرکے میں پھر سے کمرے کے چکر کاٹنے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد دھک سے دروازہ کھلا اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں جلدی سے پیچھے مڑی۔
“آپ ابھی تک سوئی نہیں۔۔۔۔۔ !” میری طرف بنا دیکھا اس نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا
( نہیں میں یہاں سے وہاں نیند میں چل رہی ہوں ۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔ میں دل ہی دل میں اسےکوسنے لگی)
“نہیں۔۔۔ وہ بس سونے ہی جارہی ہوں۔۔۔۔۔ ” میں نے اپنے اندر کے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے جواب دیا
وہ واش روم کی طرف جاتے جاتے مڑا
“سونے جا رہی ہیں۔۔۔۔۔ مطلب؟ کہاں سونے جارہی ہیں۔۔۔۔؟” اسکی بڑی بڑی آنکھیں مجھ پہ مرکوز تھیں
“وہ۔۔۔ باہر۔۔۔ باہر سونے جارہی ہوں” میں گھبرا کے بولی
“باہر کیوں۔۔۔۔۔؟ یہاں سونے میں کوئی پرابلم ہے۔۔۔ ، اگر میری وجہ سے ایسا ہے تو میں دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہوں” وہ واش روم سے دوبارہ واپس مڑا
“ارے نہیں۔۔۔۔ نہیں دراصل مجھے صوفے پہ سونے کی عادت ہے۔۔۔۔۔ اس لیے” مجھے مناسب بہانا نہیں مل رہا تھا
“پر صوفہ تو یہاں ۔۔۔۔۔” اس نے کمرے میں پڑے صوفہ کی طرف اشارہ کیا
“نہیں ۔۔۔ نہیں وہ۔۔۔۔۔ مجھے ڈرائنگ روم والے صوفے پہ سونے کی عادت ہے۔۔۔” ہڑ بڑاہٹ میں جو کچھ منہ میں آرہا تھا میں بکے جارہی تھی۔
میری بات سن کے اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور سر کھجانے لگا۔۔۔۔ جیسے اسے میرے دماغی توازن پہ شک ہورہا ہو
“بھاگ بینا۔۔۔۔ جان چھڑا اس سے۔۔۔۔ “میں نے اپنے آپ سے کہا ۔ اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا میں لگ بھگ بھاگتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئی۔ باہر کی ساری لائٹس بند تھیں۔ اندھیرے سے ویسے ہی مجھے ڈر لگتا تھا۔ میں ادھر ادھر لائیٹس آن کرنے کے لیے بٹن ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔ اندھیرے میں کیا خاک نظر آنا تھا۔ میں تھوڑا آگے بڑھی۔۔۔۔ ایکدم سے خود بخود لائٹس آن ہوگئیں۔ میری لگ بھگ چیخ نکلی۔۔۔
“لائٹس یہاں سے آن ہوں گی۔۔۔۔” لائٹس کے بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ میرے پیچھے کھڑا تھا۔
“جی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔” میں نے اپنے حواس سنبھالے
“کمبل ۔ تکیہ۔۔۔ کچھ چاہیے تو بتا دیں۔۔۔۔۔” وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا
“نہیں۔۔۔ کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔۔ ” میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ اپنے کمرے میں چلا گیا
میں ڈرائنگ روم کے صوفے پہ بیٹھ گئی۔ “یہ میں کہاں پھنس گئی۔۔۔۔۔ ” چلو۔۔۔ سو جاتے ہیں۔۔۔ میں نے لائٹس آن رہنے دیں۔ اور صوفے پہ پاؤں پھیلا کے لیٹ گئی۔۔۔۔ آئیت الکرسی پڑھ کے اپنے اوپر دم کیا۔۔۔۔ اللہ سے حفظ و امان کی دعا مانگی۔۔۔۔ شفون کا کامدار دوپٹہ اپنے اوپر لپیٹ لیا۔۔۔۔۔
آنکھیں بند کیں۔۔۔ لیکن نیند کے دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے۔ ایک تو نئی جگہ اوپر سے میں اکیلی ۔۔۔۔ مجھے رہ رہ کے میری بچپن کی سہیلی نازیہ یاد آرہی تھی، جو اپنی دادی کے بھوت پریت والے قصے سنایا کرتی تھی۔ اور بھوت ایسے ہی گھروں میں بسیرا کرتے ہیں جہاں لوگ کم ہوں۔۔۔۔۔ میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ کمرے کے اندر بھی ایک بھوت ہے اور باہر بھی۔۔۔۔ کہاں جاؤں۔۔۔۔۔ سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔
ابھی کچی پکی نیند ہی تھی ، ایکدم سے کسی نے میرے اوپر چھلانگ لگا دی۔ میرے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی۔ میں جلدی سے اٹھ بیٹھی۔ حواس باختہ ہو کر میں ادھر ادھر دیکھنے لگی پر کوئی نظر نہیں آیا۔ میرے جسم پہ لرزہ طاری ہوا۔ دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر آجائے گا۔
“بینا بی بی۔۔۔۔ یہاں سونا خطرے سے خالی نہیں۔ یہاں تو سچ مچ بھوت بھٹک رہے ہیں” میں نے یہی سوچا کہ دیکھائی دینے والے بھوت سے مقابلہ کرنا زیادہ آسان ہے ،میرے پاس یہی راستہ تھا کہ کمرے میں جا کے سو جاؤں۔ میں نے کمرے کی طرف دو قدم بڑھائے تو یاد آیا کہ اگر اس نے مجھے کمرے میں دیکھا تو بلاوجہ کا مذاق بن جائے گاکہ اس وقت تو بڑی بڑی باتیں کرکے نکلی تھی۔ اب کیا کروں۔۔۔۔۔ ۔۔۔ کیا کروں۔۔۔
“ارے چپکے سے جا کے سو جاتی ہوں۔۔۔ صبح اسکے اٹھنے سے پہلے باہر آجاؤں گی” میں نے من ہی من میں خود کو تسلی دی اور پاؤں پہ پاؤں رکھتے اندر گھس گئی۔ کمرے کی لائٹس آف تھیں، میں اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارتی صوفہ ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔۔
پاؤں ٹیبل سے ٹکرایا اور میں دھڑام سے کارپٹ پہ گر گئی۔ گھٹنا ٹیبل کی سائیڈ سے جا لگا۔۔۔۔ بامشکل میں نے درد براداشت کیا۔۔۔۔ اپنی چیخ کا گلہ گھونٹا اور پھر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس چکر میں صوفہ مل گیا۔۔۔۔۔ چلو شکر ہے۔ میں صوفے پہ لیٹی اور آنکھیں بند کرلیں۔
“برفانی پہاڑ۔۔۔ اور میں ننگے پاؤں ا ن پہاڑوں پہ چل رہی ہوں۔۔۔۔ شدید ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔۔ نہ کوئی گرم چادر ہے اورنہ جیکٹ۔۔۔۔۔ خدایا کوئی تو مدد کرے۔۔۔ مجھے اس سردی سے بچائے۔۔۔۔۔ میرا جسم تھر تھر کانپ رہا ہے۔۔۔۔۔ پھر ایک دم سے کسی نے میرے اوپر نرم گرم کمبل ڈالا۔۔۔۔ اور میں سکون میں آگئی”
صبح کی اذان ہوئی تو حسب معمول میری آنکھ کھلی۔ آنکھ کھلنے سے پہلے تک مجھے ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے میں اپنے گھر پہ ہوں۔ امی ساجدہ کو آوازیں دے رہی ہیں کہ بابا کے لیے چائے بنا دے نماز کے فوراً بعد وہ چائے پینے کے عادی ہیں۔
“ساجدہ ۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔۔ امی بلا رہی ہیں۔۔۔۔ “میں نے آنکھیں بند کیے ہی ادھر ادھر ہاتھ مارا۔۔۔ ہاتھ فرش سے جا ٹکرایا۔۔۔۔۔ میں نے ہڑ بڑا کے آنکھیں کھول دیں۔ جب اپنے حواس میں آئی تو احساس ہوا کہ میری دنیا بدل چکی ہے۔ دل اداس ہوگیا۔۔۔۔
“یہ کمبل کہاں سے آیا۔۔۔۔۔ ؟ مجھے رات کا سارا قصہ یاد آنے لگا۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ تو وہ برفافی پہاڑوں والا خواب تھا۔۔۔۔ مجھے حقیقت میں ہی ٹھنڈ لگ رہی تھی۔۔۔۔ پر۔۔۔۔ پر۔۔۔ اسکو کیسے پتا چلا کہ مجھے ٹھنڈ لگ رہی۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ ارے ٹھنڈ کو چھوڑو یہ سوچو کہ اسے یہ کیسے پتا چلا کہ میں کمرے میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔ یہاں تو سب کچھ بہت عجیب ہے۔۔۔۔ ” لبوں میں بڑبڑاتی میں نے اسکے بیڈ پہ نظر دوڑائی ، وہ ابھی تک سو رہا تھا اور میں بنا کوئی شور کیے باہر نکل آئی اور ڈرائنگ روم والے صوفے پہ سو گئی۔ نماز پڑھنے کو دل تو چاہ رہا تھا لیکن نہ تو قبلہ کا اندازہ تھا اور نہ جائے نماز تھی۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں۔
“بی بی۔۔۔۔ ! اٹھو۔۔۔۔۔ بی بی۔۔۔۔۔ ” ذکیہ کی آواز پہ میں اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔۔!” میں آنکھیں مسلتے ہوئے پوچھا
“یہ لیں ۔۔۔۔ میں آپکے لیے سوٹ لائی ہوں۔۔۔۔۔ ” اس نے ہاتھ میں پکڑا شاپر میری طرف بڑھایا۔۔۔ میں نے شکر ادا کیا کہ کم از کم اس شادی کی جوڑے سے تو جان چھوٹے گی۔ کل سے اسکا بوجھ ڈھو رہی ہوں۔
“وہ سامنے حنا بی بی کا کمرہ ہے آپ وہاں جا کے کپڑے بد ل لیں۔۔۔۔” اس نے اشارہ کیا
میں اٹھ کے وہاں چلی گئی۔۔۔ حنا کے کمرے میں جاتے ہی مجھے اپنا کمرہ یاد آگیا۔۔۔۔ ہر چیز میں نفاست اور صفائی ۔۔۔۔ دیواروں پہ لگی خوبصورت پینٹنگز۔۔۔۔ مختلف رنگوں کی لائٹس۔۔۔۔ پرپل کلر کے پردے اور میچنگ بیڈ شیٹ۔۔۔۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پہ سجے خوبصورت لیمپ۔۔۔۔۔ ہر چیز بالکل صحیح جگہ پہ موجود تھی۔ یہ سب دیکھ کے مجھے یہ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ حنا کے ذوق شوق مجھ سے میل کھاتے ہیں۔ زندگی بھی کتنی عجیب چیز ہے، کہاں سے کہاں لا کے کھڑا کردیتی ہے۔
میں واش روم میں گھس گئی۔۔۔ وہاں جا کہ ذکیہ کا سوٹ شاپر سے نکالا۔ ٹی پنک کلر کا سوٹ جس کے گلے پہ ہلکی سی کڑھائی تھی۔ سفید کلر کا چوڑی دار پاجامہ اور پرنٹڈ دوپٹہ۔ کہیں سے بھی وہ کسی ملازمہ کا سوٹ نہیں لگ رہا تھا۔
ذکیہ کا قد مجھے سے کم تھا ۔ مجھے ڈر تھا کہ اسکا سوٹ مجھے پورا آتا بھی ہے کہ نہیں۔ پر پہنتے ہی اندازہ ہوا جیسے وہ میرے لیے ہی بنا ہوا۔۔۔۔ پرفیکٹ۔
میں کیچن میں پہنچی۔ اماں ناشتہ بنا رہی تھیں۔ میں نے سلام کیا۔۔ مجھے دیکھتے ہی خوش ہوگئیں
“ذکیہ کا سوٹ فٹ آگیا آپکو۔۔۔”انھوں نے بغور جائزہ لیا
“جی۔۔۔ آگیا۔۔۔ نیا ہے شائد۔۔۔۔ اسے کہا تھا کوئی بھی پرانا سوٹ لے آئے” میں نے وضاحت دی
“بچے۔۔۔ یہ سوٹ تمہارے خاوند نے دو مہینے پہلے۔۔ اپنی سالگرہ پہ لے کے دیا تھا۔ ذکیہ نے بس ایک ہی دفعہ پہنا ہے۔ میں نے رکھوا دیا تاکہ اسکی شادی میں کام آسکے۔۔۔۔” وہ بتانے لگیں
“تو وہ۔۔۔ پاگل میرے لیے یہی سوٹ کیوں لے کے آئی۔۔۔۔ ؟ ایک منٹ رکیں میں ابھی اتار کے آتی ہوں۔۔۔۔” میں شرمندہ سی ہوگئی
“نہ ۔۔۔ بیٹا۔۔۔ میں نے ہی اسے یہ سوٹ لانے کا کہا تھا۔۔۔ ہم غریب لوگ ہیں ہمارے پاس اتنے اچھے کپڑے کہاں جو آپکے لائق ہوں” وہ سر جھکا کے بولیں
“کوئی بات نہیں میں کچھ نہ کچھ ارینج کر لوں گی۔ آپ یہ واپس لے لیں” میں نے ضد کی
“بچے۔۔۔ کہا نہ اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے” وہ بولیں
میں بھی خاموش ہوگئی۔
“کچھ چاہیے۔۔۔؟” وہ میری طرف مڑ کے پوچھنے لگیں
“ہاں ۔۔۔ وہ چائے۔۔۔ میں صبح میں چائے پینے کی عادی ہوں” میں نےکیچن میں آنے کی وجہ بتائی
“ابھی بنا دیتی ہوں۔۔۔ بس ذرا خادم سے کچھ چیزیں منگا لوں” یہ کہہ کہ وہ گیٹ کیپر کے پاس چلی گئیں۔ ذکیہ بھی نظر نہیں آرہی تھی۔
میں کیچن کے کیبنیٹس میں چائے کا سامان دیکھنے لگی۔ میری پیٹھ کیچن کے دروازے کی طرف تھی اور ایک ایک کر میں کیبنیٹس کھول اور بند کررہی تھی
“اے۔۔۔۔ ذکوّ۔۔۔۔ !” اسکی مردانہ آواز میرے کان میں پڑی۔ میں بنا مڑے ایک ہی جگہ ساکت ہوگئی
“او ہو۔۔۔۔ آج تو بن ٹھن کے آئی ہو۔۔۔۔۔ شکر ہے تم نے یہ سوٹ پہنا۔۔۔۔ ویسے خیریت بال بھی کھول رکھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اماں نے تمہاری شادی تو طے نہیں کردی۔۔۔۔ اگر ایسا ہے تو میں پہلے لڑکے سے ملوں گا۔۔۔ اگر اچھا ہوا تو ہی تمہاری شادی ہوگی۔۔۔۔ ” وہ بولتا ہی جا رہا تھا۔۔۔ میرے اندر ہمت نہیں تھی کہ مڑ کو اسے بتا سکوں کہ میں ذکیہ نہیں ہوں
“تمہارے بال تو کافی لمبے ہوگئے ہیں۔۔۔۔ تم بول کیوں نہیں رہی” وہ اپنے ہاتھ سے میرا سر ہلانے لگا۔ مجھ پہ کپکی طاری ہوگئی
“اوئے۔۔۔ کہیں تجھ پہ اس پاگل لڑکی کا اثر تو نہیں ہوگیا۔۔۔۔۔ ؟” وہ سرگوشی کرنے لگا
اب تو حد ہی ہوگئی تھی ، وہ مجھے پاگل سمجھتا ہے۔۔۔۔ میں غصے سے پھنکارتی پیچھے مڑی۔۔۔۔
اس بار تو اس کے چھکّے چھوٹ گئے۔۔۔۔۔۔۔ اسکی بڑی بڑی آنکھیں اور زیادہ پھیل گئیں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *