Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02)

Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02)

“ارے بیٹا۔۔۔ یہ بھوت ووت کچھ نہیں ہوتے۔۔۔ بس انسان کا دل مظبوط ہونا چاہیے” اماں نے تسلی دی۔
لو بھلا۔۔۔ پورا دن اماں نے بھوت کے قصے سنا سنا کے ڈرائے رکھا اب کہہ رہی ہیں کہ بھوت کچھ نہیں ہوتے۔
“پلیز ۔۔۔ تھوڑی دیر رک جائیں۔۔۔۔ ” میں نے پھر سے درخواست کی
ذکیہ نے اماں کو اشارہ کیا کہ رک جاتے ہیں۔ ایکدم سے اماں کی نظر شاپنگ بیگز پہ پڑی۔ وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں
“چلو۔۔۔ ٹھیک ہے ، ہم لوگ رک جاتے ہیں۔ لیکن میری ایک شرط ہے” اماں معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھنے لگیں
“ہاں۔۔۔ ٹھیک ہے۔ آپکی ہر شرط منظور ہے” بنا سوچے سمجھے میں نے ہاں کردی
“ٹھیک ہے پھر۔۔۔ ہم ابھی نہیں جاتے۔ لیکن یہ شاپنگ بیگ تمہیں قبول کرنے ہوں گے۔ اور اتنا ہی نہیں اس میں کیا کیا ہے وہ بھی ابھی کھول کے دیکھو گی” اماں ایکدم سے تھانیدارنی بن گئیں
اف۔۔۔ ! میں یہ کیسے بھول گئی کہ اماں بھی تو دشمن پارٹی کا حصہ ہیں۔ میں بے کسی سے انھیں دیکھنے لگی
“ہم جائیں۔۔۔ پھر۔۔۔؟” اماں پھر سے بولیں
“نہیں ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں کھولتی ہوں نا۔۔۔۔ ” انھوں نے میری مجبوری کا نا جائز فائدہ اٹھایا ہے۔
میں ایک ایک کر کے شاپنگ بیگز سے سامان نکالتی ٹیبل پہ رکھنے لگی۔
تھوڑی ہی دیر میں ٹیبل لیڈیز سٹف کے سٹال میں بدل گیا۔ سوٹ، جوتے، میک اپ۔۔ پرفیوم، شیمپو۔۔ فیس واش ۔۔۔ شاور جیل۔۔۔ اور پتا نہیں کیا کیا۔۔۔ یہ سب دیکھ کے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک سے بڑھ کے ایک چیز میرے سامنے پڑی تھی۔ پر میں حیران تھی کہ لیڈیز سٹف کی اتنی معلومات اسے کیسے ہیں؟
“ماشاء اللہ۔۔۔۔ !” اماں پورے سامان پہ نظریں دوڑاتے ہوئے بولیں
اماں کے کہنے پہ میں نے یہ سب لے تو لیا۔ اب اس کھڑوس کو کیا منہ دیکھاؤں گی۔ وہ تو یہی سمجھے گا کہ میں پہلے ہی مر رہی تھی یہ سب اینٹھنے کے لیے۔ لیکن اب تو سب کچھ ان پیک بھی ہوچکا ہے۔ اب کیا ہوسکتا ہے۔
ذکیہ سار سامان اٹھا کے کمرے میں رکھنے چلی گئی۔ ایک بار میرا دل کیا کہ اس کہہ دوں کہ یہ سامان حنا والے کمرے میں رکھ دے۔ پر یہ سوچ کے رک گئی کہ اماں پھر سے شروع ہوجائیں گی اور جانے کی دھمکی دینے لگیں گی۔
تھوڑی دیر گزری تو موصوف بھی آگئے۔ اور سیدھا اپنے کمرے کی طرف چل دیے۔ اماں اور ذکیہ اپنے گھر کی طرف نکل پڑیں۔ میں نے ٹی وی کا والیوم بلند کیا اور سیرئیل دیکھنے لگی۔
کچھ ہی دیر گزری تھی۔ فریش ہوکے وہ بھی ٹی وی لاؤنج کی طرف چلا آیا۔ میں سیریل دیکھنے میں ہی مگن رہی۔
“ذرا سی دوستی کرلے۔۔۔۔ ذرا سا ہم نشین بن جا۔۔۔۔ ” ساتھ والے صوفے پہ بیٹھتے ہی وہ گانا گنگناے لگا۔
“اف ۔۔۔۔ اتنی بھدی آواز میں اچھے گانے کا ستیا ناس کر رہا ہے” میں دل ہی دل میں بولی
میری طرف سے مسلسل نظرانداز ہونے کے بعد اس نے ٹیبل پہ پڑا ریموٹ اٹھایا اور چینل بدل دیا
“اوہ۔۔۔۔ فٹ بال کا اتنا اہم میچ تھا۔۔۔ میں کیسے بھول گیا۔۔۔ ” اس نے آپ سے کہا
“آپکو نظر نہیں آتا کیا؟۔۔۔۔ میں سیریل دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ” میں اسکی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے بولی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا
“میں آپ سے ہوں۔۔۔ سنائی نہیں دیتا کیا۔۔۔؟ میں اونچی آواز میں بولی
“جی۔۔۔ آپ نے مجھ سے کچھ کہا۔۔۔؟” وہ ڈرامائی انداز میں بولا
“میں سیریل دیکھ رہی تھی۔۔۔” میں نے اسے گھورا
“تو۔۔۔ ؟” وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
“تو۔۔۔ یہ کہ آپ نے چینل بدل دیا۔۔۔ ” میں تلملائی
“اوہ۔۔۔۔ سوری سوری۔۔۔۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔۔۔ مجھے معاف کردیں” اس نے پھر سے ڈرامہ شروع کردیا۔
“جو آپکا دل کرے آپ دیکھیں۔۔۔۔۔ آپکو کوئی نہیں روکے گا” ریموٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا
اسکی ڈرامے بازی پہ مجھے شدید غصہ آگیا۔ میں نے ریموٹ اسکے ہاتھ سے لیا اور ٹیبل پہ پٹختی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔ اس نے پیچھے سے آواز دی لیکن میں نے نظرانداز کیا۔
آج کہاں سوؤں گی؟ کمرے میں داخل ہوتے ہیں میرے دل میں سب سے پہلا سوال یہی تھا۔ باہر تو سو نہیں سکتی۔ اندر سوئی تو وہ میرا مذاق اڑائے گا۔
“بینا جی۔۔۔۔ تھوڑا سا ڈھیٹ ہی تو بننا ہے۔ چپ کر کے کمرے کا کونا پکڑو اور سو جاؤ۔۔ اسی میں بھلائی ہے” میرے دل نے سرگوشی کی۔ ہاں شائد یہی ٹھیک ہے۔ میں نے الماری سے کمبل نکالا اور صوفے پہ پاؤں پھیلاکے لیٹ گئی۔ نیند نہیں آرہی تھی ،کافی دیر چھت کی طرف دیکھتی رہی اور اسکے بعد کروٹ بدل لی۔ کمرے کا جائزہ لیتے لیتے میری نظر بیڈ کے پیچھے والی دیوار پہ لگی بڑی سی پینٹنگ پہ پڑی۔۔۔ اس پینٹنگ میں دوڑتے ہوئے چھ گھوڑے تھے۔۔۔۔ گھوڑوں پہ نظر پڑتے ہی اماں کی نانی یاد آگئیں۔۔۔۔ یا خدایا۔۔۔
میں نے پینٹنگ سے نظریں ہٹا کے چھت کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ پر گھوڑے دماغ پہ سوار تھے۔ بار بار دھیان اس پینٹنگ پہ ہی جارہا تھا۔ اسکا یہی حل تھا کہ میں بیڈ پہ قبضہ جما لوں۔ اگر صوفے پہ سوئی تو پوری رات یہ گھوڑے سونے نہیں دیں گے۔ بیڈ پہ سونا بھی تو مصیبت کو دعوت دینا ہے۔ مجھے بیڈ پہ دیکھ کے کونسا وہ صوفے پہ سو جائے گا۔ ایک ہی بیڈ پہ سونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ کافی سوچ بچار کے بعد مجھے ایک ترکیب سوجھی۔ میں جا کے بیڈ کے بالکل درمیان میں لیٹ گئی۔ اسکے آنے تک اپنے آپ کو جگائے رکھنا بہت ضرور ی تھا۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔ میں نے جان کے آنکھیں بند کرلیں۔ وہ بیڈ کے پاس آ کے کھڑا ہوگیا ۔ شائد اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں ایسے بیڈ پہ لیٹ جاؤں گی۔ میں نے ہلکی سی آیک آنکھ کھولی اور اسے دیکھنے لگی۔ وہ واش روم میں گیا اور تھوڑی دیر بعد باہر نکل آیا۔ بیڈ کی بائیں جانب سے آکے اس نے لیٹنے کی کوشش کی میں جھوٹ موٹ کی کروٹ بدلتی بائیں طرف آگئی۔ وہ اٹھ کے دائیں طرف آگیا۔ میں بھی کروٹ بدل کے دائیں طرف مڑ گئی۔ یہ سلسلہ کافی دیر چلتا رہا۔
“اف ۔۔۔ کیا مصیبت ہے۔۔۔ ؟ مجھے پتا ہے تم جاگ رہی ہو اور جان بوجھ کے یہ سب کررہی ہو” وہ جھلا کے بولا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“دیکھو مجھے سونے دو۔۔۔۔ !” وہ چلایا
میں نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ کچھ دیر وہ یونہی خاموش کھڑا رہا اور میں ڈھیٹ بن کے آنکھیں بند کیے پڑی رہی۔ اس نے پھر سے بیڈ پہ آنے کی کوشش کی اور پھر سے وہی لفٹ ، رائٹ والا کھیل شروع ہوگیا۔ تھک ہار کے وہ صوفے پہ بیٹھ گیا۔
“بس کرو یار۔۔۔۔ دیکھو میں اس صوفے پہ پورا نہیں آتا۔۔۔ یہاں نیند نہیں آئے گی مجھے” اب تو اسکی آواز میں صاف تھکان محسوس ہورہی تھی۔
“مجھ سے کم ڈھیٹ نہیں ہے۔۔۔ تھک گیا ہے پھر بھی ہتھیار نہیں ڈال رہا” میں دل میں بولی
“تم ایسے نہیں مانو گی۔۔۔۔۔ ” وہ یہ کہہ کے میری طرف بڑھا اور اپنی پوری طاقت سے مجھے اوپر اٹھا لیا۔۔۔۔ میری چیخ نکلی۔۔۔
“بچاؤ۔۔۔ بچاؤ۔۔۔۔ ” میں نے چلانا شروع کردیا۔ اس نے اپنے دنوں بازوں پہ مجھے اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ اسکی نظریں میرے چہرہ پہ تھیں۔ اور ہلکی سی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پہ پھیل گئی۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں۔
“چھوڑ و مجھے۔۔۔۔۔ ” میں نے پھر سے چلانا شروع کیا
“نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔ ” اس نے جواب دیا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔؟” میں نے آنکھیں کھول کے کہا
“جو تم کررہی تھی۔۔۔ وہ کیا تھا؟ اس نے میری آنکھوں میں دیکھا
“دیکھو۔۔۔۔ ! چھوڑو مجھے ۔۔۔۔میں گر جاؤں گی” میں نے التجا کی
“گرنے تو نہیں دوں گا۔۔۔۔ ” وہ بولا
میں نے اپنا ایک ہاتھ اسکی چھاتی پہ رکھا اور اسے کی گرفت توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ میرا ہاتھ بالکل اسے دل پہ تھا۔ جو زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اسکے دل کی تیز دھڑکن نے مجھے اور پریشان کر دیا۔
“دیکھو۔۔۔ میں صوفے پہ سوجاتی ہوں۔۔۔۔ چھوڑ دو اب۔۔۔۔” میں نے ہار ماں لی
“اور اتنی دیر سے جو تنگ کیا اسکا کیا۔۔۔۔ ؟” اب وہ میری مجبوری کا فائدہ اٹھا رہا تھا
“ارے۔۔۔ ! کہہ تو رہی ہوں۔۔۔۔ صوفے پہ سو جاتی ہوں۔۔۔۔ چھوڑو” میں جھلائی
“سوری بولو پہلے۔۔۔۔ !” اس نے شرط رکھ دی
“اچھا ۔۔۔سوری۔۔۔ معاف کردو” میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
اس نے بڑے آرام سے مجھے بیڈ پہ لیٹا دیا۔
“تم یہاں سو سکتی ہو۔۔۔۔۔ میں حنا کے کمرے میں جا رہا ہوں” اسکے چہرے سے مسکراہٹ ایک پل کے لیے بھی غائب نہیں ہوئی۔
میں خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ الماری سے کمبل نکالنے لگا۔ میں آہستہ آہستہ اپنے حواس میں واپس لوٹنے لگی۔ میرے دماغ میں پھر سے بھوت نے قبضہ کیا۔۔۔
“اوہ۔۔۔۔ نو ۔۔۔اگر یہ دوسرے کمرے میں چلا گیا تو۔۔۔۔ بھوت۔۔۔۔ نو ۔۔ نو۔۔۔ مجھے اسے روکنا ہوگا”
“دیکھیں ۔۔۔ آپ یہاں اپنے بیڈ پہ سو جائیے میں صوفے پہ سو جاؤں گی”
“صوفے پہ سونا تھا تو بیڈ پہ کیوں آئی پھر۔۔۔ ؟” الماری سے کمبل نکال کے وہ میری طرف مڑا
“وہ۔۔۔ بھوت۔۔۔ ” میرے منہ سے بلا ساختہ نکلا
اس نے زور زور سے ہنسنا شروع کردیا
“تم بھوت سے ڈرتی ہو۔۔۔۔۔؟۔۔۔ ہاہاہا” وہ میرا مذاق اڑانے لگا
جواباً میں بے بس ہو کے اسے دیکھتی رہی
“اچھا ۔۔۔۔ اچھا۔۔۔ میں سمجھ گیا۔۔۔۔ کل رات بھی تم بھوت کے ڈر سے اندر آگئی تھی نا؟۔۔۔۔ میں بھی کہوں اتنا تن کے گئی تھی۔۔۔’ مجھے ڈرائنگ روم کے صوفے پہ سونے کی عادت ہے’۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں بھیگی بلی بن کے اندر آگئی۔۔۔۔۔۔ ہاہا ہا۔۔” وہ مسلسل میرا مذاق اڑا رہا تھا۔
“دیکھیے ۔۔۔۔ اس گھر میں سچ میں بھوت ہیں۔۔۔۔۔ ” میں نے اس بتایا
“ہاہاہا۔۔۔۔۔ با لکل ہیں۔۔۔ میں نے کب کہا نہیں ہیں۔۔۔۔ اور سب سے بڑا بھوت میں خود ہوں۔۔۔۔ ” وہ منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالنے لگا۔
اسے میری بات کا بالکل یقین نہیں تھا۔ میں بیڈ سے اٹھ کے صوفے پہ آگئی۔
“دیکھو۔۔۔ تمہاری اس حالت کو دیکھتے ہوئے۔ میں اس کمرے میں سونے کی قربانی دے سکتا ہوں پر۔۔۔۔۔ میری ایک شرط ہے” وہ میرے پاس آکے کھڑا ہوگیا
ایک تو سارا زمانہ مجھ سے شرطیں منوانے پہ تلا ہے
“کیسی۔۔۔۔ شرط۔۔۔؟” میں نے اسے گھورا
“فرینڈز۔۔۔؟” اس نے ہاتھ میری طرف بڑھایا
اس پہ یہ “فرینڈز “کی کیسی سنّک سوار ہے۔۔۔ میں اندر ہی اندر جل گئی۔
“اوکے فرینڈز۔۔۔۔ ” میں نے بے رخی سے جواب دیا
“ایسے کیسے۔۔۔۔ ؟” وہ بولا
“تو۔۔۔ ؟” میں نے سوالیہ نظرو ں سے اسے دیکھا
“بھئی۔۔۔۔ ہینڈ شیک کرکے ۔۔۔ فرینڈز بولو” اس نے ہاتھ پھر سے بڑھایا۔
“فرینڈز۔۔۔۔ “میں نے پھیکی سی مسکراہٹ سے اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا۔
اس نے بیڈ پہ چھلانگ لگا دی اور میں صوفے پہ پھر سے ٹانگیں پھیلا دیں
“ہیے ۔۔۔ ! لِسن ۔۔۔۔۔ تم بیڈ کی ایک سائیڈ پہ سو جاؤ میں دوسری طرف سو جاتا ہوں۔۔۔ پرامس ۔۔۔ میں تمہاری طرف نہیں آؤں گا۔۔۔۔ ” وہ سیریس ہوکے بولا
پھر سے میری نظر پینٹنگ پہ پڑی ، مجبوراً میں بھی اٹھ کے بیڈ پہ آگئی۔
“مجھے بائیں طرف سونے کے عادت ہے” میں نے اسے بتایا
“اوکے۔۔۔ نو پرابلم۔۔۔ ” وہ دائیں طرف آ گیا
“یہ سائیڈ تمہاری اور یہ سائیڈ میری۔۔۔۔ کوئی بھی بارڈر کراس نہیں کرے گا” وہ بیڈ کے درمیان میں انگلی سے لکیر کھینچتے ہوئے بولا
میں مسکرانے لگی۔
“ہیے۔۔۔ ہیے۔۔! ” وہ جلد سے اٹھ کھڑا ہوا اور الماری سے دوسرا کمبل نکال کے میری طرف بڑھایا۔۔۔
“پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ اب رات میں پھر سے شروع مت ہوجانا۔۔۔۔ ؛مجھے سردی سے بچا لو۔۔۔ میں تھر تھر کانپ رہی ہوں؛ ” وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا
“اوہ گاڈ۔۔۔ اسکا مطلب ، کل رات میں نیند میں بول رہی تھی ۔۔۔۔ ” مجھے شرمندگی ہوئی
“اس نے کمرے کی لائیٹس آف کیں اور میں نے کمبل اپنے اوپر کر لیا۔۔۔”
“سنو۔۔۔۔ ! ” اس نے سرگوشی کی۔۔۔
“پلیز۔۔۔۔ میں ایک نہائیت شریف لڑکا ہوں۔ رات کے کسی پہر میری عزت پہ ہاتھ نہ صاف کرنا۔ میں کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہوں گا” سوتے ہوئے بھی اسکا ڈرامہ چالو تھا۔
میں نے منہ پہ ہاتھ رکھ کہ اپنی ہنسی روک لی۔
صبح میری آنکھ دیر سے کھلی۔ وہ آفس کے لیے تیار ہوچکا تھا۔ میں آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔ ذکیہ کمرے میں آئی اور بولی کہ ناشتہ تیار ہے میں جلدی سے آجاؤں۔ میں نے اسے بولا کہ دس منٹ تک آتی ہوں۔
میں نے جلدی سے احتشام کے لائے ہوئے سوٹس میں سے لائیٹ گرین سوٹ نکالا اور حنا کے کمرے میں فریش ہونے چلی گئی۔
میں ڈائننگ ٹیبل پہ آئی تو اماں ، ذکیہ اور احتشام کی نظریں میرے اوپر جم گئیں
“ماشاء اللہ۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ کسی کی نظر نہ لگے۔۔۔۔” اماں بلائیں لینے لگیں۔
سب نے ناشتہ کر لیا او ر احتشام آفس کی طرف نکلنے لگا۔
“بیٹا۔۔۔۔ !” اماں نے احتشام کو روک کے بات کی
“جی۔۔۔۔!” وہ بولا
“آج ہم لوگوں نے ذرا جلدی جانا ہے۔۔۔۔ میری سمدھن کافی بیمار ہے ، اسپتال میں داخل ہے۔ اسکی طرف جانا ضروی ہے” اماں نے بتایا
“ہاں۔۔۔ ہاں کوئی بات نہیں، جب آپکا دل کرے آپ جا سکتی ہیں” احتشام نے انھیں اجازت دے دی
“بیٹا آپ بھی ذرا جلدی گھر آجانا۔۔۔۔ بچی گھر میں اکیلی ہوگی”اماں کا اشارہ میری طرف تھا
“ہاں بالکل۔۔۔ میں آجاؤں گا۔۔۔۔ گھر میں بھوت بھی تو بہت ہیں” وہ میری طرف دیکھ کے مسکرانے لگا۔ میں نے تیوری چڑھا لی
اماں اور ذکیہ کیچن میں گھس کے اپنا کام ختم کرنے لگیں۔ میں نے پھر سے ٹی وی کی جان عذاب کی۔
اماں نے دوپہر کے کھانے کے ساتھ ہی رات کے کھانا بھی بنا دیا۔ اور فریج میں رکھ کے بولیں کہ جب کھانا ہوا تو گرم کر کے کھالینا۔ میں نے سر ہلایا۔
سہ پہر تین بجے اماں اور ذکیہ چلے گئے۔ اور میں گھر میں اکیلی تھی۔ ڈر تو لگ رہا تھا لیکن دن تھا اس لیے ابھی ہمت برقرار تھی۔ قریب چار بجے میں نے اپنے لیے چائے بنائی اور لان میں آکے بیٹھ گئی۔ گیٹ پہ گاڑی کا ہارن بجا ، چچا خادم نے گیٹ کھولا۔ احتشام کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔ وہ گاڑی سے اتر کے سیدھا لان میں ہی آگیا۔
“واؤ۔۔۔۔ ٹی پارٹی چل رہی ہے۔۔۔۔؟” وہ پلا سٹک کی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا
“جی۔۔۔۔!” میں نے جواب دیا
“آپ جلدی آگئے۔۔۔۔ ؟” میں نے پوچھا
“ہاں جی۔۔۔ آنا تو تھا۔۔۔۔ میں نے سوچا ایسا نہ ہو کہ میری فرینڈ کو بھوتوں نے گھیرا ہو۔۔۔” اس نے پھر سے میرا مذاق اڑانا شروع کیا
” اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ آپ کے لیے چائے لاؤں؟ “میں نے بات بدلتے ہوئے پوچھا
“میں چائے نہیں پیتا۔۔۔۔۔۔ ” اس نے نفی میں سر ہلایا
“تو۔۔۔؟”
“کوفی۔۔۔۔ کوفی پیتا ہوں، وہ بھی سپیشل والی۔۔۔۔”
“تو کوفی لے آتی ہوں۔۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
“تمیں کوفی بنانا آتا ہے کیا؟” اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا۔
میں نے اسے گھورا
“ارے میرا مطلب۔۔۔۔ وہاں فیصل آباد میں لوگ کوفی پیتے ہیں۔۔۔۔ ؟” وہ سر کھجاتے ہوئے بولا
“آپ فریش ہو جائیں ۔۔۔ میں کوفی لاتی ہوں۔۔۔ ” میں اٹھ کھڑی ہوئی
“اوکے۔۔۔۔ تو آج بینا احتشام کے ہاتھ کی کوفی پی کے دیکھتے ہیں”
مین کیچن کی طرف مڑی اور وہ کمرے کی طرف چلا گیا۔
وہ فریش ہو کے کمرے سے نکلا تو میں ٹی وی لاؤنج میں اسکے لیے کوفی کا مگ لے آئی۔
“اووووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمپریسوو۔۔۔ ” پہلے ہی سِپ پہ بولا
تھوڑی دیر تک ہم یونہی بیٹھے رہے۔۔۔
“تم زیادہ نہیں بولتی ہو۔۔۔۔ کیوں؟” وہ میری طرف دیکھ کے بولا
“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ کھانا گرم کروں” میں نے اسکی بات موڑ دی
“آج کھانے کا موڈ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ ڈو یو لائیک پِزا۔۔۔۔؟” اس نے مجھ سے پوچھا
“جی۔۔۔ !” میں نے جواب دیا
“گڈ۔۔۔۔ !” اس نے اپنے موبائل سے نمبر ڈائل کیا اور پِزا کی ہوم ڈلیوری کا آرڈر دے دیا
تھوڑی دیر میں پِزا گھر پہنچ گیا۔ پِزا کھانے کے بعد وہ جم جانے کے لیے تیار ہوگیا ۔
“میں بھی ساتھ چلوں گی۔۔۔۔ ” میں کھڑی ہوگئی
“تم جم کیا کرنے آؤ گی۔۔۔۔ ؟” اس نے حیرانی سے سوال کیا
“مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
“کیا شاپنگ کرنی ہے مجھے بتا دو میں لے آؤں گا۔۔۔۔” اس نے کہا
“نہیں ۔۔۔ جو بھی لینا ہے میں خود لوں گی” میں نے ضد ٹھان لی
“اچھا ۔۔۔ بابا۔۔۔ جِم کینسل۔۔۔۔ شاپنگ پہ چلتے ہیں” اس نے ہار مان لی
ہم دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے
“تم بولتی کیوں نہیں ہو۔۔۔۔؟ لڑکیاں تو اتنی باتیں کرتی ہیں۔۔” وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بولا
“بولتی تو ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
وہ میری طرف دیکھ کے مسکرایا
“ایک بات پوچھوں۔۔۔؟” میں نے سوال کیا
“پوچھو۔۔۔۔” اس نے جواب دیا
“اس شادی کے لیے آپ نے کیا قربانی دی۔۔۔۔؟” میری نظریں اسکے چہرے پہ تھیں
“قربانی۔۔۔۔۔ ؟ کوئی بھی نہیں۔۔۔ ” اس نے ایک آہ بھر کے جواب دیا
“میں نے سپنے کھوئے ہیں اور زندگی بھی۔۔۔۔۔ آپکے یہ الفاظ اکثر میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔۔۔۔ اور وہ سرخی مائل آنکھیں۔۔۔۔ صاف صاف بتا رہی تھیں کہ آپ نے اس شادی کے لیے کچھ بہت قیمتی کھویا ہے۔۔۔۔ ” میں نے اپنے دل کی بات کر دی
جیسے ہی میری بات ختم ہوئی، اس نے سنسان سڑک کے بالکل درمیان بریک لگا دی۔ وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ پھر سے اسکی آنکھوں کا بدلتا رنگ دیکھ کے میں بوکھلا گئی۔۔۔
میرے جسم پہ کپکپی طاری ہوئی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *