Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771 Be Jor by Zoya Hassan Episode04
Rate this Novel
Be Jor by Zoya Hassan Episode01 Be Jor by Zoya Hassan Episode02 Be Jor by Zoya Hassan Episode03 Be Jor by Zoya Hassan Episode04 (Watching)Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01) Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02) Be Jor by Zoya Hassan Episode06 Be Jor by Zoya Hassan Episode07 Be Jor by Zoya Hassan Episode08 Be Jor by Zoya Hassan Episode09 Be Jor by Zoya Hassan Episode10 Be Jor by Zoya Hassan Last Episode
Be Jor by Zoya Hassan Episode04
Be Jor by Zoya Hassan Episode04
“اوئے۔۔۔ کہیں تجھ پہ اس پاگل لڑکی کا اثر تو نہیں ہوگیا۔۔۔۔۔ ؟” وہ سرگوشی کرنے لگا
اب تو حد ہی ہوگئی تھی ، وہ مجھے پاگل سمجھتا ہے۔۔۔۔ میں غصے سے پھنکارتی پیچھے مڑی۔۔۔۔
اس بار تو اس کے چھکّے چھوٹ گئے۔۔۔۔۔۔۔ اسکی بڑی بڑی آنکھیں اور زیادہ پھیل گئیں۔
“نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ ذکیہ۔۔۔۔ اماں۔۔۔۔ میں۔۔۔ ” اسکی تو سچ مچ ہوائیاں اڑ گئیں۔
اندر ہی اندر مجھے اسکی یہ حالت دیکھ کہ بہت مزہ آرہا تھا لیکن باہر سے میں شدید غصے کی ایکٹنگ کرتی رہی اور بنا کچھ بولے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی رہی۔۔۔۔ وہ جلدی سے پیچھے مڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے کیچن سے باہر نکل گیا۔ میری ہنسی نکل گئی۔۔۔۔۔
“اماں۔۔۔ جب سب ناشتہ کرلیں تو مجھے بلا لینا ۔۔۔۔۔ ” اماں کو سامنے سے آتا دیکھ کے وہ یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں گھس گیا۔
“لو۔۔۔ جسے میں شیر سمجھی تھی وہ تو چوہا نکلا۔۔۔۔ ” میں دل ہی دل میں مسکرائی
اماں کیچن میں ناشتہ بنانے لگیں اور میں ٹی وی لاؤنج میں چلی گئی۔ ٹی وی آن کیا۔۔۔
“آئندہ چوبیس گھنٹوں میں لاہور سمیت پنجاب کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔۔۔۔” نیوز چینل پہ موسم کی پیشن گوئی جاری تھی۔
میں ایک کے بعد ایک چینل بدلنے لگی۔ اور ایک کے بعد ایک نیوز چینلز سامنے آتے رہے
“اف ۔۔۔۔۔ پاکستانی کیبل پہ تو بس نیوز چینلز کا ہی راج ہے۔ اور ایک سے بڑھ کے ایک بھیانک خبریں نشر ہوتی رہیتی ہیں۔۔۔۔ سیاسی پارٹیوں کی بیان باز ی یا پھر قتل و غارت اور اغوا کی خبریں۔ اچھی خبر سنے تو عرصہ ہی ہوگیا ہے” میں نے اپنے آپ سے ہی تبصرہ شروع کردیا۔۔۔
“بی بی۔۔۔۔ !” ذکیہ کی آواز پر میں نے ٹی وی سے دھیان ہٹا کر اسکی طرف دیکھا۔ وہ ہاتھ میں چائے کا کپ لیے کھڑی تھی۔ میں نے اسکے ہاتھ سے چائے لے لی۔ وہ واپس پلٹی
“سنو۔۔۔ !” میں نے اسے آواز دی
” جی ۔۔۔۔! ” وہ میری طرف مڑی
“پاس میں کوئی مارکیٹ ہے کیا؟” میں نے پوچھا
“ہاں جی۔۔۔ کچھ منگانا ہے کیا۔۔۔۔ ؟ بتا دیں خادم چچا لے آئیں گے”
“نہیں ۔۔۔ وہ ۔۔ میں خود ہی جاؤں گی۔ ۔۔۔” میں نے جواب دیا
“پر لینا کیا ہے۔۔۔۔ ؟” اس نے پھر سے سوال کیا
“وہ میں سوچ رہی تھی کچھ سوٹ لے لیتی ہوں۔۔۔۔ ” میں نے سر کھجایا
“اچھا۔۔۔۔ !” وہ یہ کہہ کے واپس چلی گئی
“بینا ۔۔۔ جی۔۔۔۔ ایک ٹکہ جیب میں نہیں ہے، سوٹ کہاں سے لو گی؟ یہ اپنا گھر نہیں ہے ، جو امی کی الماری سے پیسے نکالے اور شاپنگ کرنے نکل گئے ” مجھے جلد ہی اپنے کنگال ہونے کا شدت سے احساس ہوا۔ اس وقت تو دماغ کام ہی نہیں کررہا تھا۔ کم از کم اپنا ہینڈ بیگ ہی ساتھ لے آتی، کچھ پیسے تو پڑے تھے اس میں۔۔۔ موبائل فون بھی اسی میں تھا۔ کہاں آ کے ان اجنبی لوگوں میں پھنس گئی ہوں۔۔۔۔ سوچ سوچ کے میٹھی چائے بھی کڑوی لگنے لگی۔ میں نے چائے ٹیبل پہ رکھ دی۔ کچھ دیر یونہی ٹی وی چینلز آگے پیچھے کرتی رہی۔ کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا۔
“بیٹا۔۔۔۔۔ ناشتہ لگ گیا ہے۔ آجاؤ۔۔۔۔ ” اماں میرے پاس آکے بولیں
میں نے ٹی وی بند کیا اور اماں کے پیچھے پیچھے ڈائننگ ٹیبل کی طرف چل پڑی۔
ذکیہ ٹیبل پہ ناشتہ لگا رہی تھی۔ میں تسلی سے بیٹھ گئی۔ مجھے پتا تھا کہ وہ میرے بعد ہی یہاں آکے ناشتہ کرے گا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میرا اطمینان پریشانی میں بدل گیا۔ وہ اماں کے پیچھے پیچھے اسی طرف بڑھ رہا تھا۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔۔
“بینا۔۔۔ سنبھال خود کو۔۔۔ یہ وہی چوہا ہے جسے تونے ڈرا کے بھگایا تھا” میں اپنی ہمت بڑھانے لگی۔ وہ میرے سامنے والی کرسی پہ آکے بیٹھ گیا۔ ہم دونوں ہی ایکدوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔
“اماں۔۔۔ آپ کھڑی کیوں ہیں۔۔۔ بیٹھیں نا۔۔ ناشتہ کریں” وہ اماں کی طرف دیکھ کے بولا
“نہیں بیٹا آپ لوگ ناشتہ کرو ۔۔۔ میں اور ذکیہ بعد میں کر لیں گے” اماں نے جواب دیا
“آپ جانتی ہیں نہ میں آپکے بنا ناشتہ نہیں کرتا۔۔۔۔ آپ نہیں کریں گی تو مجھے بھی نہیں کرنا” وہ چھوٹے بچوں کی طرح ضد کرنے لگا
“اچھا ۔۔۔ بیٹا۔۔۔ !” اماں نے ہار مان لی اور بیٹھ گئیں۔ اس نے ذکیہ کو اشارہ کیا ا س نے بھی اماں کے ساتھ والی کرسی پکڑ لی۔
مجھے یقین نہیں ہورہا تھا اس آدمی کا گھر کے نوکروں کے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ ہے۔
“گر یہ خود اتنا اچھا ہے۔ تو یقیناً اسکے ماں باپ بھی اچھے ہوں ۔ پھر کیسے ان لوگوں نے میرے اور میرے گھر والوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کیا۔۔۔ ؟ ” میں خود سے سوال کرنے لگی۔
“بچے۔۔۔۔ آپ بھی لو نہ۔۔۔ “اماں نے مجھے سوچوں میں گم دیکھا تو بولیں
“جی۔۔۔۔ !” میں نے سر ہلایا اور ایک پراٹھا اپنی پلیٹ میں رکھ دیا۔ وہ ابھی تک مجھ سے نظریں چرا رہا تھا۔ جلدی جلدی ناشتہ ختم کر کے وہ بولا
“اچھا ۔۔۔ اماں ۔۔ اب میں نکلتا ہوں۔ آفس سے دیر ہورہی ہے” وہ اٹھ کھڑا ہوا
“بیٹا۔۔۔ کل ہی تو شادی ہوئی ہے تمہاری۔۔۔ کچھ دن آفس سے چھٹی کرلو۔۔۔ ” اماں بولیں
“شادی۔۔۔۔۔۔ !” پہلی بار میں نے اسکی نظریں اپنے چہرے پہ محسوس کیں۔
“آفس میں آجکل کام بہت زیادہ ہے۔ چھٹی نہیں کر سکتا۔۔۔ آپکو پتا ہے سٹاف کے سر پہ کھڑے ہو کے کام کروانا پڑتا ہے، ورنہ کوئی کام کو سیریسلی نہیں لیتا” وہ وضاحت دینے لگا
“پھر بھی ۔۔۔۔ بچے۔۔۔ !۔۔۔ اچھا خیر آپ بہتر سمجھتے ہو” اماں بھی کھڑی ہوئیں اور ذکیہ کے ساتھ ناشتے کی پلیٹیں سمیٹنے لگیں۔ میں اٹھ کے ٹی وی لاؤنج کی طرف چل پڑی
“بیٹا۔۔۔ آپ دونوں اگر برا نہ مانیں تو ایک بات کرنی ہے” اماں نے ہم دونوں سے مخاطب ہوئیں
“جی ۔۔۔ جی ۔۔ بولیں آپ۔۔۔۔ !” وہ کہنے لگا۔ میں نے بھی سر ہلایا
“بچے۔۔۔۔ میں ایک نوکر ہوں۔۔۔ میری اتنی مجال نہیں کہ آپ لوگوں کو کچھ سمجھاؤں” انھوں نے سر جھکا لیا
“اماں۔۔۔ آپ بلا جھجک بولیں۔۔۔ ” وہ اماں کی طرف بڑھا اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا
“بیٹا۔۔۔ بڑی ہونے کے ناتے بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ یہ شادی جن حالات میں ہوئی، جیسے بھی ہوئی۔۔۔ اس سے ہم سب واقف ہیں۔ لیکن اب ہوگئی ہے۔ اللہ اور رسولﷺ کا نام لے کے تم دونوں نے ایکدوسرے کو نکاح میں قبول کیا ہے۔۔۔ میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ پچھلا سب بھول کے آگے بڑھو۔۔۔ اس رشتے کو مظبوط کرو” انکی نظریں ہم دونوں پہ جمی تھیں۔۔۔ لیکن جواباً ہم خاموشی سے سر جھکائے کھڑے رہے۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھی
“آج صبح جب ذکیہ اور میں آئے تو بی بی باہر صوفے پہ سو رہی تھیں۔ میری اماں کہا کرتی تھیں کہ جس گھر میں میاں بیوی الگ الگ کمروں میں سوتے ہوں وہاں خدا کی رحمت کبھی نازل نہیں ہوتی۔۔۔۔ تم دونوں جوان ہو۔۔۔ سب سمجھتے ہو۔۔۔ پھر بھی ایسی نادانی کیوں کر رہے ہو ” جب ہماری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو وہ کیچن کی طرف چل پڑیں۔ ہم دونوں نے ایکدوسرے کی طرف دیکھا
“اماں۔۔۔ ! جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے” وہ بولا
اماں اسکی بات سننے رک گئیں
“میں نے کل رات انھیں اندر سونے کا کہا اتھا لیکن یہ بولیں کہ ڈرائنگ روم کے صوفے۔۔۔۔۔ ” وہ میری پول کھولنے کو بالکل تیار تھا۔
“ہاں ۔۔۔ ہاں میں نے ہی کہا تھا کہ اندر ذرا گرمی لگ رہی ہے تو میں ڈارئنگ روم میں لیٹ جاتی ہوں۔۔۔ ” میں نے جلدی سے بات موڑی
“نہیں ۔۔۔۔ آپ نے وہ عادت کا۔۔۔۔۔ ” اس نے میرا پوائنٹ پکڑا لیا تھا
“عادت۔۔۔ ؟کونسی عادت۔۔۔۔۔؟ میری تو کوئی عادت نہیں ہے ۔۔۔ میں تو ہر جگہ سو جاتی ہوں” میں پھر سے ہڑبڑا گئی
اب وہ میری حالت سے لطف اندوز ہونے لگا۔ میں نے اسے گھورا تو وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ اماں کیچن میں چل دیں اور میں وہیں سوچوں میں ڈوب گئی۔
“اماں ۔۔۔ کچھ چاہیے تو بتا دیں۔۔۔” وہ باہر نکلتے ہوئے بولا
“نہیں بیٹا۔۔۔۔۔ مجھے تو کچھ نہیں چاہیے۔۔ اپنی بیوی سے پوچھ لو ۔۔۔ اسے شائد کچھ چاہیے ہوگا” اماں نے کیچن سے ہی جواب دیا
اس نے آنکھوں کے اشارے سے مجھ سے پوچھا پر میں نے نفی میں سر ہلادیا۔ وہ چلا گیا۔
میں واپس ٹی وی لاؤنج میں آکے بیٹھ گئی۔ میرے دماغ میں یکے بعد دیگرے کئی سوال تھے۔ ابھی تو بس ایک ہی رات بیتی تھی۔۔۔۔ اس لیے اس شخص کے بارے میں کوئی بھی اندازہ لگانا بہت مشکل تھا۔
“کیا مجھے پوری زندگی ایسے ہی کاٹنی پڑے گی۔۔۔۔؟” یہ سوال دماغ میں اٹک سا گیا تھا
میں ابھی تک اسکی فیملی سے واقف نہیں ہوں۔ وہ کام کیا کرتا ہے؟ نکاح کے بعد سیدھا یہاں پہ کیوں لے کے آیا۔۔۔۔ ایسے کئی باتیں تھیں جو میرے دماغ میں ڈھول کی طرح بج رہی تھیں۔
“! اماں سے پوچھتی ہوں ۔۔۔۔ انھیں تو سب پتا ہوگا۔۔۔۔ ” میرے دماغ نے فوراً حل نکالا۔ جیسے موقع ملے گا ان سے پورا انٹرویوو لوں گی۔ مجھے تسلی ہوئی کہ کچھ تو اصلیت کھلے گی۔
کیچن کے کاموں سے فارغ ہو کے اماں میرے ساتھ آکے بیٹھ گئیں۔ ذکیہ اب بھی صفائی میں لگی تھی۔
“آپکو کتنا عرصہ ہوگیا ہے یہاں کام کرتے کرتے۔۔۔۔۔ ؟” میں نے بات شروع کی
“بچے۔۔۔۔ ! کم از کم بیس سال ہوگئے ہیں۔ ۔۔ ” انھوں نے سوچتے ہوئے جواب دیا
“پھر تو آپ انکے پورے خاندان سے واقف ہوں گی۔۔۔۔ ” میں نے مزید پوچھا
“پورا خاندان تو نہیں البتہ ۔۔۔۔ کچھ لوگوں کو تو ضرور جانتی ہوں” وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں
“اچھا۔۔۔۔۔ ! کتنے بہن بھائی ہیں ۔۔۔۔؟ ” میں نے پوچھا
“کون۔۔۔ ؟ تمہارے خاوند کے۔۔؟” وہ سوالیہ ں نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں
میں نے سر ہلایا
“ارے بیٹا۔۔۔۔ یہ بیچارہ تو اکیلا اکلوتا ہی ہے۔۔۔۔ اورکوئی بہن بھائی نہیں ہیں” وہ اداس ہو کے بولیں۔ پر ان کے اس جواب نے مجھے حیرت میں ضرور ڈال دیا۔
“اماں۔۔۔۔ تو حنا کون ہے؟ میرا مطلب حنا انکی کیا لگتی ہے؟” میرے دماغ کے گھوڑے دوڑنا شروع ہوئے
“حنا۔۔۔! حنا بی بی تو انکی تایا زاد ہے۔۔۔۔ ۔۔۔ بیٹا میں ابھی آتی ہوں۔ ۔۔ ذرا ذکیہ کے ذمے ایک کام لگا دوں” یہ کہہ کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں
میں پھر سے سوالوں کے سمندر میں ڈوب گئی۔ اگر حنا تایا زاد ہے تو اس نے حنا کے لیے اتنی بڑی قربانی کیوں دی؟ جوڑ توڑ کرکے میں نے بس یہی اندازہ لگایا کہ ہوسکتا ہے حنا کا کوئی سگّا بھائی ہو ہی نہ۔۔۔ اس لیے یہ ذمہ داری اسکے سر تھونپ دی گئی۔ مزید دماغ کھپانے سے اچھا ہے اماں سے ہی پوچھ لوں کہ آخر یہ ماجرہ کیا ہے۔ کافی دیر تک جب اماں واپس نہیں لوٹیں تو میں اٹھ کے انکے پیچھے باہر آ گئی۔
میں نے باہر قدم رکھا تو تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی،سردیوں کا موسم چل رہا تھا۔ دھوپ کی کرنیں بدن پہ پڑتے ہی سکون سا آنے لگا۔ میں چند قدم آگے بڑھی تو لان سے اماں اور ذکیہ کی آوازیں آنے لگیں۔ میں اسی طرف چل پڑی۔ ان دونوں کی آپس میں بحث چل رہی تھی۔ اماں ذکیہ کو ڈانٹ رہی تھیں۔
“کیا ہوا۔۔۔۔ ؟ بے چاری کو کیوں ڈانٹ رہی ہیں؟” میں نے اماں سے سوال کیا
“ارے بیٹا۔۔۔۔ تین ہفتوں سے اسے کہہ رہی ہوں کہ گھر کی پچھلی طرف کی صفائی کرلے ۔ پر اس پہ میری کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا” وہ غصے میں بولیں
اماں نے بتایا کہ گھر کی پچھلی سائیڈ پہ سرونٹ کوارٹر بنے ہوئے ہیں۔ اور ایک عرصے سے بند پڑے ہیں۔ صفائی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پیپل کے خشک پتوں اور گرد کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ پرندوں نے دیواروں اور روشن دانوں میں گھونسلے بنا لیے ہیں۔
میرے اندازے سے کم سے کم ایک کنال پہ محیط گھر تھا۔ اکیلی ذکیہ اس پورے گھر کو صاف نہیں رکھ سکتی ۔ مزید نوکروں کی ضرورت تھی۔
“اماں۔۔۔ ! وہ بے چاری کس کس کام کو دیکھے۔ اندر کی صفائی، باہر کی صفائی ۔۔۔ چھوٹے موٹے اور کام۔۔۔۔ یہ ایک انسان کے بس کی بات نہیں ہے” میں نے ذکیہ کی طرف داری کی
“میں جانتی ہوں ۔۔۔ میں کونسا کہہ رہی ہوں کہ ہر روز وہاں کی صفائی کرے۔ لیکن ہفتے دس دن میں ایک آدھ بار تو کر سکتی ہے نا۔۔۔۔ ” اماں نے جواب دیا
“جارہی ہوں۔۔۔۔۔ جارہی ہوں” ذکیہ غصے سے تلملاتی ہاتھ میں بڑا سا جھاڑو تھامے چل دی
میں نے اماں سے کہاں کہ تھوڑی دیر لان میں بیٹھتے ہیں۔ دھوپ اچھی نکلی ہوئی ہے۔ وہ پلاسٹک کی دو کرسیاں گھیسٹی ہوئی لان میں لے آئیں۔ ساتھ ہی دوپہر میں بنانے کے لیے پھول گوبھی بھی لے آئیں۔ کرسی پہ بیٹھتے ہی سبزی کاٹنا شروع کردی۔
“اماں۔۔۔۔ !۔۔۔ ” میں نے انھیں اپنی طرف متوجہ کیا
“جی۔۔۔ ! بیٹا” وہ ہاتھ روک کے میری طرف دیکھنے لگیں
“حنا کے بھائی بہن نہیں ہیں کیا؟ ۔۔۔۔ میرا مطلب کہ حنا یہاں رہیتی تھی تو اسکی فیملی؟” میں نے مزید واضح کیا
“حنا پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔۔۔ ماں باپ بھی سلامت ہیں۔۔۔ یہاں وہ پڑھنے کے لیے آئی تھی۔۔۔۔ ” اماں کے اس جواب نے پھر سے مجھے الجھن میں ڈال دیا
“تو کیا سارے بھائی شادی شدہ ہیں۔۔۔” میں نے پھر سے اندازہ لگایا
“حنا کا بڑا بھائی شادی شدہ ہے باقی سب کنوارےہیں ۔۔۔۔۔ ” اماں نے جواب دیا
میں مزید الجھ گئی۔ یہ ماجرہ کیا ہے۔۔۔ ؟ اماں سے کھل کے کیسے پوچھوں؟ میں اسی سوچ بچار میں تھی۔
ذکیہ کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی چیخ جیسے ہی ہمارے کانوں میں پڑی۔ اماں کے ہاتھ سے سبزی والی ٹوکری چھوٹ گئی اور میں کرسی سے گرتے گرتے بچی۔ اماں اور میں ذکیہ کی طرف دوڑے۔ سامنے ہی خادم چچا اسکے ہاتھ سے پکڑ ے ہماری طرف لے کے آرہے تھے۔ میرادل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ خدایا خیر۔۔۔۔
“اماں ۔۔۔ میں نے کہا تھا نہ میں وہاں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔ وہاں بھوت ہیں۔۔۔” وہ روتے ہوئے بولی۔
بھوت کا نام سنتے ہیں۔۔۔ میری ہوائیاں اڑ گئیں۔
“یہ دیکھیں ۔۔۔ ” اس نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا۔
اماں اور میں آگے بڑھ کے دیکھنے لگے۔ اوہ میرے خدایا۔۔۔۔ ! میرے رونگٹے کھڑے ہوئے۔ ذکیہ کے چہرے پہ خون کے قطروں کے نشان تھے۔
اسکا مطلب کل رات مجھ پہ بھوت نے ہی چھلانگ لگائی تھی۔ وہ تو شکر ہے میں کمرے میں چلی گئی۔ ورنہ تو صبح میری بھی لاش ملتی۔۔۔۔ میں اور زیادہ خوفزدہ ہوگئی
“اماں۔۔۔۔ کئی دن سے میں بھی دیکھ رہا ہوں۔۔۔ اس سائیڈسے رات میں کافی شور آتا ہے، بچی ٹھیک کہتی ہے۔۔۔ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے ” خادم چچا نے ڈر میں مزید اضافہ کیا۔
“تو۔۔ آپ نے جا کے دیکھا نہیں۔۔۔ وہاں ہے کیا۔۔۔؟” میں خادم چچا سے مخاطب ہوئی۔ اماں اپنے دوپٹے سے ذکیہ کا چہرہ صاف کرنے لگیں۔
“بی بی۔۔۔ ! ایک تو میری نظر کمزور ہے، رات میں ٹھیک طرح سے دیکھائی نہیں دیتا، اب اس عمر میں بھوتوں کا مقابلہ کیسے کروں گا۔ شام ہوتے ہی میں تو اپنے کیبن میں دبک کے بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔ ” خادم چچا تو ہم سے بھی زیادہ ڈرپوک نکلے
اماں اور میں ذکیہ کو لے کے اندر آگئے۔ ڈرائنگ روم کے صوفے پہ بیٹھتے ہی میں نے اماں سے پوچھا
“اماں۔۔۔ بھوت سچ مچ ہوتے ہیں کیا۔۔۔۔؟”
“ہاں ۔۔۔ بچے۔۔۔ ! وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے۔۔۔ ہر جگہ ہوتے ہیں” اماں نے جواب دیا
ذکیہ اور میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے ایکدوسرے کو دیکھنے لگے۔
“ذکیہ۔۔۔۔ ! تم نے بھوت کی شکل دیکھی تھی؟” میں نے ذکیہ سے پوچھا
“نہیں بی بی۔۔۔۔ بس میں پیپل کے نیچے جھاڑو سے پتے صاف کر رہی تھی۔ ایکدم سے میری آنکھ پہ کچھ گرا۔ میں نے ہاتھ سے صاف کیا تو وہ خون تھا۔ بس میں نے پھر دوڑ لگا دی” وہ بد حواسی میں سارا قصہ سنانے لگی۔
“اماں۔۔۔ ! آپ نے بھوت دیکھا کبھی۔۔۔؟” میں نےا ماں سے پوچھا، وہ پھر سے سبزی کاٹنے میں لگی تھیں
“نا ۔۔۔ بیٹا۔۔۔ میں نے نہیں دیکھا۔۔۔ ایسے جھوٹ کیوں بولوں۔۔۔ لیکن میری نانی نے بھوت کا ہاتھ ضرور دیکھا تھا۔۔۔۔ ” وہ سر ہلاتے ہوئے بولیں
“بھوت کا ہاتھ۔۔۔۔؟” میں نے حیرانی سے پوچھا۔
“ہاں۔۔۔۔ بچے۔۔۔ اللہ بخشے میری اماں بتاتی تھیں کہ میری نانی کا نوّاں مہینہ چلا رہا تھا۔ ان دنون سردیوں کی کالی راتیں تھیں۔ میری نانی کی چار پائی روشن دان کے بالکل نیچے ہوا کرتی تھی۔ گاؤں میں ان دنوں بجلی نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے دیے اور لالٹین سے ہی کام چلتا تھا۔ ایک رات نانی دیا بجھا کے اپنی چار پائی پہ لیٹیں تو انھیں باہر سے گھوڑوں کے دوڑنے کے آوازیں سنائی دیں۔ کافی دیر آوازیں آتی رہیں پھر خاموشی ہوگئی۔ نانی کی بھی آنکھ لگ گئی۔ پر جیسے انکی آنکھ لگی، انکے پیٹ پہ گدگدی ہونے لگی۔ وہ ڈر کے اٹھ بیٹھیں۔ ادھر ادھر دیکھا تو سب سو رہے تھے۔ یہ سلسلہ کئی راتوں تک چلتا رہا۔ جس رات میری بڑی خالہ پیدا ہوئی، پتا نہیں کونسا پہر چل رہا تھا، پھر سے گھوڑوں کا شور سنائی دیا ، نانی نے دیکھا ایک کالے رنگ بھیانک سا ہاتھ۔۔ جس کے بڑے بڑے ناخن تھے، روشن دان سے ہوتا ہوا سیدھا میری خالہ کی طرف بڑھنے لگا۔ نانی نے خالہ کو جلدی سے وہاں سے ہٹایا اور انکی جگہ گڑیا رکھ دی۔ پورے سات دن تک وہ ہاتھ روشن دان سے آتا رہا، اور میری نانی بھوت کے ہاتھ میں گڑیا تھما دیتیں ” اماں کی نانی کا قصہ نازیہ کی دادی سے کافی ملتا جلتا تھا۔
“تو آپکی خالہ بچ گئیں ۔۔۔۔؟” میں نے پوچھا
“نا۔۔۔ بیٹا۔۔۔ تین سال کی عمر میں ہی بے چاری اللہ کو پیاری ہوگئی، کہتے ہیں یہ بھوت ایک بار جس پہ نشانی ڈال دیں اسکو لے کے ہی جاتے ہیں” اماں نے سبزی کاٹ لی اور ٹوکری اٹھا کے کیچن کی طر ف چل پڑیں۔ ذکیہ اور میں دیدے پھاڑے ایکدوسرے کو دیکھتے رہے۔
میرا ارادہ تھا کہ آج رات میں حنا کے کمرے میں ڈیرے ڈال دوں گی۔ لیکن اس واقعے کےبعد تو ایسا کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ دوپہر سے شام ہوگئی ، میرا خوف ابھی بھی برقرار تھا کہ رات کیسے کٹے گی۔
میں ٹی وی لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔ گاڑی کا ہارن بجا۔ چند منٹوں بعد دونوں ہاتھوں میں بڑے بڑے شاپنگ بیگ اٹھائے جناب حاضر ہوئے۔
“ذکیہ۔۔۔ !۔۔۔ ذکیہ” آتے ہی آوازیں دینے لگا۔
ذکیہ بھاگتی ہوئی اس کے پا س پہنچی اور ہاتھوں سے شاپنگ بیگ پکڑے۔ میں نے اس پہ بالکل کوئی دھیان نہ دیا، بس ٹی وی دیکھتی رہی۔
تھوڑی دیر بعد ذکیہ میرے پاس آکے کھڑی ہوگئی
“یہ آپکے لیے ہیں۔۔۔۔ !” دو شاپنگ بیگ میری طرف بڑھاتے ہوئے وہ بولی
“یہ کیا ہے۔۔۔۔؟” میں نے پوچھا
“خود ہی دیکھ لیں۔۔۔۔۔” وہ بولی
“مجھے نہیں چاہیے۔۔۔۔۔ ” میں نے ناگواری سے اسے جواب دیا
وہ چلتا ہوا ہمارے پاس آگیا۔ ذکیہ سے شاپنگ بیگ پکڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیے۔ اور خود ساتھ والے صوفے پہ بیٹھ گیا۔ میری نظریں ٹی وی پہ تھیں لیکن پورا دھیان اسکی طرف تھا۔
“ذکیہ۔۔۔ ! جاؤ میرے لیے ایک کوفی لے آؤ” ذکیہ وہاں سے چلی گئی۔
میں نے ابھی تک ٹی وی سے نگاہ نہیں ہٹائی۔ وہ کھنکھارا۔۔۔۔ میں نے پھر بھی دھیان نہیں دیا۔ وہ اپنے صوفے اس اٹھ کے میرے پاس آکے کھڑا ہوگیا۔ میرے دل کی دھڑکن تیزہوئی۔۔۔۔ خدایا ۔۔۔ یہ آدمی چاہتا کیا ہے؟ پہلی بار میری نظریں اسکی طر ف اٹھیں
“ہائے۔۔۔۔ دس از احتشام احمد۔۔۔۔۔ !” اس نے ہاتھ میری طرف بڑھایا
میں نے اسے گھورا تو اس نے ہاتھ پیچھے کرلیا۔” احتشام احمد۔۔۔۔ کیسے بھول سکتی ہوں اس نام کو۔۔۔۔ تین بار ‘قبول ہے’ بولا ہے ۔۔۔۔ ” میں نے اپنے آپ سے سرگوشی کی
“یور سیلف ۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ ؟” وہ کھڑے کھڑے پھر سے بولا
میں نے کوئی جواب نہیں دیا
“بیڈ۔۔ مینرز۔۔۔ ” وہ ناگواری سے بولا
مجھے بھی لگا کہ اگر وہ بات کرنے کی کوشش کررہا ہے تو ایسے بی ہیوو کرنا اچھی بات نہیں ہے۔
“بینا اشفاق۔۔۔۔ ” میں نے اسکی طرف دیکھ کے جواب دیا
“بینا۔۔۔۔ بینا اشفاق۔۔۔؟ پر نکاح تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ واپس اپنے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔ مجھے اسکی حیرانی سمجھ آگئی۔
“بینش اشفاق۔۔۔۔۔۔۔ اور میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔” مجھے صبح والا قصہ یاد آگیا۔ میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا اور وہاں سے اٹھ کے جانے لگی۔۔۔۔
“ایکسکیوز می۔۔۔۔ !” اس کی آواز پہ میں رکی اور پیچھے مڑے بنا ہی بولی
“جی۔۔۔۔ ؟”
“پلیز کوریکٹ یور نیم۔۔۔۔۔۔ اٹس بینش احتشام احمد۔۔۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔ بینا احتشام۔۔۔۔ جو بھی آپکو سوٹ کرے۔۔۔۔۔ ” میں نے مڑ کے دیکھا تو اسکے چہرے پہ معنی خیز ہنسی تھی۔۔۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے میں آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔
“یہ تو لیتی جائیں۔۔۔۔۔ آپ کے لیے اتنی مشقت کر کے لایا ہوں” اسکا اشارہ شاپنگ بیگز کی طرف تھا۔
میں نے اسے کوئی جواب دیا اور نہ ہی پیچھے مڑ کے دیکھا۔
