Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771 Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01)
Rate this Novel
Be Jor by Zoya Hassan Episode01 Be Jor by Zoya Hassan Episode02 Be Jor by Zoya Hassan Episode04 Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01) (Watching)Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02) Be Jor by Zoya Hassan Episode06 Be Jor by Zoya Hassan Episode07 Be Jor by Zoya Hassan Episode08 Be Jor by Zoya Hassan Episode09 Be Jor by Zoya Hassan Episode10 Be Jor by Zoya Hassan Last Episode Be Jor by Zoya Hassan Episode03
Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01)
Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01)
“پلیز کوریکٹ یور نیم۔۔۔۔۔۔ اٹس بینش احتشام احمد۔۔۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔ بینا احتشام۔۔۔۔ جو بھی آپکو سوٹ کرے۔۔۔۔۔ ” میں نے مڑ کے دیکھا تو اسکے چہرے پہ معنی خیز ہنسی تھی۔۔۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے میں آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔
“یہ تو لیتی جائیں۔۔۔۔۔ آپ کے لیے اتنی مشقت کر کے لایا ہوں” اسکا اشارہ شاپنگ بیگز کی طرف تھا۔
میں نے اسے کوئی جواب دیا اور نہ ہی پیچھے مڑ کے دیکھا۔
میں کیچن میں گئی اور اماں سے پوچھا انھیں میری مدد کی ضرورت ہے تو بتائیں،
“نہیں بیٹا۔۔۔ میں نے سب کچھ کر لیا ہے، تم آرام سے جا کے بیٹھو” وہ بولیں
آرام سے کیسے جا کے بیٹھوں؟ ایک ہی تو جگہ ہے اس گھر میں جہاں بیٹھ کے ٹائم پاس کرتی ہوں۔ لیکن اس پہ بھی قبضہ ہوگیا ہے۔ میں نے کیچن کے دروازے سے چوروں کی طرح جھانک کے دیکھا
ہاتھ میں کوفی کا مگ لیے ، صوفے پہ ٹانگیں پھیلائے۔ اسکا پورا دھیان نیوز پہ تھا۔
“بیٹھا تو ایسے ہے جیسے باپ کی جاگیر ہو۔۔۔۔۔ ” میں نے پھر سے اسے کوسنا شروع کردیا
اگلے ہی لمحے دل نے سرگوشی کی
“بینا ۔۔۔ ڈارلنگ۔۔۔۔ اسکے باپ کی ہی جاگیر ہے۔۔” ایک تو یہ دل بھی نہ۔۔۔۔ ہر ٹائم گھسر پھسر کرتا رہیتا ہے۔
“ارے ہاں۔۔۔ باپ سے یاد آیا ۔ اسکے ماں باپ کا تو پوچھا نہیں ، اگر یہ اکلوتا ہے تو اسکے ماں باپ ساتھ کیوں نہیں رہیتے”پھر سے میرے دماغ نے سوالوں کے ڈھول بجانا شروع کردیا۔ اماں سالن بنانے میں لگی تھیں اورذکیہ آٹا گوندھ رہی تھی۔ میں اماں کے پاس جا کے کھڑی ہوگئی
“اماں۔۔۔۔ !”
“جی۔۔۔ بچے۔۔!”
“ایک بات پوچھوں ۔۔۔۔؟ “
“پوچھو۔۔۔ بیٹا”
“انکے ماں باپ کا آپ نے نہیں بتایا۔۔۔ وہ کہاں ہوتے ہیں۔۔؟”
“ارے بیٹا۔۔۔۔ ماں باپ اس دنیا میں ہوتے تو بیچارہ اکیلےزندگی گزار رہا ہوتا” وہ میری طرف مڑیں
“اوہ۔۔۔۔ کیا ہوا تھا انکو۔۔۔۔ مطلب کیسے وفات ہوئی؟” میرے دل میں پہلی بار اس کے لیے ہمدردی امڈ آئی تھی
“اب کیا بتاؤں بیٹا۔۔۔۔ سالوں پہلے احتشام کے ابا جی لندن گئے تھے۔ وہاں کئی سال رہے ، شادی بھی کی۔۔ لیکن شادی زیادہ دیر چل نہیں پائی۔ چار سال کے بیٹے کو گود میں اٹھائے وطن واپس آگئے۔ احتشام کے بس ایک ہی تایا ہیں ۔۔۔۔ حنا کے ابا۔۔۔ جتنا عرصہ احتشام کے بابا باہر رہے انکے نام کی ساری جائیداد اور زمینیں انکے تایا کے پاس تھیں، وہی دیکھ بھال کرتے تھے۔ لیکن جب یہ لوگ واپس آگئے تو انکا حصہ بھی واپس ملنا تھا۔ لیکن حنا کی ماں بہت ہی شاطر عورت ہے۔ وہ کسی صورت بھی جائیداد ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس نے احتشام کے تایا کو زور دیا کہ وہ اپنے بھائی کی شادی اسکی بہن سے کرادیں۔ چاروناچار احتشام کے بابا نے شادی کرلی۔ لیکن وہ عورت نہ تو احتشام کے لیے ٹھیک تھی اور نہ ہی اسکے بابا کے لیے۔ دونوں باپ بیٹے نے بڑے برے دن دیکھے اس عورت کی وجہ سے۔ اللہ پاک کی کرنی ایسی ہوئی وہ عورت پہلا بچہ جنم دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئی، زچہ اور بچہ دونوں نہیں بچ پائے۔ احتشام جب چودہ سال کا تھا تب ایک دن ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اسکے بابا بھی خالق حقیقی سے جا ملے۔ خیر۔۔۔ قسمت کو جو منظور۔۔۔۔ تب سے یہ بچہ یہاں پہ اکیلا ہی رہ رہا ہے۔ تایا نے ذمہ داری اٹھائی۔ اور اس نے پڑھائی مکمل کی۔۔۔۔ ذمہ داری کیا اٹھانی تھی، اسکی ساری دولت جائیداد پہ زور زبردستی قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ بس ہر مہینے خرچہ پانی بھیج دیتے تھے۔ لیکن ماشاء اللہ۔۔۔ بچہ بہت ہی ہونہار ہے۔ اپنا کاروبار شروع کیا ہے۔ اب اسے کسی چیز کی کوئی ضرورت نہیں ہے” اماں نے تفصیلاً سارا قصہ سنا دیا
چلو ۔۔۔ ایک گتھی تو سلجھی۔۔۔ میں نے اپنے آپ سے سرگوشی کی۔ احتشام کے بارے میں یہ سب کچھ جاننے کے بعد میراد ل اسکے لیے موم ہونے لگا۔ پر جلد ہی میں نے یہ سوچا کہ اس کی زندگی میں یہ سب ہوا تو اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ یہ آدمی میرے ساتھ اچھا ہو۔ اتنی جلدی اعتبار نہیں کر سکتی۔
میں کیچن کے دروازے سے پشت لگائے خیالوں میں کھوئی تھی۔
” بینا بی بی۔۔۔۔۔ !” ذکیہ کی آواز پہ میں چونکی
“جی۔۔۔۔۔ !”
“یہ آپ کے لیے۔۔۔۔۔ ” اس نے کاغذ کا ایک ٹکڑا میری طرف بڑھا دیا۔
“یہ کیا ہے۔۔۔۔ ؟ ” میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“خود ہی کھول کے دیکھ لیں۔۔۔ اور ہاں اسکا جواب بھی دینا ہے۔۔۔۔ “اس نے پنسل بھی میرے ہاتھ میں تھما دی
ہو نہ ہو یہ اس موصوف کی کوئی کارستانی ہے۔ میں نے ٹی وی لاؤنج کے صوفے پہ نظر ڈالی پر وہ وہاں پہ موجود نہیں تھا۔ میں نے کاغذ کی پرچی کھولی تو اس پہ انگریزی حروف میں بڑا سا لکھا تھا
“فرینڈز۔۔۔۔۔ ؟” اور ساتھ ہی ایک سمائیلی بنی تھی۔ میرے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
“بینا جی۔۔۔۔ آپ اتنی جلدی ہار ماں گئیں” دل نے پھر سے سرگوشی کی۔۔۔ اور میں پھر سے اکڑ گئی۔ میں نے پرچی کی پچھلی سائیڈ پہ بڑا سا “نو۔۔۔۔ ” لکھا اور ساتھ ہی غصے والی سمائیلی بنا کے پرچی اور پنسل ذکیہ کو تھما دی۔
“جا کے دے دو۔۔۔۔۔ “
“اچھا ۔۔۔ بی بی” وہ مسکراتے ہوئے بولی
“ذکیہ۔۔۔ ! سن ۔۔۔ ! ٹیبل پہ پلیٹیں بھی لگا دے۔۔۔۔ ” اماں نے اسے آواز دی تو وہ کیبنیٹ سے پلیٹیں نکالنے لگی۔
میں ٹی وی لاؤنج کی طرف بڑھ گئی۔
“بینا بی بی ۔۔۔۔ !۔۔۔ کھانا لگ گیا ہے” ذکیہ نے پاس آکے بتایا
میں ڈائننگ ٹیبل پہ پہنچی تو وہ پہلے سے براجمان تھا۔ میں سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئی۔ اس نے سر جھکایا ہوا تھا۔ میں سمجھ گئی کہ ذکیہ نے میرا جواب اس تک پہنچا دیا ہے۔ تبھی چپ لگی ہوئی ہے۔
پلیٹ اٹھانے کے لیے میں نے ہاتھ آگے بڑھایا، تو اس نے اسی طرح سر جھکائے ہی اپنے سامنے رکھی پلیٹ میرے آگے کردی اور چور نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔
جب میری نظرپلیٹ پہ پڑی تو اس پہ کیچپ کے ساتھ “فرینڈز۔۔۔؟” لکھا تھا۔
میں نے بھنوئیں سکیڑ کے اسکی طرف خونخوار نظروں سے دیکھا۔ وہ اداس ہونے کے ڈرامہ کرنے لگا ۔ اس ایک پل نا جانے کیوں اسکے چہرے پہ عجیب سی معصومیت پھیل گئی۔ اسے دیکھ کے میں مسکرائے بنا نہیں رہ پائی۔ میری مسکراہٹ کو بھانپتے ہوئے ۔ اس نے بھنوئیں اچکا کے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے پھر سے تیوری چڑھا لی۔
“بیٹا اگر اشاروں کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو تو کھانا بھی کھا لو۔۔۔۔ ٹھنڈا ہورہا ہے” اماں کی آواز پہ ہم دونوں شرمندہ سے ہوگئے۔
کھانا کھانے کے بعد احتشام نے جم کی تیاری پکڑ لی۔ اماں اور ذکیہ کیچن میں برتن دھونے لگیں۔ ٹی وی لاؤنج کے ٹیبل پہ اب بھی شاپنگ بیگ اسی طرح پڑے تھے۔
کیچن کے کاموں سے فارغ ہو کے، اماں نے جانے کی تیاری پکڑ لی۔ اوہ مائی گاڈ۔۔۔ یہ لوگ چلے گئے تو میں گھر میں اکیلی رہ جاؤں گی۔ اور وہ بھوت۔۔۔۔۔ میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔
“اماں پلیز۔۔۔ آپ ابھی نہ جائیں۔۔۔” میں نے التجا کی
“بیٹا۔۔۔ پہلے ہی بہت دیر ہوگئی۔۔۔۔ جانا تو پڑے گا” اماں نے جواب دیا
“نہیں نہیں پلیز۔۔۔۔۔ ان کے آنے تک رک جائیں بس۔۔۔ آپکو پتا ہے نہ وہ بھوت۔۔۔۔ ” میں خوفزدہ ہو کے بولی
“ارے بیٹا۔۔۔ یہ بھوت ووت کچھ نہیں ہوتے۔۔۔
جاری ہے
