Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771 Be Jor by Zoya Hassan Episode10
Rate this Novel
Be Jor by Zoya Hassan Episode01 Be Jor by Zoya Hassan Episode02 Be Jor by Zoya Hassan Episode04 Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01) Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02) Be Jor by Zoya Hassan Episode06 Be Jor by Zoya Hassan Episode07 Be Jor by Zoya Hassan Episode08 Be Jor by Zoya Hassan Episode09 Be Jor by Zoya Hassan Episode10 (Watching)Be Jor by Zoya Hassan Last Episode Be Jor by Zoya Hassan Episode03
Be Jor by Zoya Hassan Episode10
Be Jor by Zoya Hassan Episode10
میں پھر سے وہم کی آندھیوں میں خشک پتے کی طرح ہواؤں کے رخ پہ اڑتی چلی گئی۔ رات کے دو بج گئے لیکن نیند کوسوں دور تھی۔ کبھی اس کروٹ تو کبھی اس کروٹ۔۔۔۔ پل تھے جو کٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ۔۔۔۔
“تم ابھی تک نہیں سوئی۔۔۔۔۔؟” احتشام نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“نیند نہیں آرہی۔۔۔۔۔۔۔ ” اسکی طرف مڑے بنا ہی میں نے جواب دیا
“کیوں۔۔۔۔ کیوں نہیں آرہی۔۔۔۔؟” اس نے پوچھا
“تم بھی تو ابھی تک جاگ رہے ہو۔۔۔۔ تمہیں نیند کیوں نہیں آئی۔۔۔۔؟” میں نے سوال کیا
وہ چپ ہوگیا۔۔۔
“تکیے کی سائیڈ بدل لو۔۔۔۔۔ ” میں اسکے طرف مڑ کے بولی
“کیوں۔۔۔۔؟” اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا
“بھیگ گیا ہے۔۔۔۔!” میں نے پھر سے منہ دوسری طرف کر لیا
اس نے بھی منہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔ پھر سے خاموشی چھا گئی
“پتا ہے۔۔۔ جب میں بیمار ہوتی تھی اور ایسے ہی رات میں نیند نہیں آتی تو امی اپنی گود میں میرا سر رکھتیں اور تھپتھپا تی رہیتی مجھے فوراً نیند آجاتی تھی” میں بولی
“ادھر آؤ۔۔۔۔۔ ! ” اس نے میرے کندھے سے پکڑ کے ہلایا
میں اسکی طرف مڑی تو وہ اٹھ کے بیٹھا تھا۔ اس نے مجھے اشارہ کیا کہ میں اسکی گود میں سر رکھ لوں۔
“پاگل ہو کیا۔۔۔۔ ” میں مسکرا کے بولی
“نہیں ۔۔۔۔ وہ تم ہو۔۔۔۔” اس نے جواب دیا
میں نے اسکی گود میں سر رکھنے سے انکار کردیا۔ اس نے مجھے گھسیٹ کے اپنی طرف کیا اور میرا سر اٹھا کے گود میں رکھ لیا اور تھپتھپانے لگا۔
“حنا بہت خوش قسمت ہے۔۔۔ جسے تمہارے جیسا دوست ملا” آنکھیں بند کیے میں بولی
“کیسے۔۔۔۔۔؟” اس نے پوچھا
“حنا سے کیا ہوا وعدہ تم بخوبی نبھا ہورہے ہو۔۔۔۔”
“کونسا وعدہ۔۔۔۔؟”
“میرا خیال رکھنے والا۔۔۔۔۔ “
“میں تمہارا خیال حنا کی وجہ سے تھوڑی نہ رکھتا ہوں”
“تو۔۔۔۔ ؟ کس وجہ سے۔۔۔۔؟”
“تمہاری وجہ سے۔۔۔۔۔ “
“میری وجہ سے کیسے۔۔۔۔۔ “
“تم بھی تو میری دوست ہو نا۔۔۔۔ ” میرے الجھے ہوئے بالوں کو سنوارتے ہوئے بولا
“دوست۔۔۔۔۔ ! تبھی اتنی ہمدردی ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔۔۔ ” میں نے سر اٹھا کے اسکی آنکھوں میں دیکھنا شروع کیا
“ہمدردی۔۔۔۔ ۔۔ ! آئی ڈونٹ نو۔۔۔۔۔ پر جو بھی ہے، مجھے تمہاری کئیر کرنا اچھا لگتا ہے” وہ سوچتے ہوئے بولا
میں نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔ جانے کب نیند آگئی۔۔۔۔
صبح میری آنکھ کھلی تو میرا سر اسکے سینے پہ تھا،۔ وہ گہری نیند میں تھا۔ صبح کے نو بج چکے تھے، میں نے اسے جگایا۔ اس نے آنکھیں کھولیں دیں۔
“اٹھو۔۔۔ نو بج گئے ہیں۔۔۔۔ ” میں نے وال کلاک کی طرف اشارہ کیا
“اوہ۔۔۔۔۔ اٹس ٹولیٹ۔۔۔ آج اماں کی طرف جانا ہے” وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا
” مجھے بھی ساتھ لے چلو گے۔۔۔۔؟” میں نے پوچھا
اس نے میری طرف دیکھا،
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ ! ناشتہ باہر سے کرتے ہیں۔ پھر اماں کی طرف چلتے ہیں وہاں سے آفس” اس نے پورا پلان بتا دیا۔
ہم دونوں جلدی جلدی تیار ہوئے۔ راستے میں اس نے گاڑی روکی اور ہم نے گاڑی میں ہی ناشتہ کیا۔ اسکے بعد اماں کے گھر پہنچے۔ اماں کی حالت بہت خراب تھی۔ ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی بیچارہ اس دنیا سے چل بسا۔ اماں کے سر پہ جوان بہو اور دو بچوں کی ذمہ دار آ پڑی تھی۔ ذکیہ کی بھی شادی کرنی تھی۔
انکی ایسی حالت دیکھ کے مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں جا کے ان سے لپٹ گئی۔ کافی دیر تک انھیں گلے لگائے میں روتی رہی۔ انھوں نے میرے پاؤں کا پوچھا ۔ احتشام نے انھیں تسلی دی اور کہا کہ اب سے ان لوگوں کی ساری ذمہ داری وہ خود اٹھائے گا، انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اماں نے ہمیں ڈھیروں دعائیں دیں۔
وہاں سے نکل کے ہم آفس آگئے، احتشام اپنے کاموں میں مصروف ہوگیا اور میں ریسٹ روم میں صوفے پہ پاؤں پھیلائے بیٹھ گئی۔
میں پوری کوشش کررہی تھی کہ کل رات والا واقع اپنے دماغ سے نکال دوں، لیکن بار بار وہی منظر میری آنکھوں کے آگے چلنا شروع ہوجاتا۔ میں چاہتی تو احتشام سے اس بارے میں پوچھ سکتی تھی۔ لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ جو اگر سچ میں وہی ہوا جو میں سوچ رہی ہوں تو میرے لیے یہ سب بہت مشکل ہوگا۔ بہتری اسی میں ہے کہ میں اس معاملے سے لا علم ہی رہوں۔میں اس بات سے اچھی طرح سے واقف تھی ایسے آنکھیں بند کر لینے سے کبھی حقیقت نہیں بدلے گی۔ پھر بھی میں خود غرض سی ہوگئی ۔
روم کا ڈور ناک ہوا۔
“میم۔۔۔۔ آپ کیسی ہیں۔۔۔؟” رابعہ مسکراتے ہوئے اندر آئی۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ تم کیسی ہو؟” میں صوفے پہ سیدھی ہو کے بیٹھ گئی۔
“سر نے کہا کہ اگر آپ بور ہو رہی ہیں تو میں آپکو کمپنی دوں۔۔۔۔ ” وہ میرے سامنے کھڑی ہوگئی
“اچھا۔۔۔ تو ریسپشن کون دیکھے گا؟” میں نے پوچھا
“وہاں پہ فالحال کسی اور کی ڈیوٹی لگا دی ہے۔۔۔” وہ بولی
“گڈ۔۔۔ بیٹھو۔۔۔ کھڑی کیوں ہو” میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
“تھینک یو۔۔۔ ” وہ بیٹھتے ہوئے بولی
“سر آپکا بہت خیال رکھتے ہیں نا۔۔۔۔۔ ؟”
“رکھتے تو ہیں۔۔۔۔۔ “
“آپ بہت لکی ہیں۔۔۔۔۔ ایچ آر والی سعدیہ بتا رہی تھی کہ بہت کم خاوند ایسے ہوتے ہیں جو اپنی بیوی سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ آفس میں تو آجکل آپ لوگوں کے ہی چرچے ہیں” وہ مجھے بتانے لگی
“احتشام اور میں بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔ وہ مجھے کسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے۔۔۔” میں نے مسکراتے ہوئے کہا
“یہی تو پیار ہے۔۔۔۔ آپ کی جوڑی ایک دم پرفیکٹ ہے۔۔۔ وہ کہتے ہیں نا۔۔۔ میڈ فار ایچ ادّر۔۔۔۔۔” وہ بولی۔
لوگوں کو ہماری جوڑی پرفیکٹ لگتی ہے۔ پر یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ بندھن کتنا بے جوڑ ہے۔ ساتھ رہیتے ہوئے ہم دونوں ایکدوسرے سے بہت دور ہیں۔ میں اس مسافت کو طے کرنا چاہتی ہوں لیکن قدم اٹھ نہیں پاتے۔میں سوچوں میں کھو سی گئی۔
وقت گزرتا رہا ۔ میرا پاؤں ٹھیک ہوگیا۔ احتشام مجھے سپنوں کی اس دنیا میں لے گیا جس سے میں کبھی بیدار نہیں ہونا چاہتی تھی۔ شائد یہی وجہ تھی میں نے جانتے بوجھتے خود غرضی کا ایک لبادہ اوڑھ لیا، کبھی جاننے کی کوشش نہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ کبھی کبھی اسکی اداس آنکھیں مجھے اندر ہی اندر مار دیتیں اور میں اس خوف سے جا کے اسے دلاسا نہیں دیتی کہ کہیں میرے ہی خواب نہ ٹوٹ جائیں۔
اماں کے بیٹے کی وفات کو دو مہینے بیت چکے تھے۔ ہم وقتاً فوقتاً ان سے ملنے جاتے تھے۔ احتشام نے انکی ساری ذمہ داری اٹھائی تھی۔ میں نے اسے مشورہ دیا کیوں نہ ہم اماں انکی بہو اور ذکیہ کو اپنے ساتھ رکھ لیں۔ سرونٹ کوارٹر بھی خالی پڑے تھے۔ احتشام کو یہ خیال اچھا لگا ۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک دن جا کے ان لوگوں کو اپنے ساتھ لے آئیں گے۔
“بینا۔۔۔ !” میں کیچن میں رات کا کھانا بنا رہی تھی، احتشام کی آواز پہ میں نے مڑ کے دیکھا تو وہ میرے پیچھے کھڑا تھا
“جی۔۔۔ !” میں نے اسکی طرف دیکھا
“کل میرے ایک دوست نے اپنی شادی کی پارٹی دی ہے۔ میں اسکی شادی پہ بھی نہیں گیا تھا، اب وہ پارٹی میں آنے کی ضد کررہا ہے” اس نے بتایا
“ارے ۔۔۔۔ واہ۔۔۔ مجھے پتا نہیں تھا کہ تمہارے دوست بھی ہیں، مجھے لگ بھگ ایک سال ہوگیا ہے تمہارے ساتھ رہیتے رہیتے، کبھی کسی دوست کا ذکر نہیں کیا تم نے۔۔۔۔ ” میں نے حیران ہو کے کہا
“دوست تو بہت ہیں یہ اور بات ہے کہ میں ہی سب سے دور ہو گیا ہوں؟” اس نے اداس ہو کے کہا
“دور کیوں ہوگئے۔۔۔۔۔ ؟” میں نے پوچھا
“بس ایسے ہی۔۔۔۔ ” اس نے جواب دیا
“اچھا۔۔۔۔ تو تمہیں جانا چاہیے دوست کی پارٹی میں۔۔۔۔” میں نے اسے مشورہ دیا
“میں چاہتا ہوں تم بھی میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔ ” وہ میری آنکھوں میں دیکھ کے بولا
“میں۔۔۔۔ ؟میں کیا کروں گی وہاں جا کے۔۔۔۔ تمہارا دوست ہے ،، تمہیں جانا چاہیے” میں نے ہنستے ہوئے کہا
“گھر میں ہم دوست سہی۔۔۔۔ پر دنیا کے لیے تو میاں بیوی ہیں۔۔۔ پھر بھی اگر تم نہیں جانا چاہتی تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔” یہ کہہ کے وہ کیچن سے باہر جانے لگا
“سنو۔۔۔ !” میں نے اسے آواز دی
“جی۔۔۔ !” وہ پیچھے مڑا
“تمہاری بیوی تمہارے ساتھ ضرور چلے گی۔۔۔۔ ” میں نے مسکراتے ہوئے کہا
اس نے پھیکی سی مسکراہٹ سے میراشکریہ ادا کیا۔
اگلے دن ہمارا پلان بنا کے شام میں پہلے ہم اماں کی طرف جائیں گے اور انھیں اپنے ساتھ رہنے کے لیے راضی کریں گے۔ اسکے بعد احتشام کے دوست کی پارٹی میں جائیں گے۔
شام میں احتشام آفس سے واپس آیا تو میں جانے کے لیے تیار تھی۔ کچھ ہی دن پہلے وہ میرے لیے بلیک کلر کا سوٹ لے کے آیا تھا۔ پارٹی کے لیے بالکل پرفیکٹ تھا۔ اس لیے میں نے وہی پہن لیا۔
“اوہ۔۔۔ واؤ۔۔۔۔ لکنگ گارجس۔۔۔۔۔ ” اس نے تعریف کرتے ہوئے کہا
“گارجس تو لگنا چاہیے۔۔۔۔ آفٹر آل ۔۔۔ بینا احتشام کہتے ہیں مجھے۔۔۔۔ ” میں نے اترا کے کہا تو وہ ہنس پڑا۔
وہ فریش ہوا تو ہم اماں کی طرف نکل گئے۔ اماں ہمیں دیکھ کے بہت خوش ہوئیں، ہم دونوں کی سج دھج دیکھ کے بلائیں لینے لگیں۔ ہم لوگوں نے آنے کا مدعا بیان کیا، وہ ہماری بات سن کے خوش تو بہت ہوئیں لیکن ساتھ ہی کہا کہ ابھی کچھ عرصے تک انھیں یہیں رہنے دیں۔ جب ذکیہ کی شادی ہو جائے گی تو وہ ہمارے ساتھ رہنے آجائیں گی۔ ہم انکی مجبوری سمجھ گئے۔ ذکیہ ہمارے لیے چائے لے آئی۔
احتشام ذکیہ اور اسکی بھابی کے ساتھ باتوں میں لگا رہا اور اماں بہانے سے مجھے کمرے میں لے آئیں۔
“بیٹا ایک ضروری بات کرنی ہے ” انھوں نے مجھے چارپائی پہ بٹھاتے ہوئے کہا
“ہاں ۔۔۔ اماں ۔۔ بولیں۔۔” میں سنجیدہ ہوگئی۔
” دیکھو ۔۔۔۔ بچے۔۔۔ ! تمہاری شادی کو ایک سال ہوچکا ہے لیکن تم دونوں کا رشتہ آگے نہیں بڑھ پایا۔ اس بات سے میں با خوبی واقف ہوں” وہ کہنے لگیں
میں سر جھکا کے انکی بات سنتی رہی۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھی
“اس عرصے میں تم دونوں ایکدوسرے کو اچھی طرح سے سمجھ چکے ہو۔ اچھی بات یہ ہے کہ گھل مل گئے ہو۔ تم دونوں کی بڑی ہونے کے ناتے میں بس اتنا چاہتی ہوں، آگے بڑھو” یہ کہہ کے وہ چپ ہوگئیں۔
میں سمجھ گئی وہ کیا کہنا چاہتی ہیں، پھر بھی سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھنے لگی۔
“تم دونوں کی زندگی میں ایک تیسرے کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جو تمہیں ایکدوسرے کے ساتھ جوڑ کے رکھے گا” انھوں نے میرے سر پہ ہاتھ رکھ دیا۔
اماں کی بات میرے دل کو لگی۔ میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ میں احتشام سے آج ہی اس بارے میں بات کروں گی۔ ہم اماں کے گھر سے نکل کے احتشام کے دوست کے گھر کی طرف چل پڑے۔
وہاں پہنچے تو گھر لائٹوں سے سجا تھا۔ اندر گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگی تھی۔ احتشام نے گاڑی پارک کی اور میں نے گفٹ پیک ہاتھ میں پکڑا اور ہم گھر کے اندر داخل ہوئے۔ اندر لوگوں کا کافی رش تھا۔ میں سمجھ رہی تھی کہ اگر دوستوں کی ہی پارٹی ہے تو چند ایک لوگ ہوں گے لیکن یہاں تو کافی لوگ جمع تھے جن میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی۔
احتشام کا دوست جس کی شادی ہوئی تھی وہ اپنی بیوی کے ہمراہ ہماری طرف بڑھا ، پاس آکے استقبال کیا
“لیڈیز اینڈ جینٹل من۔۔۔۔ مے آئی ہیو یورر اٹنشن پلیز” اس نے اونچی آواز میں سبھی مہانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
“آج احتشام احمد صاحب نے ہمیں شرف بخشا کہ ایک سال کے بعد ہم ان کا دیدار کر سکیں، ان کے لیے اور انکی مسز کے لیے تالیاں ہوجائیں۔۔۔ ” سب نے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔
میرے اور احتشام کے گرد سبھی جمع ہوگئے۔ احتشام نے سب سے میرا تعارف کرایا۔ مجھ سے براہ راست کسی نے بات نہیں کی بس سب کی تندو تیز نظریں میرے اوپر جمی رہیں۔ جو بھی پاس آتا سر سے پاؤں تک میرا یکسرے کرتا سلام کر کے واپس پلٹ جاتا۔ میرے لیے یہ سب بہت انوکھا تھا، میں نے دل کو تسلی دی کے شائد اس کلاس کے لوگوں کا رویہ ہی ایسا ہوگا۔
احتشام دوستوں کے ساتھ باتوں میں مگن ہوگیا۔ اور میں ادھر ادھر دیکھتی رہی۔ مجھے کمپنی دینے کے لیے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا۔ میں ان سب اجنبی لوگوں میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے لگی۔ احتشام اتنے عرصے بعد اپنے دوستوں سے ملا ہے، اس کے ساتھ چپک کے کھڑے رہنا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے میں جاکے ایک صوفے پہ بیٹھ گئی اور اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے موبائل فون پہ نظریں جما لیں۔ مجھے بہت گھٹن ہورہی تھی۔
جب کھانا لگا تو احتشام میری طرف آیا۔
“مل گیا ٹائم آپکو۔۔۔ ” میں نے ناگواری سے دیکھا
“سوری۔۔۔۔ تمہیں پتا ہے نہ ان لوگوں سے اتنے عرصے بعد ملا ہوں، جان ہی نہیں چھوڑ رہے تھے” وہ صفائی پیش کرنے لگا۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔ ” میں نے مسکراتے ہوئے کہا
کھانے کے دوران میرے کپڑوں پہ کولڈ ڈرنک گر گئی۔ احتشام پھر سے دوستوں کے بیچ گِھرا تھا ، میں نے اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس لیے خود ہی واش روم ڈھونڈنے لگی
“ایکسکیوز می۔۔۔۔۔ !” میں نے پاس ہی کھڑی لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کیا جو فون پہ کسی سے بات کررہی تھی،
“یس۔۔۔۔ ” وہ میری طرف مڑی۔ مجھ پہ نظر پڑتے ہی اسکے چہرے کی رنگت بدل گئی
“کیا آپ بتا سکتی ہیں واش روم کس طرف ہیں۔۔۔۔ ” میں نے پوچھا
“ایکسکیوز می۔۔۔۔ میں آپکو یہاں کی ملازمہ نظر آتی ہوں۔ جو آپکو واش روم کا رستہ دکھاتی پھروں۔۔۔” وہ چڑ کر بولی۔۔۔
میں اسکے ایسے رویے پہ ایکدم ششدر رہ گئی۔
“سوری۔۔۔ آپکو برا لگا” میں معذرت کرنے لگی۔
“حمنہ۔۔۔۔ کم ہیر۔۔۔ ” پیچھے سے اسے کسی نے آواز دی، وہ میری پوری بات سنے بنا ہی وہاں سے چلی گئی۔
“کتنے عجیب لوگ ہیں یہاں کے۔۔۔۔ ” میں نے اپنے آپ سے سرگوشی کی
اسکے بعد میری بالکل ہمت نہ ہوئی کسی سے واش روم کا پوچھتی اس لیے خود ہی ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچ گئی۔
میں واپس پلٹی تو میرے پاؤں ایکدم سے رک گئے۔
احتشام اور وہ لڑکی ایکدوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ دونوں کی آنکھیں کئی راز کھول رہی تھیں۔ بس لب خاموش تھے۔ احتشام کی حالت بالکل ویسی تھی جیسے اس دن کوفی شاپ کے سامنے تھی۔ مجھے یہ اندازہ لگانے میں ذرا بھی دیر نہ لگی کہ شائد یہ وہی لڑکی ہے۔ میں آگے نہیں بڑھ پائی۔ کافی دیر تک وہ یونہی ایکدوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر وہ لڑکی وہاں سے چلی گئی۔ تب میں احتشام کی طرف بڑھی۔ اور پیچھے سے اسکا کندھا تھپتھپایا۔۔۔ وہ میری طرف مڑا اور مسکراتے ہوئے کہا
“گھر چلیں۔۔۔۔ ؟”
میں نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا
پورا راستہ ہم خاموش ہی رہے۔ میں نے احتشام سے اس لڑکی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔
ہم جاتے ہی بستر پہ لیٹ گئے، اور ہمیشہ کی طرح ایکدوسرے کی طرف پشت کرکے لیٹے رہے۔
“احتشام۔۔۔ !” میں نے اسے آواز دی
“جی۔۔۔۔۔!” اس نے جواب دیا
“مجھے نیند نہیں آرہی۔۔۔۔ ” میں اٹھ کے بیٹھ گئی
“تو میرے لیے کیا حکم ہے ۔۔۔۔ملکہ عالیہ۔۔۔۔؟” اس نے جواب دیا
“اٹھو۔۔۔! ایک کھیل کھلیتے ہیں۔۔۔ ” میں نے اسکے بازو سے پکڑا
“اس وقت۔۔۔۔ کونسا کھیل۔۔۔” وہ اٹھ بیٹھا
“دیکھو۔۔۔ کھیل ایسا ہے کہ میں کچھ نام بولوں گی اور تمہارے دماغ میں وہ نام سن کے جو چیز سب سے پہلے آئے، وہ فوراً بتانی ہے۔ تمہارے پاس سوچنے کے لیے پانچ سیکنڈ ہوں گے” میں نے اسے کھیل سمجھایا۔
“اچھا ۔۔۔ بابا ٹھیک ہے” وہ کھیلنے کے لیے تیار ہو گیا
میں نے کھیل شروع کیا
حنا – بیسٹ فرینڈ
اماں- بے لوث انسان
ذکیہ۔ بہن جیسی
بینا – پانچ سیکنڈ گزر گئے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
حمنہ ۔ کوئی جواب نہیں آیا
“تم حمنہ کو کیسے جانتی ہو؟” وہ چونک کے بولا
“بس۔۔۔ دیکھ لو۔۔۔” میں نے کندھے اچکائے
وہ چپ ہوگیا
“احتشام۔۔۔ ہم اچھے دوست ہیں نا؟”
اس نے سر ہلایا
“سچ بتانا۔۔۔ تم حمنہ سے پیار کرتے تھے؟” میں نے پوچھا
اس نے نظریں جھکا لیں
“تم نہیں بتانا چاہتے تو مت بتاو۔۔۔۔” میں نے خفگی سے اسکی طرف دیکھا
“بابا کے بعد اگر میں نے کسی کوٹوٹ کے چاہا تھا تو وہ حمنہ ہی ہے” اسکی آنکھیں برس پڑیں
“پھر تمہیں حنا کے لیے قربانی دینی پڑی؟” میں نے اسکی آنکھوں میں دیکھا اس نے پھر سے نظریں نیچے کرلیں
“یو نو۔۔۔۔ میں حنا کو تو اسکی محبت دلانے میں کامیاب ہوگیا، لیکن اپنی محبت پانے میں ناکام رہا۔ میں نے ایسے موڑ پہ آکے حمنہ کو چھوڑا جب اسے میری سب سے زیادہ ضروت تھی۔ میرے دل پہ یہ بوجھ ہے جو مجھے سانس نہیں لینے دیتا۔ میں تِل تِل مرتا رہیتا ہوں۔ جس دن میرا تم سے نکاح ہوا، اسی دن حمنہ اپنا سب کچھ چھوڑ کے کورٹ میں میرا انتطار کررہی تھی۔ پر میں اس تک نہیں پہنچ پایا” اس نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھ دیے اور پھسر پھسر کے رونے لگا۔
میں حواس باختہ اسے سنتی رہی۔ پھر اپنا ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھ دیا لیکن میرے پاس تسلی کا کوئی لفظ موجود نہ تھا۔
میں پھر سے اپنی کروٹ لیٹ گئی اور وہ اپنی کروٹ۔
صبح اٹھ کے ہم دونوں ایکدوسرے سے نظریں چراتے رہے۔ وہ آفس چلا گیا اور میں اپنے ارادوں کو انجام دینے لگی۔ ۔۔۔۔
“جب میں پہلی بار تمہیں ملی تھی تو میرے دل میں تمہارے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گرزتا گیا، وہ نفرت محبت میں بدل گئی۔ تم میرے لیے میرا سب کچھ بن گئے۔ بیتے ایک سال میں میری دنیا تم سے شروع ہوکے تم پہ ہی ختم ہوتی تھی۔
لیکن تم اپنے حصے کی محبت پہلے ہی کسی اور کے نام کر چکے ہو اور میں تمہارے لیے بس ایک فرض ہوں جسے تم بخوبی نبھا رہے ہو۔ میں جانتی ہوں اپنی خوشیوں کا گلہ گھونٹ کے کسی اور کو خوش رکھنا بہت ہی کٹھن ہوتا ہے لیکن تم بنا کسی شکائیت کے ہر روز یہ قربانی دیتے آرہے ہو۔
جو محبت میں تم سے کرتی ہوں اسکا یہی تقاضہ ہے کہ میں تمہیں تمہاری زندگی جینے کا ایک اور موقع دوں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم حمنہ کی طرف لوٹ جاؤ۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جب تک میں تمہاری زندگی میں رہوں گی یہ ممکن نہیں ہو پائے گا۔ اس لیے میں اس بے جوڑ بندھن سے تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد کرتی ہوں۔
تم نے مجھے ہمدردی میں اپنایا تھا میں تمہیں محبت میں چھوڑ رہی ہوں۔۔۔۔۔ “
میں نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پہ یہ تحریر لکھ کے احتشام کے لیے چھوڑ دی۔ اور خود انجانے رستوں پہ نکل پڑی۔
