Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771 Be Jor by Zoya Hassan Episode01
Rate this Novel
Be Jor by Zoya Hassan Episode01 (Watching)Be Jor by Zoya Hassan Episode02 Be Jor by Zoya Hassan Episode04 Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01) Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02) Be Jor by Zoya Hassan Episode06 Be Jor by Zoya Hassan Episode07 Be Jor by Zoya Hassan Episode08 Be Jor by Zoya Hassan Episode09 Be Jor by Zoya Hassan Episode10 Be Jor by Zoya Hassan Last Episode Be Jor by Zoya Hassan Episode03
Be Jor by Zoya Hassan Episode01
Be Jor by Zoya Hassan Episode01
سمندر کے کنارے بنایا ریت کا محل وقت کی لہریں بہا کے لے جائیں تو انسان کے پاس سوائے ویرانی کے کچھ نہیں بچتا۔ میں بھی اسی ویرانی کو اپنے دامن میں سمیٹے، ایک “بے جوڑ “بندھن کو نبھانے چلی تھی۔ لوگوں کو اپنی زندگی بدلنے میں سال درکار ہوتے ہیں اور میری زندگی چند گھنٹوں میں ہی بدل گئی۔ جیسے طوفان تھمنے کے بعد انسان اپنی کھوئی چیزیں ڈھونڈنے لگتا ہے میں بھی عروسی جوڑے میں ملبوس اپنے آپ کو ڈھونڈرہی تھی۔
” امی ۔۔ ! آپ کبھی کراچی گئی ہیں؟ سنا ہے وہاں کے لوگ بہت روکھے ہوتے ہیں”میں نے امی کی طرف دیکھا جو بیگ میں میرے کپڑے ڈال رہی تھیں
” سنا تو میں نے بھی ہے۔۔۔۔ پر اب تم نے ٹھان ہی لیا ہے تو کیا کر سکتے ہیں” امی نے خفگی سے جواب دیا
“اچھا جو بھی ہوگا دیکھ لیں گے۔۔۔۔ میں کونسا وہاں ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں۔۔۔ جیسے ہی ڈگری مکمل ہوئی تو میں واپس آجاؤں گی” میں نے اپنے آپکو تسلی دی
“شروع شروع میں ہر نئی جگہ پہ تھوڑی بہت پریشانی ضرور ہوتی ہے۔۔۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے انسان اس جگہ سے مانوس ہوجاتا ہے۔ تم بھی وہاں کی عادی ہو جاؤ گی” امی نے بیگ کی زِپ بند کی اور مجھے سونے کا کہہ کے چلی گئیں۔ پر نیند کہاں آنی تھی۔۔۔
“کاش۔۔۔۔ میرا میرٹ بن جاتا تو کراچی نہ جانا پڑتا” میں اپنے آپ سے باتیں کرنے لگی
سیکنڈ ائیر میں دن رات محنت کے بعد بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئی۔ پر انٹری ٹیسٹ کی باری قسمت نے پیٹھ دکھا دی۔ میں دلبر داشتہ ہوئی، کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ اگلے سال پھر سے کوشش کر لینا پر کون جانے اگلے سال کیا ہونا ہے۔ بابا کو شرو ع سے ہی میری پڑھائی سے کوئی غرض نہیں تھی لیکن جب کاشف بھائی نے ایم بی اےفنانس بیچ میں چھوڑ دیا اور ان کے ساتھ ٹیسکٹال کے کاروبا ر میں آگئے تب انھوں نے مجھے پوری طرح سپورٹ کیا کہ میں ڈاکٹر بن جاؤں۔ لیکن انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد پہلے پہل تو انھوں نے چپ سادھ پھر خود ہی کہنے لگے کہ سال ضائع مت کرو کسی پرائیویٹ کالج میں داخل دلا دیتا ہوں۔ کافی تگ ودو کے بعد کراچی کے ایک میڈیکل کالج میں مجھے سیٹ مل گئی۔ ایڈمشن ہوگیا اور تین دن بعد کلاسز شروع ہونے والی تھیں۔اس لیے مجھے اگلے دن ہی کراچی کے لیے نکلنا تھا۔ کاشف بھائی مجھے کراچی چھوڑنے جارہے تھے۔ میں ہمیشہ سے اپنے آپ میں رہنے والی لڑکی تھی۔ شروع سے ایک ہی ماحول میں پلی بڑھی، لیکن اب سب کچھ بدلنے والا تھا۔ کہاں فیصل آباد اور کہاں کراچی۔۔۔۔ اتنی دور پہلی دفعہ جارہی تھی امی کافی فکرمند تھیں لیکن بابا نے انھیں تسلی دی کہ سب ٹھیک ہوگا۔ میرے دل میں بھی طرح طرح کے واہمے تھے۔ میں نے سب کچھ اللہ پاک پہ چھوڑ دیا۔ سوچوں میں ڈوبے کب آنکھ لگ گئی۔
رات کے کسی پہر کمرے کے باہر سے آتے شور سے میری آنکھ کھلی۔ ابا جی اونچی آواز میں کسی کو ڈانٹ رہ تھے۔ خدایا خیر۔۔۔ ! میں جلدی سے اٹھی اور داروزے سے باہر جھانکنے لگی۔ مجھے جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ بھائی کی کلاس ہورہی ہے۔ اجکل تو یہ معمول کی بات بن چکی تھی۔ آئے دن ابا جی بھائی کو کسی نہ کسی غلطی پہ لتاڑ رہے ہوتے تھے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ اس وقت باہر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ میں بھی انکے عتاب کی نظر ہوجاؤں، بہتری اسی میں تھی کہ چادر اوڑھو اور چپ چاپ سو جاؤ۔ میں نے پھر سے آنکھیں بند کرلیں۔ لیکن دل میں بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ اس بار بھائی نے ایسا کیا کردیاجو رات کے اس وقت ابا جی ان پہ چلا رہے ہیں۔ جو بھی ہو۔۔۔۔ صبح پتا چل جائے گا۔
“بینا۔۔۔۔۔ ! بینا۔۔۔۔۔۔۔۔! اٹھ جا جلدی” میں نے آنکھیں کھولیں تو امی میرے پاس کھڑیں تھیں۔
“کیا ہوا امی۔۔۔ ؟” میں نے ہڑبڑاہٹ میں پوچھا
“ہونا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے نصیوں کو گرہن لگ گیا ہے” وہ رو رہی تھیں
“یا اللہ۔۔۔۔۔ ! ایسا کیا ہوا” میں جلدی سے اٹھ بیٹھی۔ موبائل فون پہ ٹائم دیکھا تو صبح کے پانچ بج رہے تھے۔
“ہم تمہارے نانا کے ہاں جارہے ہیں۔۔۔ پتا نہیں کب واپسی ہوتی ہے۔ تمہاری پھوپھی ثریا کو بلایا ہے وہ تھوڑی دیر میں آتی ہی ہوگی۔ ہمارے آنے تک وہ یہیں رکے گی۔ تم اپنا اور گھر کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔” امی مجھے سمجھانے لگیں
“امی ۔۔۔۔ ! ہوا کیا ہے؟ مجھے بتا تو دیں” میں پریشان ہونے لگی
“ہائے۔۔۔۔ کیا بتاوں تجھے۔۔۔۔۔ ! تیرے بھائی نے ہم پہ مصیبتوں کا پہاڑ توڑا ہے” وہ آہیں بھرنے لگیں
“اف ہو۔۔۔۔ آپ ایسے روتی رہیں گی یا کچھ بتائیں گی بھی؟” میں چڑ کر بولی
“کاشف تیرے نانا کے گاؤں سے ایک لڑکی کو بھگا لایا ہے۔ کہتا ہے کورٹ میں شادی کرلی ہے۔ لڑکی والوں کو پتا چل گیا ہے اور وہ تیرے نانا کے دروازے پہ جا کے بیٹھ گئے ہیں۔ تمہارے ماموں نے کل رات فون کیا ہے کہ صبح کاشف کو لے کہ ہم وہاں پہنچیں تاکہ معاملہ بات چیت سے رفع دفع کیا جا سکے”
“اوہ میرے خدایا۔۔۔۔۔۔ بس یہی رہ گیا تھا۔۔۔۔ بھائی ہے کہاں؟ اور وہ لڑکی؟ ” میں حواس باختہ ہوگئی
“اس نے کہاں ہونا ہے۔ یہیں ہے۔ کل رات ایک بجے لڑکی کو بغل میں لیے پہنچا تھا۔ تمہارے ابا جی نے جوتوں سے خوب مرمت کی ہے ۔۔۔ دیکھو اب کیا ہوتا ہے۔۔۔ دعا کرنا بس” وہ یہ کہہ کے جلدی سے میرے کمرے سے نکل گئیں۔ ابا جی بار بار انھیں آوازیں دے رہے تھے۔
میں حیران اور پریشان بیٹھ رہی۔ خدایا۔۔۔ خیر کرنا۔ مجھے تو رہ رہ کے ہول پڑ رہے تھے ۔ بھائی نے آج تک چھوٹی موٹی غلطیاں کی تھیں لیکن اس مرتبہ تو حد ہی ہوگئی ہے ۔
ماسی کو میں نے کہا کہ میرے لیے ناشتہ بنائیں، انھوں نے ناشتہ بنا کے ٹیبل پہ رکھا ۔ میں نے پراٹھے کا پہلا ہی نوالہ لیا تھا مین گیٹ پہ بیل ہوئی اور ثریا پھوپھو اندر داخل ہوئیں۔ آتے ہی شور ڈال دیا۔
“میرے بھائی کے تو نصیب خراب ہیں۔۔۔۔ ایسی اولاد ملی جو اس عمر میں بھی ذلت کے سوا کچھ نہیں دے رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مالک میرے بھائی پہ رحم فرما” چھاتی پیٹتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئیں۔ میں نے سلام کیا اور چپ چاپ ناشتہ کرتی رہی۔
“بھائی کے کرتوت دیکھ لیے؟۔۔۔۔ میں نے کئی بار بھابی کو سمجھایا کہ اولاد کو اتنا سر نہ چڑھاؤ، پر وہ میری سنتی کہاں ہیں” اس بار امی کے خلاف انکے پاس مظبوط مدعا تھا۔
“پھوپھو۔۔۔ اس میں امی کی کیا غلطی ہے۔ کوئی ماں ایسا تھوڑی نہ چاہے گی کہ اولاد انھیں یہ دن دکھائے” میں نے امی کی طرف داری کی
“برا مت ماننا ۔۔۔ پر یہ جو کچھ بھی ہوا ہے تمہارے ننھیال والوں کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ تمہارے ماموں نے اپنی اولاد کو سر چڑھا رکھا ہے ۔ انکی دیکھا دیکھی تمہارا بھائی بھی بگڑ گیا۔ تمہاری ماں کو کئی بار سمجھایا کہ کاشف کو ننھیال کے زیادہ چکر نہ لگوائے۔ پر میری سنتا کون ہے” میرے ننھیال کی برائی کا تو انکو بہانا چاہیے ہوتا ہے
“پھوپھو۔۔۔۔ ! بھائی کی اس غلطی کا خمیازہ سب سے زیادہ میرے ننھیال والے ہی بھگت رہے ہیں” میں نے انھیں گْھورا
“ساجدہ۔۔۔۔ ! بات سن۔۔۔۔” وہ میری بات کو ان سنا کرکے ماسی کو آوازیں دینے لگیں
“کل رات سے کچھ نہیں کھایا، میرے لیے بھی ایک پراٹھا بنا دے۔ اس پریشانی میں تو بھوک ہی مر گئی تھی۔ ابھی بینا کو دیکھا ناشتہ کرتے تو سوچا میں بھی کچھ نہ کچھ کھا لیتی ہوں” وہ چور نظروں سے مجھے دیکھنے لگیں
“اف ۔۔۔ اپنے بل بوتے پہ تو کچھ کر نہیں سکتیں” میں دل ہی دل میں انھیں کوسنے لگی
“جی ۔۔۔ باجی ۔۔۔ لاتی ہوں۔۔۔۔ “ساجدہ کیچن کی طرف چل پڑی
“سنو ! بھابھی نے اوپر والی الماری میں دیسی گھی رکھا ہوگا ، پراٹھے پہ ڈال دینا ذرا۔۔۔” وہ ساجدہ کو آواز دے کے بولیں
“بس اتنی ہی فکر تھی بھائی کی۔۔۔۔۔ “میں دل ہی دل میں بولی
میں نے چائے ختم کی اور اٹھ کے جانے لگی تو وہ بولیں
“تمہارا داخلہ ہوگیا؟ سنا ہے کراچی جا رہی ہو۔۔۔۔ “
“جی ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ آج ہی جانا تھا لیکن اب حالات ایسے ہیں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا” میں نے چڑ کے جواب دیا
“دیکھتے ہیں تم کیا گل کھلا کے آتی ہو۔۔۔۔۔۔ ” وہ لبوں میں بڑبڑانے لگیں
میں نے خونخوار نظروں سے انھیں گھورا۔ وہ ہڑبڑا کے بولیں
“ارے۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب ہے اتنی دور جا رہی ہوں۔ کراچی کے حالات آئے دن خراب رہیتے ہیں۔ میں تو بس اس لیے بول رہی تھی۔۔۔۔۔ پیسہ بھی تو بہت لگنا ہے۔ جو بھی ہو میرے بھائی نے اولاد پہ دولت خوبی لٹائی ہے۔۔۔۔۔” انکی جلی کٹی پھر سے شروع ہوگئی۔
“بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے والدین کو بہت کچھ داؤ پہ لگانا پڑتا ہے۔ آپ بھی صوفیہ آپی پہ کچھ پیسے خرچ کرتیں تو انھیں ایم اے اسلامیات کر کے گھر میں نہ بیٹھنا پڑتا” وہ پھوپھو تھیں تو میں بھی بھتیجی۔۔۔۔ حساب برابر کردیا
“اچھا۔۔۔ دیکھتے ہیں ۔ تم کب ڈاکٹر بن کے آتی ہو۔۔۔” وہ تیوری چڑھا کے بولیں
میں اٹھ کے اپنے کمرے میں آگئی۔ دو بج گئے تھے لیکن ابھی تک امی کا فون نہیں آیا ۔ میری پریشانی میں اضافہ ہوا۔ میں نے خود ہی امی کا نمبر ڈائل کیا۔ بیل جانے لگی پر انھوں نے فون نہیں اٹھایا۔ مجھے گھبراہٹ ہورہی تھی۔ میں اٹھ کے ٹی وی لاؤنج میں آگئی۔ وہاں پہ پہلے سے ہی پھوپھو براجمان تھیں۔ میں نے سوچا کہ انکے ساتھ بیٹھنا بلاوجہ کی بحث مول لینا ہے۔ بہترہے میں ان سے دور ہی رہوں۔ میں کیچن کی طرف بڑھ گئی تاکہ ساجدہ سے کہوں کہ ایک کپ چائے بنا دے۔ پھوپھو کی نظر مجھ پہ پڑ ہی گئی۔
“بینا۔۔۔۔ ! بات سنو۔۔۔!” وہ مجھے آواز دینے لگیں تو میں دانت پیس کے رہ گئی
“جی پھوپھو۔۔۔۔ آئی۔۔۔۔ ” چارو ناچار مجھے انکے پاس جانا ہی پڑا
“جی بولیں۔۔۔۔۔ ” میں پاس جا کے کھڑی ہوگئی
“بات ہوئی تمہاری ؟ کوئی خیر خبر۔۔۔۔۔ ؟” جوس کا گلاس میز پہ رکھتے ہوئے وہ بولیں
“نہیں ہوئی پھوپھو۔۔۔۔۔ آپ اپنےبھائی کو فون کرکے خیر خیریت پوچھ لیتیں” میں نے انھیں ٹونٹ کیا
“ارے بھئی۔۔۔۔ بھیا وہاں مرودوں کے بیچ میں بیٹھے ہوں گے۔ا للہ جانے کیا بات چل رہی ہوگی۔ میں ایسے بیچ میں فون کرنا شروع کرودں۔۔۔ نا بھئی نا” انھوں نے پہلی بار کوئی ڈھنگ کا کام کیا تھا۔
میرے فون کی بیل بجنے لگی۔ میں نے دیکھا تو امی کے نمبر سے کال آرہی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔
“کس کا فون ہے۔۔۔۔ ؟” فون اٹینڈ کرنے سے پہلے پھوپھو کے سوال جواب شروع ہوگئے
“امی کا۔۔۔۔۔ ” میں نے تنک کے جواب دیا اور کال اٹینڈ کی
“ہیلو۔۔۔ امی ۔۔۔۔”
“میری بات کراو۔۔۔ میں پوچھتی ہوں بھابھی سے۔۔۔۔۔ ” پھوپھو میری طرف لپکیں
میں نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا۔
“امی۔۔۔ کیا ہوا؟ میں کب سے آپکے فون کا انتطار کر رہی تھی۔۔۔” میں پریشانی میں پوچھنے لگی۔
“ارے بیٹا ۔۔۔ ہونا کیا ہے۔ تمہارے نانا اور بابا سر جوڑ کے بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی بلایا ہوا ہے۔ بڑے اثر و رسوخ والے لوگ ہیں۔ تمہارے نانا نے یہاں کے ایم این اے سے درخواست کی ہے کہ یہ معاملہ رفع دفع کروا دیں۔ اس نے چھ بجے کا ٹائم دیا ہے۔ اب دیکھو کیا ہوتا ہے۔۔۔۔ تمہارے بھائی نے کہیں کا نہیں چھوڑا ہمیں۔۔۔۔ ” وہ رونے لگ گئیں
“اچھا آپ روئیں مت اللہ پاک سب ٹھیک کردیں گے، یہ بتائیں کہ وہ لڑکی کہاں ہے؟ واپس بھجوا دیا ؟ ” میں نے پوچھا
“ارے کہاں واپس بھجوایا۔۔۔۔ ! تمہارے نانا نے کہا ہے کہ اگر لڑکی واپس بھجوا دی تو ہم لوگ زیادہ مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ اب تو نکاح بھی ہوگیا ہے۔ لڑکی تو رکھنی پڑے گی۔۔۔۔”
اس سے پہلے میں ان سے کچھ اور پوچھ پاتی پھوپھو نے میرے ہاتھ سے فون چھین لیا۔
“ہیلو ۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔ دیکھ لیا اب۔۔۔ میں نہ کہتی تھی کے تمہارے بیٹے کے لچھن ٹھیک نہیں ہیں ….. اس وقت میری بات سن لی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا” پھوپھو ایسے حالات میں بھی اپنی فطرت سے باز نہیں آرہی تھیں۔ انکی نان سٹاپ چلتی گاڑی کو روکنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ میں نے فون انکے ہاتھ سے چھین لیا۔ اور امی کو خدا حافظ بول کے بند کردیا
“بینا۔۔۔ ! یہ کیا بد تمیزی ہے؟ بات کیوں نہیں کرنے دی مجھے۔ میں نےابھی کچھ پوچھا ہی نہیں تھا” وہ تلملاتے ہوئے بولیں
“اچھا۔۔۔ جو آپ کر رہی تھیں وہ کیا تھا۔ آپ کو ہماری پریشانی سے کوئی غرض نہیں ہے ۔ امی کو تانے کوسنے دینے کا آپکو گولڈن چانس ملا ہوا ہے کیسے ہاتھ سے جانے دیتیں” میں پھٹ پڑی
“اے۔۔۔ لڑکی۔۔۔ کچھ تو شرم کرلے، کیسے کیسے گھٹیا الزام لگا رہی ہے۔ خدا کی قسم اگر بھائی جان کا خیال نہیں ہوتا تو ایک منٹ نہ رکتی اس گھر میں۔۔۔۔ اتنی بے عزتی۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔ ” پھر سے انکا ڈرامہ شروع ہوگیا۔ میں پاؤں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
مغرب کا وقت ہوا تو میں نے جائے نماز بجھائی اور نماز کے بعد گڑ گڑا کے اللہ پاک سے اپنے گھر پہ آئی مصبیت ٹلنے کی دعائیں کرنے لگی۔ میں نماز پڑھ کے فارغ ہوئی تو ساجدہ میرے کمرے میں آئی اور کہنے لگی کہ کھانا لگ گیا ہے، اور پھوپھو میرا انتظار کر رہی ہیں۔ نا چاہتے ہوئے بھی مجھے جانا پڑا۔ پتا نہیں کب امی واپس آئیں گی، تبھی تو پھوپھو سے جان چھوٹے گی۔
“سنو۔۔۔ ! تم نے دیکھا تھا اس لڑکی کو؟ شکل و صورت کی کیسی تھی” میں ابھی کرسی پہ بیٹھی ہی تھی کہ پھوپھو نے سوالوں کا سلسلہ شروع کردیا۔
“کونسی۔۔۔ لڑکی؟” میں انجان بننے کی کوشش کی
“ارے وہی۔۔۔۔ جسے تیرا بھائی بھگا لایا” وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھیں
“میں نے نہیں دیکھا، وہ لوگ صبح صبح ہی نکل گئے تھے۔ میں تب سورہی تھی” میں نے پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے کہا
“ساجدہ بتا رہی تھی کہ بڑی ماڈرن لڑکی ہے۔ عجیب سے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ سوچو سچ مچ وہ تمہاری بھابھی بن کے آگئی تو۔۔۔؟تمہاری ماں کا تو جینا حرام کردے گی۔۔۔۔” وہ لوگوں کی قسمت کا فالنامہ ہاتھ میں لے کے گھومتیں ہیں۔
“میری ماں کا جینا حرام کرنے والے پہلے ہی بہت لوگ ہیں۔ ایک اورکا اضافہ ہوجائے گا” میں نے انکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میری اس بات پہ انھوں نے چپ سادھ لی۔
رات کے دس بج گئے تھے۔ میں نے امی کا نمبر ڈائل کیا۔ انھوں نے فون اٹھایا اور بس اتنا بولیں کہ ہم یہاں سے گھر کی طرف نکل رہے ہیں، وہاں پہنچ کے ساری باتیں ہونگی۔ مجھے تسلی ہوئی کہ شکر ہے وہ لوگ واپس آرہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ پھوپھو کو بھی بتا دوں۔ ساجدہ نے بتایا کہ وہ امی کے کمرے میں ہیں۔ میں وہاں پہنچی تو وہ خراٹوں پہ خراٹے دے رہی تھیں۔ میں نے سوچا چلو میں بھی تھوڑی دیر سو ہی جاتی ہوں۔ سب لوگ آگئے تو پھرجانے کب تک جاگنا پڑے۔۔۔
میں باہر صوفے پہ ہی سو گئی ، تا کہ جیسے وہ لوگ آئیں تو میں جاگ جاؤں۔
گاڑی کا ہارن بجا تو میری آنکھ کھل گئی۔ رات کے قریباً دو بج رہے تھے۔ ساجدہ نے مین گیٹ کھولا۔ میں جلدی سے اٹھی۔ بال اور کپڑے ٹھیک کرنے لگی۔ ابا جی اور ماموں اندر آئے انکے پیچھے پیچھے، امی ، ممانی اور انکی بڑی بیٹی فرزانہ بھی آگئے۔ بھائی کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ پہلے پہل تو میں خوفزدہ ہوئی ، فرزانہ نے میری پریشانی بھانپ کے اشارہ کیا کہ سب ٹھیک ہے۔ میں نے سکھ کا سانس لیا۔ ساجدہ سب کے لیے چائے بنا کے لائی۔
ڈرائنگ روم میں ایک دم خاموشی تھی۔ ایک صوفے پہ امی اور ممانی بیٹھی تھیں، دوسری طرف ماموں اور بابا۔ میں اور فرزانہ ایکدوسرے کا سہارا لیے ایک طرف کھڑی ہوگئیں۔ ساجدہ نے پھوپھو کو بھی جگا دیا تھا۔ وہ اپنی آنکھیں مسلتی تشریف فرما ہوئیں۔ آتے ہی رونا دھونا ڈال دیا
“ہائے۔۔۔ بھائی جان۔۔۔ کاشف نے بہت برا کیا آپ لوگوں کے ساتھ۔۔۔۔۔ مجھے تو اسکی حرکتیں پہلے سے ہی ٹھیک نہیں لگ رہی تھیں۔ اسکی چال بتاتی تھی کہ کوئی نہ کوئی گل کھلائے گا”انکی نان سٹاپ گاڑی پھر سے چل نکلی۔
جواباً سب خاموش رہے ، امی اور میں نے انھیں گھورا تو وہ بھی چپ ہوگئیں۔ تھوڑی دیر بعد پھر سے بولیں
“بھائی صاحب کیا ہوا۔۔۔ کیا بنا۔۔۔۔ ؟ کچھ بتائیں گے؟” اس بار وہ قدرے سرگوشی کے انداز میں ماموں سے گویا ہوئیں۔ ماموں نے ممانی کو اشارہ کیا، تو وہ بولیں
“فرزانہ بیٹا۔ ۔۔ !تم اور بینا جاؤ کمرے میں آرام کرو، بہت رات ہوگئی ہے” فرزانہ نے جواب میں سر ہلایا اور مجھے ساتھ لیے کمرے میں آگئیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ابھی تک کسی کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا تھا ۔
“فرزانہ ۔۔۔ ! تم ہی بتاؤ نا ۔۔ کیا ہوا وہاں پہ۔ کاشف بھائی کیوں نہیں آئے اب تک؟” بیڈ پہ بیٹھتے ہی میں نے ان سے سوال کیا۔
“بتاتی ہوں۔۔۔ سانس تو لینے دو۔۔۔” وہ بولی
میں خاموشی سے اسکی طرف دیکھتی رہی، وہ بیڈ پہ سیدھی ہو کے بیٹھ گئی۔
“ہاں۔۔۔ پوچھو ۔۔ کیا پوچھنا ہے؟” میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کے بولی
“تم بھی حد کرتی ہو، تمہیں نہیں پتا میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں؟” میں چڑ کے بولی
پھر وہ بتانا شروع ہوئیں
“کل رات جب تمہارے بھائی کے بارے میں پتا چلا تو ہم سب کے تو جیسے چھکے چھوٹ گئے۔ ایک تو وہ لوگ کافی اثر ورسوخ والے ہیں دوسرا دادا جان کی برسوں سے انکے ساتھ تعلق داری ہے۔ یقین مانو دادا جان کو بہت صدمہ ہوا۔ چند ہی گھنٹوں میں انکی طرف سے دو تین لوگ ہمارے دروازے پہ پہنچے۔ پرانے تعلق کو دیکھتے ہوئے انھوں نے بات آگے نہیں بڑھائی”
اس نے ایک ہی سانس میں سب بول دیا
“اچھا۔۔۔ پھر۔۔۔ پھر کیا ہوا” میں نےمزید پوچھا
“پھر کیا انھوں نے تمہارے بابا اور بھائی کو اس لڑکی سمیت بلا لیا۔ پہلے تو وہ بہت آگ بگلولہ ہوئے۔ تمہارے بھائی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ دادا جی نے علاقے کے چند معزز لوگ بلوائے اور درخواست کی ان لوگوں نے جو غلطی کی ہے۔اب اس کو سمجھداری سے سلجھانا ہی سب کے لیے اچھا ہے۔ شام میں ایم این اے صاحب بھی آگئے تھے ۔ پر وہ لوگ کسی بات پہ راضی ہونے کو تیار نہ تھے۔ بڑی مشکل سے مانے۔ ورنہ وہ تو کہہ رہے تھے ہماری لڑکی واپس کرو اور ہم لڑکی لڑکا دونوں کو جان سے مار دیں گے۔ خیر بیچ بچاؤ ہوا۔ انھوں نے صلح صفائی کی کچھ شرطیں رکھی ہیں۔۔۔ ” یہ کہہ کے ا س نے نظریں جھکا لیں
“کیسی شرطیں۔۔۔۔؟”میں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“بڑی مشکل شرطیں ہیں۔ لیکن اسکے علاوہ وہ لوگ کسی چیز پہ راضی نہیں ہیں ؟”
“ارے پر شرطیں کیا ہیں۔۔۔؟ مزید سسپنس نہ ڈالو، پلیز بتاؤ” میں چڑ کر بولی
“بینا۔۔۔ ! انھوں نے عزت کے بدلے عزت مانگی ہے۔۔۔۔ ” وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی
“مطلب۔۔۔۔؟ میں سمجھی نہیں۔۔۔۔ ” میں نے سوال کیا
“ارے۔۔۔ اپنی لڑکی کے عوض انھوں نے اپنے بیٹے کے لیے تمہیں مانگا ہے۔۔۔۔ ” اس نے پھر سے آنکھیں جھکا لیں۔۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ پرانے ریت رواج اب ختم ہوگئے ہیں۔ اب ایسا کون کرتا ہے ۔۔۔۔۔” مجھے اسکی بات مذاق لگ رہی تھی
“بینا ۔۔۔ ! میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ تم نے دیکھا نہیں تمہارے امی بابا کتنے پریشان ہیں” وہ سنجیدہ ہوکے بولی
“واٹ۔۔۔۔ سیریسلی۔۔۔۔؟ ” مجھے یقین نہیں آرہا تھا
“قسم سے۔۔۔۔ ایسے حالات میں میں تم سے جھوٹ کیوں بولوں گی” اس نے صفائی دی
میں تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوئی
“خیر۔۔۔ ! ان لوگوں کے کہہ دینے سے کیا ہوتا ہے، مجھے پتا ہے کہ میرے ماں باپ انکی یہ شرط کبھی نہیں مانیں گے۔۔” مجھے اطمینان تھا
“اس کے علاوہ انکے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔۔۔۔ اگر انھوں نے کاشف بھائی کو بچانا ہے تو یہی ایک آخری راستہ ہے” اس نے جواب دیا
“ارے کاشف بھائی نے اس لڑکی سے پہلے ہی شادی کرلی ہے، اب کیا مسئلہ ہے، دفع کریں ان لوگوں کو۔۔۔ یہ سب انکی لڑکی کی رضامندی سے ہوا ہے ، ہم اس میں کیا کرسکتے ہیں؟” میں پر سکون تھی
“اور اگر وہ انتقام لینے پے اتر آئے تو؟ جو وہ کہہ رہے ہیں وہ سچ کر دکھایا پھر؟” وہ میری ہر بات کو ردّ کر رہی تھی
“کیسا انتقام ؟؟” میں نے پوچھا
“انھوں نے دھمکی دی ہے کہ جب بھی انھیں موقع ملا اس لڑکی سمیت تمہارے بھائی کو مار دیں گے” اسکی آنکھوں میں خوف اتر آیا
“ارے کسی کو مار دینا اتنا آسان ہے کیا؟ ” میں اب بھی مطمئن تھی
“یہ غیرت کا معاملہ ہے، تمہیں نہیں پتا، گاؤں کے لوگ ایسے معمالات میں جوش میں آجاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کی وہ لڑکی ہے، وہ ایسے ویسے لوگ نہیں ہیں، علاقے میں ٹھیک ٹھاک رتبہ ہے انکا، آج لوگ ان پہ انگلیاں اٹھا رہے ہیں، تمہیں کیا لگتا ہے وہ یہ سب ایسے ہی جانے دیں گے” اس نے مجھے سمجھانے کہ کوشش کی
اتنے میں امی اور ممانی بھی آگئے
“دیکھیں نہ امی۔۔۔ یہ فرزانہ پتا نہیں کیسی عجیب عجیب سی باتیں کررہی ہے” میں امی سے مخاطب ہوئی
“فرزانہ جو بھی کہہ رہی وہ سچ ہے بیٹا۔۔۔ ” امی کی بجائے ممانی نے جواب دیا
امی نظریں جھکائے خاموش کھڑی رہیں
“امی۔۔۔ ! میں آپ سے پوچھ رہی ہوں” انکی خاموشی پہ میری پریشانی بڑھنے لگی
انھوں نے جواباً سر ہلایا اور فرزانہ کی بات کی تصدیق کردی۔ آگے بڑھ مجھے گلے لگایا اور سسکیاں لینے لگیں۔ پہلے پہل تو مجھے یہ سب کچھ خواب جیسا لگا۔ میں بے حس و حرکت بیٹھ رہی ۔
“امی۔۔۔ !کیا آپ لوگوں نے انکی بات مان لی۔۔۔؟” میں امید کی ایک آخری کرن ڈھونڈنے لگی۔ وہ بتدریج خاموش تھیں بس انکا پورا دھیان رونے پہ تھا۔ انکی خاموشی نے میری خاموشی توڑ دی۔ میں نے انھیں خود سے دور کیا، بیڈ سے اتر کے ڈارئنگ روم میں چلی آئی جہاں بابا اور ماموں بیٹھے تھے۔
“بابا۔۔۔ ! یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں میرے ساتھ؟ مجھے تو ڈاکٹر بننا ہے نہ، کراچی جانا ہے۔ میرا ایڈمیشن بھی ہوچکا ہے۔۔۔۔ ” میں بابا کے پاؤں میں بیٹھ گئی اور انکے گھٹنے پہ سر رکھ کے رونے لگی۔ وہ سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ ماموں نے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور بولے۔
“بینا بیٹا۔۔۔۔ ! ایک نہ ایک دن ہر بیٹی نے والدین کو چھوڑ کے جانا ہوتا ہے۔ ہم اپنی گڑیا کی دھوم دھام سے شادی کریں گے” وہ مجھے تسلی دینے لگے۔
امی فرزانہ اور ممانی کے ساتھ میرے پیچھے پیچھے آگئیں
“ماموں ۔۔ کیسی شادی؟آپ لوگ بیٹے کو بچا کے بیٹی کو ان لوگوں کے حوالے کررہے ہیں۔ میں سمجھتی تھی کہ میرا خاندان ماڈرن خیالات کا مالک ہے ۔ پر نہیں۔۔۔۔۔ ” میں پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی
“بھائی صاحب ۔۔۔ ! خدا کے لیے بچی پہ ایسا ظلم مت کریں” پہلی بار پھوپھو بولیں
“پھوپھو آپ کہیں نہ بابا سے۔۔۔۔ میرے ساتھ یہ زیادتی نا کریں۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے میرا گلا گھونٹ دیں لیکن کسی اور کے ہاتھوں تِل تِل مرنے کے لیے نہ چھوڑیں” میں پھوپھو کی طرف مڑی۔ پہلی بار پھوپھو میں مجھے ایک مسیحا نظر آرہا تھا
“بیٹیوں کا مقدر پہلے سے ہی لکھ دیا جاتا ہے۔ شائد اسکی تقدیر میں یہی لکھا تھا۔۔۔۔ “یہ کہہ کے بابا اٹھ کے باہر چلے گئے۔۔۔۔ پھوپھو نے آکر مجھے گلے لگا لیا اور میرے ساتھ وہ بھی پھوٹ کر رونے لگیں
“میری یہ تقدیر آپ نے اور آپکے بیٹے نے لکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اب سے میرے ہر دکھ درد کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔” میں بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔۔۔۔۔
