Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Jor by Zoya Hassan Episode02

Be Jor by Zoya Hassan Episode02

“بیٹیوں کا مقدر پہلے سے ہی لکھ دیا جاتا ہے۔ شائد اسکی تقدیر میں یہی لکھا تھا۔۔۔۔ “یہ کہہ کے بابا اٹھ کے باہر چلے گئے۔۔۔۔ پھوپھو نے آکر مجھے گلے لگا لیا اور میرے ساتھ وہ بھی پھوٹ کر رونے لگیں
“میری یہ تقدیر آپ نے اور آپکے بیٹے نے لکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اب سے میرے ہر دکھ درد کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔” میں بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔۔۔۔۔
جیسے کسی قیدی کو سزا موت سنا دی جاتی ہے ، اور ایک ایک کرکے اسکی امیدوں کے سبھی چراغ گل ہونے لگتے ہیں۔ میری حالت بھی کچھ ویسی ہی تھی۔
بابا کے جانے کے بعد ماموں بھی انکے پیچھے چلے گئے۔ مجھے گلے لگائے پھوپھو نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ اتنی جلدی ہار مت مانو۔۔۔ ، انکی اس بات سے مجھے سہارا ملا
“امی۔۔۔ ! میں آپکو بتا رہی ہوں، میں خود کشی تو کرلوں گی لیکن یہ قربانی نہیں دوں گی” میں اٹھ کھڑی ہوئی اور آنسو پونچھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔ ممانی نے واویلا مچا یا اور فرزانہ کو میرے پیچھے جانے کی تاکید کی۔
“بینا۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔ بینا۔۔۔” فرزانہ مجھے آواز دیتی ہوئی میرے پیچھے آ گئی۔ میں اپنے کمرے میں گئی اور پہلے سے پیک شدہ بیگ جو امی نے کراچی کے لیے تیار کیا تھا بیڈ کے نیچے سے نکالنے لگی۔
“کیا کررہی ہو۔۔۔۔؟ بینا۔۔۔ کچھ غلط مت کرو پلیز۔۔۔۔” فرزانہ میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی
“میں کراچی جاؤں گی۔ میں اپنے خواب ایسے ریزہ ریزہ ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ بھائی کی غلطی کی سزا میں کیوں جھیلوں۔۔۔۔؟” میں نے صاف صاف کہہ دیا
“سنو۔۔۔ میری بات دھیان سے سنو۔۔۔ کیا تم نے کبھی شادی نہیں کرنی تھی؟” وہ مجھ سے پوچھنے لگی
“کرنی تھی۔۔۔ بالکل کرنی تھی پر اس طرح۔۔۔ کبھی نہیں سوچا ۔۔۔” میری آنکھیں پھر سے بھر آئیں
“بس تم ایسے ہی سوچ لو کہ جو شادی تم نے کچھ سال بعد کرنی تھی وہ اب ہورہی ہے۔۔” وہ مجھے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کررہی تھی
“فرزانہ بی بی۔۔۔ ! کسی اور کو مشورہ دینا بہت آسان ہے۔ چلو ایک کام کرتے ہیں، تم بینا ہو اور میں فرزانہ میں تمہیں کہتی ہوں اس کنوئیں میں چھلانگ لگا دو۔۔۔ تو کیا تم میری بات مان لو گی؟” میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں تو وہ خاموش ہوگئی
“کیا ہوا۔۔۔ خاموش کیوں ہو؟ جواب دو۔۔۔۔۔ ” میں نے ضد کی
وہ اسی طرح خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ اور میں کارپٹ پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی
فرزانہ نے امی اور ممانی کو جا کے بتایا کہ میں کراچی جانے کی ضد کررہی ہوں۔ تھوڑی دیر بعد امی اور بابا میرے کمرے میں آئے ، میں اسی طرح نیچے ہی بیٹھی تھی۔ انھیں دیکھ کے میں نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔ کچھ پل کی خاموشی کے بعد بابا بولے
“تمہیں پتا ہے، ماں باپ کے لیے بیٹی رحمت کیوں ہوتی ہے، جب ماں یا باپ میں سے کوئی اس دنیا سے رخصت ہوتو بیٹا دنیاداری نبھانے میں لگا رہیتا ہے اور بیٹی تب تک جنازے کا ساتھ نہیں چھوڑتی جب تک تدفین کا وقت نہ آجائے۔ بیٹیوں کی محبت خدا کی رحمت کی طرح بے لوث ہوتی ہے ۔ اسی لیے بیٹی کو رحمت کہا جاتا ہے۔ اور پتا ہے رحمت کی ضرورت سب زیادہ کس وقت پڑتی ہے؟۔۔۔۔۔ جب کوئی بہت بڑی مصیبت آ پڑے، تب انسان اس ذات سے رحم کے لیے گڑگڑاتا ہے۔ میرے اوپر بھی اس وقت مصیبت کے بادل منڈلا رہے ہیں، میں اپنی جھولی پھیلا کے تم سے اس مصیبت میں مدد کی بھیک مانگتا ہوں۔ ۔۔۔۔۔”
“بابا اگر میں رحمت ہوں تو کیوں آپ مجھے اپنے گھر سے اور اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال رہے ہیں۔۔۔۔” میں نے انکی طرف نظر بھر کے دیکھا
“میرے پاس شائد تمہارے سوالوں کا جواب نہ ہو۔۔۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر تم کراچی جا کر اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہو تو میں تمہیں بالکل نہیں روکوں گا، تمہیں اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ وقت اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے ہم بھی یہ وقت گزار ہی لیں گے” یہ کہہ کے وہ کمرے سے باہر چلے گئے۔ امی بھی انکے پیچھے پیچھے چل دیں
فجر کی اذان ہوئی۔ میں نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ سر بسجود ہوکے میں نے اس ذات سے ایک ہی استدعا کی کہ اے پالنے والے ! مجھے سیدھا راستہ دکھا۔
نماز کے بعد میں کمرے سے باہر آئی۔ ڈرائنگ روم میں سب اسی طرح گم سم بیٹھے تھے۔ میں بابا کے پاس جا کے کھڑی ہوئی
“میں تیار ہوں۔۔۔۔ آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی کروں گی۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے” سب نے چونک کے میری طرف دیکھا
“کونسی شرط؟ ۔۔۔۔ بتاؤ ۔۔۔ہم تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہیں” امی نے جواب دیا
“میرے نکاح کےبعد۔۔۔ آپ لوگوں سے میرا ہر رشتہ ختم ہوجائے گا۔ وعدہ کریں کہ نہ تو آپ مجھے سے کبھی ملنے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی میں آپ لوگوں کی کوئی خبر رکھوں گی۔۔۔ ہو سکتا ہے ایسا وقت بھی آئے کہ آپ لوگوں تک میری موت کی خبر پہنچے ۔۔۔۔ یہ بھی وعدہ کریں کے آپ لوگ میرے آخری دیدار کے لیے بھی نہیں آئیں گے۔ ۔۔۔۔ آپکو یہ بھولنا ہوگا کہ اس گھر میں کبھی کسی بیٹی کا جنم ہوا تھا۔ اور میں یہ مان لوں گی کہ میں شائد کسی کی ناجائز اولاد تھی، اپنی عزت بچانے کے لیے میرے ماں باپ مجھے کوڑے کے ڈبے میں ڈال کے چیل کوّوں کے حوالے کر گئے”
میری بات کے جواب میں سب نے سر جھکا لیے
عصر کے وقت میرا نکاح ہونا تھا ۔ ہم دوپہر میں ہی نانا جان کے گھر پہنچ گئے ۔ جلدی میں کسی کو یاد ہی نہیں رہا کہ شادی کا جوڑا بھی لانا ہے۔ پر وقت بہت کم تھا۔ ماموں کی بہو نے اپنی شادی کا جوڑا پیش کرکے بہت بڑا احسان کیا۔ جیسے قربانی جانور کے گرد لوگ جمع ہوتے ہیں میرے اردگرد بھی خواتین اور بچوں نے گھیرا ڈال دیا تھا۔ میں خاموش تھی۔ فرزانہ اور اسکی بھابھی نے مجھے دلہن بنایا۔۔۔۔ ایسی دلہن جسکے تن پہ موجود کپڑے بھی بھیک کے تھے۔ ممانی کبھی کہیں سے دو جھمکے لا کے میرے کانوں میں ڈال دیتیں کبھی کوئی ہار گلے میں ۔ اور میں پتھر کی مورت بنے ساکت بیٹھی رہی۔
“میرا بھائی تمہیں بہت خوش رکھے گا۔۔۔ مجھے یقین ہے۔ وہ بہت نرم طبیعت انسان ہے، کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی ۔۔۔۔” ایک انجان آواز میرے کانوں میں پڑی اور پہلی بار میں نے سر اٹھا کے اس لڑکی کو دیکھا جس کی قیمت میری صورت میں چکائی جارہی تھی۔۔۔۔
“پر افسوس۔۔۔ تم اپنے بھائی پہ نہیں گئی۔۔۔۔۔ ” بلاساختہ میرے منہ سے نکلا
جوابا ً وہ خاموش رہی۔ اسکے پیچھے کاشف بھائی کھڑے تھے، جن کی نم آنکھیں دور سے ہی پتا دے رہی تھیں۔ میں اٹھ کے انکے سامنے جا کھڑی ہوئی
“میری دعا ہے کہ خدا آپکو وہ سب خوشیا ں دے جن کی آج تک آپ نے خواہش کی ہے۔ جو اگر آپ ہی خوش نہ رہے تو میری قربانی رائیگاں جائے گی۔ ایک دعا یہ بھی کرتی ہوں کہ خدا آپکو کبھی بیٹی نہ دے۔ جو اگر آپکی قسمت میں بیٹی لکھی بھی ہے تو اسے یہ مت بتائیے گا کہ آپکی کوئی بہن بھی تھی۔۔۔۔۔۔ شائد پھر کبھی ہماری ملاقات نہ ہو پائے، ایک بہن ہونے کےناتے مجھے سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو بخش دیجئے گا”
فرزانہ نے بتایا کہ وہ لوگ آگئے ہیں۔ آئے تو وہ چند ہی لوگ تھے لیکن انکا آنا ایک آندھی جیسے ہی تھا۔ آتے ہی نکاح خواں کو اندر بھجوایا گیا۔ مجھے سے قبول ہے کہ تین لفظ بلوائے اور شور ڈال دیا کہ لڑکی کو رخصت کرو۔ میرے سارے رشتہ دار گھر کے دروازے تک مجھے چھوڑنے آئے۔ اور جہیز میں وہی بیگ میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا جسے میں کراچی لے کے جانیوالی تھی۔ جس میں میرے نئے پرانے چند سوٹ اور کچھ ضروری سامان تھا۔ میں نے وہ بیگ واپس اپنی ماں کے ہاتھ میں پکڑایا
“میں آپکے گھر سے کچھ بھی نہیں لے کے جانا چاہتی بس میری کوتاہیوں کے لیے مجھے معاف کر دیجئے گا”
انھوں نے مجھے گلے لگایا۔ باری باری ایک ایک رشتہ دار نے مجھے الوداع کہا۔ بابا اور کاشف بھائی میرے سامنے نہیں آئے ، میں بھی یہی چاہتی تھی کہ اس وقت میرا ا ن سے سامنا نہ ہی ہو۔ نانا جان نے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور بولے
“بیٹا ۔۔ میں تمہارے بابا اور بھائی کی طرف سے تم سے معافی مانگتا ہوں۔ کوئی باپ اور بھائی نہیں چاہتا کہ انکی بیٹی کو یہ دن دیکھنا پڑے لیکن حالات نے ہم سب کو مجبور کردیا۔۔۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔ آمین”
میں نے چوکھٹ پارکی تو مجھے سہارا دینے ایک ہاتھ آگے بڑھا ۔ سامنے کھڑی تین گاڑیوں میں سے ایک گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کے مجھے بٹھا دیا گیا ۔ گاڑی سٹارٹ ہوئی ، اور میں ایک انجان منزل کی طرف چل پڑی۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور خود کو وقت کے سمندر کی لہروں کے حوالے کردیا۔ تھوڑی دور جانے کے بعد باقی دو گاڑیاں کسی اور طرف مڑ گئیں ۔
آنکھوں میں اتر آئے آنسوؤں کے طوفان نے میری پلکوں کے سارے بند توڑ دیے، میں نے گھٹنوں سے سر ٹکرایا اور میری ہر ایک سانس سسکیوں میں بدل گئی۔
“یہ لیں ۔۔۔۔ پانی پی لیں۔۔۔۔۔۔۔ !” میری طرف پانی کی بوتل بڑھا تے ہوئے وہ انجان آدمی بولا
میں نے سر اٹھا کے پہلی بار اسکی طرف دیکھا۔ وہ گاڑی چلانے میں مصروف تھا
“شکریہ۔۔۔ ! میں ٹھیک ہوں” میں اپنی انگلیوں سے آنسو پوچھنے لگی۔ اس نے ٹشو پیپر کا ڈبہ آگے کیا۔
میں نے ہچکچاتے ہوئے ٹشو پیپر نکالے اور ایک بار پھر شکریہ ادا کیا۔ اسکے بعد ایک طویل خاموشی چھا گئی۔ نہ اس نے کوئی بات کی نہ ہی میں اس حالت میں تھی کہ کچھ کہہ پاتی
ماڈل ٹاؤن لاہور کی سڑکوں پہ گھومتے ہوئے ہماری گاڑی ایک گھر کے سامنے جا رکی۔ ہارن بجنے پہ مین گیٹ کھلا ۔ گاڑی اندر داخل ہوئی۔ گاڑی کا ڈور کھول کے میرا استقبال کرنے والا وہی انجان شخص مجھے گھر کے اندر لے گیا۔
“ذکیہ۔۔۔۔ ! ذکیہ۔۔۔۔ ! ” ڈرائنگ روم میں پہنچتے ہی وہ آوازیں دینے لگا۔ چند ہی پل میں ایک جوان ملازمہ سامنے آکھڑی ہوئی
“جی صاحب۔۔۔۔ !” سر جھکا کے بولی
“انھیں کمرے میں لے جاؤ۔۔۔ کسی چیز کی ضرورت ہوتو پوچھ لو۔۔۔۔ اور ہاں امّاں سے کہہ دو کہ جلدی سے کھانا بنائیں بہت بھوک لگی ہے” اس نے ملازمہ کو ہدایات دیں
“جی ۔۔ میں کہہ دیتی ہوں”
ملازمہ مجھے ایک کمرے میں لے گئی اور بولی کہ میں فریش ہو کے کپڑے بدل لوں۔
“میرے پاس پہننے کے لیے کوئی اور کپڑے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ” میں نے ملازمہ کو بتایا
وہ سر جھکا کے باہر نکل گئی۔ میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوکے چند ایک زیور جو ممانی نے ڈالے تھے وہ اتارنے لگی۔ میرا ایک جھمکا بالوں میں اٹک گیا۔ میں اسے نکالنے لگی
“آپکے پاس اگر کوئی اور لباس نہیں ہے تو آپ حنا کے کپڑے یوز کر سکتی ہیں ۔ اسکے وارڈروب میں کافی سوٹ پڑے ہیں۔۔۔۔” وہ کمرے میں آکے مجھ سے پوچھنے لگا
“حنا۔۔۔۔ ! حنا کون۔۔۔؟” میں نے پوچھا
وہ خاموش ہوگیا، میں بالوں سے جھمکا نکالنے کی تگ ودو میں لگی رہی۔
اسکی خاموشی سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ حنا اسکی بہن اور میری بھابھی ہے۔
“نہیں۔۔۔۔ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔۔” میں نے انکار کردیا۔ جھمکے کے ساتھ اب بھی میری جنگ جاری تھی۔ وہ آگے بڑھ کے میرے پاس آگیا۔۔۔۔
“رکیے۔۔۔ میں آپکی مدد کردیتا ہوں۔۔۔۔ ” وہ پ اور اس آکے بولا
“دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔۔ میرے پاس مت آنا۔۔۔۔ “میں گھبرا گئی
وہ ہڑ بڑا کے پیچھے ہٹا۔
“میں تو بس۔۔۔ مدد۔۔۔۔ ” وہ شرمندہ ہوگیا
“مجھے آپکی کوئی مدد نہیں چاہیے، خدا کے لیے مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں” میں غصے میں چلائی
“ایکسکیوز می۔۔۔۔۔۔ ! ۔۔۔۔ میرے لیے بھی یہ سب اتنا ہی مشکل ہے جتنا آپکے لیے۔۔۔۔ میں نے بھی مجبوری میں شادی کی ہے۔۔۔۔ شوق نہیں تھا” وہ بھی چلایا
“کیا مشکل ہے آپکے لیے۔۔۔۔۔؟ کھویا کیا ہے آپ نے ؟؟ میں نے پوچھا
“میں نے اپنی بہن کھوئی ہے، تمہارے بھائی کی وجہ سے۔۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس بندھن میں بندھ گیا۔۔۔۔ ” وہ بولا
“واٹ ۔۔۔۔ ! جتنی غلطی میرے بھائی کی ہے اتنی ہی آپکی بہن بھی ذمہ دار ہے۔ اور ہاں اس نکاح سے کیا فرق پڑا آپکو۔۔۔۔۔۔؟ آپکی زندگی میں سب کچھ پہلے جیسا ہی رہے گا۔ ۔۔۔ یہ بات اور ہے ایک شو پیس کا اضافہ ہوا ہے جسے آپ اس کمرے کے کسی ٹیبل پہ سجا دیں گے۔۔۔ اور میرے پاس کیا ہے؟” میں نے حقیقت اسکے سامنے کھولی
“تمہارے لیے یہ سب کہہ دینا کتنا آسان ہے کہ تمہارا سب کچھ کھویا اور میرا کچھ نہیں” اسکی آنکھیں سرخ ہونے لگیں
“میں نے اپنا گھر کھویا ہے۔ ماں ، باپ،بھائی ،رشتہ دار۔۔۔۔ سب کچھ چھوٹ گیا مجھ سے۔۔۔۔۔” میری آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈآیا۔ وہ پاؤں پٹختا باہر جانے لگا
“اور سن لو۔۔۔۔ میں نے سپنے کھوئے ہیں۔۔۔۔ اور۔۔۔ زندگی بھی۔۔۔۔۔ “
وہ ایک پل کے لیے رکا نظر بھر کے مجھے دیکھا اور پھر چلا گیا۔
میں نے ایک جھٹکے سے بالوں میں پھنسا جھمکا نکالا اور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *