Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Jor by Zoya Hassan Episode07

Be Jor by Zoya Hassan Episode07

“میری ہر بربادی کا موجب جو شخص تھا میں اسے ہی مسیحا سمجھ بیٹھی تھی۔ کیوں کیا اس نے ایسا؟۔۔۔۔ کیوں میر ی زندگی برباد کی۔۔۔۔۔ ؟ اسے خود کیا ملا۔۔۔۔۔ ؟
میرے دل دماغ میں سوالوں کا انبار تھا
کتنی کوششوں کے بعد تو دل اس پہ یقین کرنے لگا تھا۔ آج اس نے اس یقین کی کرچیاں بکھیر دیں۔ اور میں پھر سے وہی بینا بن گئی جومیری حقیقت تھی۔۔۔۔
“بینا بی بی۔۔۔ ! ۔۔۔۔۔۔ کھانا لگ گیا ہے کھا لیں” ذکیہ نے آکے کہا
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
“اچھا۔۔۔۔ ” وہ یہ کہہ کے چلی گئی
کافی دیر گزر گئی، ذکیہ پھر سے بلانے آئی ، میں نے پھر سے منع کردیا۔
“بیٹا۔۔۔۔ کھانے سے کیا لڑائی؟” اماں آکے کہنے لگیں
“میری کھانے سے نہیں اپنی قسمت سے لڑائی ہے” میں نے انھیں جوا ب دیا
“کب تک۔۔۔۔ کب تک اس قسمت کو بیٹھ کے روو گی؟ اماں بولیں
“جب تک زندہ ہوں تب تک۔۔۔۔ ” میری آنکھیں پھر سے تر ہوئیں
” بچے۔۔۔۔ ! زندگی کا رخ ہمیشہ اسی جانب ہوتا ہے جس طرف ہم دیکھنا نہیں چاہتے ہیں” اماں آکے میرے پاس بیٹھ گئیں
“بالکل صحیح کہا آپ نے۔۔۔ پر جب زندگی کے رستے کسی اور کی وجہ سے بدل جائیں تو ایسی تبدیلی نہ دل مانتا ہے اور نہ ہی دماغ” میں نے انکی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“بیٹا۔۔۔۔۔ جب تم احتشام کی زندگی میں نہیں تھی تو بھی وہ ایک زندگی جی رہا تھا، اس زندگی میں سکھ بھی تھے اور تکلیفیں بھی، جن سے ابھی تک تم ناواقف ہو۔ وقت آنے پہ ہر ایک بات تمہارے سامنے کھلے گی، اسکے بعد کوئی فیصلہ کرنا۔ آدھا سچ سن کے کسی کو مجرم تسلیم کر لینا بہت بڑی بے وقوفی ہوتی ہے” انھوں نے احتشام کی وکالت شروع کردی
“واہ۔۔۔۔ تو اسکا مطلب میری پوری زندگی اسکی پچھلی زندگی کے راز جاننے میں ہی کٹے گی؟” میں نے چڑ کے کہا۔
“زندگی تو کٹ ہی جاتی، ایسے کاٹ لو یا ویسے۔۔۔۔ لیکن سمجھداری اسی میں ہے مسئلے بڑھانے کی بجائے سلجھا کے جیا جائے” وہ پوری کوشش کر رہی تھیں کہ میں اپنا غصہ تھوک دوں۔ لیکن اس وقت میں جس حالت سے دوچار تھی انکی کوئی بات میرا دماغ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا۔
میں اٹھ کھڑی ہوئی اور احتشام کے کمرے میں پڑا اپنا سارا سامان سمیٹنے لگی
“بیٹی۔۔۔ ! یہ کیا کرہی ہو” اماں نے پوچھا
“میں اپنا سارا سامان لے کے حنا کے کمرے میں جارہی ہو، مجھے اس شخص کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہنا” میں نے انھیں اپنا فیصلہ سنایا
“اے ہائے ۔۔۔ بیٹا کیوں اایسی بے وقوفی کررہی ہو۔ ایسا کرنے سے حقیقت بدل جائے گی؟” وہ بولیں
“میں جانتی ہوں، ایسا کرنے سے کچھ بھی نہیں بدلنے والا، لیکن میں اپنےضمیر کو اور نہیں مار سکتی۔ اس گھر سے دور جانا میرے بس میں نہیں ہے لیکن میں اس سے تو دور رہ سکتی ہوں” میرے دماغ پہ ضد سوار تھی
وہ اٹھ کے باہر چلی گئیں، میں نے اپنے کپڑے الماری سے نکال کے بیڈ پہ رکھ دیے۔ اور باقی چیزیں سمیٹنے لگی۔
“یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔؟” احتشام کمرے میں داخل ہوا
میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔
“بینا۔۔۔ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں” وہ پھر سے بولا
میں نے اس بار بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ کپڑے ااٹھا کر میں کمرے کے دروازے تک پہنچی تو وہ میرے سامنے آکے کھڑا ہوگیا
“ایسا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا تمہیں” اسکی نگاہیں میرے چہرے پہ تھیں
“جانتی ہوں۔۔۔” میں نے پہلی بار جواب دیا
“پھر کیوں کررہی ہو یہ سب۔۔۔؟” اس نے سوال کیا
“راستہ چھوڑو۔۔۔۔” میں نے غصے سے کہا
“نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ ” وہ ضد پکڑ کے کھڑا رہا۔
میں جس طرف سے جانے کی کوشش کرتی وہ آگے آکے کھڑا ہو جاتا۔
“احتشام۔۔۔۔ ! جانے دو مجھے۔۔۔ ” میں نے غصے سے چلانا شروع کردیا
“بینا ۔۔۔ یہ بچپنا بند کرو”
“راستہ چھوڑو۔۔۔”
“نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ “
“میں تمہاری قیدی نہیں ہوں”
“میں نے کبھی قیدی نہیں سمجھا تمہیں”
“جانے دو مجھے۔۔۔۔ “
“ہر گز نہیں۔۔۔”
“میری بے کسی کا تماشہ دیکھنا چاہتے ہو؟۔۔۔۔ اگر ایسا ہے تو یہ تماشہ دیکھنے کے لیے تمہارے پاس پوری زندگی ہے”
“ہم دونوں اپنی اپنی جگہ مجبور ہیں۔۔۔ ان حالات سے مَیں بھی خوش نہیں ہوں”
“تم مجبور ہو یا نہیں۔۔۔ یہ حالات تمہارے لیے کیسے ہیں اور کیسے نہیں۔۔۔۔ مجھے یہ سب جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔ اب راستہ چھوڑو”
میں نے اپنے پورے زور سے اسے سائیڈ پہ کرنے کی کوشش کی ، وہ تھوڑا سا پیچھے ہوا، لیکن میر ا زور مجھ پہ بھاری پڑ گیا۔ میں سیدھی دروازے سے جا ٹکرائی۔ اپنے آپکو سنبھالنے کے چکر میں میرا پاؤں مڑا اور میرے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ اسکے بعد میرے ساتھ کیا ہو رہا تھا کیا نہیں ، مجھے کوئی ہوش نہیں تھا۔ شدید درد نے میرے ہوش اڑا دیے۔ میری اس حالت نےباقی سب کو بھی پریشان کردیا۔ احتشام نے مجھے جلدی سے اپنے بازوں پہ اٹھایا اور گاڑی تک لے کے گیا ۔
اسپتال پہنچنے پہ ڈاکٹر نے ابتدائی معائنہ کیا اور پتہ چلا پاؤں مڑنے کی وجہ سے ہڈیاں اور ٹشوز بری طر ح متاثر ہوئے۔ پین کلرز لینے کے بعد درد کی شدت تھوڑی سی کم ہوئی۔ میں سٹریچر پہ لیٹی تھی۔ احتشام میرے پاس آکے کھڑا ہوگیا۔
“دیکھ لیا ضد کا انجام۔۔۔ ؟” وہ بولا
میں نے ناگواری سے اسے ایک نظر دیکھا پھر منہ موڑ لیا
“میڈم۔۔۔ ! کبھی کسی کی سن لیتے ہیں۔۔۔ !” وہ پھر سے بولا
“کب تک ٹھیک ہوگا۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نے کیا کہاہے؟” میں نے اس سے پوچھا
“ڈاکٹر نے بتایا کہ پاؤں فریکچر سے بچ گیا ہے لیکن ٹشوز بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اسے ہیل ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، لیکن اگر پاؤں پہ ہلکا سا بھی بوجھ پڑا تو زیادہ نقصان ہو سکتا ہے” وہ تفصیل سے بتانے لگا
“اب کیا مجھے اسپتال میں ہی رہنا پڑے گا۔۔۔۔ ؟” میں نے پوچھا
“آپکو اسپتال رہنے کی بالکل کوئی ضروت نہیں۔۔۔ یہ خادم آپکو گھر لے جائے گا۔۔۔ ” ڈرامائی انداز میں وہ سر جھکا کے بولا
میں تپ گئی، لیکن اسوقت بحث کرنا مناسب نہیں تھا۔ اس لیے خاموش رہنے پہ اکتفا کیا۔
“چلیں۔۔۔۔ ؟” اس نے پوچھا
” اب کیا وہیل چئیر پہ رہنا پڑے گا۔۔۔ ” میں نے قدرے پریشانی میں پوچھا
“لگتا تو ایسا ہی ہے۔۔۔ لیکن فالحال آپکو وہیل مین گھر پہنچائے گا۔۔۔۔ ” اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“وہیل مین۔۔۔۔ ؟” میں نے اسے گھورا
“میڈم ۔۔۔ بعد میں گھو ر لیجئیے گا۔۔۔ ابھی گھر چلتے ہیں” وہ میرے پاس آکے بولا
“میں چل کے کیسے جاؤں گی۔۔۔۔؟” میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“آپکو چلنے کا کہا کس نے۔۔۔۔ ؟” اس نے اپنے بازو میری طرف کیے
“نو ۔۔۔ وے۔۔۔۔ میں ایسے نہیں جاؤں گی” میں پیچھے ہٹی
“آپ سے کسی نے اجازت مانگی۔۔۔۔ ؟” وہ اور پاس آگیا
“احتشام ۔۔۔۔ ! دور رہومجھ سے۔۔۔” میں نے چلاتے ہوئے کہا
میں بچوں کی طرح ہاتھ ادھر ادھر مارنے لگی۔
“سر۔۔۔ گاڑی تک جانے کے لیے۔۔۔ وہیل چئیر یا سٹریچر ارینج کر دوں؟” نرس پاس آکے بولی
“نو نیڈ۔۔۔۔ تھینک یو۔۔۔۔ ” احتشام نے نرس کو جواب دیا
“ہاں ۔۔۔ سسٹر پلیز ۔۔۔ وہیل چئیر ارینج کر دیں ” میں جلدی سے بولی
پر اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی احتشام نے مجھے اپنے بازوں پہ اٹھا لیا۔
“احتشام۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔ ” میں پھر سے چلائی
وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔ پاس کھڑی نرس کی دبی ہنسی میری شرمندگی بڑھا رہی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنا بازو اسکی گردن کے گرد حائل کردیے اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ مجھے اٹھائے اسپتال کے کوریڈرو میں آگیا۔ وہاں موجود نرسیں ، ڈاکٹر اور مریض۔۔۔ سب کی نظریں ہم پہ تھیں۔ میں جان بوجھ کہ کسی کی طرف دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن ان کی سرگوشیاں اور ہلکی ہنسی مجھے پانی پانی کر رہی تھی۔
“یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔ ” میں نے اپنا ہاتھ اسکی گردن سے تھوڑا اوپر سر کے بالوں میں ڈالا اور زور سے کھنیچا۔
“سس۔۔۔۔۔ بال چھوڑو میرے۔۔۔۔ ورنہ میں چلانا شروع کردوں گا” وہ بولا
“تو چلاؤ۔۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔” میں نے تیوری چڑھا لی
“لوگ کیا کہیں گے۔۔۔ کتنی احسان فرموش لڑکی ہے۔ ایک تو بوجھ اٹھایا ہوا ہے اوپر سے بیچارے کے بال کھینچ رہی ہے” وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا
“بہت شوق ہے نا ہے تمہیں ہیرو بننے کا۔۔۔ یہ لو۔۔۔۔ ” میں نے پھر بال کھینچے
“اف۔۔۔ اب اگر تم نے بال کھینچے تو نیچے پٹخ دوں گا۔۔۔۔ ” وہ جھلا کے بولا
“پٹخ دو۔۔۔۔ مجھے بھی شوق نہیں ہے تمہارے ہاتھوں پہ سوار ہونے کا۔۔۔” میں بو لی
“پھینک دوں نیچے۔۔۔۔ ؟”
“ہاں ۔۔۔ پھینک دو”
“چلو۔۔۔ یہ لو۔۔۔۔ ” اس نے اپنے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کردی۔
“نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں گر جاؤں گی” میں نے اسکی شرٹ کے کالر ز پکڑ لیے
“پھر بال کھنیچو گی۔۔۔۔؟” وہ گھورتے ہوئے بولا
“نہیں۔۔۔ نہیں کھنیچوں گی۔۔۔” میں نے التجا کی
“پکا۔۔۔۔؟” وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگا
“ہاں۔۔ ہاں۔۔۔ پکا” میں نے اسے یقین دلایا
“گڈ۔۔۔۔ ” ایک معنی خیز مسکراہٹ اسکے لبوں پہ اتر آئی
میں اندر ہی اندر جل بھن گئی
“کافی وزنی ہو تم۔۔۔۔ کیا کھاتی ہو؟” وہ پھر سے بولا
“وزنی۔۔۔؟ میں۔۔۔ ؟ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔” میں بولی
“اف ۔۔۔۔۔!بازو تھک گئے میرے۔۔۔۔۔ آہ” وہ کراہتے ہوئے بولا
“تو کیا میں نے کہا تھا کہ مجھے اٹھاؤ؟” میں چڑ کے بولی
“چلو۔۔۔ ! اترو پھر۔۔۔ ” اس نے میرے چہرے پہ اپنی نظریں گاڑ دیں
“نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں کیسے اتروں۔۔۔۔ ڈاکٹر نے بولا ہے نہ پاؤں پہ وزن نہیں ڈالنا” میں نے درخواست کی
“ملکہ عالیہ۔۔۔۔ ! آپ نے مجھے شاہی سواری سمجھ رکھا ہے۔۔۔۔؟۔۔۔۔ گھر تک ہاتھوں پہ اٹھا کے نہیں لے جا سکتا۔۔۔ گاڑی آگئی ہے” اس نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔
” اوہ۔۔۔ اچھا۔۔۔ ” میں گاڑی کی طرف دیکھ کے بولی
اس نے بڑے آرام سے مجھے نیچے اتارا اور گاڑی کا دروزاہ کھول کے مجھے بٹھایا۔
ہم گھر پہنچے تو اماں اور ذکیہ پہلے سے ہی باہر کھڑیں ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ احتشام نے گاڑی سے اتر کے دروازہ کھولا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ میں نے ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“پلیز ۔۔ اماں اور ذکیہ کے سامنے شرمندہ نہ کرو مجھے، میں نہیں چاہتی تم ان لوگوں کے سامنے مجھے اٹھاؤ۔۔۔ ” میں نے کہا
“اماں۔۔۔ ! ” وہ اماں کی طرف مڑ کے بولا
“جی بیٹا۔۔۔؟” اماں پاس آکے بولیں
“آپ بینا کو کمرے تک اٹھا کے لے جاسکتی ہیں۔۔۔۔ ؟” اس نے پوچھا
“نہیں ۔۔۔ بیٹا۔۔۔ میری کمرمیں اتنا زور کہاں” اماں ہنس پڑیں
“ذکیہ تم اٹھا لو گی۔۔۔ ؟” وہ ذکیہ کی طرف مڑا
“نہیں صاحب۔۔۔ ” ذکیہ بھی مسکرانے لگی۔۔۔
“دیکھا ۔۔۔ ! تم کتنی وزنی ہو۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں اٹھا سکتا۔۔۔۔ ” وہ میری طرف دیکھ کے بولا
میں نے غصے سے اسے گھورا
“اوہ۔۔۔ یس۔۔۔۔ خادم چچا تمہیں اٹھا لیں گے۔۔۔ ” وہ گیٹ کی طرف جانے لگا،
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *