Be Jor by Zoya Hassan NovelR50771 Be Jor by Zoya Hassan Episode06
Rate this Novel
Be Jor by Zoya Hassan Episode01 Be Jor by Zoya Hassan Episode02 Be Jor by Zoya Hassan Episode03 Be Jor by Zoya Hassan Episode04 Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part01) Be Jor by Zoya Hassan Episode05(Part02) Be Jor by Zoya Hassan Episode06 (Watching)Be Jor by Zoya Hassan Episode07 Be Jor by Zoya Hassan Episode08 Be Jor by Zoya Hassan Episode09 Be Jor by Zoya Hassan Episode10 Be Jor by Zoya Hassan Last Episode
Be Jor by Zoya Hassan Episode06
Be Jor by Zoya Hassan Episode06
“میں نے سپنے کھوئے ہیں اور زندگی بھی۔۔۔۔۔ آپکے یہ الفاظ اکثر میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔۔۔۔ اور وہ سرخی مائل آنکھیں۔۔۔۔ صاف صاف بتا رہی تھیں کہ آپ نے اس شادی کے لیے کچھ بہت قیمتی کھویا ہے۔۔۔۔ ” میں نے اپنے دل کی بات کر دی
جیسے ہی میری بات ختم ہوئی، اس نے سنسان سڑک کے بالکل درمیان بریک لگا دی۔ وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ پھر سے اسکی آنکھوں کا بدلتا رنگ دیکھ کے میں بوکھلا گئی۔۔۔
میرے جسم پہ کپکپی طاری ہوئی۔۔۔۔۔
“کچھ چیزیں زندگی میں بہت انمول ہوتی ہیں۔ جیسے انسان کی کل متاع۔۔۔ پھر اگر کسی موڑ پہ وہ لٹ جائے تو دو راستے باقی رہ جاتے ہیں۔ یا تو بیٹھ کے انکا ماتم مناؤ یا پھر آگے بڑھو۔۔۔ میں نے دوسرا راستہ چنا ہے۔۔۔۔ اور آگے بڑھ رہا ہوں۔ اس لیے اس طرح کے سوال کر کے مجھے پیچھے مڑ کے دیکھنے پہ مجبور مت کرو۔۔۔ یہی ہم دونوں کے لیے ٹھیک ہے” اس نے پھر سے گاڑی سٹارٹ کردی۔
میں حیران اور پریشان سی اسکی باتوں کے مطلب ڈھونڈتی رہی۔
ایک سپر سٹور کی پارکنگ میں اس نے گاڑی پارک کردی۔
“ایکسکیوز می میڈم۔۔۔۔ ! ” شاپنگ کرنی ہے یا ارادہ بدل دیا؟” میں اپنے خیالوں میں گم سم سی بیٹھی تھی اسکی آواز پہ چونکی۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا ، میں نیچے اتر کے اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
ہم سٹور کے اندر پہنچے اور میں چلتے ہوئے لیڈیز پورشن میں آگئی۔ وہ بھی میرے پیچھے آگیا۔
“اف۔۔۔۔ ! اتنا نہیں پتا کہ لیڈیز پورشن میں آئی ہوں ، باہر رہ کے انتظار ہی کرلے” میں نے اپنے آپ سے سرگوشیا ں کرنے لگی۔
“ایکسکیوز می۔۔۔۔۔ !” میں اسکی طرف مڑ کے بولی
“یس۔۔۔۔ !” اس نے جواب دیا
“آپ ذرا پیٹھ دیکھائیے اور اس طرف بنا دیکھے چپ چاپ کھڑے رہیے گا” میں نے حکم صادر کیا
“وائے۔۔۔۔۔ میں کیوں پیٹھ دیکھاؤں۔۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی۔۔۔” اس نے سوال کرنا شروع کر دیے
“ہیلو۔۔۔۔ ! جتنا بولا جائے اتنا کیجیئے۔۔۔ ” میں نے گھورتے ہوئے جواب دیا۔
“پر وجہ تو بتاؤ۔۔۔۔۔ ؟” وہ پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
“آپکو دیکھائی نہیں دے رہا یہ لیڈیز پورشن ہے۔۔۔۔ ؟” میں نے اشارہ کیا
“تو۔۔۔۔ ؟” اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“بابا۔۔۔ لیڈیز پورشن ہے تو یہاں پہ لیڈیز کی پرائیویٹ شاپنگ ہوتی ہے۔۔۔” میں نے پھر سے گھورا
“اوہ۔۔۔۔ اچھا اچھا۔۔۔ میں سمجھ گیا۔۔۔۔ کرو ۔۔۔ کرو تم شاپنگ کرو۔۔۔ میں اس طرف بالکل نہیں دیکھوں گا۔۔۔۔ کہو تو آنکھیں بند کر کے کھڑا ہوجاتا ہوں” اس نے دونوں ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لیے
میری ہنسی نکل گئی۔
“اسکی کوئی ضرورت نہیں بس۔۔۔ دوسری طرف منہ کر کے کھڑے ہوجاؤ۔۔۔۔ ” میں نے کہا
“او کے۔۔۔۔ کیری آن۔۔۔۔ جب مڑنا ہوتو بتا دینا۔۔۔ ” وہ میری طرف پیٹھ کرکے کھڑا ہوگیا
آس پاس سے گزرتے کسٹمر بھی مسکرانے لگے۔
میں نے جلدی سے ضرورت کی کچھ چیزیں ریک سے نکالیں اور پھر سے اسکے پاس آکے کھڑی ہوگئی
“اپنا کریڈٹ کارڈ دیجئے۔۔۔۔ ” میں اسکے پیچھے کھڑے ہو کے بولی۔
“کریڈٹ کارڈ کیوں۔۔۔۔ ؟” اس نے پیچھے مڑے بنا ہی جواب دیا
“ارے۔۔۔ جو خریداری کی ہے اسکے پیسے نہیں دینے کیا۔۔۔۔؟” میں نے کہا
“پر۔۔۔ وہ تو کاؤنٹر پہ دینے ہیں۔۔۔ یہاں پہ کارڈ کیوں چاہیے۔۔۔ ؟” اس نے پھر سوال کیا
“بابا ۔۔۔ ! آپ مجھے کارڈ دیں گے۔۔۔ میں خود کاؤنٹر پہ جا کے پے منٹ کر دوں گی۔۔” میں نے بتایا
“ہیں۔۔۔ ! میں پے منٹ کیوں نہیں کر سکتا؟” پھر سے سوال
“چلیں ایک کام کرتے ہیں ۔۔۔میں چیزیں واپس رکھ دیتی ہوں۔۔۔ آپ کارڈ مت دیجئے” میں نے ناگواری سے جواب دیا
“نہیں۔۔۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔ یہ لیں کارڈ۔۔۔ ” اس نے اپنے والٹ سے کارڈ نکالا اور ہاتھ پیچھے کرکے کارڈ میری طرف بڑھایا۔ میں نے ہنستے ہوئے کارڈ پکڑ لیا۔
“اچھا۔۔۔ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ اب پیچھے مڑوں یا پھر ایسے ہی کھڑا رہوں” اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا
“آپ ابھی ایسے ہی کھڑے رہیے ، بالکل اسی جگہ۔۔۔ میں کاؤنٹر پہ جا کے پے منٹ کرتی ہوں۔ پھر وہاں سے جب میں آپکو اشارہ کروں تو آپ آجائیے گا” میں نے ہدایات دیں
“اچھا۔۔۔ جیسے آپ حکم کریں۔۔۔ ” اس نے بناوٹی اداسی کا مظاہرہ کیا
میں مسکراتے ہوئے کاؤنٹر کی طرف چل پڑی۔
‘اچھا سنیے۔۔۔۔ ! ” اس نے مجھے پیچھے سے آواز دی
میں اسکی طرف مڑی اور سوالیہ نظروں سے دیکھا
“یہ شادی کرنا اتنا ہی مشکل ہے کیا۔۔۔۔ ؟” ا س نے شرارتاً پوچھا
میری چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اور میں بنا کوئی جواب دیے آگے بڑھنے لگی۔
کاؤنٹر پہ پے منٹ کرنے کے بعد میں نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو وہ میری طرف چلا آیا۔ ہم دونوں سٹور سے باہر نکل آئے اور گاڑی کی طرف بڑھنے لگے۔
“ویسے یہ تو نا انصافی ہوئی نا۔۔۔۔ ” چلتے چلتے وہ بولا
“کیا مطلب۔۔۔ ؟” میں نے پوچھا
“آپکی شاپنگ اجنبی لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ کاؤنٹر والا دیکھ سکتا ہے۔ ایک میرے اوپر پابندی۔۔۔ یہ تو سراسر ظلم ہے۔۔۔ ” اس نے پھر سے ڈرامہ شروع کردیا
میں ہنسنے لگی لیکں کوئی جواب نہیں دیا
“بتائیں نا۔۔۔ یہ ظلم آخر کیوں؟ “
“ایسا اس لیے کہ آپ نے تین بار قبول ہے جو بولا ہے۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
“لو بھئی۔۔۔ یہ بھی صحیح ہے۔۔۔ شائد اسی لیے لوگ شادی سے ڈرتے ہیں۔۔۔ ” اس نے میرے لیے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا۔
“اب کہاں چلنا ہے۔۔۔۔ ؟” اس نے میری طرف دیکھ کے پوچھا
“گھر چلنا ہے اور کہاں۔۔۔ ” میں نے جواب دیا
“کہیں اور چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ۔۔۔۔۔ کہاں ۔۔۔۔ ہاں چلو کوفی پیتے ہیں۔ یہاں پاس ہی ایک کوفی شاپ ہے جہاں سے زبردست کوفی ملتی ہے۔۔۔ کیا خیال ہے؟” اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا
جواباً میں نے سر ہلا دیا۔
چند منٹ کی ڈرائیو کے بعداس نے گاڑی روک دی۔۔۔۔ اور گاڑی سڑک کے کنارے پارک کردی۔
“روڈ کراس کرکے وہ سامنے کوفی شاپ ہے۔۔۔۔ پیدل روڈ کراس کرلیتے ہیں ورنہ یو ٹرن لینا پڑے گا” اس نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا
“ٹھیک ہے۔۔۔ پیدل ہی چلتے ہیں۔۔۔۔ ” میں نے حامی بھر ی
جب ہم روڈ کراس کرنے لگے تو اس نے میرا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا
“میں چھوٹی بچی نہیں ہوں۔۔۔ خود روڈ کراس کر سکتی ہوں۔۔۔” میں نے اپنا ہاتھ چھڑایا
“اوہ سوری۔۔۔۔۔ شروع سے عادت ہے۔۔۔۔ ” وہ شرمندہ سا ہوگیا
“شروع سے مطلب۔۔۔؟” میں نے سوال کیا
“کچھ نہیں ۔۔۔ جلدی سے روڈ کراس کرو۔۔۔ ٹریفک کم ہے” اس نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا
ہم دونوں کوفی شاپ میں داخل ہوئے۔ اور ایک ٹیبل پہ قبضہ جما لیا۔ تھوڑی دیر میں ویٹر آیا
“سر۔۔ کافی دنوں بعد چکر لگا یا آپ نے۔۔۔ ” ویٹر سلام کرکے بولا
“ہاں ۔۔۔ وہ۔۔۔ مصروفیت تھی کافی” اس نے ہڑبڑاتے ہوئے جواب دیا۔ اور دو کوفی آرڈر کردی۔ کوفی شا پ میں آتے ہی۔۔۔ اسکے چہرے پہ اداسی پھیل گئی۔ میں نے اداسی کی وجہ پوچھنا چاہی لیکن اسکا وہ عجیب سا برتاؤ یاد آگیا اس لیے میں نےخاموش رہنے میں ہی آفیت جانی
“اچھا۔۔۔ میں اگر تم سے ایک سوال پوچھوں تو۔۔۔ ؟” وہ مخاطب ہوا
“جی۔۔۔ پوچھیں۔۔۔” میں نے جواب دیا
“پر میری ایک شرط ہے۔۔۔ تم ایسا کوئی سوال مجھ سے نہیں پوچھو گی” اس نے عجیب سی شرط رکھ دی
“یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ ؟” میں نے حیرانی سے پوچھا
“بھئی۔۔۔ یہی شرط ہے۔۔ جواب دینا ہے تمہاری مرضی نہیں دینا تو بھی بتا دو” وہ اپنی بات پہ پکا ہوگیا۔
“اچھا پوچھیں۔۔۔ ” میں نے ہار مان لی
“سوال یہ ہے کہ۔۔۔ یہ تو میں جانتا ہوں۔ اس شادی کے لیے تم نے بہت کچھ کھویا، بہت تکلیفیں بھی برداشت کیں۔۔۔ پر ایسی کونسی ایک چیز ہے جس کا تمہیں پوری زندگی دکھ رہے گا” اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
“میں نے آج تک صرف ایک ہی خواب دیکھا تھا۔۔۔۔ اور وہ تھا ڈاکٹر بننے کا۔ میں اس منزل تک پہنچ بھی گئی تھی۔ پر ایکدم سے سب کچھ بدل گیا” میری آنکھیں نم ہونے لگیں
“تفصیل سے بتاؤ۔۔۔ ” اس نے مزید پوچھا
“میرا کراچی کے ایک میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا تھا۔ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اسی دن مجھے کراچی جانا تھا۔ پر نصیب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میرا وہ خواب خواب ہی رہ گیا۔ بس اسی ایک چیز کا زندگی بھر افسوس رہے گا” میری آنکھ سے آنسوٹپک پڑے
“ہیے۔۔۔۔ کم آن۔۔۔ رونا بند کرو۔۔۔ اگر تم اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی ہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں” اس نے مجھے تسلی دی
“کچھ ہی دیر پہلے آپ نے ایک بات کی تھی، جب انسان کی متاع چھن جائے تو یا وہ زندگی بھر بیٹھ کے روتا ہے یا پھر صبر کرکے آگے بڑھتا ہے ، آپکی طرح میں نے بھی دوسرا راستہ چنا ہے۔ میں نے بھی اپنے سارے خواب دفن کردیے” آنسو پوچھتے ہوئے میں نے جواب دیا
“تم اپنے خواب پورے کرسکتی ہو۔۔ تمہارے پاس وقت بھی ہے اور موقع بھی” اس نے میری ہمت بڑھانے کی کوشش کی
“جب کسی کانچ پہ ہلکی سی دراڑ پڑ جائے تو وہ پھر کسی کام کا نہیں رہیتا۔ میرے خوابوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ان پہ بھی دراڑ پڑ چکی ہے۔ اب نہ ہمت باقی ہے اور نہ ہی شوق” میں نے اسکے چہرے پہ نظریں جما دیں
ویٹر کوفی لے کے آیا اور ہم دونوں نے چپ چاپ کوفی پینے لگے۔ دونوں ہی اپنے اپنے خیالوں میں کھو گئے
کوفی شاپ سے نکل کے ہم سیدھا گھر پہنچے۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ مجھے کافی نیند آرہی تھی۔ میں جاتے ہی لیٹ گئی۔ وہ بھی ادھر ادھر کے چکر لگاتے بیڈ پہ آگیا۔
“سنو۔۔۔ !” اس نے آواز دی
میں نے آنکھیں کھول کے اس کی طرف دیکھا
“بارڈر کی خلاف ورزی نہیں کرنی۔۔۔۔ ” وہ مسکرایا
میں بھی مسکرا دی۔ ہم دونوں نے ایکدوسرے کو گڈ نائٹ بولا اور سو گئے۔
رات کے کسی پہر اسکے خراٹوں کے شور پہ میری آنکھ کھل گئی۔
اف ۔۔۔ اتنے بھیانک خراٹے۔۔۔ میں تپ گئی۔۔۔ کیا کروں۔۔۔؟ دل تو کیا کہ اس جگا کے کہ کہوں کہ خراٹے بند کرے اپنے۔ لیکن پھر سوچا میری تو جو نیند خراب ہوئی سو ہوئی۔ اسکی نیند خراب کرنا مناسب نہیں ہے۔ کچھ دیر مزید جب بنا کسی وقفے کے وہ آواز میری کان میں پڑتی رہی تو میں نے اپنا کمبل سمیٹا اور صوفے پہ جاکے لیٹ گئی۔
صوفے پہ لیٹنا تھا۔ پھر سے نظر پینٹنگ پہ پڑ گئی، ہلکی روشنی میں گھوڑےاور زیادہ خوفناک نظر آرہے تھے۔ پھر سے بھوتوں کا خوف میرے سر پہ سوار ہوگیا۔
اوہ خدایا۔۔۔ کیا کروں۔۔۔
بیڈ پہ جاتی ہوں تو احتشام کے خراٹے نہیں سونے دیتے صوفے پہ آتی ہوں تو بھوت بے چین کرتے ہیں۔ میں نے پھر سے کمبل سمیٹا اور نیچے کارپٹ پہ پسر گئی۔ کارپٹ پہ سکون کی نیند تو نہیں آنی تھی پر ان دوچیزوں سے تو سکون تھا۔
میں نے کروٹ بدل لی۔۔۔ کچی نیند میں ہلکی سی آنکھ کھلی تو میری سامنے تیز روشنی سی چمکتی دو آنکھیں تھیں۔ پہلے پہل تو مجھے لگا میرا وہم ہےلیکن وہ دونوں آنکھیں جوں جوں میرے قریب بڑھنے لگیں۔ میں نے ایک زور دار چیخ ماری۔۔۔ اور ساتھ ہی بیڈ پہ چڑھ کے چھلانگیں لگانے لگی
“بھوت ۔۔۔ بھوت ۔۔۔۔ بچاؤ ۔۔۔ بچاؤ۔۔۔” میں نے واویلہ مچا دیا۔
احتشام بھی ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھا۔ اور جلدی سے لائیٹ آن کردی۔ میں آنکھیں بند کیے بیڈ پہ اسی طرح چھلانگیں لگاتی رہی۔
“ارے۔۔۔ کہاں ہے بھوت۔۔۔ پاگل ہوگئی ہو ۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔؟” وہ مجھ سے پوچھنےلگا
“بیڈ کے نیچے بھوت ہے۔۔۔ بچاؤ ۔۔۔۔۔۔ بچاؤ۔۔۔” میں نے نہ تو آنکھیں کھولیں اور نہ ہی چھلانگ لگانا بند کیں۔ وہ بیڈ کے نیچے جھانکنے لگا
“کہاں ہے بھوت۔۔۔؟ کوئی بھوت نہیں ہے۔۔۔۔ ارے وہ تو۔۔۔ ” وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ پر میں اسی طرح شور مچاتی رہی۔ وہ بھی بیڈ کے اوپر کھڑ ا ہوگیا اور اپنے دونوں بازو میرے گرد حائل کرکے مجھے گلے لگا لیا۔۔۔۔ اسکے گلے لگاتے ہی میں ایکدم خاموش ہوگئی۔ ایک عجیب سا سکوں آگیا۔ وہ کافی دیر یونہی کھڑا رہا اور میں اس سے لپٹی رہی، جب ہوش میں آئی تو میں جلدی سے پیچ ہٹی۔ اس نے میرے ہاتھ سے پکڑا اور بولا
“نیچے اتر کے دیکھو کہ کیا ہے یہ۔۔۔۔ ” اس نے مجھے بیڈ کے نیچے دیکھنے کا اشارہ کیا
میں ڈرتے ہوئے نیچے اتری اور بیڈ کے نیچے جھانک کے دیکھا۔
اوہ مائی گاڈ۔۔۔ وہ موٹی تازی بلی تھی۔ مجھے اس بلی پہ شدید غصہ آیا۔
“اب دیکھ لیا۔۔۔ اتنے دنوں سے جس سے تم ڈر رہی تھی وہ یہی بھوت تھا” و ہ بولا
“اسکا مطلب اس رات صوفے پہ جب میں لیٹی تھی تو میرے اوپر کسی بھوت نے چھلانگ نہیں لگائی بلکہ یہ کمینی تھی۔۔۔ ” میں نے اپنے آپ سے کہا۔۔۔
احتشام نے بلی کو کمرے سے نکالا۔
“پر تم اس وقت بیڈ کے نیچے کیا کررہی تھی؟” اس نے گھورتے ہوئے پوچھا
“آپکے خراٹوں کی وجہ سے نیند کہاں آنی تھی ۔۔۔ اس لیے کارپٹ پہ سو گئی” میں نے جواب دیا
“میرے خراٹے۔۔۔؟ نو ۔۔۔ وے” اس نے نفی میں سر ہلایا
بعد میں پتا چلا جسے میں احتشام کے خراٹے سمجھ رہی تھی وہ بھی اس بلی کی آواز تھی۔ حد ہے ویسے۔۔۔ یہ بلی تو میری جان کا عذاب بنی ہوئی تھی۔ میری ہر پریشانی کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا۔
جب تسلی ہوئی تو ہم لوگ سکون کی نیند سوئے۔
اگلے دن صبح جب ذکیہ اور اماں کام پہ آئے تو میں ذکیہ کو لے کے پیپل کے نیچے پہنچی اور انوسٹیگیشن کرنے لگی کہ آخر اسکے چہرے پہ اس دن خون کے قطرے کہاں سے گرے۔ پرندوں کے پروں اور فرش پہ ہلکے سے خون کے قظروں کے نشان اس بات کی گواہی دے رہے تھے کی یہ بھی اسی بلی کی کارستانی ہے۔
بھوت والا خوف سر سے ٹلا تو زندگی سکون میں آگئی۔ یہ اور بات تھی کہ احتشام کو مجھے چھیڑنے کا مظبوط مدعا مل گیا تھا۔ آج کا دن بہت ہی اچھا تھا۔ آہستہ آہستہ میں اس ماحول کی عادی ہونے لگی تھی۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ میرے سبھی واہمے کم ہونے لگے۔ جہاں اماں سے ماں کا پیار میسر تھا وہیں احتشام میری ہر چھوٹی اور بڑی چیز کا خیال رکھنے لگا۔ میں نے ٹی وی لاؤنج کی جان چھوڑی اور گھر کے کاموں میں دلچسپی لینا شروع کیا۔ اس بات کے لیے اماں کافی متعرف تھیں۔ ہر ایک پل انکی رہنمائی احتشام کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہورتی رہی۔ ایک دن شام میں باتیں کرتے کرتے اماں نے یونہی پوچھ لیا
“بیٹا ۔۔۔ ! تمہیں اپنے ماں باپ کی یاد نہیں آتی۔۔۔؟”
انکا یہ سوال میری آنکھیں نم کر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے میں سسکیوں میں آگئی۔ اگلے ہی دن احتشام میرے لیے ایک موبائل فون لے آیا ۔ جسے لینے سے میں نے صاف انکار کردیا۔ اسکا یہی سوال تھا کہ مجھے اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنا چاہیے اور انھیں اپنی خیریت سے آگاہ کرنا چاہیے۔ پر میں اپنی ضد پہ ڈٹی رہی۔ اس گھر سے نکلتے جو میں نے ایک قسم کھائی تھی اس قسم کو میں کسی صورت نہیں توڑنا چاہتی تھی۔
ہفتوں سے بات مہینوں تک جا پہنچی ، احتشام اور میرا رشتہ اور زیادہ مظبوط ہونے لگا۔ لیکن یہ رشتہ سراسر دوستی پہ محیط تھا۔ نہ تو اس نے کبھی شوہر ہونے کا حق جتایا اور نہ ہی میں بیوی کے روپ میں کبھی اسکے سامنے آئی۔
“سنو۔۔۔۔ !” میں لان میں بیٹھی اماں کے ساتھ سبزی کاٹنے میں مصروف تھی۔ احتشام کی آواز پہ میں چونکی۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا موبائل فون میرے کان کے ساتھ لگا دیا۔ میں اس سے پوچھنے لگی کہ کون ہے۔ پر اس نے بنا بولے اشارہ کیا کے میں بات کروں
“ہیلو۔۔۔ !” میں نے فون کان کے ساتھ لگا کے بات کی
“بینا۔۔۔۔ ! میری بچی۔۔۔۔۔ ” امّی کی آواز میری کانوں میں پڑی
“امّی۔۔۔۔۔ !” بلا ساختہ میں سسکیوں میں آگئی۔ دوسری جانب انکی بھی حالت میرے جیسی ہی تھی۔ ان بیت دنوں میں انکے بارے میں نہ سوچنے کی جو میں نے قسم کھائی تھی ایک پل میں ٹوٹ گئی۔
“کیسی ہو بیٹا۔۔۔۔ ؟”
“کیسی ہوں گی۔۔۔۔ ؟ آپ کیسی ہی اور بابا۔۔۔۔ کاشف۔۔” کاشف بھائی کا نام جیسے میری زبان پہ آیا پھر سے وہی کڑ واہٹ میری لہجے میں اتر آئی۔
“ایک بار جب کنوئیں میں دھکا دے ہی دیا تو اب کیا پوچھتی ہیں میں کیسی ہوں” میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے
“میری بچی۔۔۔۔۔ !” وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھیں
“آپکی بیٹی اسی دن مر گئی تھی جب آپ نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے گھر سے رخصت کیا تھا۔ آپکے اور میرے بیچ کوئی رشتہ باقی نہیں ہے۔۔۔۔ ” میرے ہر لفظ میں کڑواہٹ تھی
“ہم مجبور تھے بیٹا۔۔۔۔۔ ” وہ بولیں
“اب میں مجبور ہوں۔۔۔ خدارا پھر کبھی مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کیجئے گا” یہ کہہ کے فون کاٹ دیا۔ میں نے فون احتشام کو تھمایا اور بھاگتی ہوں کمرے میں چلی گئی۔
آج اتنے دنوں بعد ، جتنے پرانے زخم تھے پھر سے ہرے ہوگئے۔ کافی دیر گھٹنوں پہ سر ٹیکے میں روتی رہی۔ کچھ دیر گزری تو احتشام اندر آیا ۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے آکے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا۔
“سنبھالو خود کو۔۔۔۔ ” وہ بولا
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ ” میں نے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا۔
“میں مانتا ہوں ہم دونوں کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ہماری مرضی کے خلاف تھا۔ لیکن اسے پورے معمالے میں ہر شخص اپنی جگہ پہ مجبور تھا۔ اور خاص طور پر تم اور تمہاری فیملی” وہ سمجھانے لگا۔
“تمہاری کیا مجبوری تھی؟” میں نے اس کی طرف دیکھا
“میری مجبوری۔۔۔۔۔ ؟ ” اس نے ایک آہ بھری
“کیوں۔۔۔؟ تم مجبور نہیں تھے کیا۔۔۔ ؟ تمہاری رضا شامل تھی۔۔۔؟ ” میں نے سوال کیا
“میری مجبوری اور نوعیت کی تھی، تم نہیں سمجھو گی۔۔۔۔!” وہ بولا
“میں نہیں سمجھوں گی یا پھر تم مجھے سمجھانا ہی نہیں چاہتے۔۔۔۔۔؟” ا س بار میں اسے کسی صورت اس صورت حال سے بھاگنے نہیں دینا چاہتی تھی۔
“کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔۔؟” وہ جھلا کے بولا
“میرا مطلب بالکل صاف ہے۔۔۔۔ میں ابھی تک تمہاری مسٹری سے ناواقف ہوں۔ نہ آج تک تم نے مجھے یہ بتایا کی آخر کونسی ایسی مجبوری تھی جس نے تمہیں مجھ سے شادی کرنے پہ مجبور کیا اور نہ ہی مجھ سے پہلے کی تمہاری زندگی کا کچھ بھی اندازہ ہے مجھے۔۔۔۔ ” میں اٹھ کھڑی ہوئی
“اور آج تم میری ماں سے بات کرا کے مھان بن گئے۔۔۔۔ ،اور بائی دا وے۔۔۔ میری ماں نے تم سے کیسے رابطہ کیا۔۔۔۔؟۔۔۔۔ اوہ رائٹ۔۔۔۔ حنا۔۔۔حنا سے تمہارا رابطہ ہے ۔۔۔” میں بات کی تہہ تک پہنچ گئی۔
جواباً وہ خاموش کھڑا رہا۔
“کیوں۔۔۔؟ اس دن تو تم لوگوں کی طرف سے حنا اور میرے بھائی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔۔۔ پھر اچانک تمہارا دل موم کیسے ہوگیا۔۔۔۔ اپنی کزن کے لیے۔۔۔۔ اور وہ بھی ایسی صورت میں جب اسکی وجہ سے تمہاری کل متاع تم سے چھین لی گئی تھی” میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل کے سوال کیا
وہ پھر بھی خاموش رہا۔
“احتشام صاحب ۔۔۔ کب تک خاموش رہیں گے۔ آج تو سچ اگل ہی دیں۔۔۔۔ اور کہہ دیں آپ بھی جھوٹے ہیں اور آپکا خاندان بھی۔۔۔۔ آپ لوگوں نے مجھے اور میرے گھر والوں کو بیوقوف بنایا ہے۔ دھوکہ کیا ہم لوگوں کے ساتھ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کے ،میں کمرے سے باہر جانے لگی۔ اس نے میری کلائی سے پکڑا اور ایک جھٹکے سے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اور خود میرے بالکل قریب آکے بولا
“سچ جاننا ہے تمہیں۔۔۔ ؟ تو سنو۔۔۔ ! میرا حنا سے پہلے دن سے ہی رابطہ ہے۔ یا یوں کہوں کہ میرا اس کبھی رابطہ ٹوٹا ہی نہیں تھا۔ اور اتنا ہی نہیں، میں نے اپنے ہاتھوں سے حنا کا تمہارے بھائی سے نکاح کرایا۔۔۔۔ حنا کی طرف سے گواہ میں تھا۔۔۔۔۔ اتنا بہت ہے یا پھر اور بھی سننا ہے۔ ۔۔۔” اس نے ایک جھٹکے سے میرا ہاتھ چھوڑا اور میں بیڈ پہ جا گری اور وہ پاؤں پٹختا کمرے سے باہر نکل گیا۔
پھر سے میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے۔
“میری ہر برباردی کا موجب جو شخص تھا میں اسے ہی مسیحا سمجھ بیٹھی تھی۔ کیوں کیا ایسا اس نے؟۔۔۔۔ کیوں ایسے میر ی زندگی برباد کی۔۔۔۔۔ ؟ اسے خود کیا ملا۔۔۔۔۔ ؟
میرے دل دماغ میں سوالوں کا پھر سے انبار لگنے لگا۔
کتنی کوششوں کے بعد تو دل اس پہ یقین کرنے لگا تھا۔ آج اس نے اس یقین کی کرچیاں بکھیر دیں۔ اور میں پھر سے وہی بینا بن گئی جومیری حقیقت تھی۔۔۔۔
