Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alif Allah (Last Episode)

Alif Allah by Ibne Aleem Rana

وہ جیسے جیسے حرم کے قریب ہوتے جارہا تھے۔

ان کے دل کی دھڑکن بڑھتی جارہی تھی۔

جزبات ایسے تھے جیسے محبوب سے پہلی ملاقات ہو اور۔

انسان کے پاس اپنے محبوب کو دینے کے لیے کچھ نہ ہو۔

مگر پھر بھی اسے یقین ہو کہ۔محبوب برا نہیں مانے گا۔

ان کا ہوٹل بسم اللہ کبری کی طرف تھا۔اور اب کبری (پل) کے قریب پہنچ گئے تھے۔

اس کے آگے کبوتر چوک تھا ۔

پھر ایک ویسی ہی کبری (پل) تھا

اور اس کے بعد ہر مسلمان کا وہ حسین خواب تھا۔جسے وہ پیدا ہونے سے لیکر مرنے تک اپنی آنکھوں میں سجاۓ رکھتا ہے۔

اس سے آگے حرم پاک تھا۔

ان کے قدم اپنے آپ تیز ہوگئے تھے۔

اور شوق عروج پہ جا پہنچا تھا۔

کچھ اور آگے گئے تو سامنے ہی حرم کی پاک چاردیواری نظر آنے لگی۔

جس کے اندر خانہ کعبہ تھا۔

وہ جوتے ہوٹل میں ہی چھوڑ آۓ تھے۔

انہوں نے وضو کیا۔

آب زم زم سے روح کی پیاس بجھائی ۔اور

باب عبدالعزیز سے گزر کر اندر داخل ہوگئے۔

ان کو لگا جیسے جنت میں آگئے ہوں ۔

رات کے دس کا وقت تھا ۔پھر بھی لوگوں کا اس قدر رش تھا کہ ان کو باب عبدالعزیز سے کعبہ تک پہنچنے میں دس منٹ لگ گئے۔رش نہ ہو تو اتنا وقت نہیں لگتا۔

کعبہ ان کے سامنے تھا۔

وہ وہیں رک گئے۔۔۔نور نے ان سے کہا تھا کہ۔کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جاۓ قبول ہوتی ہے۔

اس لیے وہ وہاں رک گئے تھے اور دعا مانگنے لگے۔

آنسو خود بخود نکل آۓ تھے۔

نور نے سب کے لیے دعا کی ۔اور اپنے لیے بھی۔

سامنے سیڑیاں تھیں۔جن سے اتر کر نیچے جانا تھا۔

دعا مانگ وہ سب سیڑیاں اترے اور بیت اللہ کا طواف کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوگئے۔

سب ایک ساتھ ہی چل رہے تھے۔

بچے انہوں نے گود میں اٹھالیے تھے۔

نور نے آنے سے پہلے عمرہ کے مطلق لکھی کتاب کا مطالعہ کیا تھا۔اور وہ کتاب ساتھ بھی لیکر آئی تھی۔

نور انکو بتارہی تھی کہ۔حجراسود کے سامنے دائیں طرف جو سبز لائٹ لگی ہے اس کے قریب پہنچ کر ایک چکر مکمل ہوگا۔

پھر وہاں سے حجر اسود کو بوسہ دیکر

بسم اللہ اللہ اکبر

کہہ کر دوسرا چکر شروع کرناہے۔اور ہر چکر پہ یہاں پہنچ کر ایسے ہی کرنا ہے۔

اگر بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو دور سے ہی ہاتھ اٹھا کر حجر اسود کی طرف کرکے ہاتھ چوم لینے ۔۔۔اور چکر شروع کردینا۔

ایسے ہی کرتے وہ پانچويں چکر پہ تھے جب ان کو بیت اللہ کے قریب ہونے کا موقع مل گیا۔

انہوں نے بےتابی سے کعبہ کو چھوا تھا۔

اور اس کے غلاف کو چوما۔

یہ لمحہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان تو انسان پتھر بھی ہوں تو رو پڑیں۔

نور نے جیسے ہی کعبہ کو چھوا۔

اس کی آنکھوں سے آنسوؤ کی جھڑی لگ گئی۔

اس نے غلاف کعبہ کو چوما اور۔

اس پہ سر ٹکادیا۔

اسے لگا جیسے اللہﷻ کی رحمت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔

وہ بےتحاشہ روئی تھی۔

رونے سے وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی۔

جیسے روح پہ صدیوں کا کوئی بوجھ تھا جو اتر گیا ہو۔

دوسروں کا بھی یہی حال تھا۔

وہ بھول چکے تھے کہ ۔وہ کون ہیں؟؟؟

بس ایک ہی خیال تھا ذہن میں۔۔۔

اللہﷻ کی رحمت کا خیال۔

انہوں نے اپنے چکر مکمل کیے۔

آخری چکر میں ان کو حجر اسود کو بوسہ دینے کی سعادت بھی ملی۔اور حجر اسود کے عین پیچھے والے کونے پہ رکن یمانی ہے۔

نور نے پڑھا تھا کہ وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اس نے وہاں کھڑے ہوکر رکن یمانی کو چھوکر بہت دعائیں کی تھیں۔

طواف مکمل کرنے کے بعد وہ سعی کرنے صفامروہ کی طرف چلے گئے۔

صفا پہاڑ سے سعی شروع کی اور سات چکر مکمل کر کے باہر نکل آۓ۔

اگلے دن وہ مسجد عائشہ گئے اور وہاں سے احرام باندھ کر آۓ۔اور عمرہ کیا۔

کوئی دن ان کا عمرہ یا طواف کے کے بغیر نہیں گزرتا تھا۔

وہ جنت المعلیٰ بھی گئے تھے۔دنیا کا دوسرا بہترین قبرستان جہاں بڑی بڑی ہستیاں آرام فرما رہی ہیں۔

نور اور عاصم نے اپنے ماں کی طرف سے بھی عمرے کیے۔

اور جو بہن بھائی زندہ تھے ان کی طرف سے طواف کیا۔

پندرہ دن بعد وہ مدینے کی طرف چل پڑے تھے۔

مدینے کا سفر بھی انسان کو عجیب ہی سرور دیتا ہے۔

مکہ سے مدینہ تقریبا آٹھ نوسو کلومیٹر دور ہے مگر۔محسوس ہی نہیں ہوتا۔

سب سے پہلے وہ مسجد قباء گئے تھے۔

مسجد قباء اسلام کی پہلی مسجد ۔جس میں دو رکعت نفل کا ثواب ایک عمرے کے برابر ہے۔

انہوں نے دو دو رکعت تحیتہ المسجد کے پڑھے اور مسجد نبوی کی طرف چل پڑے۔

مسجد نبوی وہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔

گاڑی نے ان کو مسجد نبوی کے قریب ایک ہوٹل میں اتارا۔

انہوں نے اپنا سامان ہوٹل میں رکھا اور وضو کرکے مسجد نبوی ﷺکی طرف چل پڑے۔

وہ مسجد نبوی کے گیٹ نمبر سینتیس کے پاس پہنچے ہی تھے کہ۔ مغرب کی آذان کی دلکش آواز آئی۔آذان سے عجیب ہی سماں بندھ گیا تھا۔

گیٹ سے داخل ہوتے ہی ان کی نظر سامنے گنبد خضریٰ پر پڑی۔۔۔

ان کے چہرے کھل اٹھے تھے۔

مدینے کا نام سن کر ہی چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔اور پھر مدینے میں مسجد نبوی میں گبند خضریٰ کے سامنے ہوں تو مسکراہٹ کیونکر نہ آۓگی؟؟؟

یہ وہی شہر تو ہے جہاں کسی کا دل نہیں توڑا جاتا۔

جہاں روتے ہوۓ آتے ہیں اور ہنسی لیکر جاتے ہیں۔

گیٹ نمبر سینتیس سے داخل ہوتے ہی دائیں طرف جنت البقیع ہے۔

دنیا کا پہلا بابرکت قبرستان جہاں دفن ہونے کی خواہش لیے بہت سے لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

یہاں بھی بہت سی عظیم ہستیاں آرام فرمارہی ہیں۔

قبرستان اس وقت بند تھا۔یہ صرف صبح فجر کے بعد ہی کھلتا ہے۔اور لوگ زیارت کرتے ہیں۔

وہ گنبد خضریٰ کے قریب پہنچ گئے تھے۔

گیٹ سے داخل ہونے کے بعد سے لیکر یہاں تک پہنچنے میں ان کی نظر ایک پل بھی سبز گنبد سے نہیں ہٹی تھی۔

نور ریشم اور اس کی بیٹیوں کے ساتھ عورتوں والے مخصوص حصے کی طرف چلی گئی۔اور عاصم مردوں والے حصے میں داخل ہوگیا۔اندر داخل ہوتے ہی وہ مسحور ہوگیا تھا۔مسجد نبوی گویا جنت کا ٹکڑا ہی ہے۔

وہ لوگوں کی لائن میں لگ گیا جو ریاض الجنہ میں نفل پڑھنے کے لیے قطار بناۓ کھڑے تھے۔

ریاض الجنہ۔ممبر رسولﷺ سے لیکر اماں عائشہؓ کے حجرہ مبارک کے درمیان وہ جگہ ہے جس کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا کہ۔یہ جنت کا ٹکڑا ہے۔اور قیامت کے دن جنت میں شامل کردیا جاۓ گا۔

عاصم کا نمبر بھی لگ گیا ۔

اسے نور نے بتایا تھا کہ۔روضہ رسولﷺ پہ حاضری سے پہلے ہوسکے تو ریاض الجنہ میں ورنہ مسجد نبوی میں کہیں بھی دو رکعت تحیتہ المسجد کے ضرور پڑھنا پھر روضہ رسولﷺپہ حاضری دینا۔کیونکہ آپﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ کوئی اگر مسجد میں آۓ تو وہ تحیتہ المسجد کے دورکعت نفل ضرور پڑھے۔

عاصم نے ریاض الجنہ میں دو رکعت پڑھے۔اور ساتھ ہی روضہ رسول ﷺ پہ حاضری دینے کے لیے لوگوں کی لائن میں لگ گیا۔

لوگ آہستہ آہستہ چلتے جارہے تھے۔اور حاضری دیکر درودسلام پڑھتے باہر نکل جاتے تھے۔عاصم بھی ہاتھ باندھے نظریں جھکاۓ چل رہا تھا۔روضہ رسولﷺ کے بلکل عین سامنے پہنچا تو اس کے چہرے پہ بےساختہ مسکراہٹ آگئی۔

سب سے پہلے جالیوں میں بنے ایک سوراخ پر لکھا ہوا تھا۔

محمد الرسول اللہ ﷺ

اس نے وہاں پہنچ کر اندر جھانکا۔اور بولا

اسلام علیک یارسول اللہ ﷺ

ساتھ ہی دوسرا سوراخ تھا جس پہ۔

ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لکھا ہوا تھا۔

اس نے سلام کیا۔

پھر تیسرا سوراخ ہے جس پہ

عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لکھا ہے۔

اس نے سلام کیا۔اور

درودسلام پڑھتا باہر نکل گیا۔

وہاں سب ہاتھ باندھے ادب سے آجارہے تھے۔یا کھڑے تھے۔وہاں کوئی بڑا چھوٹا نہیں تھا۔سب برابر تھے۔

ویسے ہی جیسے کعبہ کے طواف میں سب کا لباس ایک سا ہوتا ہے۔کوئی امیر ہو یا غریب۔گورا ہو یا کالا۔سب برابر ہوتے ہیں۔یہاں بھی ویسا ہی منظر تھا۔ہر کوئی خود کو خوش نصیب سمجھ رہا تھا۔اور یہ خوش نصیبی ہی تھی کہ۔خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ پہ حاضری نصیب ہوگئی تھی۔

یکساں ہیں شاہ وگدا فقیر تیرے در پہ۔

ہوتی نہیں کسی کی تحقیر تیرے در پہ۔

وہ جن کو زمانہ حقارت سے دیکھتا ہے ۔

علیمؔ ملتی ہے ان کو بھی توقیر تیرے در پہ۔

انہوں نے عشاء کی نماز بھی مسجد نبوی میں پڑھی ۔اور پھر رات کو واپس ہوٹل آگئے۔

وہ آٹھ دن مدینے رہے۔اور

پھر بھیگتی آنکھوں سے دوبارہ آنے کی آس لیے مکہ واپس آگئے۔

مکہ میں انہوں نے باقی دن گزارے اور واپس پاکستان آگئے۔۔۔

کئی دن لوگ ان کو ملنے آتے رہے۔مہینوں ان کی زبان پر بھی اس سفر کی باتیں رہیں۔

ریشم اور اس کی بیٹیاں اب بہت خوش رہتی تھیں۔

انہوں نے زندگی کی حقیقی لذت کو محسوس کرلیا تھا۔ان کو پتہ چل گیا تھا کہ۔اصل سکون کس چیزمیں ہے؟؟؟

وہ جان گئی تھیں کہ۔حقیقی سکون صرف اللہﷻ کی رضا میں ہے۔باقی سب مایا ہے۔

ریشم دس سال زندہ رہی اور پھر ان کو روتا چھوڑکر خالق حقیقی سے جاملی۔

دن گزرتے رہے مہینے سالوں میں بدلتے رہے۔نور کے بچے جوان ہوگئے تھے۔عاصم اور نور بوڑھے ہوگئے تھے مگر نور کا اب بی وہی وطیرہ رہا۔قران پڑھنا اور پڑھانا۔اب اس کے ساتھ ریشم کی دونوں بیٹیاں بھی بچوں کو پڑھاتی تھیں۔وہ بھی اب عمر کی آخری منزل طے کررہیں تھیں۔

عاصم نے ایک اور جنرل سٹور بنالیا تھا جس پہ اس کا بیٹا محمد ہوتا تھا اور چار لوگ رکھ لیے تھے۔

خود اس کے پاس بھی چھ لوگ تھے ۔دونوں سٹور آس پاس کے گاؤں میں سب سے بڑے اور ایمانداری کی مثال مانے جاتے تھے۔منافع وہ شروع سے ہی انتہائی کم لیتا تھا۔اور ادھار دیکر بھی تنگ نہیں کرتا تھا ۔لوگ خود ہی جیسے جتنے ہوتے واپس کرجاتے۔

عاصم نے اپنی دونوں بیٹیوں اور بیٹے کی شادیاں کردی تھیں۔

ان کے بچے بھی تھے۔پھر نور کے بیٹے نے ریشم کی بیٹیوں سمیعت عاصم اور نور کو حج پہ بھیج دیا۔

نور حج کرکے آئی تو گاؤں میں اماں حاجن کے نام سے مشہور ہوگئی۔

گاؤں کے بچے بوڑھے سب اسے اماں حاجن کے نام سے جانتے تھے۔اور اس کی بےحد عزت کرتے تھے۔اس کا اخلاق اور نصیب دیکھ کر لوگ رشک کرتے تھے۔گاؤں کے نوجوان لڑکے لڑکیاں نور کی شاگرد تھے۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ۔وہ بھی اماں حاجن کی طرح بنیں جن کی لوگ دل سے عزت کرتے ہیں۔

اللہﷻ کے راستے پہ چلنے سے ایک طوائف کو یہ عزت بخشی گئی کہ۔لوگ ان سے دعا کروانے آتے تھے۔ان کی باتوں سے لوگوں کو سکون ملتا تھا۔کچھ تو اتنی عقیدت رکھتے تھے کہ۔اپنے بچوں کے نام بھی ان سے پوچھ کررکھتے تھے۔اور

یہ سب عزت شہرت اللہﷻ کے راستے پہ چلنے اور اس کی پاک کلام کی بدولت تھی۔

نور جان گئی تھی کہ۔وہ جس عزت اور شہرت کے لیے سیٹھ عباد کی بات ماننے کو تیار ہوگئی تھی وہ فقط سراب تھا۔

اصل شہرت اور عزت تو یہ ہے جو اللہﷻ نے اسے توبہ کے بعد بخشی تھی۔

شام کا وقت تھا نور مصلے پہ بیٹھی قران پاک کی تلاوت کررہی تھی۔اس کا چارسال کا پوتا اور دوسال کی پوتی ساتھ ہی کھیل رہے تھے۔

الف انار۔۔۔

اچانک ہی نور کے کانوں میں اس کے پوتے کی آواز آئی۔

وہ اپنی چھوٹی بہن کو سکھارہا تھا۔

بولو الف۔۔۔۔۔انار۔۔۔

اس کی دوسال کی بہن نے الٹا سیدھا پڑھنے کی کوشش کی۔اآآآا لیفففف آآآآآنااااارررر۔

ایسے نہیں۔نور کا پوتا اپنی بہن سے بولا۔

ایسے پڑھو۔۔۔ الف۔۔۔۔انار۔

نور نے ان کو مسکرا کر دیکھا اور اپنے پاس بلا لیا۔وہ دونوں اٹھ کر اس کے پاس آگئے۔نور نے قران پاک بند کرکے پوتی کو اپنی گود میں بٹھالیا۔اور

پوتے کو اپنے ساتھ بٹھاکر پوچھا۔

بیٹا کیا پڑھ رہے تھے؟؟؟

دادی ۔۔۔اس کا پوتا معصوميت سے بولا۔میں آپی کو الف انار بتارہا تھا۔

نور نے اسے قریب کرکے۔اس کے سر پہ شفقت سے ہاتھ رکھا اور بولی۔

بیٹا ۔الف سے انار نہیں ہوتا۔

الف سے اللہﷻ ہوتا ہے ۔۔۔

دادی بک میں تو ایسے ہی لکھا ہے؟؟؟؟

اس کے پوتے نے ناسمجھتے ہوۓ حیرانگی سے کہا۔

ہاں بیٹا کتاب میں ایسے ہی لکھا ہوتا ہے مگر۔۔۔

دل پہ الف اللہﷻ ہی لکھا ہونا چاہیے۔

جو اول اور آخر ہے۔۔اور یہ بات میں اچھی طرح جان چکی ہوں کہ۔

الف سے اللہﷻ ہی بنتا ہے اور بس۔۔۔

نور جانے کن سوچوں بولےجارہی تھی۔اس کے پوتے کو سمجھ آئی یا نہیں اس نے حیرانی سے اپنی دادی کو دیکھا ۔اور

ہاں میں سر ہلادیا۔۔۔۔۔

نور نےدونوں بچوں کو بوسہ دیا اور۔آسمان کی طرف دیکھ کر

محبت اور عقیدت سے کہا۔۔

الف اللہﷻ ۔۔۔اور بس ۔۔

اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی اس کی اپنے اللہﷻ سے محبت کا واضع ثبوت تھی۔

ختم شد ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *