Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alif Allah (Episode 09)

Alif Allah by Ibne Aleem Rana

ان کے بیل دینے پر اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔۔۔ عاصم نے کچھ پل انتظار کیا اور ایک بار پھر بیل دی۔۔۔

کچھ دیر بعد اندر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی اور پھر گیٹ کھلا۔۔۔ اندر سے ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی نے باہر جھانکا اور ان سے آنے کی وجہ پوچھی۔۔۔

وہ عاصم کےساتھ نقاب میں ایک لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔۔

مجھے رمی بائی سے ملنا ہے۔ عاصم نے اس لڑکی پوچھنے پر جواب دیا تھا۔۔۔ یہاں کوئی نمی بائی نہیں رہتی۔۔ اس کے لڑکی کے جواب پر دونوں کو مایوسی ہوئی تھی۔مگر دوسرے ہی لمحے نور کو اچانک ہی ایک خیال آیا اور اس نے فوراً اس پہ عمل بھی کردیا۔۔۔ مجھے ریشم بائی نے بھیجا ہے۔نور نے اس لڑکی سے کہا۔ ریشم بائی کا نام سن کر ایک پل کو اس کے چہرے پر شناسائی کی چمک سی آئی تھی۔جیسے وہ اس نام سے واقف ہو۔اور

دوسرے ہی لمحے وہ بنا جواب دیے واپس پلٹ گئی۔ نور اور عاصم وہیں کھڑے تھے۔نور کو اچانک ہی خیال آیا تھا کہ۔شاید لڑکی کو یہی کہا گیا ہو کہ۔کوئی نمی بائی کا پوچھے تو صاف انکار کردے۔کیونکہ وہ یہاں خفیہ طور پر اپنا دھندہ چلارہی تھی۔اسی لیے نور نے اس کو ریشم بائی کا حوالا دیا تھا۔

کچھ دیر بعد ایک دوسری لڑکی آئی اور ان کو اندر بلا لیا۔۔ وہ دونوں اس کے پیچھے چلتے ایک کمرے کے پاس جارکے۔لڑکی نے ان کو اشارہ کیا اور۔خود دوسری طرف چلی گئی۔عاصم نے نور کی طرف دیکھا اور۔دروازے پر دستک دی۔آجاؤ ۔۔۔

اندر سے ایک کمزور سی آواز آئی۔اوروہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے۔ اندر چارپائی پہ پچاس ساٹھ سال کی ایک عورت لیٹی ہوئی تھی۔اس نے غور سے ان دونوں کو دیکھا اور۔ایک طرف لگے صوفوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں بیٹھ چکے تو اس نے بنا تمہید کے پوچھا۔ کون ہو تم ؟؟؟ اور ریشم بائی نے کیوں بھیجا میرےپاس؟؟؟ نور اندر داخل ہوتے وقت نقاب اتاردیا تھا۔ میں نور ہوں۔۔

۔نور نے اس کو جواب دیا۔۔

عاصم خاموش بیٹھا رہا۔ نور؟؟؟کون نور؟؟؟ نمی بائی نے اپنے ذہن پہ زور دیتے ہوۓ پوچھا۔ وہی جس کو بچپن میں آپ نے ریشم بائی کو بیچ دیا تھا۔

تت تم نورالنساء ہو؟؟؟ نمی بائی اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہی نور جس کو ریشم بائی لےگئی تھی۔؟؟؟

جی ۔میں وہی نور ہوں۔ نور نے جواب دیا۔ ریشم کیسی ہے؟؟؟اور اس نے کیوں بھیجا تم لوگوں کو میرے پاس؟؟؟نمی بائی نے ایک سانس میں دوسوال کیے تھے۔ شاید نمی بائی کو ابھی تک نور کے کوٹھے سے بھاگنے کا علم نہیں ہوا تھا۔ بائی میں کوٹھے کو چھوڑآئی ہوں۔ نور کی بات سن کر نمی بائی کے چہرے پر حیرت پھیل گئی؟؟؟ اور میں نے شادی کرلی ہے۔ یہ میرے شوہر ہیں۔ اس سے پہلے کہ نمی بائی مزید کوئی سوال کرتی۔نور نے اسے سچ سچ سب بتادیا۔ وہ حیرانگی سے نور کو دیکھ رہی تھی۔ بائی

۔نور نے اس سے التجائیہ انداز میں کہا۔ مجھے بتاؤ۔میں کون ہوں؟؟؟ مجھے کہاں سے لیا تھا آپ نے؟؟میرے ماں باپ کون ہیں ؟؟

نور کے سوالوں سے نمی بائی پہ حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔وہ منہ پھاڑ ان کو تکے جارہی تھی۔ تت تم کو یہ سب کیسے پتہ چلا۔۔؟؟؟بالآخر نمی بائی نے خاموشی توڑی۔ اس کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ ۔یہ وہی لڑکی ہے جس کو بچپن میں ریشم بائی لےگئی تھی۔۔ اور اس کو کیسے پتہ چلا کہ۔یہ

ریشم بائی کی بیٹی نہیں؟؟؟ اس نے اس بات کا اظہار نور سے بھی کیا۔۔

جواب میں نور نے اس کو بتادیا کہ۔اس نے ایک رات ریشم بائی کی باتیں سن لی تھیں۔ نمی بائی خاموش ہوگئی ۔شاید سوچ رہی تھی کہ۔اس کو بتاۓ یا نہ بتاۓ۔ بائی ۔آپ کا احسان ہوگا مجھ پر۔اس کو خاموش دیکھ کر نور نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔اور اٹھ کر نمی بائی کے پاس چلی آئی۔

اس کی بھیگی آنکھیں دیکھ کر شاید نمی بائی کو رحم آگیا۔۔ اس نے نور کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ ٹھیک ہے۔میں بتادیتی ہوں۔ نمی بائی نے کہا تو۔نور نے چونک کر اس کو دیکھا۔خوشی سے نور کا حسین چہرہ اور دمک اٹھا تھا۔ بیٹھو ادھر۔بائی نے اسے اپنی چارپائی پہ بٹھایا۔ ساری زندگی گناہوں میں گزر گئی میری۔

۔نمی بائی اس سے کہ رہی تھی۔آج تک شاید ہی کوئی اچھا کام کیا ہو میں نے۔میں تمہیں بتادیتی ہوں کہ۔تم کون ہو؟؟ شاید یہ نیکی میرے کام آجاۓ۔ نمی بائی کے لہجے میں خدا سے بخشش کی امید تھی۔

تم مجیدن کی پوتی ہو۔ اور تیرے باپ کا نام کلیم ہے۔ میں بس اتنا ہی جانتی ہوں۔ تیری ماں کا مجھے نہیں پتہ ۔کون ہے؟؟؟کہاں ہے؟؟؟

نمی بائی کے الفاظ سن کر نور کو لگا وہ منزل کے قریب پہنچ گئی ہے۔۔۔

وہ بےاختیار نمی بائی کے گلے لگ کر روپڑی ۔عاصم

اس دوران چپ چاپ دونوں کی گفتگو سنتا رہا تھا۔ اس کے چہرے پہ بھی اب چمک سی آگئی تھی۔

اس نے نور کو چپ کروایا۔ اور نمی بائی کا شکریہ ادا کیا۔ اجازت لیکر وہ دونوں خوشی خوشی واپس چل پڑے۔۔۔ بیٹا ایک بات یاد رکھنا۔نمی بائی نے جاتے جاتے نور سے کہا تھا۔ بندہ جتنا بھی گناہگار ہو۔مگر اللہﷻ کی رحمت پہ یقین رکھے۔دنیا کا کوئی غم اسے ہرا نہیں سکتا۔ وہاں سے وہ سیدھا گھر آۓ تھے۔ نور کا دل کررہا تھا کہ۔وہ ابھی اپنے باپ کی تلاش میں نکل پڑے۔اور گاؤں گاؤں گلی گلی پوچھتی پھرے۔کہ کوئی اس کے باپ کلیم کو جانتا ہے؟؟؟کوئی اس کی دادی مجیدن کو جانتا ہے؟؟؟اور اگر اس کا باپ مل جاۓ تو۔۔۔اس سے پوچھے۔۔۔کہ۔

نور کی ماں کہاں ہے؟؟اور اس نے کیوں اس کو ایک طوائف کو بیچ دیا تھا؟؟؟

اس سے تو اچھا تھا وہ اسے قتل ہی کردیتا۔ نمی بائی نے اسے سب سچ سچ بتادیا تھا کہ۔اسے اس کا باپ دےگیا تھا یہاں ۔اس کی دادی کے کہنے پر اور صرف ایک لاکھ میں۔۔۔

اگلے دن سے ہی عامر نے آس پاس کے گاؤں والوں سے پوچھنا شروع کردیا تھا کہ۔ کلیم نام کے آدمی کو جانتا ہے کوئی؟؟؟ کافی دن گزرگئے تھے مگر ان کو کلیم کا پتہ نہ چلا ۔۔ عاصم نے اپنے باپ سے مشورہ کرکے گاؤں میں ایک چھوٹی سی دوکان کھول لی تھی۔ اس کا مشورہ نور نے ہی اسے دیا تھا۔ کچھ دوکان کے چکروں میں بھی وہ زیادہ توجہ نہ دے سکا۔۔۔اور چارمہینے کلیم کی تلاش میں گزرگئے مگر۔انکو کلیم نام کا کوئی آدمی نہ ملا۔۔ یوں تو کئی لوگوں نے اسے کلیم نام کے آدمیوں کا بتایا۔اور وہ ان سے مل کر بھی آیا مگر۔اس کا مطلوبہ آدمی ان میں سے ایک بھی نہیں تھا۔ ایک مہینے پہلے ہی نور کو اللہﷻ نے پہلی بیٹی سے نوازا تھا۔۔۔ اور کہتے ہیں کہ۔جس عورت کے پہلی اولاد بیٹی ہو ۔وہ خوش نصیب عورت ہوتی ہے۔ عاصم اور اس کے گھر والے بہت خوش تھے۔ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق گاؤں میں مٹھائی بھی بانٹی تھی۔ اس کی بیٹی بھی نور پر ہی گئی تھی۔جو بھی دیکھتا یہی کہتا تھا کہ۔ماں پرگئی ہے تب ہی اتنی پیاری ہے۔ پھر ایک دن اسے کسی آدمی نے کلیم نام کے ایک آدمی کا بتایا۔تو وہ اسے ملنے چلا گیا۔ اور

اسے نور کا باپ مل گیا۔ وہ وہی کلیم تھا جس کی اسے تلاش تھی۔ اس نے گھر آکر نور کو خوشخبری سنائی کہ۔اس کے باپ کا پتہ چل گیا ہے۔ اس نے شکرانے کے نفل پڑھے تھے۔وہ بےخوش تھی۔اور اسے خوش دیکھ کر عاصم بھی خوش تھا۔ نور کو خوشی دینا تو اس کی زندگی کا مقصد تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریشم بائی کا کوٹھا نور کے بغیر گویا اجڑہی گیا تھا۔

اس کے سارے خواب مٹی کا ڈھیر بن گئے تھے جو اس نے نور کی شہرت کے حوالے سے دیکھے تھے۔اسے نور کی بھاگنے والی بات عامر نے ہی بتائی تھی۔اور

اپنے چھ لاکھ واپس مانگے تھے۔بدلے میں ریشم بائی نے الٹا اسے ہی کہ دیا تھا کہ۔وہ جھوٹ بول رہا ہے۔اور وہ اسے پولیس کو پکڑوادےگی کہ۔اس نے نور کو اغوا کیا ہے۔یا مار دیا ہے۔ عامر کی ہمت ہی نہیں ہوئی کوئی اور بات کرتا۔چپ چاپ واپس آگیا تھا۔ اور اب تو گھر سے بھی نکال دیا گیا تھا۔دوستوں نے ایک دو دن اپنے پاس رکھا اور پھر باتوں باتوں میں اسے جتادیا کہ۔وہ اب اپنا ٹھکانہ ڈھونڈے۔ وہ لاہور آگیا تھا۔اس کے پاس جو تھوڑے بہت پیسے تھے۔ختم ہوگئے تھے۔ اور اب ایک چھوٹے سے ہوٹل پہ برتن دھوتا تھا۔ چارہزار تنخواہ اور کھانا رہنا وہیں ہوٹل پہ ہی تھا۔ شراب تو وہ پہلے بھی پی لیتا تھا ۔اور اب چرس بھی پینے لگ گیا تھا۔جو بھی پیسے ملتے ان کی چرس پی جاتا۔یا اس بازار خاص میں اڑادیتا۔ایک رات وہ اس بازار میں گیا تھا کہ۔پولیس کے ہتھے چڑگیا۔تلاشی لینے پر اس کے پاس سے دوسگریٹ چرس بھی نکلے۔پکڑنے والوں نے دو سگریٹ کو آدھ کلو ثابت کرکے اسے تین سال کے لیے جیل بھجوادیا ۔پولیس والوں نے اس کی چھترول کرکے اسے ڈرگ مافیا ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ مار کھاکر اس نے یہ الزام قبول کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی تھی کہ۔وہ چرس بیچنے کا کام کرتا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔البتہ وہ پیتا ضرور تھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عاصم نور کو لیکر اس کے باپ کے گاؤں پہنچ گیا تھا۔

وہ پہلے بھی یہاں آچکا تھا۔اس لیے بنا پوچھے سیدھا اس کے باپ کے گھر لےگیا۔ گھر کیا تھا اب ۔کھنڈرات ہی لگ رہے تھے۔ گھر تو رہنے والوں کے دم اے بنتا ہے۔۔۔ ورنہ تو کھنڈرات ہی ہوتے ہیں۔ دروازے ٹوٹے پھوٹے سے دیواروں کا پلستر تک اکھڑچکا تھا۔صحن کی حالت ایسی تھی جیسے برسوں سے کسی نے صفائی نہ کی ہو۔ نور دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔اور آہستہ آہستہ چلتی صحن عبور کرکے کھنڈرات نما کمروں کے پاس پہنچی۔یہاں تک پہنچتے نہ اسے کوئی ملا تھا نہ کسی قسم کی آواز آئی تھی۔سامنے دو کمرے بنے ہوۓ تھے ایک پر تالا لگا ہوا تھا۔اس نے دوسرے کمرے میں جھانکا۔ اندر ایک جھلنگا سی چارپائی پر ہڈیوں کا ڈھانچہ سا پڑا تھا۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔شاید سورہا تھا۔ نور کا دل دھڑکا۔اس نے کھلے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔ کوئی ردعمل نہ آیا۔۔۔ عاصم باہر ہی رہ گیا تھا۔ نور نے دوبارہ دستک دی۔سنیں۔ساتھ ہی اس نے آواز بھی دی تھی۔ چارپائی پہ پڑے ڈھانچے نما وجود میں ہلچل ہوئی ۔اس نے آنکھیں کھولی اور نور کی طرف دیکھا۔مگر بولا کچھ نہیں۔ نور اندر داخل ہوگئی۔ وہ نور کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ نور اس کے پاس جاکرکھڑی ہوگئی۔ آپ کا نام کلیم ہے؟؟؟ نور نے دھڑکتے دل سے پوچھا تھا۔ اس نے جواب دینے کی کوشش کی ۔مگر

منہ سے ہوںنننن آآآں کی آواز ہی نکلی۔ وہ بےبسی سے نور کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر اس نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دینے کی کوشش کی۔ نور کا صبر جواب دےگیا تھا۔ وہ اس سے لپٹ گئی۔اور۔پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ کلیم حیران تھا کہ۔یہ کون ہے؟؟؟

اور کیوں اس سے لپٹ کے رورہی ہے؟؟؟ مگر وہ پوچھ نہیں سکتا تھا۔کیونکہ کئی مہینے پہلے اس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تو ٹھیک ہونے کی بجاۓ اور بیمارہوتا گیا۔اس کی طلاق شدہ بہن کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔اور اب وہ اکیلا ہی گھر میں تھا۔گاؤں میں سے کوئی اسے کچھ کھانے کو دےجاتا تو ٹھیک ورنہ بھوکا ہی رہتا۔اس کی دوسری بیٹی ردا کی شادی ہوگئی تھی۔اور وہ اب شہر میں اپنے سسرال ہوتی تھی۔وہ کبھی آجاتی تو کلیم کی دیکھ بھال کرلیتی تھی۔مگر اس کے سسرال والے زیادہ دن رہنے ہی نہ دیتے تھے۔وہ اپنے گھر بےحد خوش تھی۔ اس کے سسرال والے اسے زیادہ دن کہیں نہیں رہنے دیتے تھے۔کیونکہ اس کا شوہر اکلوتا تھا۔اور گھر میں اس کی ساس اور سسر ہی تھے۔اس کی مجبوری تھی اپنے سسرال رہنا۔ نور نے اسے سہارا دیکر بٹھایا۔اور تلاش کرکے اسے پانی پلایا۔ اس کا دل دکھا تھا کلیم کی حالت دیکھ کر۔

وہ جیسا بھی سہی۔

تھا تو اس کا باپ ہی نا؟؟ ابو میں نور ہوں۔آپ کی بیٹی۔ نور نے کلیم سے کہا۔ وہ نور نام سے واقف نہیں تھا مگر۔لفظ بیٹی سن کر چونکا تھا۔ نور کا نام اس کی ماں نے فاطمہ رکھا تھا۔ مجھے نمی بائی نے آپ کے بارے میں بتایا ہے۔ نور نے یہ نہیں کہا تھا کہ۔وہ اس کو نمی بائی کو بیچ آیا تھا ۔اس نے بتایا ہے ۔۔

وہ نہیں چاہتی تھی کہ ۔اس کا باپ شرمندہ ہو۔ نمی کا نام سن کر اس کی باپ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اسے شاید یاد آگیا تھا کہ۔ یہ اس کی بیٹی فاطمہ ہے۔جس کو وہ نمی بائی کو دےآیا تھا بچپن میں۔

کلیم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔اس نے بمشکل ہاپنتے کانپتے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کی کوشش کی تھی۔مگر۔نور نے اس کے ہاتھ پکڑلیے۔ نہیں ابو۔اس نے کہا۔میں نے آپ کو معاف کیا۔

مجھے بس یہ بتادیں ۔میری امی کہاں ہے؟؟؟ ماں کا نام لیتے اس کی آواز بھراگئی تھی۔ کلیم بےبسی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ اس نے بولنے کی کوشش کی مگر۔۔ منہ سے الفاظ نہ نکلے۔ ابو آپ لکھنا جانتے ہیں۔؟؟؟ نور نے کہا اور۔ اپنا دایاں ہاتھ آگے کردیا۔ آپ میرے ہاتھ پر امی کا نام لکھ دیں۔ کلیم نے کانپتے ہوۓاپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور۔نور کی ہتھیلی تک لایا۔ نور نے اپنا ہاتھ چارپائی پر رکھ دیا تھا۔ کلیم نے شہادت کی انگلی سے اس کے ہاتھ پہ لکھا۔ جنت۔۔۔

نور غور سے دیکھ رہی تھی۔ جنت؟؟؟ نور نے خوشی سے پوچھا۔ جنت ہے میری امی کا نام؟؟؟ اس نے تصدیق چاہی۔۔ کلیم نے ہاں میں سر ہلادیا۔ کہیں وہ تو نہیں جو وہاں رہتی ہیں۔؟؟؟اس نے اپنے گاؤں کا نام لیا۔ کلیم نے ایک بار پھر ہاں میں سر ہلادیا۔ جنت نام پڑھ کر نور کے ذہن میں اپنی استاد جنت کا نام ہی سب سے پہلے آیا تھا۔ وہ ایک بار پھر رودی تھی۔

مگر یہ خوشی اور تشکر کے آنسو تھے۔ وہ باہر سے عاصم کو بلالائی۔ عاصم نے نور کے کہنے پہ گاڑی کا انتظام کیا اور۔کلیم کو شہر کے اسپتال لےگئے۔ اس کو وہاں داخل کرواکے وہ دونوں رات گیارہ بجے واپس آۓ تھے۔ ان کا ارادہ اگلے دن جانے کا تھا۔ واپس گھر آکر انہوں نے کھانا کھایا۔اور گھر والوں کو ساری بات بتائی۔عاصم کے گھر والے بھی بہت خوش ہوۓ تھے۔کہ نور کو اس کے ماں باپ مل گئے۔اور خدا کی قدرت پہ حیران بھی تھے۔کہ وہ جنت کی بیٹی ہے۔کیسے اس نے ملادیا اس کو۔۔۔ نور بےچین ہورہی تھی اپنی ماں کو یہ بتانے کے لیے کہ۔وہ اس کی بیٹی ہے۔اور جنت نور کی ماں ہے۔ اس سے صبر نہ ہوا تو اس نے گھر سے اجازت لی۔۔۔ان کو بھلا کیا اعتراض ہوتا۔؟؟؟ عاصم اسے ساتھ لیکر جنت کے گھر کی طرف چل پڑا۔۔ رات کے بارہ کا ٹائم تھا ۔اسے جھجک تو ہورہی تھی مگر۔نور کے دل کی حالت بھی جانتا تھا ۔اس لیے انکار نہ کیا۔جنت کے دروازے پہ پہنچ کے اس نے دستک دی۔ نور کی اس وقت جو کیفیت تھی۔وہ لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ اندر سے قدموں کی آواز آئی جو دروازے پہ آرکی۔ کون ہے؟؟؟جنت نے پوچھا۔ عاصم نے کی آواز پہچان کر اس نے فوراً دروازہ کھول دیا تھا۔ خیریت ہے بیٹا۔؟؟؟دروازہ کھولتے ہی جنت نے پوچھا تھا۔اوہ۔نور بیٹی بھی ساتھ ہے۔نور کو اس وقت دیکھ کر جنت حیران ہوئی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی نور سے صبر نہ ہوا۔وہ بےاختیار جنت کے گلے جالگی۔اور روپڑی۔ جنت حیران سی اسے چپ کرانے کی کوشش کررہی تھی۔ اس نے سمجھا شاید عاصم یا اس کے گھر والوں نے کچھ کہ دیا ہوگا۔ کیا ہوا بیٹی؟؟؟جنت نے اسے پوچھا۔ کسی نے کچھ کہا ہے؟؟ آپ اندر چلیں بتاتے ہیں۔ نور کی بجاۓ عاصم نے جنت سے کہا۔اور نور کو ساتھ لیے اکلوتے بنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ اندر مصلہ بچھا ہوا تھا۔اور اس پہ رحل کے اوپر قران رکھا ہوا۔ جنت اس وقت بھی قران پڑھ رہی تھی۔ جنت نے قران پاک اٹھاکر اوپر رکھ دیا۔اور ان کو چارپائی پر بٹھاکر خود بھی بیٹھ گئی۔ نور ابھی تک رورہی تھی۔ عاصم نے جنت کو اپنے اس وقت آنے کی وجہ بتانا شروع کی۔ اماں جنت۔۔وہ جنت کو اماں جنت کہتا تھا۔ یہ نور ۔آپ کی دوسری بیٹی فاطمہ ہے۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا۔اور اس سے آگے کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ جنت نے اٹھ کر نور کوگلے لگالیا ۔اور پھر بس آنسوؤں کا ریلا تھا۔جس میں بیس اکیس سال کے دکھ۔غم اور ہجر فراق بہہ گئے تھے۔جنت نے نور کو بےتحاشہ چوما تھا۔جیسے وہ سالوں کا پیار ایک ساتھ نور کو دینا چاہتی ہو۔ عاصم کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں۔ اس وقت ان ماں بیٹی کا رونا دل جگرے والا آدمی ہی برداشت کرسکتا تھا۔ وہ جی بھر کے روئی تھیں۔ عاصم نے بھی ان کو چپ نہیں کرایا۔وہ چاہتاتھا کہ۔دونوں اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیں۔ کچھ دیر بعد عاصم واپس چلا گیا تھا۔نور کو جنت نے نہیں جانے دیا۔جنت نے اسے بتایا کہ۔نور کی ایک اور بہن بھی ہے جس کا نام ردا ہے۔مگر اس کا بھی جنت کو پتہ نہیں کہ۔وہ کہاں ہے۔ باتیں کرتے ان کو وقت کا احساس ہی نہ ہوا۔اور فجر کی آذان ہوگئی۔دونوں ماں بیٹی نے نماز پڑھی ۔تلاوت کی۔اور نور واپس گھر آگئی۔ صبح اس نے اسپتال جانا تھا مگر۔عاصم نے منع کردیا۔اس نے کہا تم آرام کرو۔کل چلی جانا۔میں دیکھ آؤنگا ۔ وہ دن نور کے لیے عید کا دن تھا۔دن میں جنت اس کے پاس آئی تھی۔اس نے نور کی بیٹی کو دیکھا تو۔اس کی آنکھیں بھر آئیں۔اسے وہ وقت یاد آگیا تھا۔جب نور بھی اتنی سی تھی۔اور اسے نور سے الگ کردیا گیا تھا۔ اگلے دن نور عاصم کے ساتھ اپنے والد کو دیکھنے گئی۔ وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی۔اس کی نظر اپنے باپ کے پاس بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی۔نور نے سلام کیا اور اپنے والد کا حال پوچھا۔جس اس نے اشارےسے جواب دیا تھا۔وہ لڑکی بھی حیرانگی سے نور کو دیکھ رہی تھی۔ آپ کون ہیں؟؟؟نور نے اس لڑکی سے پوچھا میں ردا ہوں۔۔اور یہ میرے والد ہیں۔ آپ کون ہیں؟؟؟اور ان کوکیسے جانتی ہیں؟؟؟ ردا نے الٹا نور سے سوال کردیا۔ ردا۔۔؟؟؟نور بےیقینی سے بولی تھی۔ آپ جانتی ہیں مجھے؟؟؟ردا اس کے انداز سے حیران ہوئی تھی۔ میں فاطمہ ہوں۔۔نور نے کہا۔ آپ کی چھوٹی بہن۔اور ان کی چھوٹی بیٹی۔اس نے اپنے والد کی طرف اشارہ کیا۔ ردا ایک جھٹکے سے اٹھی تھی۔ میری چھوٹی بہن؟؟؟اس کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ اسے تو بتایا گیا تھا کہ۔وہ اکیلی ہے۔اور اس کی ماں مر چکی ہے۔ کلیم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔شاید ندامت کے آنسو۔یا شاید اپنی بیٹیوں کے دکھ کے۔ ردا کے سوالیہ انداز میں دیکھنے پر کلیم نے ہاں میں سر ہلادیا تھا۔ ردا نے نور کو گلے سے لگالیا۔اور رودی۔

اس کا باپ بھی ان کو دیکھ کر رورہا تھا۔مگر وہ بول نہیں سکتا تھا۔اس نے بہت مشکل سے اپنے دونوں ہاتھوں کو معافی کے انداز میں جوڑدیا تھا۔ دونوں بہنوں نے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ ان کی نظروں میں ایک شکوہ ایک گلہ تھا مگر

۔دونوں کچھ بولی نہیں۔اور اپنے باپ کے ہاتھوں کو تھام کر روپڑیں تھیں۔

اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرپڑیں گے۔

اور جب زندہ گاڑی گئی لڑکیوں سے پوچھا جاۓ گا کہ وہ کس گناہ پر قتل گی گئی۔؟؟؟القران

نور کو ٹیکسی میں سنے وہ الفاظ یاد آگئے۔ اس نے سوچا ۔کیا زندہ گاڑدینا یا قتل کردینا ہی فقط قتل ہوتا ہے؟؟؟یا قتل یہ بھی ہے جیسے ان ماں بیٹیوں کو کیا گیا۔؟؟؟ صرف اس لیے کہ۔وہ لڑکیاں پیدا ہوئیں۔اور اس میں تو ان کا کوئی قصور نہیں کہ۔وہ لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ کیا اس کا باپ یا اس کے باپ جیسا ہر انسان جو بیٹیوں کے پیدا ہونے پر ان کے ساتھ کلیم جیسا سلوک کرتا ہے۔زمانہ جاہلیت کے ان باپوں کے ساتھ اٹھاۓ جائیں گے۔ جو اپنی لڑکیوں کو زندہ گاڑدیتے تھے۔؟؟؟

نور کو اس سوال کے جواب کا نہیں پتہ تھا۔اس نے اپنے والدکو معاف کردیا تھا۔کیونکہ وہ ایک بیٹی تھی۔اور بیٹیاں تو بیٹیاں ہوتی ہیں۔ وہ بھلا بری ہوسکتی ہیں۔؟؟؟

نور نے ردا کو بتایا کہ ان کی ماں زندہ ہے اور وہ اسے ملی ہے۔تو ردا تڑپ اٹھی تھی۔اس نے شکوہ کنا نظروں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ اور نور سے کہا کہ۔وہ اسے ماں سے ملوادے۔ دونوں کچھ دیر باپ کے پاس بیٹھی رہیں۔اور پھر نور ردا کو لیکر اپنے گاؤں آگئی۔گھر اس نے بتایا کہ۔یہ میری بڑی بہن ہے۔عاصم کے گھر والے حیران تھے کہ۔کیسے اسے ایک ایک کرکے اس کے رشتے مل رہے ہیں۔ بےشک جو اللہﷻ کے راستے پر چلتا ہے۔اللہﷻ کریم اسے تنہا نہیں چھوڑتا۔ نور ردا کو لیکر اپنی ماں کے گھر گئی۔ امی۔۔؟؟؟نور نے گھر میں داخل ہوتے ہی جنت کو آواز دی۔ جنت کمرے میں تھی۔ وہ دونوں بھی اندر چلی گئیں۔ اس نے جاتے ہی اپنی ماں کو خوشی سے بتایا تھا۔کہ یہ اس کی بیٹی ردا ہے۔ جنت کو تو گویا یقین نہیں آرہا تھا کہ۔ایک ساتھ اتنی خوشیاں۔۔اس نے ردا کو گلے لگایا۔اور اسے بھی نور کی طرح پیار کیا۔ اس کے بعد اس نے وضو کیا اور شکرانے کے نفل پڑھے۔ وہ اپنے رب کے احسان پہ بہت روئی تھی۔ اس نے اپنے اللہﷻ سے جیسا گمان کیا تھا۔وہ پورا ہوگیا تھا۔

جنت

کو اس کے صبر کا پھل مل گیا تھا۔۔۔

کلیم علاج سے پہلے سے بہتر ہورہا تھا۔نور اور ردا نے جوہوسکا اس کے لیے کیا۔

وہ اپنی بیٹیوں کا مشکور تھا جنہوں نے اسے اس وقت اپنایا تھا۔جس وقت اسے اس کے سارے اپنے چھوڑگئے تھے۔

مگر وہ زیادہ نہ جی سکا۔چار ماہ بعد اس کا انتقال ہوگیا۔

اور ان ہی بیٹیوں نے جن کو وہ بےعزتی سمجھتا تھا۔اس کو عزت سے سفر آخرت پر روانہ کیا تھا۔اور

قران پاک پڑھ کر اور دعاؤں سے اس کو مرنے کے بعد بھی نیک اولاد ہونے کا ثبوت دیا تھا۔

شاید کلیم سے فرشتوں نے پوچھا ہو۔

بتاؤ بیٹیاں کیسی ہوتی ہیں؟؟؟

اور سوال سن کر یقیناً وہ شرمندہ ہوا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *