Alif Allah by Ibne Aleem Rana NovelR50615 Last updated: 8 April 2026
Rate this Novel
Alif Allah by Ibne Aleem Rana
عاصم کی پیدائش سے بیس پچیس سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔
اسی کے گاؤں میں ایک دین کمہار ہوتا تھا۔۔۔جس کی صرف ایک ہی بیٹی تھی جنت نام تھا اس کا۔۔۔۔
بیٹا کوئی نہیں تھا۔۔۔
بیوی فوت ہوگئی تھی۔۔۔دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کے سہارے جی رہے تھے۔۔۔جنت بہت خوبصورت تھی۔۔۔۔مگر
غریب تھی۔۔۔اس لیے اس کی خوبصورتی اس کے باپ کے لیے وبال جان بنی رہتی تھی۔۔۔پہلے وہ کسی اور گاؤں میں رہتے تھے۔۔۔وہاں گاؤں کے چند لفنگے جنت کے پیچھے پڑ گئے تھے۔۔۔کچھ عرصہ تو بےچارہ دین جیسے تیسے دن گزارتا رہا ۔۔۔مگر
پھر ایک دن چار لوگ اس کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آۓ۔۔۔
وہ آۓ تو جنت کو اٹھانے تھے مگر جنت کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اس دن اپنے چاچے کے گھر ہی سوگئی تھی۔۔۔۔
اس کے چاچا کی بیٹی کی دودن بعد شادی تھی۔۔اور وہ اسی سلسلے میں وہاں گئی ہوئی تھی مگر۔۔۔۔اس کی چاچی نے واپس نہ آنے دیا ۔۔۔۔
یہ بھی اچھا ہی ہوا تھا۔۔ورنہ۔۔۔پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا ہوتا۔۔۔۔۔
اس کے بعد دین کمہار کی ہمت جواب دے گئی۔۔۔اس نے اپنا سامان اٹھایا اور بیٹی کو لیکر عاصم کے گاؤں آگیا۔۔۔
یہاں بھی کچھ ہوس پرستوں کی نظریں جنت پہ پڑی تھیں مگر۔۔۔دیوار پھلانگنے کی جرأت کسی نے نہیں کی تھی۔۔۔
غریب کی خوبصورتی پہ نظر تو سب کی ہوتی ہے مگر۔۔۔۔صرف ہوس کی حد تک ۔۔۔۔اسے اپنی عزت بنانے کو ہر آدمی اپنی بےعزتی سمجھتا ہے۔۔۔۔
یہی کچھ جنت کے ساتھ بھی تھا۔۔۔اس سے پیار کے دعویدار تو بہت تھے مگر۔۔۔۔۔اس سے شادی کا حوصلہ کسی میں نہیں تھا۔۔۔۔ ہم لوگ ہوس پوری کرنی ہو تو نہ کسی کا مذہب دیکھتے ہیں نہ ذات رنگ نسل مگر۔۔۔۔۔
بات کسی کو اپنانے کی آجاۓ تو ہماری ذات اونچی ہوجاتی ہے دوسروں سے۔۔۔۔
جنت کواپنی خوبصورتی کا احساس بھی تھا اور لوگوں کی ہوس کا بھی۔۔۔۔
اس نے خود کو اپنی ذات میں سمیٹ لیا تھا۔۔۔ وہ صرف دو چار جماعتیں پڑھی تھی اور قران پاک پڑھا تھا بس۔۔۔۔
یہی اس کی تعلیم تھی۔۔۔۔وہ سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی تھی۔۔۔۔اس نے گاؤں کے بچوں کو قران پڑھانا شروع کردیا۔۔۔
گاؤں میں مدرسہ تو ویسے بھی کوئی تھا نہیں۔۔۔۔لوگ قران پڑھانے کے لیے اپنے بچوں کو مسجد یا کسی کے گھر بھیجتے تھے۔۔۔۔جنت نے قران پڑھانا شروع کیا تو اس کے پاس بچوں کی لائن لگ گئی۔۔۔۔ایک تو وہ عورت ذات تھی۔۔۔۔
دوسرا اسے کچھ دینا نہیں پڑتا تھا۔۔۔اس لیے لوگوں کے زیادہ تر بچے اس کے پاس آنے لگے۔۔۔ اب اس کے پاس رونق لگ گئی تھی۔۔۔
قران پاک پڑھانے کے لیے اس نے صبح اور شام کا وقت مقرر کررکھا تھا۔۔۔ دین کمہار بھی بہت خوش تھا کہ اس کی بیٹی ایک نیک کام کررہی ہے۔۔۔اور گھر میں بھی رونق ہوگئی ہے.. جنت کی عمر چوبیس سال ہوگئی تھی۔۔۔۔اس کا باپ اس کے لیے کئی سال سے رشتے دیکھ رہا تھا۔۔۔جنت کے رشتے تو بہت آۓ تھے مگر۔۔۔۔۔
ایسا کوئی بھی نہیں آیا تھا۔۔۔جو اس کو اس کی غربت سمیعت اپنا لیتا۔۔۔۔
جو بھی آۓ تھے۔۔۔۔جنت سب کو پسند آئی تھی مگر۔۔۔۔اس کی غربت ان کو نہیں بھائی تھی۔۔۔۔۔سو وہ انکار کردیتے۔۔۔کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو جہیز کی لعنت اپنے منہ پر نہ ملنا چاہتا ہو۔۔۔۔ہر کوئی گھر کے حالات دیکھ کر اندازہ لگالیتا تھا کہ۔۔۔۔انہیں یہاں سے سواۓ لڑکی کے کچھ نہیں ملے گا۔
