Alif Allah by Ibne Aleem Rana NovelR50615 Alif Allah (Episode 01)
Rate this Novel
Alif Allah (Episode 01)
Alif Allah by Ibne Aleem Rana
اللہ اکبر
کی روح پرور صدا رات کے سناٹے میں جیسے ہی بلند ہوئی ۔۔۔
صدیق محمد نے حقہ کی نے کو منہ کی طرف لاتے لاتے چھوڑدیا تھا۔۔۔۔اور
ادب سے آذان سننے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ وہ آذان کے الفاظ بھی دہرارہا تھا۔۔۔۔۔ وہ گاؤں سے کچھ دور کھیتوں میں اپنے ڈیرے پر تھا۔۔۔یہ اس کا معمول تھا۔۔۔مغرب کے بعد کھانا کھا کر وہ اپنے ڈنگروں کے پاس ڈیرے پر آجاتا تھا۔۔۔اور۔۔۔
عشاء کی نماز ڈیرے پر ہی پڑتا تھا۔۔۔مؤذن اب حیّ علی الصلاۃ
حیّ علی الصلاۃ
حیّ علی الفلاح
حیّ علی الفلاح
کے الفاظ دہراکر نماز کی طرف بلارہا تھا۔۔۔ کامیابی کی طرف بلارہا تھا۔۔۔
جیسے ہی آذان مکمل ہوئی صدیق محمد نے دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا مانگی ۔۔۔۔دعا مانگنے کے بعد۔۔۔۔قریب رکھے گھڑے سے پانی لیکر وضو کیا ۔۔۔اور چارپائی کے پاس ہی کپڑا بچھاکر نماز کی نیت باندھ لی۔۔۔۔
صدیق محمد خانیوال کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا تھا۔۔۔ چار بچوں کا باپ تھا۔۔۔ تین بیٹے ۔۔۔۔جن میں سب سے بڑا بیٹا کاشف تھا جس کی عمر چوبیس سال تھی۔۔۔اس سے چھوٹی بیٹی سارہ تھی۔۔۔ اس کے بعد عاصم تھا۔۔۔۔اور سب سے چھوٹا افضال تھا۔۔۔۔۔کاشف اور سارہ کی شادی ہوچکی تھی۔۔۔۔عاصم اور افضال ہی رہ گئے تھے۔۔۔صدیق محمد نے سوچا تھا کہ۔۔۔جیسے ہی کچھ پیسے ہاتھ لگے ان دونوں بیٹوں کے سر پہ بھی سہرا سجادیگا۔۔۔۔۔
صدیق محمد کے باقی سب بچے تو اپنے باپ کی طرح شرافت کی مثال تھے مگر۔۔۔۔۔عاصم ان سے زرا مختلف ہی تھا۔۔۔لڑنا جھگڑنا۔۔۔۔چھوٹی موٹی چوری چکاری یہ اس کے روز مرہ کے کاموں میں شامل تھا۔۔۔۔میٹرک کرچکا تھا۔۔۔اور اب بس سارا دن یار دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی میں گزاردیتا تھا۔۔۔
صدیق محمد اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکا تھا۔۔۔زیادہ سختی وہ کر نہیں سکتا تھا کہ جوان اولاد ہے کہیں باغی نہ ہوجاۓ۔۔۔
نہ عاصم کوئی کام سیکھتا تھا ۔۔۔اور۔۔نہ ہی کوئی نوکری کرتا ۔۔۔۔
تنگ آکر صدیق محمد نے اسے اپنے بڑے بھائی کے پاس لاہور بھیج دیا۔۔۔کہ اسے کسی کام پہ لگادو۔۔۔عاصم کا تایازاد بھائی ایک سیاستدان اظہر وٹو کا پی اے تھا۔۔۔
اس نے اس کو ایک فیکٹری میں کام پہ لگوادیا مگر دس پندرہ دن کے بعد وہ چھوڑ کر واپس گاؤں میں آگیا۔۔۔۔عاصم کے باپ صدیق محمد نے اسے خوب سنائی تھیں مگر۔۔۔عاصم بلا کا ڈھیٹ تھا کسی بات کا اس پہ کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔
سات آٹھ مہینے یونہی گزرگئے۔۔۔پھر ایک دن اس کے باپ نے زبردستی عاصم کو لاہور بھیج دیا۔۔۔
وہ اس کی حرکتوں سے تنگ آچکا تھا۔۔۔
عاصم کے تایازاد نے اسے اس بار اپنے ساتھ ہی رکھ لیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہدری اکرم عاصم کے گاؤں کا ہی رہنے والا تھا۔۔محکمہ انہار سے اچھی پوسٹ سے ریٹائرڈ ہوا تھا۔۔۔۔۔نوکری کے دوران اپنی خصوصی ،،محنت،، سے خاصی زمین خرید لی تھی۔۔۔جس کی بنا پر گاؤں والے اسے چوہدری کہ کر بلاتے تھے۔۔۔ چوہدری اکرم کا گھر گاؤں میں اچھا خاصا مذہبی مانا جاتا تھا۔۔۔ چوہدری میہنے میں ایک آدھ بار دیگیں پکواکر لوگوں میں تقسیم کروا دیتا تھا۔۔۔گھر کے سارے لوگوں کو نماز کی سختی سے تاکید کی جاتی تھی۔۔۔اور عورتوں سے پردہ کرایا جاتا۔۔۔۔ چوہدری خود بھی پانچ وقت مسجد جاتا تھا۔۔۔چوہدری اکرم کے پانچ بیٹے تھے ۔۔۔چار بیٹھے پڑھ لکھ کراچھے سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔۔۔ اور۔۔۔سب سے چھوٹے نے بی اے کیا تھا مگر نوکری نہیں کی تھی۔۔۔وہ اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔۔۔چوہدری اکرم ایسا کوئی موقعہ نہیں جانے دیتا تھا جہاں اسے اپنی ،،سخاوت،، دکھانے کا موقعہ ملتا۔۔۔۔کوئی محفل میلاد ہو نعت خوانی ہو۔۔۔۔چوہدری مسجد میں باقاعدہ اعلان کرواتا کہ لنگر اس کی طرف سے ہوگا۔۔۔گاؤں کےلوگوں کے نزدیک چوہدری حاتم تائی ہی تھا۔۔۔
یہ الگ بات ہے کہ اس نے آج تک جتنی بھی سخاوت کی تھی وہ بس دیگوں تک ہی محدود تھی۔۔۔ورنہ گاؤں میں بہت سے گھر ایسے بھی تھے۔۔۔جن کی جوان اور خوبصورت بیٹیوں کی شادی کے لیے چوہدری اور اس جیسے مالدار لوگوں کی سخاوت کی ذیادہ ضرورت تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاؤں میں وہ اماں حاجن کے نام سے مشہور تھی۔۔۔
گاؤں کا بچہ بوڑھا سب اسے اماں حاجن ہی کہتے تھے۔۔۔اور
دل سے اس کی عزت کرتے تھے۔۔۔
قران پڑھنا اور پڑھانا ہی اس کی زندگی کا مقصد تھا۔۔۔
اللہﷻ پاک نے اپنے کلام کی برکت سے اسے اتنی عزت سے نوازا تھا کہ۔۔۔
لوگ اس سے اپنے لیے دعا کروانے آتے تھے۔۔۔
گاؤں کے کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں اماں حاجن کو اپنا استاد اور مرشد کا درجہ دیتے تھے
اور ان جیسا بننے کی خواہش کرتے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طبلے پر تھاپ پڑتے ہی گھنگھروؤں کی جھنکار سنائی دی۔۔۔۔ اور
پھر ایک پری وش ہلکے ہلکے تھرکتے وجود کے ساتھ تماش بینوں کے بیچ آگئی۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور پری بھی پہلی والی کی تقلید کرتے تماش بینوں کے سامنے آئی۔۔۔۔ دونوں ایک طرف سے ہلکی لے پر چلتی کچھ اس انداز سے سب کے سامنے آئیں تھیں کہ،دیکھنے والوں کو محسوس ہوا جیسے ،دو پریاں ہوا کے دوش پہ تیرتی آئی ہوں۔۔۔ ان کے دل مچل اٹھے تھے۔۔۔
ان کی بھوکی نظریں ان کےلچکتے تھرکتے وجودوں پر گویا جم گئی تھیں۔۔۔ وہ اپنے اپنے ہاتھ میں پکڑے شراب کے گلاسوں کو بھی فراموش کرچکے تھے۔۔ آہستہ آہستہ رقص میں تیزی آتی جارہی تھی۔۔۔اور
دیکھنے والوں کی دھڑکنوں میں بھی۔۔۔
اچانک ایک کمرے کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک کم عمر لڑکی باہر نکل کر سازندوں کے قریب نیم دراز ایک موٹی عورت کے پاس بیٹھی گئی۔۔۔
تماش بینوں کی نظر بیک وقت اس پر گئی تھیں اور۔۔۔۔۔
واپس پلٹنا بھول گئ تھیں۔۔۔۔۔ وہ تھی ہی اتنی معصوم اور خوبصورت کہ دیکھنے والا۔۔۔۔نظر ہٹانا تو دور کی بات ۔۔۔۔آنکھیں جھپکانا بھول جاتا تھا۔۔۔
ناچنے والی لڑکیوں کی طرف اب کسی کا دھیان ہی نہ رہا تھا۔۔۔سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔۔۔وہ وہاں کی جیسےمہمان خصوصی ہی بن گئی تھی۔۔۔
سب اس بات پر بھی حیران تھے کہ ۔۔۔ریشم بائی نے یہ ہیرا اب تک کہاں چھپا رکھا تھا۔۔؟؟؟ یہ یہاں کی مشہور طوائف ریشم بائی کا کھوٹھا تھا۔۔۔اور۔۔
ناچنے والیاں دونوں اس کی بیٹیاں تھیں۔۔۔ بڑی مہروالنسا اس سے چھوٹی زیب النسا اور اندر سے نکل کر آنے والی کم عمر لڑکی کا نام نور النسا تھا۔۔۔۔سب اسے نور ہی کہتے تھے۔۔۔۔یہ ریشم بائی کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔۔۔مگر ریشم کی پرانی جاننے والیاں کہتی تھیں کہ نور ۔۔۔۔ زیب اور مہرو کی طرح ریشم بائی کی سگی اولاد نہیں ہے۔۔۔۔یہ ریشم بائی کو کہیں اور سے ملی تھی۔۔۔کہاں سے ملی تھی؟؟؟اور کیسے ؟؟؟ یہ ان جاننے والیوں کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔ اڑتی اڑتی یہ باتیں ریشم بائی کے کانوں تک بھی پہنچی تھیں۔۔۔جس کے جواب میں اس کا کہنا تھا کہ۔۔۔۔ایسا کہنے والیاں اصل میں نور کے حسن سے جل کر کہتی ہیں۔۔۔۔کیونکہ ان میں سے کسی کے پاس بھی نور جیسا ہیرا نہیں تھا۔۔۔۔یہ بات سچ بھی تھی۔۔۔۔ اور ریشم بائی کو اس بات پہ فخر تھا کہ۔۔۔۔نور جیسا ہیرا صرگ اس کے گھر ہے۔۔۔
ریشم بائی کی مستقبل کی بہت سی امیدیں نور سے ہی وابستہ تھیں۔۔۔۔وہ اسے اپنے آنے والے بڑھاپے کے لیے تیار کررہی تھی۔۔۔ریشم بائی نے کوٹھے پہ آنے والے کسی بھی شخص کو آج تک نور کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی تھی۔۔۔۔۔پہلے کئی سال اس نے نور کو اپنے پاس رکھا۔۔۔اور پھر اپنی بہن کے پاس کراچی بھیج دیا تھا۔۔۔اس کی ،،تربیت،، کے لیے۔۔۔
اور نور کچھ ماہ پہلے ہی کراچی سے واپس آئی تھی۔۔۔ آج نور کا اچانک کمرے سے نکل کر آنا ریشم بائی کے ہی منصوبے کا حصہ تھا۔۔۔۔آج کی محفل میں بڑے بڑے سیاستدان،بیوروکریٹس اور شہر کے معروف تاجر تھے۔۔ یہ سب پہلے بھی یہاں آتے رہتے تھے مگر۔۔۔۔۔آج یہ سب ریشم بائی کی خاص دعوت پہ آۓ تھے۔۔۔۔اس دعوت کا مقصد نور کو ان سے اچانک متعارف کروانا تھا۔۔۔ سازندوں نے ریشم بائی کے اشارے پر اپنے اپنے ہاتھ روک لیے تھے۔۔۔۔ریشم بائی نے وہاں موجود تماش بینوں پر ایک نگاہ دوڑائی۔۔۔۔اس کے ہونٹوں پہ پھیلی مسکراہٹ اس کا مقصد پورا ہونا پتہ دے رہی تھی۔۔۔
اس نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور۔۔۔۔وہاں موجود لوگوں سے مخاطب ہوئی۔۔۔ آپ سب چاہنے والے حیران ہونگے۔۔۔وہ مسکرا کر کہ رہی تھی۔۔۔کہ۔۔۔ریشم بائی یہ ہیرا کہاں سے لائی ہے۔؟؟؟اس نے رک کر زرا توقف کیا۔۔۔اور بولی۔۔۔۔یہ نور النسا ہے ۔۔۔میری سب سے چھوٹی بیٹی۔۔۔
اس نے اپنی بات مکمل کر کے تماش بینوں پر ایک نظر ڈالی۔۔۔۔ وہاں موجود لوگوں کی ملی جلی آوازیں ابھریں۔۔۔جن کا لب لباب یہ تھا کہ ۔۔۔نور کو دیکھ کر وہ حیران ہوۓ ہیں اور خوش بھی۔۔۔۔مگر ریشم بائی سے گلہ ہے کہ اس نے اب تک نور جیسے ہیرے کی چمک دھمک سے ان کو محروم کیوں رکھا تھا۔۔۔۔
ریشم بائی کے چہرے پر پھیلی فاتحانہ مسکراہٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ۔۔۔۔
اس کا تیر عین نشانے پر لگا تھا۔۔۔۔۔
