Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alif Allah (Episode 05)

Alif Allah by Ibne Aleem Rana

اظہر وٹو بھی اس رات اس محفل میں شریک تھا۔۔۔

اس نے نور کو دیکھا تھا۔۔

اور نور کو دیکھ کر اس کی ہوس کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ۔۔۔کچھ بھی ہوجاۓ وہ اس لڑکی کو حاصل کرکے رہے گا۔۔۔ چاہے اس کے لیے اسے کتنی ہی رقم کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔ یہی سوچ کر وہ ایک رات ریشم بائی کے کوٹھے پر جاپہنچا۔۔۔

ریشم بائی نے اسے دیکھ خوشی کا اظہار کیا۔۔ اور اپنے روایتی انداز میں وٹو کو عزت سے صوفے پر بٹھایا۔۔۔ زہے نصیب وٹو صاحب۔۔۔آج بڑے دنوں بعد ہم غریبوں کو عزت بخشی آپ نے۔۔۔ ریشم بائی نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوۓاظہر وٹو سے کہا

ریشم بائی ۔۔۔وٹو اس سے بولا۔۔۔ میں آج کسی خاص وجہ سے یہاں آیا ہوں۔۔۔ امید ہے تم مجھے مایوس نہیں کروگی۔۔۔ ؟؟؟

آۓ ہاۓ کیسی باتیں کرتے ہیں وٹو صاحب۔۔۔۔ ریشم بائی نے فنکارانہ انداز میں کہا۔۔۔ آج تک کبھی آپ کو مایوس کیا ہے جو آج کرونگی۔۔؟؟؟ آپ حکم کریں؟؟؟ وٹو کا چہرہ کھل اٹھا۔۔۔ اسے منزل قریب نظر آنے لگی تھی۔۔۔

ریشم بائی۔۔۔۔وہ اس سے مخاطب ہوا۔۔۔ نور النساء کی نتھ اتروائی کی رسم کب کروا رہی ہو؟؟؟ میں چاہتا ہوں کہ یہ رسم میں پوری کروں۔۔۔ بدلے میں میں تمہیں خوش کردونگا۔۔۔ اظہر وٹو نے اپنی بات مکمل کرکے ریشم بائی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔ہوس اس کے لہجے سے واضع ٹپک رہی تھی۔۔۔

وٹو صاحب پہلے بھی کئی قدردان یہی بات مجھ سے کہ چکے ہیں مگر میں سب کو ایک ہی بات کہی ہے۔۔ کہ وقت آنے پر سب کو موقع دیا جاۓ گا۔۔۔اور جو زیادہ قدردان ہوگا۔۔۔وہی اپنی مراد پاسکے گا۔۔۔ ریشم بائی نے مسکرا کر اسے ٹالنے کی کوشش کی۔۔۔ کب آۓ گا وہ وقت؟؟؟

اظہر وٹو کے لہجے سے بےقراری چھلک رہی تھی۔۔۔ صبر رکھیے وٹو صاحب جلد ہی وہ وقت آۓ گا۔۔۔۔اور سب سے پہلے آپ جیسے قدردان کو ہی موقع دیا جاۓ گا۔۔۔

ریشم بائی کے آخری الفاظ سن کر وٹو کی آنکھیں ہوس سے چمک اٹھی تھیں۔۔۔

پتہ ہے ۔۔۔۔ریشم بائی رازدارانہ سے لہجے میں وٹو سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔ وہ اپنے شیخ صاحب ہیں نا۔۔۔؟؟؟ شیخ فریاد وہی جن کے چار پلازے بھی ہیں۔۔۔۔ وہ بھی آۓ تھے میرے پاس۔۔۔اور دو لاکھ دے رہے تھے۔۔۔۔مگر میں صاف جواب دے دیا۔۔۔ میں نے ان سے کہا شیخ صاحب آپ اکیلے ہی نور کے طالب نہیں ہیں۔۔۔ اور بھی بہت سے قدردان ہیں۔۔۔ ان کو کیا جواب دونگی میں۔۔؟؟؟ ریشم بائی نے وٹو کو یہ بات سنا کر ان کےرقابت کے جزبات جگانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ اور ساتھ یہ بھی جتانا چاہا کہ ۔۔۔نور کی نتھ اتروائی کے لیے وہ اکیلا نہیں مچل رہا۔۔۔ اظہر وٹو دل میں بہت سے تشنہ ارمان لیے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔

کچھ دن بعد ریشم بائی کے سامنے جمال شاہ بیٹھا اسے مستقبل کے حسین سپنے دکھا رہا تھا۔۔۔۔ ریشم بائی ۔۔۔وہ کہ رہا تھا عنقریب تمہاری قسمت جاگنے والی ہے۔۔۔ تیری بیٹی نور میں وہ سب خوبیاں ہیں جو اسے ایک اچھی ماڈل اور ہیرؤن بنانے کے لیے کافی ہیں۔۔۔ اس کا لہجہ اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اور یہ بات ریشم بائی سے زیادہ کون جان سکتا تھا کہ جمال شاہ کی اصل نیت کیا ہے۔۔ ریشم بائی نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا۔۔۔ اور انسانوں کو پڑھنا اچھے سے جانتی تھی۔۔۔ اس سے بہتر مردوں کی نیت کو کون جان سکتا تھا۔۔۔؟؟؟ پھر بھی اس نے مسکرا کر جمال شاہ سے کہا تھا کہ۔۔۔ اگر ایسا ہوجاۓ تو ۔۔۔۔وہ اس کی احسان مند رہے گی۔۔۔ احسان اتارنے کے بہت سے طریقے ہیں ریشم بائی۔۔۔ جمال شاہ نے معنی خیز انداز میں کہا تھا۔۔۔ تم تو جانتے ہو ہم صرف ناچ گانا کرتے ہیں۔۔۔ریشم بائی نے اس کی بات کا مطلب سمجھ کر جمال شاہ سے کہا۔۔۔ پھربھی میں تمہارے لیے کوئی انتظام کردونگی۔۔۔ تم خوش ہوجاؤگے۔۔۔ ریشم بائی نے اسے دانہ ڈالا تھا۔۔۔ مگر وہ جمال شاہ کی نیت بھی جانتی تھی کہ۔۔۔ اس کی نظریں نور پر ہیں۔۔۔ اس لیے اس نے جمال شاہ کے دکھاۓ حسین خوابوں کا بھی یقین نہیں کیا تھا۔۔۔ کچھ عرصہ ریشم بائی ان کو جیسے تیسے ٹالتی رہی۔۔۔ تنگ آکر اس نے نور کو کچھ دن کے لیےواپس کراچی بھیج دیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طارق بشیر چیمہ ان چیدہ چیدہ افراد میں سے تھے جن کو ان کے محکمے میں بےوقوف مانا جاتا تھا۔۔۔

پولیس کے محکمے میں ان جیسے ،،بےوقوف ،،واقعی نایاب ہوتے ہیں۔۔۔

جونہ کھاتے ہیں اور نہ ہی کھانے دیتے ہیں۔۔۔ اور نہ کسی سے ڈرتے ہیں۔۔۔ وہ جہاں بھی گئے کچھ عرصے بعد ان کا تبادلہ کروادیا جاتا۔۔۔ تبادلہ کروانے والے وہ ہوتے تھے۔۔۔ جو ان کو پہلے جھکانے یا خریدنے کی کوشش کرتے ۔۔۔ناکام ہوکر اپنے اثر و رسوخ سے ان کا تبادلہ کروادیتے۔۔۔ پولیس میں ایس پی کے عہدے تک پہنچ گئے تھے۔۔۔ اگر ایماندار نہ ہوتے تو اب تک شاید آئی جی ہوتے مگر۔۔۔ان کا اپنے اصولوں پہ سمجھوتا نہ کرنا ان کے محکمے کے چند افسران کو بلکل بھی پسند نہ تھا۔۔۔ سو جہاں تک ہوسکا انہوں نے طارق صاحب کی ترقی میں رکاوٹ بننا اپنا فرض سمجھا۔۔۔۔

ویسے بھی ان کی ایمانداری سے تو سب کو ہی چڑ تھی۔۔۔ لالاموسیٰ سے کچھ دن پہلے ہی ان کا تبادلہ لاہور کیا گیا تھا۔۔۔ تبادلے کی وجہ وہی تھی جو عام طور پر ایماندار افسروں کے تبادلے کی ہوتے ہے۔۔۔۔ کسی کی چاپلوسی نہ کرنا اور۔۔۔ نہ کسی کی ناجائز بات ماننا۔۔۔ انہوں نے لالا موسیٰ کے ایک ڈکیت گروہ پر ہاتھ ڈالا تھا۔۔۔ جن کی پشت پر وہاں کے ایک آدمی کا ہاتھ تھا۔۔۔جو کسی سیاستدان کا قریبی رشتہ دار تھا۔۔۔ طارق بشیر نے ان کو سزا دلوادی تھی۔۔۔ اور پھر ان کا تبادلہ ہوگیا۔۔۔ اور اب وہ لاہور میں تھے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اظہر وٹو کو جب یہ بات پتہ چلی کہ ریشم بائی نے نور کو کراچی بھیج دیا ہے تو۔۔۔ اس کے ارمانوں پہ اوس پڑگئی۔۔۔ ایک دن غصے میں وہ ریشم بائی سے ملا اور۔۔۔ اس سے نور کو بن بتاۓ بھیجنے کا شکوہ کیا۔۔۔ ریشم بائی نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی ریشم بائی وٹو کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ سو اس نے بہانہ بنایا کہ۔۔۔۔ نور کو وہاں کوئی کام تھا۔۔ چند دن میں وہ واپس آجاۓ گی۔۔۔ وٹو اسے ڈھکے چھپے لفظوں میں الٹی میٹم دے آیا تھا کہ ۔۔۔۔ نور ایک ہفتے تک واپس آجانی چاہیے۔۔۔ ریشم بائی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔ اس نے جس کام کے لیے نور کو تیار کیا تھا۔۔۔ کچھ بااختیار ہوس پرستوں کی وجہ سے وہ اب کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا تھا۔۔۔ وہ اگر ان کی بات مان لیتی تو پھر نور پہ آج تک کیا سارا خرچہ ضائع ہوتا نظر آرہا تھا اور اگر نہیں مانتی تو۔۔۔ اسے وہاں رہنا مشکل لگ رہا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی۔۔۔ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہیں پالتے۔۔۔ اظہر وٹو اور ایک دو اور لوگ دریا کے وہی مگر مچھ ہی تھے۔۔۔ ریشم بائی اچھی طرح جانتی تھی کہ۔۔۔ اگر ایک بار نور کو ان میں سے کسی کی خلوت میں بھیج دیا تو۔۔۔۔ وہ پھر نور کا آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ ایک ہفتے سے پہلے ہی اس نے نور کو واپس بلالیا۔۔۔

اظہر وٹو کو جیسے ہی پتہ چلا نور واپس آگئی ہے۔۔۔ وہ رال ٹپکاتا دوڑا چلا آیا تھا۔۔۔وٹو کو دیکھ کر ریشم بائی کے ماتھے پر بل پڑگئے مگر۔۔۔ اس نے اپنے اندرونی جزبات چھپاکر مسکراتے ہوۓ اسے خوش آمدید کہا۔۔۔ وٹو کے لیے بوتل منگوا کر ریشم بائی اس کی طرف متوجہ ہوکر اس سے باتیں کرنے لگی۔۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ وٹو نور کی کوئی بات نہ کرے اس لیے وہ اسے ادھر ادھر کی باتوں میں الجھانا چاہتی تھی۔۔۔مگر وٹو کچھ دیر سنتا رہا اور پھر کہ ہی دیا۔۔۔ بائی زرا نور کا دیدار تو کرادو۔۔۔ ریشم بائی کو نہ چاہتے ہوۓ بھی نور کو آواز دینا پڑی۔۔۔ نور ساتھ والے کمرے سے نکل کر آئی۔۔۔ اس نے آتے ہی وٹو کو سلام کیا۔۔۔ وٹو نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔ خوشی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔۔۔ نور اپنی ماں کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔ وٹو کی نظریں گویا نور کے جسم سے چپک گئی تھیں۔۔۔ نور نے ایک دو بار اس کی طرف دیکھا تھا آخر وٹو نے ہی پہل کی اور نور سے اس کا حال پوچھا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ؟؟؟جواب میں نور نے مختصر جواب دیا تھا۔۔۔ وٹو کی تشنگی برقرار تھی۔۔۔ اس نے ایک بار پھر نور کو مخاطب کیا۔۔۔ نور سناؤ۔۔۔کراچی زیادہ اچھا ہے یا لاہور؟؟؟ وہ نور کی آواز سننا چاہتا تھا۔۔۔ کراچی بھی ٹھیک ہے اور لاہور بھی اچھا ہے۔۔۔ نور نے کھنکتی آواز میں جواب دیا ۔۔۔۔ اور وٹو نور کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی آواز کا بھی شیدائی ہوگیا۔۔۔ تم ناچتی بہت اچھا ہو؟؟؟ وٹو نے اس کی تعریف کی۔۔ وہ کسی نہ کسی طرح نور سے گفتگو کرنا چاہتا تھا۔۔۔ نوازش آپ کی۔۔۔نور نے وہاں کے روایتی انداز میں کہا۔۔۔ ناچ مجھے خالہ نے سکھایا ہے۔۔۔ اس کا اشارہ ریشم بائی کی بہن کی طرف تھا جس کے پاس وہ کراچی رہی تھی۔۔۔ نور کو اندر سے اس کی بہن نے آواز دی تو وہ اٹھ کر چلی گئی۔۔۔ شاید جان بوجھ کر اسے جلدی بلالیا گیا تھا۔۔۔ وٹو کی ہوس بھری نظریں کمرے تک نور کا تعاقب کرتی رہی تھیں۔۔۔ اس کے جاتے ہی وٹو ریشم سے مخاطب ہوا۔۔۔ ریشم بائی۔۔اب اور ہمارے صبر کا امتحان نہ لو۔۔ جلدی بتاؤ نور کی نتھ اتروائی کیا لوگی؟؟؟ وٹو کی بات سن کر ریشم بائی سیدھی ہوکر بیٹھ گئی اس نے دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔۔ اس نے سوچ لیا کہ یہ ایسے جان نہیں چھوڑے گا۔۔۔ دیکھیں وٹو صاحب۔۔۔ریشم بائی نے اپنی بات کا آغاز کیا اگر آپ چاہتے ہیں کہ نور کی نتھ آپ اتروائیں تو۔۔۔۔۔۔ ایک لمحے کو وہ رکی۔۔۔ اور پھر بولی۔۔۔ آپ کو تیس لاکھ دینے ہونگے؟؟؟ کیا؟؟؟تیس لاکھ؟؟؟؟ رقم کا سن کر وٹو اچھل پڑا تھا۔۔۔ اتنی رقم؟؟؟ وہ بھی ایک رات کی؟؟؟وٹو حیرت اور غصے سے بولا تھا۔۔۔ میں نور کو خرید تونہیں رہا۔۔۔؟؟؟ اس نے کہا تھا۔۔۔ وٹو صاحب یہ بھی خریدنا ہی ہوتا ہے۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ اور بھی بہت لوگ نور کے طلبگار ہیں۔۔ وہ اس سے زیادہ دینے کو تیار ہیں ایک رات کا۔۔۔ ریشم بائی نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔صرف وٹو سے جان چھڑانے کے لیے ورنہ وہ جانتی تھی۔۔۔ کوئی بھی اس سے آدھی رقم بھی نہیں دیگا۔۔۔۔ زیادہ بھی اگر کسی نے دیے تو نتھ اتروائی پچاس ہزار دے دیگا بس۔۔۔ بائی۔۔!وٹو اس سے مخاطب تھا۔۔۔ یہ تو صاف انکار والی بات ہوئی نا۔۔؟؟؟ تم جانتی ہو تیس لاکھ بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔۔۔ وٹو صاحب ۔۔۔۔ریشم بائی نے کہا میری بھی ساری زندگی کی کمائی لگی ہے نور پہ۔۔ اسے پالا پوسا پڑھایا لکھایا۔۔۔ اور نور جیسے ہیرے کے تیس لاکھ کونسا زیادہ ہیں بھلا؟؟؟ بائی۔۔۔۔لینے دینے والی بات کرو۔۔۔ وٹو اب بھی پرامید تھا۔۔۔ آپ کے لیے پچیس لاکھ ہوجائیں گے۔۔۔ اس سے ایک دھیلا کم نہیں ۔۔ ریشم بائی نے ہاتھ اٹھا کر گویا بات ختم کردی تھی۔۔۔ وٹو کچھ دیر ریشم بائی کو گھورتا رہا۔۔۔اور پھر ایک جھٹکے سے اٹھ گیا۔۔ ٹھیک ہے بائی تمہاری مرضی ہے۔۔۔ اس نے گویا دھمکی دی تھی۔۔ اور وہ سیڑھیاں اترگیا۔۔۔ اندر نور بیٹھی سوچ رہی تھی کہ۔۔۔ اس کی قیمت صرف تیس لاکھ تھی۔۔۔؟؟؟ وہ تو سمجھتی تھی وہ نایاب ہے؟؟؟انمول ہے؟؟ اس کی ماں ریشم بائی نے تو اسے یہی سکھایا تھا۔۔۔ اس کے دل کے آئینے پہ چوٹ سی لگی تھی۔۔۔ اور اس کی دونوں بہنیں رشک سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔کہ اس کی قیمت تیس لاکھ لگائی ان کی ماں نے۔۔۔ کچھ دن خیریت سے گزر گئے۔۔ پھر ایک دن جب رات کو محفل عروج پہ تھی۔۔ پولیس کا چھاپہ پڑا۔۔۔اور

تماش بینوں کو چھوڑکے صرف ریشم بائی اور اس کی تینوں بیٹیوں کو اٹھا کے تھانے لےگئے۔۔۔ ریشم بائی نے بہت افسروں کے حوالے دیے اپنا قصور پوچھا مگر۔۔۔ نقارخانے میں طوطی کی کون سنتا ہے؟؟؟ ان کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر چلتے بنے۔۔۔ جاتے ہی ان کو حوالات میں بند کردیا گیا۔۔۔ اس نے تھانیدار سے اپنا قصور پوچھا ۔۔۔تو اس کو بتایا گیا کہ۔۔۔وہ مقررہ وقت سے زیادہ اپنی محفل جماتی ہے۔۔۔اور اس کو صرف دھندے کا لائیسنس ملا ہے۔۔۔مگر وہ شراب بھی بیچتی ہے اور چرس بھی۔۔۔ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔۔۔ ریشم بائی ہکا بکا رہ گئی تھی۔۔۔وہ مزید کچھ نہ بولی۔۔۔کیونکہ وہ جانتی تھی اس کے پیچھے ضرور کسی کا ہاتھ ہوگا۔۔۔زیادہ شک اسے اظہر وٹو پہ تھا۔۔۔ اور بلکل سہی شک تھا اس کا۔۔۔۔ تھانیدار نے یہ نہیں بتایا تھا کہ۔۔۔ اس کو اظر وٹو نے اس کام کے بیس ہزار دیے تھے۔۔۔ ان کو صبح حوالات میں ہی گزارنی پڑی ۔۔۔ صبح اظہر وٹو تھانے آیا تھا۔۔۔ وہ اکیلا ہی تھا۔۔۔ اس کے ساتھ اس کے دو گارڈ تھے جو باہر گاڑی میں ہی بیٹھے رہے۔۔۔ وٹو کو دیکھ کر ریشم بائی کو لگا وہ ان کو چھڑانے آیا ہے۔۔۔ وٹو ان کے سامنے آکر کھڑا ہوا۔۔۔تو ریشم بائی بولی۔۔۔وٹو صاحب دیکھیں یہ لوگ ہمیں بلاوجہ اٹھالاۓ ہیں۔۔۔ بائی۔۔۔۔ ہر کام کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔۔ وٹو نے مسکراکر ذومعنی الفاظ میں کہا تھا۔۔۔ اس کی نظریں نور پر جمی ہوئی تھی۔۔۔ ان کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟؟؟ وہ تھانیدار سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔ نہ سر جی تکلیف کیوں دینی؟؟؟ مہمان ہیں یہ تو ہمارے۔۔ تھانیدار نے چاپلوسی سے کہا۔۔۔اور دانت نکال دیے۔۔۔ نور اور دوسری دونوں لڑکیاں چپ چاپ بیٹھی تھیں۔۔۔۔ البتہ وہ پریشان ضرور تھیں۔۔۔ بائی۔۔۔وٹو ایک بار پھر ریشم بائی کی طرف مڑا۔۔۔ کل تک کا وقت ہے تیرے پاس اچھے سے سوچ لینا۔۔۔ دوسری صورت میں لمبے عرصے تک جیل جاسکتی ہو تم سب۔۔۔ اور تم تو جانتی ہی ہو۔۔۔ تیری لڑکیاں کتنی خوبصورت ہیں۔۔۔خاص طور پہ نور۔۔۔۔۔ پتہ نہیں جیل میں ان کے ساتھ کیا کچھ ہو؟؟؟؟ اس نے ریشم بائی کو ڈرانا چاہا تھا۔۔۔۔ ریشم بائی کو شک تو پہلے ہی تھا۔۔۔ اب خود اس کے منہ سے سن کر اس کا دل وٹو کے لیے نفرت سے بھرگیا تھا۔۔۔ اس کا دل چاہا۔۔۔وہ وٹو کے منہ پہ تھوک دے۔۔۔ وٹو صاحب ۔۔۔سنا ہے جس کا کوئی نہ ہو اس کا خدا ہوتا ہے۔۔؟؟؟ طوائف کا کیا لینا دینا خدا سے؟؟؟ وٹو طنز سے بولا تھا۔۔۔ طوائف ضرور ہوں وٹو صاحب مگر خدا کی منکر نہیں ہوں۔۔۔ گنہگار ہوں۔۔۔کافر نہیں ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔۔ میں خدا کی نہیں مانتی مگر خدا کو تو مانتی ہوں۔۔۔ اور ایک خدا کو مانتی ہوں۔۔۔ نام کی سہی مسلمان تو ہوں نا۔۔۔؟؟؟ ریشم بائی کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ ۔۔۔وٹو نے مزید کوئی بات نہ کی اور باہر نکل گیا۔۔۔ وہ بھی ایک طرف جابیٹھی۔۔ اور اس کی بیٹیاں بھی اس کے ساتھ لگ گر بیٹھ گئیں۔۔۔۔ اس نے اپنی بیٹیوں کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔۔۔ جیسے انکو تسلی دے رہی ہو۔۔۔ ان کا وہ دن میں تھانے میں ہی گزرا تھا۔۔۔ اور بڑے بڑے ان کی چاہت کا دعویٰ کرنے والے نہ جانے کہاں چھپ گئے تھے۔۔۔ اس کے در پہ حاضری دینے والے بڑے بڑے لوگوں میں سے کوئی بھی ان کی ذات پوچھنے نہیں آیا تھا۔۔۔ رات آگئی تھی۔۔۔ ان کو کھانے پینے کے لیے دال راٹی ہی دی گئی تھی۔۔ جو انہوں نے بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر زہرمار کرلی تھی۔۔۔ رات بھی ان کی سوتے جاگتے ہی گزری تھی۔۔۔ اگلے دن وٹو پھر آدھمکا تھا۔۔۔ اس بار اس کے ساتھ عاصم بھی تھا۔۔۔ عاصم کاتایازاد بھائی وٹو کے ہی کسی کام سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔۔۔اور عاصم عارضی طور پہ اس کی جگہ تھا۔۔۔ ہاں بائی۔۔۔کیا سوچا پھر؟؟؟ وٹو نے آتے ہی ریشم بائی سے سوال کیا جو قیمت آپ کو بتائی ہے ۔۔۔۔ میں اسی پہ قائم ہوں۔۔۔ ریشم بائی کو اب ضد ہوگئی تھی۔۔۔ اسے کسی صورت گوارہ نہیں تھا کہ۔۔۔ وٹو نور کو چھوۓ بھی۔۔۔۔ اس لیے اس نے صاف جواب ہی دیا تھا۔۔۔ بائی کیوں پچھلی عمر خوار ہونا چاہتی ہے؟؟؟ ریشم بائی کے جواب سے وٹو کو آگ لگ گئی تھی۔۔۔ اپنا نہیں تو اپنی بیٹوں کا ہی خیال کرلو۔۔۔ اور نور کا ہی سوچ لو۔۔۔ اس نے ریشم بائی کو ڈرانا چاہا۔۔۔ یہ کم عمر بھی ہے اور حسین بھی۔۔۔ پتہ نہیں وہ جیل میں اس کے ساتھ کیا سلوک کریں۔۔۔؟؟؟ اور وہ بھی مفت میں؟؟؟ وٹو کمینگی سے مسکرایا تھا۔۔ عاصم نے تینوں لڑکیوں کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ اور پھر اس کی نظر نور پہ ٹک گئی۔۔۔مگر اس کی نظروں میں وٹو کی طرح ہوس نہیں ستائیش تھی۔۔۔پسندیدگی تھی۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا۔۔۔ کوئی اتنا پیارا بھی ہوسکتا ہے؟؟؟ نور ڈرا سا چہرہ لیے اور بھی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ عاصم کا دل مچل گیا تھا۔۔۔۔ وٹو اور ریشم بائی کی گفتگو سے سارا معاملہ عاصم کی سمجھ میں آگیا تھا۔۔۔ اس کا دل چاہا وہ اس وٹو کو گولی مار دے۔۔۔اور ان کو یہاں سے رہاکروادے۔۔ مگر وہ سوچ ہی سکتا تھا۔۔۔ اس کے بس میں کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ وٹو مایوس ہوکر پھنکارتا واپس ہولیا۔۔۔۔ جاتے جاتے اس نے تھانیدار کو بلاکر اس کی جیب گرم کی اور۔۔۔۔ تاکید کی کہ۔۔۔۔ان تینوں کو لمبی جیل ہونی چاہیے۔۔۔ نور کو اس کا ارادہ تھا یہاں سے لےجاۓ گا۔۔۔اور جب دل بھرجاۓ گا اسے اس کے کوٹھے پر چھوڑ آۓگا۔۔۔ ریشم بائی اس کے ارادوں سے بےخبر آنے والے وقت کا سوچ کر پریشان ہورہی تھی۔۔۔ اس نے تھانیدار کی منت کی کہ۔۔۔اسے ایک فون کرنے کی اجازت دے دے۔۔۔مگر تھانیدار نے اس کو جھڑک دیا تھا۔۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی کوئی ایک بھی ان کا پوچھنے نہ آیا آخر پتہ تو چل ہی گیا ہوگا سب کو۔۔۔۔؟؟؟ ایک دن اور گزرگیا تھا ان کو تھانے میں۔۔۔ رات ہوچکی تھی۔۔۔جب

اچانک ہی ان کو تھانے میں ہلچل سی محسوس ہوئی۔۔۔ سپاہی آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔۔۔ بڑے صاحب آرہے ہیں کسی نے کہا تھا۔۔۔ اور چیزیں ادھر ادھر کرنے لگے۔۔۔۔ بڑے صاحب کی آمد کا ریشم بائی نے بھی سنا تھا مگر۔۔۔۔ اسے کوئی امید نہیں تھی کہ اس کی سنی جاۓ گی۔۔۔ وہ سب کو ایک جیسا ہی سمجھتی تھی۔۔۔ اچانک ہی تھانے کے صحن میں گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی۔۔۔اور سر ،سر کی آواز کے ساتھ دھڑا دھڑ سیلوٹوں کی آوازیں آئی۔۔۔۔ کوئی بڑی شان سے چلتا ہوا اندر آیا تھا اور وہاں موجود قیدیوں سمیعت تمام لوگوں پر ایک نظر ڈال کر اندر کمرے میں چلا گیا۔۔۔ ریشم بائی کو ایک موہوم سی امید تھی کہ۔۔۔ شاید بڑے صاحب قیدیوں سے کچھ پوچھ ہی لیں۔۔۔مگر بڑے صاحب ایک نظر ڈال کر اندر چلے گئے تو اس کی امید بھی ختم ہوگئی۔۔۔ اندر سے کچھ دیر بولنے کی آوازیں آتی رہیں اور پھر خاموشی چھاگئی۔۔۔ کبھی کبھار کسی کی آواز آجاتی تھی۔۔۔ جیسے کوئی کسی سے سوال پوچھ رہا ہو۔۔۔ بڑے صاحب اندر ہی بیٹھ گئے تھے۔۔۔ ان کے لیے چاۓ بسکٹ گئی تھی اندر۔۔۔ کچھ دیر بعد تھانیدار باہر نکلا اور تین سپاہيوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کسی طرف چلا گیا۔۔۔ اندر مکمل خاموشی تھی اب شاید بڑے صاحب آرام کررہے تھے۔۔۔ اماں اب کیا ہوگا؟؟؟ نور نے ریشم بائی سے پوچھا تھا۔۔۔ بیٹی دیکھا جاۓ گا۔۔۔ تم ڈرو نہیں ۔۔۔میں تیرے ساتھ ہوں نا۔۔۔ اس نے نور کو تسلی دی۔۔۔ اچانک ہی اندر بڑے صاحب کے کمرے سے تلاوت کی آواز آنے لگی۔۔۔ آواز موبائل یا ٹیپ کی تھی جس پہ تلاوت چل رہی تھی۔۔۔اور

ساتھ ساتھ ترجمہ بھی تھا۔۔۔ وہ سب حیرانگی سے اس کمرے کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔۔۔ ان کے لیے یہ نیا کام تھا شاید کہ۔۔۔۔ تھانے میں کوئی رات کے اس پہر تلاوت سن رہا تھا۔۔۔ قران پڑھنے والے کی آواز بےحد خوبصورت اور پرسوز تھی۔۔۔اور ترجمہ کرنے والی آواز بارعب تھی۔۔۔ وہ پوری طرح اس طرف متوجہ ہوگئیں۔۔۔ کچھ دیر وہ سب یونہی گم سم سی سنتی رہیں۔۔۔پھر نور کی بہن نے خاموشی توڑی۔۔۔ اماں۔۔۔اس نے ریشم بائی کو مخاطب کیا۔۔۔ تم تو کہتی تھی کہ۔۔۔بڑے بڑے لوگ ہماری چوکھٹ چومنے آتے ہیں۔۔۔ دیکھ لو ایک بھی نہیں آیا کوئی۔۔۔؟؟؟

اور خدا کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ ہی مددگار۔۔۔

عین اسی لمحے آئیت کے بعد ترجمے کی آواز آئی تھی۔۔۔ ریشم بائی نے پتہ نہیں اپنی بیٹی کو کیا جواب دیا تھا مگر۔۔۔۔ یہ الفاظ نور کے دل کو چھوگئے تھے۔۔۔

وہ اسی طرف متوجہ تھی۔۔۔ سچ ہے۔۔۔ یہ آواز اس کے دل کی تھی۔۔۔

تلاوت مکمل ہوگئی تھی۔۔۔۔اور وہاں خاموشی چھاگئی۔۔۔

کچھ دیر بعد ایک بار پھر تلاوت کی آواز آئی۔۔ اب کی بار بھی آواز واضع تھی۔۔۔

البتہ پڑھنے اور ترجمہ کرنے والے کی آواز پہلی آواز سے مختلف تھی۔۔۔مگر یہ آواز بھی خوبصورت تھی۔۔۔

نور کا سارا دھیان اب اسی طرف تھا۔۔۔

فَاَیْنَ تَزَہَبُنْ

اور تم کس سمت جارہے۔۔۔؟؟؟

ترجمے کی آواز آئی تو نور کے دل پہ چوٹ سی لگی اس نے بی _اے تک پڑھا تھا مگر۔۔۔

قران نہیں پڑھا تھا۔اور نہ ہی اسے پڑھایا گیا تھا۔۔۔ اگر ترجمہ ساتھ نہ کیا جا رہا ہوتا تو اسے کچھ سمجھ نہ آتی۔۔۔

آواز آنا بند ہوگئی تھی۔۔۔

اتنے میں تھانیدار تین سپاہيوں کے ساتھ کسی کو ہتھکڑی لگاۓ اندر داخل ہوا۔۔ اس نے ایک نظر ان پر ڈالی اور تالا کھول کر ساتھ والے کمرے میں بند کردیا۔۔۔ اور خود اندر کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ بڑے صاحب کے ساتھ اندر سے نمودار ہوا۔۔۔ وہ بڑے ادب سے بڑے صاحب کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔۔۔ بڑا صاحب سیدھا چلتا ہوا نور والے کمرے کے سامنے آرکا۔۔۔ بڑے صاحب کو دیکھ کر ریشم بائی جلدی اٹھی اور سلاخوں کے قریب جاپہنچی۔۔۔ اس نے بڑے صاحب کو سلام کیا۔۔۔ جس اس نے بڑے اچھے طریقے سے جواب دیا۔۔۔ اس کی نظر ریشم بائی کے پیچھے کھڑی لڑکیوں پر بھی پڑی تھی۔۔۔ اس نے مڑکر تھانیدار کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو یہ کون اور کس جرم میں ہیں۔۔؟؟؟ اس کی ساری زندگی پولیس میں ہی گزری تھی۔۔۔ اس نے ایک نظر میں ہی پہچان لیا تھا کہ۔۔۔ اس کے سامنے کھڑی عورت کس بازار سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔ تھانیدار نے اس کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوۓ اسے بتایا کہ۔۔۔۔ یہ ریشم بائی ہیں۔۔۔۔اور شراب چرس بیچنے اور وقت مقررہ سے زیادہ ٹائم محفل سجانے کے جرم میں پکڑا ہے۔۔۔ تھانیدار کا جواب سن کر بڑے صاحب کے چہرے پر ایک استہزایہ سی مسکراہٹ ابھری۔۔۔ جیسے انہوں نے تھانیدار کے الزامات کا مذاق اڑایا ہو۔۔۔

اور پھر ریشم بائی سے مخاطب ہوۓ۔۔۔ ہاں بائی۔۔۔تھانیدار کیا کہ رہا ہے؟؟؟کیا یہ سچ ہے؟؟؟ ان کے لہجے میں نرمی تھی۔۔۔ ان کا لہجہ سن کر ریشم بائی کو حوصلہ ہوا اور۔۔۔ اس نےجلدی جلدی مختصر بتادیا کہ ۔۔۔ وہ کس جرم کی پاداش میں یہاں ہے۔۔۔ بائی نے اظہر وٹو کا ذکر بھی کیا تھا۔۔۔اور یہ بھی بتایا کہ وہ دوبار یہاں آکر اسے دھمکی بھی دےکر گیا ہے کہ۔۔۔ اس کی بات نہ ماننے کی صورت میں میری بیٹیوں سمیعت وہ مجھے جیل بھجوادے گا۔۔۔ بات مکمل کرتے کرتے ریشم بائی کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔ اور یہ اداکاری ہرگز نہیں تھی۔۔۔ ریشم بائی ایک طوائف ہی سہی مگر تھی تو عورت ہی۔۔۔ اور پھر اس کو جس جس کا مان تھا کہ وہ اس کا پانی بھرتے ہیں۔۔۔۔ اس کو کوئی آنچ نہ آنے دیں گے۔۔۔۔ وہ مان بھی اب زمین بوس ہوگیا تھا۔۔۔ ریشم بائی کے منہ سے وٹو کا نام سن کر بڑے صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔۔۔ اس نے گھور کر تھانیدار کو دیکھا تو۔۔۔ تھانیدار سٹپٹاگیا۔۔۔ چھوڑ دو ان کو۔۔۔ بڑے صاحب کے منہ سے چھوڑدو کے الفاظ سن کر ریشم بائی کو یقین نہ آیا تھا۔۔۔ نور اور اس کی بہنیں بھی حیرانی سے اس پولیس کے روپ میں اس فرشتے کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔ مگر سر۔۔۔۔۔۔۔!تھانیدار نے پس وپیش کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ میں وٹو کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں اور۔۔۔۔ تم کو بھی۔۔۔ اس نے تھانیدار کو کہا۔۔۔ اگر تم چاہتے ہو کہ ۔۔۔ تمہارے خلاف میں کوئی ایکشن نہ لوں تو ان کو چھوڑ دو اور۔۔۔۔ آئیندہ اگر کسی بےگناہ کو پکڑا۔۔۔اور مجھے پتہ چل گیا تو۔۔۔۔یاد رکھنا ۔۔۔میں دوسری بار معاف نہیں کرتا۔۔۔ اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا ۔۔ تھانیدار نے کانپتے ہاتھوں سے تالا کھولا۔۔۔اور ان کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔۔۔ اس کی اپنی نوکری خطرے میں پڑتی نظر آرہی تھی۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ۔۔۔ طارق بشیر چیمہ جو کہتا ہے کرتا بھی ہے۔۔۔ چاہے اس کے سامنے وزیراعلیٰ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ باہر نکلتے ہی ریشم بائی اور اس بیٹیوں نے ان کے پاؤں چھوکر اپنی عقیدت کا اظہارکرنے کی کوشش کی تو۔۔۔ بدک کر پیچھے۔۔۔بائی یہ کیا کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟ گنہگار نہ کرو مجھے۔۔۔ تم جو کوئی بھی ہو۔۔جو بھی کرتی ہو۔۔۔ میرے لیے ایک عورت ہی ہو۔۔۔اور عورت کی بلا تفریق عزت کرنا میری ماں نے سکھایا ہے مجھے۔۔۔

طارق بشیر نے نور اور اس کی بہنوں کو سر پہ ہاتھ رکھا۔۔۔۔ اللہﷻ ہدایت دے۔۔ اس نے انکو دعادی۔۔۔ ریشم بائی سمیعت اس کی بیٹیاں بھی حیران تھیں۔۔۔ یہ کہیں فرشتہ تو نہیں۔۔۔؟؟؟

وہ سوچ رہی تھیں عقیدت سے ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔ زندگی میں پہلی بار کسی مرد نے ان کے سر پہ باپ یا بھائی سی شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔

وہ ان کو دعائیں دیتی باہر نکل گئیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *