Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alif Allah (Episode 06)

Alif Allah by Ibne Aleem Rana

عامر ایک بار پھر لاہور آیا تھا

وہ رات کو ریشم بائی کے کوٹھے پہ گیا تو وہاں چند سازندوں کے سوا کوئی نہ ملا۔۔۔۔

کوٹھا کسی اجڑی حویلی کا منظر پیش کررہا تھا ۔۔۔

پوچھنے پر اسے پتہ چلا تو اس بہت دکھ ہوا۔۔مگر وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔

اس لیے چپ چاپ واپس گھر آگیا۔۔۔

ایک ماہ بعد اسے پھر موقع ملا تھا ۔۔۔ اسے یقین تھا کہ اب تک ریشم بائی واپس آچکی ہوگی۔۔۔اور اس کی توقع کے مطابق ریشم بائی واپس آگئی تھی۔۔۔

اسے خوشی ہوئی رات حسبِ معمول محفل سجی تھی مگر۔۔۔

پہلے جیسی نہ تھی۔۔۔ نور نے بھی کچھ دیر رقص کیا تھا۔۔۔ عامر کی تو جیسے دلی مراد بر آئی تھی۔۔۔

اس نے بڑھ چڑھ کر پیسے لٹاۓ تھے۔۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ نور نے اسے غور سے دیکھا تھا۔۔۔ وہ دو دن کے لیے لاہور گیا تھا مگر۔۔۔

اسے آج پانچواں دن تھا وہاں۔۔۔ اور کوئی رات ایسی نہ تھی وہ جب ریشم بائی کے کوٹھے پر نہ گیا ہو۔۔۔ اور اس کے جانے کی وجہ نور تھی۔۔۔ جو اب ہر رات دس بیس منٹ تک اپنا جلوہ دکھاتی تھی۔۔۔ اور ان پانچ دنوں میں اس نے عامر کی دلچسپی محسوس کرلی تھی۔۔۔ وہ اب کبھی کبھی اسے مسکراکر بھی دیکھ لیتی تھی۔۔۔ اور عامر کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ ۔۔۔نور اس کو جاننے لگی ہے۔۔۔۔

چھٹے دن وہ واپس گاؤں آگیا تھا مگر۔۔۔۔ پہلے سے زیادہ بےچینی لیکر۔۔۔۔

اور یہ بےچینی کی وجہ نور کی اس کی طرف توجہ تھی۔۔۔جو

آج سے پہلے نہیں تھی۔۔ پہلے تو وہ اس کی شکل سے بھی واقف نہ تھی۔۔۔ وہ اب دوبارہ لاہور جانے کا بہانہ ڈھونڈرہا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عاصم اس دن وٹو کے ساتھ تھانے گیا تو وہاں نور کو دیکھ کر اس کا دل مچلا اٹھا تھا۔۔۔مگر

وہ جانتا تھا کہ ۔۔۔

نور ایک طوائف کی بیٹی ہے وہ اسے صرف ایک گاہک کی نظر سے ہی دیکھے گی بس اور وہ اس کا گاہک ہرگز نہیں بننا چاہتا تھا۔۔۔۔

اس کے دل میں ایک عجیب ہی خواہش مچلی تھی کہ۔۔۔

کاش وہ لڑکی راضی ہوتی تو وہ اس کو گناہوں کی دلدل سے نکال کر کہیں دور لے جاتا۔۔۔

وٹو اور اس عورت کی گفتگو سے وہ اتنا تو جان گیا تھا کہ۔۔۔ وٹو بھی اس لڑکی کے چکر میں ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کو تھانے آنا پڑا تھا۔۔۔ شاید انہوں نے وٹو کی بات نہیں مانی تھی۔۔۔؟؟؟

اس کا دل اداس ہوگیا۔۔۔

وہ اس لڑکی کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اس نے وٹو کی نوکری کو خیر آباد کہا۔۔۔ اور ہمیشہ کے لیے گھر آگیا۔۔۔ اس کے گھر والوں کو جب پتہ چلا کہ وہ نوکری چھوڑ آیا ہے تو اس کو ان کے طنز کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ مگر وہ چپ رہا۔۔۔ وہ ان کو کیا بتاتا کہ وہ کیوں وٹو جیسے آدمی کو چھوڑکرآیا ہے۔۔۔؟؟؟

اس کے باپ نے اس سے پوچھا تھا کہ۔۔ آخر وہ کرنا کیا چاہتا ہے؟؟؟ کسی نوکری پہ وہ ٹکتا کیوں نہیں؟؟؟ اباں ۔۔۔میں اپنا کام کرنا چاہتا ہوں۔۔ جواب میں اس نے اپنے باپ سے کہا تھا۔۔۔ اپنے کام کے لیے پیسے چاہیئے ۔۔۔کہاں سے آئیں گے اتنے پیسے؟؟؟

اس کے باپ نے غصے میں کہا تھا۔۔۔

اللہﷻ دے گا پیسے بھی۔۔۔ عاصم نے کہ کر جان چھڑالی

جو تیرا دل کرتا ہے کر۔۔۔ پر یاد رکھنا۔۔۔ تیری شادی اس وقت تک نہیں کرونگا جب تک تو کماۓ گا نہیں ۔۔۔ تیرے سے چھوٹے کی کردونگا پر تیری نہیں کرونگا۔۔۔ اس کے باپ نے اسے آگاہ کیا تھا۔۔۔ یا شاید ڈرایا تھا۔۔۔ اور عاصم مسکراکر باہر نکل گیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نور تھانے سے آنے کے بعد کچھ دن چپ چپ سی رہی تھی۔۔۔

اس کے ذہن سے تھانے میں سنے وہ الفاظ جیسے چپک گئے تھے۔۔۔۔

اور خدا کے سوا نہ کوئی تمہارا دوست ہے اور نہ ہی مدگار۔۔۔

اسے کبھی خدا کے بارے میں نہ بتایا گیا تھا نہ سکھایا گیا تھا۔۔۔

وہ جتنا جانتی تھی کالج تک پڑھنے سے ہی جان پائی تھی مگر جس ماحول میں وہ پلی بڑھی تھی۔۔۔

وہاں بس کبھی کبھار وہ خدا کا نام سنتی تھی۔۔۔ وہ بھی کسی بات پر جب اگر کوئی قسم کھاتا۔۔۔یا دکھ تکلیف میں کسی کے منہ سے اللہﷻ نکل جاتا۔۔۔

اس کی خاموشی کو ریشم بائی نے بھی محسوس کیا تھا اور اس نے سمجھا تھا کہ۔۔۔وہ دوراتیں تھانے گزار کر آئی شاید اس لیے اس کا دل برا ہوگیا ہے۔۔۔ کیونکہ آج تک اس نے لاڈ ہی دیکھے تھے۔۔۔ ریشم بائی نے اسے تسلی دی تھی کہ۔۔ وہ اپنا دل چھوٹا نہ کرے ایک دن وہ مشہور ہوگی تب دیکھنا یہ تھانیدار اور وٹو جیسے لوگ تیرے آگے پیچھے کتے کی طرح دم ہلاتے پھریں گے۔۔۔۔ کچھ دن بعد وہ نارمل ہوگئی تھی۔۔۔ کوٹھے پہ تماش بینوں کی کمی کی وجہ سے اسے بھی ہر رات کچھ دیر اپنا فن دکھانا پڑتا تھا۔۔۔ اور یہ اس کے فن کا ہی نتیجہ تھا کہ۔۔۔ آہستہ آہستہ کوٹھا آباد ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔

اور پھر ایک دن جمال شاہ ان کے کوٹھے پہ آ پہنچا۔۔

ریشم بائی نے اس سے شکوہ کیا کہ اس نے ان کی خیر خبر بھی نہ لی۔۔۔؟؟؟ جس کے جواب میں اس نے کہا تھا بائی میں یہاں تھا ہی نہیں ورنہ کس کی مجال تھی جو تم لوگوں کو ہاتھ بھی لگاتا۔۔۔ وہ ریشم بائی کو خوش خبری دینے آیا تھا کہ اس نے ایک سیٹھ سے بات کی ہے۔۔۔ وہ سیٹھ اپنے پیسوں سے ایک فلم بنارہا ہے۔۔۔ اور میں نے سیٹھ کو قائل کرلیا ہے کہ اپنی فلم میں نور کو ہیروؤن لے۔۔۔ اس نے کہا ہے کہ۔۔۔ وہ نور کو دیکھ کر ہی فیصلہ کریگا۔۔۔ اور مجھے یقین ہے اس نے اگر نور کو دیکھ لیا تو وہ انکار کرہی نہیں سکتا۔۔۔ اور پھر نور کے لیے دولت شہرت کے دروازے کھل جائیں گے۔۔۔۔

جمال شاہ نے چہک کر ریشم بائی کو بتایا تھا۔۔۔ جمال شاہ کی بات سن کر ریشم بائی مستقبل کے سہانے سپنوں میں کھوگئی تھی۔۔۔ اندر بیٹھی نور اور اس کی بہنوں نے بھی جمال شاہ کی بات سنی تھی۔۔۔ نور کے دل میں بھی خوشی کی ایک لہر دوڑگئی تھی۔۔۔

میں کسی دن سیٹھ سے ٹائم لیکر بتادونگا۔۔۔ نور کو لیکر اس کے بنگلے پر چلی جانا۔۔۔ اس نے ریشم بائی سے کہا اگر سیٹھ کو نور پسند آگئی تو تمہاری قسمت بدل جاۓ گی ریشم بائی۔۔۔ جمال شاہ نے کہا اور اجازت لیکر چلا گیا۔۔۔ ریشم بائی کو اب سیٹھ کے بلاوے کا بے چینی سےانتظار تھا۔۔۔ اس کا انتظار ایک مہینے بعد ختم ہوا جمال شاہ نے ریشم بائی کو خوشخبری دی کہ۔۔۔ کل وہ نور کو لیکر دس بجے تک سیٹھ کے بنگلے پر پہنچ جاۓ۔۔۔ اور ساتھ تاکید بھی کردی کہ خیال رہے سیٹھ نور یا ریشم کی کسی بات سے خفا نہ ہو ورنہ ریشم بائی کا نور کو مشہور بنانے کا خواب چکنا چور ہوسکتا ہے۔۔۔ ریشم بائی نے وہ رات خوشی میں گزراری تھی اسے یقین تھا کہ سیٹھ کو نور پسند آجاۓگی کیونکہ نور میں وہ تمام خوبیاں تھیں۔۔۔ جو کسی بھی ہیرون میں ہونی چاہیئے ۔۔۔ حسین تو وہ بلا کی تھی اس کے ساتھ ساتھ اس کی آواز رقص بھی اپنی مثال آپ تھا۔۔۔ اگلے دن صبح آٹھ بجے ہی وہ نور کو لیکر سیٹھ عباد کے بنگلے کی طرف چل پڑی باہر سے انہوں نے ایک ٹیکسی لی اور اسے جگہ بتاکر اس میں بیٹھ گئیں۔۔۔ ٹیکسی ان کی مطلوبہ جگہ پہنچی تو ریشم بائی بنگلے کی شان وشوکت دیکھ کر حیران ہوگئی۔۔۔ نور کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا۔۔۔ اس کے دل میں خواہش مچلی کاش اس کے پاس بھی ایسا بنگلہ ہو۔۔۔ بنگلے کا گیٹ بند تھا۔۔۔ بیل دینے پر چھوٹا گیٹ کھلا اور اندر سے ایک باوردی گارڈ باہر نکلا۔۔۔ اس کے پوچھنے پر ریشم بائی نے اسے بتایا کہ ان کو سیٹھ نے بلایا ہے۔۔۔ وہ بنا کچھ کہے اندر چلا گیا تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور ان کو اندر آنے کا کہ کر آگے آگے چل دیا۔۔۔ وہ دونوں اس کی تقلید میں ایک سجے سجاۓ کمرے میں پہنچی ۔۔۔ اندر سے بنگلا اور بھی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔ ان کو وہاں بیٹھنے کا کہ کر گارڈ واپس چلا گیا۔۔ اور وہ ماں بیٹی وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگیں۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ان کے لیے ایک آدمی کھانے پینے کی اشیاء سے سجی ٹرالی لیکر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔اور ان کے سامنے پڑی ٹیبل پر سجانے لگا۔۔۔ سیٹھ صاحب کہاں ہیں؟؟؟ ریشم بائی نے سوال کیا۔۔۔ سیٹھ صاحب کچھ دیر تک آجائیں گے۔۔ آپ چاۓ پیئں۔۔۔ اس نے جواب دیا اور ٹرالی ان کے سامنے خالی کرکے واپس چل دیا۔۔۔۔ وہ چاۓ پی چکیں تو وہی آدمی اندر آیا خالی برتن اٹھا کر چلا گیا۔۔۔ نور کی نظر دیوار پہ لگے وال کلاک کی طرف گئی ساڑے دس ہورہے تھے۔۔۔ ان کو وہاں بیٹھے پون گھنٹہ ہوچلا تھا۔۔۔۔ ان کو شاید جان بوجھ کر انتظار کروایا جارہا تھا۔۔۔تاکہ وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ سیٹھ انکا انتظار کررہا تھا ٹھیک دس منٹ بعد دروازہ کھلا اور۔۔۔ پچاس پچپن سال کا ایک موٹا سا آدمی اندر آیا۔۔۔ اس کے لباس سے لگ رہا تھا کہ یہی سیٹھ عباد ہے اس نے اندر آتے ہی معزرت کی کہ ان کو زیادہ انتظار کرنا پڑا۔۔۔ اور ساتھ ہی اپنی مصروفیت بھی بتادی۔۔۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کھڑی ہوگئیں تھیں۔۔۔ سیٹھ کے اشارے پر بیٹھ گئیں۔۔۔ ارے نہیں سیٹھ صاحب معزرت کی کوئی بات نہیں ریشم بائی چاپلوسی سے بولی آپ مصروف لوگ ہیں کہاں وقت ملتا ہے۔۔۔ سیٹھ ان کے سامنے ایک صوفے پر براجمان ہوچکا تھا۔۔۔ آپ کی بیٹی تو بنی بنائی ہیرون ہے ریشم بائی۔۔۔ اس نے چند پل نور کو غور سے دیکھا۔۔۔اور ریشم بائی سے بولا۔۔۔ اس کے الفاظ سے ریشم بائی کو لگا کہ۔۔۔ اس کے خواب پورے ہونے کا وقت قریب ہی ہے۔۔۔ زرہ نوازی ہے آپ کی۔۔۔ریشم بائی عاجزی سے بولی تھی میں نے نور کو بہت محنت سے تیار کیا ہے ۔۔۔ آپ نظر کرم کردیں تو۔۔۔بچی کی زندگی بن جاۓ گی۔۔۔ بائی نے بےحد لجاجت سے کہا میں کھل کر بات کرنے کا عادی ہوں بائی۔۔۔ سیٹھ نے کہا مجھے نور بہت پسند آئی ہے۔۔۔اور میں اپنی فلم میں اس کو ہیرون بنادونگا ۔۔۔مگر۔۔۔

سیٹھ نے ایک پل رک کر ریشم بائی کی طرف دیکھا۔۔۔ مگر کیا سیٹھ صاحب؟؟؟

ریشم بائی بےتابی سے بولی ۔۔۔

مگر یہ کہ۔۔۔نور کو مجھے خوش کرنا ہوگا۔۔۔ اس نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔۔۔ کل میں کچھ دنوں کے لیے ملک سے باہر جارہا ہوں۔۔۔ اگر تمہیں میری شرط منظور ہو تو۔۔ میری واپسی پر نور کو اسی بنگلے پر بھیج دینا۔۔۔ اس کے بعد نور کو فلم میں ہیرون لینا میرا کام ہے۔۔۔ ریشم بائی ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھی۔۔۔ وہ کچھ کھوکر بہت کچھ پانا چاہتی تھی۔۔۔ اسی لیے اس نے دوسرے لوگوں کو ٹال دیا تھا۔۔۔ ریشم بائی نے جھٹ سے ہاں کردی۔۔۔ بس آپ اس کو ہیرون بنادیں آپ جو کہیں گے۔۔۔ ہم وہی کریں گے۔۔۔ریشم بائی نے سیٹھ سے کہا۔۔۔ اور اس کی یقین دہانی پر وہ دونوں اجازت لیکر باہر نکل آئیں۔۔۔ نور نے بنگلے کی شان وشوکت دیکھ کر عہد کیا کہ وہ جب مشہور ہوگی تو ایسا بنگلہ لے گی ۔۔ اور ایسی ہی شان و شوکت سے رہے گی۔۔۔ چاہے اس کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔۔۔ مستقبل کے سنہرے خواب اس کی حسین آنکھوں میں چمک رہے تھے۔۔۔ بنگلے سے نکل کر انہوں نے ایک ٹیکسی لی اور اپنے کوٹھے پر آگئیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنت اللہﷻ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوئی تھی اسے آج بھی امید تھی کہ مرنے سے پہلے وہ اپنی بیٹیوں سے ضرور ملے گی ہر نماز کے بعد وہ اپنی بیٹیوں کے لیے دعا کرنا نہیں بھولی تھی۔۔۔

اور اٹھتے بیٹھتے انہیں اللہﷻ کی امان میں رہنے کی دعا دیتی تھی۔۔۔

عرصہ دراز سے قران پڑھتے اور پڑھاتے اس کے چہرے پہ قران کی برکت سے ایسا نور پیدا ہوگیا تھا کہ۔۔۔

جو بھی اسے دیکھتا اس کا احترام کرنے لگتا۔۔۔ گاؤں والے اس کا بےحد احترام کرنے لگ گئے تھے اور گاؤں کا کوئی لڑکا یا لڑکی ایسا نہیں تھا جو جنت کا شاگرد نہ ہو۔۔۔ اس کے لیے روزانہ گاؤں کے کسی ایک گھر سے تین وقت کا کھانا آجاتا تھا۔۔۔ اور

اس کے لیےدودھ ساراسال عاصم کے گھر سے آتا تھا۔۔۔ عاصم کے والد نے تو کھانے کا بھی کہا تھاکہ۔۔۔ صرف ان کے گھر سے آجایا کریگا مگر۔۔۔ گاؤں والے نہیں مانے تھے وہ جنت کی دعاؤں سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے۔۔۔ جنت جانتی تھی کہ۔۔۔اس کی یہ سب عزت اور احترام قران پاک کی بدولت ہے

اللہﷻ کے پاک کلام کو پھیلانے کی وجہ سے ہے۔۔۔

اور تم میں بہتر وہ ہے جو قران سیکھے اور سکھاۓ۔۔۔

یہ اس کے رب نے کہا تھا اور بےشک وہ کئی لوگوں سے بہتر تھی

عزت دار تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *