Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alif Allah (Episode 08)

Alif Allah by Ibne Aleem Rana

وہ دونوں بھی اپنی بائیک پہ عامر کے پیچھے پیچھے اس ہوٹل تک پہنچ گئے تھے۔

جہاں عامر ٹہرا ہوا تھا۔۔۔۔

ہوٹل کیا تھا بس دوچار ٹوٹے پھوٹے سے کمروں پر مشتمل ایک حویلی سی تھی۔۔۔

جس کے ایک طرف تندور لگاہوا تھا۔۔۔اور اس کے قریب دوچارپائیوں کے ساتھ ایک دو میز اور کرسیاں تھیں۔۔۔

جو شاید ہوٹل میں کھانا کھانے کے لیے آنے والوں کے لیے تھی۔۔۔

دوسری طرف دوچار کمرے بنے ہوۓ تھے۔

وہاں ایک طرف بنے کمرے میں روشنی نظر آرہی تھی۔۔۔ اور

اندر سے دو آدمیوں کے باتیں کرنے کی آواز۔۔۔۔جو شاید ہوٹل کا عملہ تھا۔۔۔

وہ چپکے سے ہوٹل میں داخل ہوۓ اور سن گن لیتے ایک کمرے کے قریب رک گئے اندر سے عامر کی آواز آرہی تھی۔۔۔۔

جو کسی سے کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔۔

اس کے بعد ایک لڑکی کی آواز آئی جو عامر سے کچھ کہ رہی تھی۔۔۔

اور اس کے لہجے میں خوشی سی تھی۔۔۔ ارد گرد کے کمرے خالی تھے۔۔۔

اس کو عامر کے ارادے کا اندازہ تو ہوگیا تھا۔۔۔مگر عاصم کا ارادہ کچھ اور تھا۔۔۔ اس نے سوچا تھا کہ۔۔۔ وہ جب لڑکی کے ساتھ وقت گزار کر کمرے سے نکلے گا تو وہ اچانک عامر کے سامنے آکر اسے حیران کردےگا۔۔۔اور پھر۔۔۔

وہ اور شانی بھی اس لڑکی کے ساتھ موج کریں گے۔۔۔

ہوٹل میں اس وقت مکمل خاموشی تھی ۔۔۔۔ وہ دروازے سے کان لگاۓ اندر کی گفتگو سننے میں مصروف تھے۔۔۔

اندر ہونے والی گفتگو نے پہلے انہیں تجسس میں مبتلا کیا۔۔۔اور پھر حیرانگی میں۔۔۔

اچانک ہی زوردار تھپڑ کی آواز آئی تھی۔۔۔۔اور ساتھ ہی غصے میں بھری عامر کی آواز۔۔۔ عاصم نے اندر ہونے والی تمام گفتگو سن لی تھی۔۔۔اور اس کے ذہن سے موج کرنے کا خیال نکل گیا تھا۔۔۔

اسے اب لڑکی پہ ترس آنے لگا تھا۔۔۔ اس نے دل میں ایک فیصلہ کیا۔۔۔اور دروازے پہ دستک دیدی۔۔۔ اندر خاموشی چھاگئی تھی۔

اس نے چند پل انتظار کیا اور ۔۔۔۔

دوبارہ دستک دی۔۔۔

دستک اس نے آہستہ ہی دی تھی ۔۔۔تاکہ کچھ دور بنے کمرے میں بیٹھے ان لوگوں کو نہ سنائی دے۔۔۔

دروازہ عامر نے ہی کھولا تھا۔۔۔اور غصے میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ۔۔۔

عاصم کو دیکھ کر اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔ تم۔۔۔یہاں؟؟؟

عامر کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا تھا۔۔۔

عاصم نے کوئی جواب نہ دیا اور اندر کمرے میں داخل ہوگیا۔۔۔ اس کے پیچھے اس کا دوست شانی بھی تھا۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی عاصم کی نظر چارپائی پر پڑی اس لڑکی پر پڑی تھی۔۔۔ اسے دیکھ وہ چونک پڑا۔۔۔ یہ تو وہی ہے؟؟؟

اس نے سوچا نور کو وہ کچھ دن پہلے تھانے میں دیکھ چکا تھا۔۔۔ وہ اظہر وٹو کے ساتھ تھانے گیا تھا۔۔۔اور وٹو بھی اس لڑکی کے چکر میں ہی تھانے گیا تھا۔۔۔

عاصم نے اندر کی ساری باتیں سن لی تھیں۔مگر اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ۔۔۔یہ وہی لڑکی ہوگی۔۔۔ اندر کی باتیں سن کر ہی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ۔۔۔

اگر یہ لڑکی عزت کی زندگی گزارنا چاہ رہی ہے تو وہ اسے سہارا دیگا۔۔۔

یہی سوچ کر اس نے دستک دےدی تھی۔۔۔۔ لڑکی اب مزید پریشان نظر آرہی تھی۔۔۔ شاید وہ سوچ رہی ہوگی کہ ۔۔۔ پہلے تو ایک ہی تھا اب تین درندے ہوگئے۔۔؟؟؟

عامر کو سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔کہ وہ کیا کہے؟؟؟ کیونکہ اسے خطرہ تھا کہ۔۔۔۔

بات اگر اس کے گھر تک پہنچ گئی تو وہ۔۔۔ رقم کا کیا بہانہ بناۓ گا؟؟؟ کیونکہ گھر والے اب اس کی بات کا یقین نہیں کرینگے۔۔۔اور۔۔۔ گاؤں میں وہ۔ اور اس کا خاندان منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔۔۔

اتنے میں عاصم کی نظر زمین پر پڑے کاغذ پر پڑی اس نے اسے اٹھالیا۔۔۔اور پڑھنے لگا۔۔۔۔

یہ وہی کاغذ تھا جو نور نے عامر کے لیے لکھا تھا کہ۔۔۔

وہ اسے یہاں سے لےجاۓ۔۔۔۔اور گناہوں کی اس دلدل سے نکال لے۔۔۔

جوں جوں عاصم تحریر پڑھتا جارہا تھا۔۔۔ نور کے لیے اس کے دل میں عقیدت بڑھتی جارہی تھی۔۔۔ تحریر پڑھ کے اس نے نور کی طرف دیکھا۔۔۔ جو امید بھری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور پھر عامر کو دیکھا۔۔۔۔ دیکھ یار عاصم۔۔۔۔میں نے چھ لاکھ دیے ہیں اس کے ۔۔۔۔

تین راتوں کے لیے یہ میرے پاس ہے اب۔۔۔

مل کے تینوں موج کرتے ہیں۔۔۔ تم لوگ ایک پیسہ نہ دینا ۔۔۔بس گاؤں جاکر کسی کو کچھ نہ بتانا۔۔۔ عاصم کے کچھ بولنے سے پہلے ہی عامر نے اسے لالچ دیا تھا۔۔۔اور

ساتھ ہی راز رکھنے کی درخواست بھی کی۔۔۔ یہ اگر گناہ کی زندگی چھوڑنا چاہتی ہے تو۔۔۔۔ ساتھ نہیں دے سکتے نہ دو مگر۔۔۔۔ اسے گناہ کرنے پر مجبور تو نہ کرو۔۔۔ عاصم نے عامر سے کہا تھا۔عامر کے لہجے میں غصے کی جھلک واضع تھی۔

نور کے چہرے پر امید کی چمک آگئی تھی۔۔۔ میرے چھ لاکھ لگے ہیں ۔۔۔ عامر نے اپنے پیسوں کارونا رویا۔۔۔۔

ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔میں اسے ویسے بھی لےجاسکتا ہوں یہاں سے۔۔۔عاصم نے عزم سے کہا تھا۔۔۔ کسی کا باپ بھی مجھے نہیں روک سکتا۔۔۔۔تو بھی نہیں۔۔۔اس نے عامر کی طرف انگلی سے اشارہ کیا ۔۔۔ مگر۔۔۔تونے اس کے چھ لاکھ دیے ہیں۔۔۔چلو میں تمہیں اپنے حصے کی زمین بیچ کر چھ لاکھ دےدونگا۔۔۔ پھر بھی اس لڑکی کی قیمت نہیں دےسکتا میں۔۔۔ یہ انمول لڑکی ہے۔۔۔ نایاب ہے۔۔۔مگر

تمہیں اس کی قدر اس لیے نہیں کہ۔۔۔تم نے اسے بس ہوس کی نظر سے ہی دیکھا ہے۔۔۔۔ اس کا ارادہ نہیں دیکھا تم نے۔۔۔ گناہوں کی دلدل سے نکلنے کا ارادہ۔۔۔ عاصم نے جزباتی سے لہجے میں کہا تھا۔۔۔اور اپنے بارے میں یہ سن کر نور کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئی تھیں ۔۔مگر یہ تشکر کے آنسو تھے احسان مندی کے جزبات سے لبریز آنسو۔۔۔

عامر جانتا تھا کہ۔۔۔وہ چاہے تو نور کو لےجاسکتا ہے۔۔۔عامر اسے نہیں روک سکتا۔۔۔ اس لیے اس نے سوچا چلو چھ لاکھ واپس آجائیں کافی ہیں۔۔۔ کوئی چارہ نہ پاکر اس نے عاصم سے درخواست کی کہ۔۔۔ وہ اس لڑکی کو لےجاۓ مگر اس کے چھ لاکھ اسے دےدے۔۔۔ عاصم نے اسے یقین دلایا کہ۔۔۔وہ گاؤں جاکر اپنے حصے کی زمین بیچ کر اسے اس کی رقم لوٹادےگا۔۔۔ یہ لڑکی زمین سے لاکھ گناہ زیادہ قیمتی ہے میرے لیے۔۔۔عاصم نے مسکرا کر نور کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ آج سے میں اس کا سہارا بنوں گا ۔۔۔ نور کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ۔۔۔ اس انسان کا کیسے شکریہ ادا کرے۔۔۔۔ جس نے نہ صرف اس کی عزت بچائی بلکہ۔۔۔ اسے عزت کی زندگی گزارنے کی امید بھی دی۔۔۔

عاصم اسے ساتھ لیکر اپنے گاؤں جانے کے لیے چل پڑا۔۔۔

وہ جب گھر پہنچا تو رات کا وقت ہوگیا تھا۔۔۔ اس کا باپ ڈیرے پر چلا گیا تھا۔۔۔ اس کے گھر والے اس کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے۔۔۔ ان کو لگا جیسی اس کی حرکتیں ہیں یقیناً کسی لڑکی کو بھگاکر لایا ہوگا؟؟؟

اپنی ماں کے پوچھنے پر اس نے ساری بات تفصیل سے سچ بتادی تھی۔۔۔ پتر ۔۔۔تونے جو بتایا ہے ٹھیک ہے ثواب کا کام ہے مگر ۔۔۔ تیرا ابا مانے گا تب نا؟؟؟

عاصم کی ماں نے پریشانی سے کہا تھا۔۔۔ اور تو جانتا ہی ہے تیرے ابا نے اگر اسے قبول نہ کیا تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا اس کی ماں نے اپنی رضامندی تو ظاہر کردی تھی مگر۔۔۔ اسے اپنے شوہر کا ڈر تھا کہ۔۔۔ پتہ نہیں وہ اس لڑکی کو قبول کرتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔؟؟؟ عاصم کی ماں نے نور کو کھانا کھلایا اور تسلی دی۔۔

صبح جب عاصم کا باپ گھر آیا تو نور کو دیکھا تھا مگر۔۔۔ اس نے کوئی سوال نہ کیا۔۔ اسے لگا شاید گاؤں میں سے کوئی لڑکی کسی کام سے آئی ہوگی۔۔ عاصم کی ماں نے اسے ناشتہ دیا تو ساتھ ڈرتے ڈرتے ساری بات بھی بتادی۔۔۔ سارا قصہ سن کر وہ حیران ہوا۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہو عاصم کی ماں؟؟؟ اس نے اپنی بیوی سے کہا تھا۔۔۔

زرا بلاؤ اس لڑکی کو۔۔۔ساتھ اس نے اپنی بیوی سے کہا عاصم کی امی نے آواز دی تو نور دل میں بہت سے خدشات لیے ڈرتی ڈرتی ان کے پاس چلی گئی۔۔

اس نے جاتے ہی عاصم کے باپ کو سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔اور نور سے ساری بات پوچھی جو اس کی بیوی نے اسے بتائی تھی۔۔ عاصم اس وقت گھر نہیں تھا۔۔۔ نور نے بھیگے لہجے میں اسے ساری بات سچ سچ بتائی تھی۔۔۔ نور نے اپنی بات مکمل کر کے نظریں جھکالیں تھی۔۔

اسے اب اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار تھا۔۔۔ صدیق محمد چارپائی سے اٹھا

پتر۔۔۔۔وہ نور سے مخاطب تھا۔۔ نور نے نظریں اٹھائیں اور اس کی طرف دیکھا۔

پتر۔۔۔عاصم نے آج تک کوئی کام سیدھا نہیں کیا۔۔۔پر پتر یہ ایک کام اس نے ایسا کیا کہ اس کے آج تک کے سارے الٹے کاموں کو بھول گیا میں۔۔۔۔ اس نے نور کے سر پہ شفقت سے ہاتھ رکھا۔۔

آج سے یہ تیرا گھر ہے پتر۔۔ اس نے نور سے کہا تو وہ بےاختیار رو پڑی ۔۔۔

عاصم کے باپ نے اسے حوصلہ دیا۔۔۔ پتر نہ رو ۔۔۔

اب یہاں تجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔۔۔ اور نہ کسی کا ڈر ۔۔ جو روکھی سوکھی ہم کھائیں گے تو بھی کھالینا۔۔

اللہﷻ نے تیرے لیے اگر ہمیں وسیلہ بنایا ہے تو ضرور اس میں کوئی اللہﷻ کی حکمت ہوگی۔ گاؤں کے ایک انپڑھ نے جان لیا تھا کہ۔۔۔۔ اللہﷻ نے اس لڑکی کی عزت کے لیے ان کو چنا ہے اور۔۔۔

وہ اس سعادت کو کسی صورت گنوانا نہیں چاہتا تھا۔۔ صدیق محمد کے الفاظ نور کے لیے ایسے ہی تھے۔ جیسے کوئی مرنے والے کو زندگی کی نوید سنادے۔۔۔

صدیق محمد نے نور سے پوچھ کر اس کی رضامندی سے اس کا نکاح عاصم سے کردیا۔۔۔ رفیق محمد اللہﷻ سے ڈرنے والا سیدھا سادھا انسان تھا۔۔۔

اسے لوگوں کو کوئی ڈرنہیں تھا نہ پرواہ کہ۔۔۔لوگ کیا کہیں گے؟؟؟یا سوچیں گے؟؟؟ اگلے دن ہی صبح ان کا نکاح کردیا گیا تھا۔۔۔اور

گاؤں میں بھی یہ بات پھیل گئی تھی کہ۔۔۔ عاصم کہیں سے ایک لڑکی کو بھگاکرلایا ہے۔۔۔اور اس سے شادی کرلی ہے۔۔۔ اور وہ لڑکی کوئی طوائف ہے۔۔۔

گاؤں کی عورتیں شوق سے نور کو دیکھنے آتی تھیں۔۔۔اور حیران ہوکر واپس جاتی تھیں۔۔۔

انی سوہنی ووٹی اے۔۔

اصل میں وہ یہ دیکھنے آتی تھیں کہ ۔۔۔ طوائف کیسی ہوتی ہے؟؟؟

تاکہ گاؤں میں جاکر دوسروں کو بتاسکیں کہ۔۔۔ انہوں نے طوائف کو دیکھا ہے۔۔۔اور اس میں طوائف والےکیا کیا لچھن ہیں۔۔۔

مگر جب بھی کوئی عورت آتی۔۔نور کو سادہ کپڑوں میں گھرکے کاموں میں ہی مصروف پاتی تھیں۔۔۔ ان عورتوں کی نور کے لچھن دیکھنے کی حسرت دل میں ہی رہ گئی۔۔۔

جنت تک بھی یہ بات پہنچی تھی کہ صدیق کا پتر عاصم کسی طوائف کو لیکر آیا ہے اور اس سے بیاہ کرلیا ہے۔۔۔ جنت بھی نور کو دیکھنے کی خواہش میں عاصم کے گھر جاپہنچی مگر۔۔۔ اس کی نیت دوسری عورتوں جیسی نہیں تھی۔۔۔وہ بس یونہی دیکھنے چلی آئی تھی۔۔۔ عاصم اور اس کے گھر والوں نے جنت کی بہت عزت کی۔۔۔ جنت نے نور کو دیکھا تو جانے کیوں اس کا دل مچل اٹھا ۔۔۔ اس نے نور کو سینے سے لگا کر اس کا سر چوما۔۔

یہ ایک ایک بےاختیاری عمل تھا ۔۔۔جنت کو پتہ نہیں کس جزبے کے تحت اس پر بےتحاشہ پیار آیا تھا۔۔۔

جنت نے عاصم اور اس کے گھر والوں کی بہت تعریف کی کہ۔۔۔انہوں نے ایک ایسا نیک کام کیا ہے کہ یہ کام ان کی بخشش کا وسیلہ بن سکتا ہے۔۔۔

ایک انسان کو گناہ کے دلدل سے نکال کر اسے باعزت زندگی دی ہے۔۔۔

جنت کے الفاظ سن کر نور کے دل میں جنت کے لیے محبت اور عقیدت پیدا ہوگئی تھی۔۔۔اسے یہ عورت بہت اچھی لگی تھی۔۔۔ گاؤں کی دوسری عورتوں سے بہت مختلف۔۔۔

جنت بہت دیر ان کے پاس بیٹھی باتیں کرتی رہی اور پھر آنے کی اجازت مانگی۔۔۔ اس نے آنے سے پہلے اپنے پلو سے بندھے پچاس روپے نور کو زبردستی دیے تھے۔۔۔ عاصم کے گھر والوں کے منع کرنے پر جنت نے کہا تھا کہ۔۔۔ یہ میری بیٹی جیسی ہی ہے اور پہلی بار دیکھنے آئی ہوں تو۔۔۔مجھے اچھا نہیں لگتا کہ بنا کچھ دیے لوٹ جاؤں۔۔۔ اس نے جاتے جاتے عاصم سے وعدہ لیا تھا کہ وہ۔۔

نور کو اس کے گھر لیکر آۓگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابا مجھے مجھے اپنے حصے کی زمین چاہیے۔۔ عاصم نے ایک دن اپنے والد سے کہ رہا تھا۔۔۔ کیوں؟؟؟صدیق محمد نے اسے حیرت سے پوچھا۔۔

ابا آپ کو یاد نہیں میں نے بتایا تھا کہ۔۔۔میں نور کو عامر سے بچا کر کر لایا ہوں اور۔۔۔

اس سے وعدہ کیا تھا کہ اس کے پیسے لوٹادونگا اوہ اچھا اچھا۔۔۔اس کے باپ کو جیسے یاد آگیا۔۔۔ پتر۔۔اس کا باپ عاصم سے بولا۔۔۔

زمین بیچنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ عامر کے باپ اکرم کی زمین ہماری زمینوں کے ساتھ ہی لگتی ہے اس کے باپ کو کہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے پیسوں کے حساب سے ہماری اتنی زمین ہی رکھ لے۔۔۔ پتر زمین آنی جانی شے ہےمگر۔۔۔کسی انسان کو اگر برائی سے بچالیا تو سمجھو بیڑہ پار ہوگیا۔۔۔

میں خوش ہوں کہ۔۔۔ اللہﷻ نے ایک انسان کی ہدایت کے لیے ہم گنہگاروں کو چنا۔۔۔

اپنے باپ کی باتیں سن کر عاصم نے فخر سے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔۔۔

اسے تو لگتا تھا اس کا باپ بہت سخت آدمی ہے مگر۔۔۔

اسے اب پتہ چلا تھا کہ۔۔ اس کے باپ جیسا اچھا انسان اور کوئی نہیں ہے۔۔۔ اس نے اٹھ کر اپنے باپ کے پاؤں کو ہاتھ لگایا اور۔۔۔ اس کے ہاتھ چوم لیے۔۔۔ ابا ۔۔مجھے معاف کردے۔۔۔عاصم نے اپنے باپ سے کہا میں نے آج تک تجھے ستایا ہی ہے ابا۔۔۔

چل کوئی نہ پتر۔۔۔اس کے باپ نے کہا۔۔۔تو اب بھی سمجھ گیا تو کافی ہے ۔۔ پچھلی باتوں کو بھول جا ۔۔۔ اور عاصم کو لگا کہ۔۔۔ اس نے جیسے دنیا فتح کرلی ہو۔۔۔

سچ ہے دنیا میں ماں باپ جیسا پیر و مرشد بھی کوئی نہیں۔۔۔جو اگر انسان سے خوش ہوجائیں تو۔۔ اللہﷻ سے ملادیتے ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عامر واپس آگیا تھا۔۔۔اور

اس نےگھر میں وہی کہانی سنائی تھی کہ۔۔۔ اسے ڈاکوؤں نے لوٹ لیا ہے۔۔۔ اسے لگا تھا کہ۔۔۔عاصم نے کہ تو دیا تھا مگر۔۔۔ وہ اسے ایک پیسہ نہیں دیگا۔۔۔اور نہ عاصم کا باپ اسے زمین بیچنے دیگا۔۔۔ عامر میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ وہ عاصم سے زبردستی پیسے لے لیتا۔۔۔ سو اس نے ڈاکوؤں والی کہانی سنا کر اپنی جان چھڑا لی تھی۔۔۔ اس کے باپ نے پتہ نہیں یقین کیا تھا یا نہیں مگر۔۔۔وہ چپ ہوگیا تھا۔۔۔ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔۔۔ اپنی اولاد کو مارتا یا تھانے دیتا۔۔۔؟؟؟؟ کچھ دن خیریت سے گزرگئے تھے ۔۔پھر ایک دن عاصم کا باپ صدیق محمد چوہدری اکرم سے ملنے آیا۔۔۔۔ اس نے عامر کے باپ چوہدری اکرم کو ساری بات تفصیل سے بتائی تھی۔۔۔اور اس سے کہا تھا کہ وہ اپنے پیسوں کے بدلے اس کی زمین لے سکتا ہے۔۔۔ چوہدری اکرم پہ تو گویا گھڑوں پانی پڑگیا تھا۔۔۔ وہ زمین کبھی نہ چھوڑتا مگر۔۔ اسے صرف اس بات کا ڈر تھا کہ۔۔۔ زمین لینے کی صورت میں پورے گاؤں میں یہ بات پھیل جاتی کہ ۔۔۔ اس کا بیٹا طوائفوں پہ پیسے لٹاتا رہا ہے۔۔۔ اور چوہدری اکرم کا دین دار بننے کا بنا بنایا سالوں کا بھرم ایک پل میں مٹی میں مل جاتا۔۔۔ گاؤں والے اس کے گھر کو ایک دیندار اور نیک گھر جو سمجھتے تھے۔۔۔ اس نے صدیق سے معزرت کی ۔۔اور

کہا تھا کہ وہ یہ بات کسی کو نہ بتاۓ۔۔۔ ورنہ اس کی بنی بنائی عزت خاک میں مل جاتی۔۔۔ گھر آکر اس نے سب سے پہلے عامر کو پوچھا تھا۔۔۔کہ وہ چھ لاکھ کہاں دیکر آیا تھا؟؟؟ اور پھر اسے گھر سے نکلنے کا حکم دے دیا تھا۔۔۔۔ ___________________________________

نور بےحد خوش تھی۔۔

اسے لگ رہا تھا جیسے وہ جہنم سے نکل اچانک جنت میں آگئی ہو۔۔۔

عاصم اور اس کے گھر والے اس کی نظر میں فرشتوں جیسے تھے۔۔

نور کے دل میں ان کے لیے بےحد عزت اور عقیدت تھی۔۔۔

وہ عاصم کے باپ کو ابو اور ماں کو امی کہتی تھی۔۔۔اور ان سے اتنی محبت کرتی تھی کہ۔۔۔اگر وہ لوگ اسے کہتے تو نور اپنے خون کا آخری قطرہ بھی ان کے پاؤں میں نچھاور کردیتی۔۔۔ وہ لوگ بھی بہت خوش تھے نور سے اور اسے اپنی بیٹی سے بڑھ کر چاہتے تھے۔۔۔ نور کو نماز نہیں آتی تھی۔۔۔پھر بھی وہ پوچھ پوچھ کر پڑھنے کی کوشش کرتی تھی ۔۔اور ساتھ ساتھ سیکھنے کی بھی۔۔۔ جب اس نے پہلی بار نماز پڑھنے کی کوشش کی تو پہلے سجدے میں جاتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا تھا۔۔۔

اس نے سجدہ اتنا طویل کیا تھا کہ ۔۔۔ دیکھنے والے سمجھے تھے شاید اس کی روح پرواز کرگئی ہے۔۔۔

نور کو سجدے سے جو لطف آیا تھا ایسا لطف اس نے آج تک محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔

اس وقت بھی نہیں۔ جب لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے تھے۔۔اور

نہ ہی اس وقت جب لوگ اس پہ بےتحاشہ نوٹ نچھاور کرکے اسے داد دیتے تھے۔۔۔۔

نور نے عاصم اور اس کے گھر والوں سے اجازت لیکر جنت سے قران پڑھنا شروع کردیا تھا۔۔۔اور

اسے لگا تھا کہ جیسے وہ اب تعلیم یافتہ ہورہی ہے۔۔۔ چھ مہینے میں اس نے قران پاک مکمل کرلیا تھا۔۔۔اور ترجمہ وہ خود پڑھ لیتی تھی۔۔۔

کچھ اسلامی کتابیں عاصم نے اسے مسجد کے امام سے لاکردی تھیں۔

مگر وہ اب بھی جنت کے پاس جاتی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کیا چیز تھی جو اسے وہاں جانے پر مجبور کرتی تھی۔۔۔

اسے جنت سے بھی اتنی ہی محبت اور عقیدت تھی جتنی عاصم کے گھر والوں سے۔۔۔۔جنت کے پاس جاکر اسے ایک عجیب سا احساس ہوتا تھا۔۔۔۔

ایک عجیب سے سکون کا احساس۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سات آٹھ مہینے گزرے تھے۔

جب اسے اچانک ہی اس رات سنی ریشم بائی کی باتیں یاد آگئیں۔۔۔

وہ بے چین ہوگئی تھی۔۔۔ ریشم بائی اس رات کسی سے کہہ رہی تھی کہ وہ نور کو ملتان سے رمی بائی کو پیسے دیکر لائی تھی۔۔۔ نور کے ذہن میں ملتان اور رمی بائی کا نام نقش ہوگیا تھا۔۔۔۔

اس نے عاصم کو ساری بات بتائی اور اس سے التجا کی تھی کہ اگر رمی بائی زندہ ہے تو وہ اس کا پتہ لگاۓ۔۔۔

عاصم اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا۔۔۔وہ نور کو بہت چاہتا تھا۔۔۔ نور کی سوچ سے بھی بڑھ کر وہ نور کو چاہتا تھا۔۔۔

وہ تو اس کے لیے اپنے حصے کی زمین دینے کو تیار تھا۔۔۔ پھر یہ نمی بائی کا پتہ کرنا کیا مشکل تھا ۔۔؟؟؟

اس نے نور کو یقین دلایا کہ وہ ہر صورت اسے نمی بائی سے ملاۓ گا۔۔۔ بشرطیکہ نمی بائی زندہ ہو۔۔۔

نور اپنی تلاش کرنا چاہتی تھی۔۔۔

اس نے سوچا تھا کہ۔۔۔ اگر وہ ریشم بائی کی بیٹی نہیں ہے تو۔۔۔پھر کون ہے؟؟؟کس کی بیٹی ہے؟؟؟اور

ریشم بائی کو کب،کہاں اور کیسے ملی؟؟؟ اسے ان سب سوالوں کے جواب درکار تھے۔۔۔جو اسے یا تو ریشم بائی دے سکتی تھی۔۔یا پھر نمی بائی۔۔۔ ریشم بائی کے پاس جانے کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔۔ اس لیے نور نے سوچا نمی بائی کو تلاش کیا جاۓ۔۔۔ نور کے کہنے پہ عاصم نے ملتان کے کئی چکر لگاۓ تھے۔۔۔اور ایسے لوگوں سے بھی ملا تھا جو ایسے ویسے لوگوں کو جانتے تھے مگر بےسدھ۔۔۔۔

پانچ مہینے وہ کوشش کرتا رہا اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا مگر وہ مایوس نہیں ہوا تھا۔۔ وہ ہر صورت نور کی خواہش پوری کرنا چاہتا تھا۔۔اور پھر ایک دن ایک آدمی کے وسیلے سے اسے نمی بائی کا پتہ مل ہی گیا۔۔۔ اس نے نور کو یہ خوشخبری سنائی اور اس سے وعدہ کیا کہ۔۔۔وہ پہلے نمی بائی کی تصدیق کریگا اور پھر اسے لیکر اس کے پاس جاۓ گا۔۔۔ شاید وہ بتا ہی دے کہ۔۔ نورکون ہے؟؟؟ وہ ایک دن ملتان گیا اور اس آدمی کے بتاۓ پتے پر پہنچ گیا۔۔۔۔وہ صرف جگہ دیکھنے آیا تھا کہ آیا ایسی کوئی جگہ ہے بھی یا نہیں اب؟؟؟

کوٹھی موجود تھی۔۔۔وہ دیکھ کر واپس آگیا۔۔۔ اس نے سوچا اکیلا وہ پوچھ گچھ کریگا تو مشکوک لگے گا۔۔۔نور کوساتھ لیکر آۓگا اور سیدھا نمی بائی سے ہی پوچھ لے گا۔۔۔ اس نے اگلے دن گھر والوں کو ملتان جانے کا بتا کر نور کو ساتھ لیا اور نمی بائی کی کوٹھی پرجاپہنچا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *