Alif Allah by Ibne Aleem Rana NovelR50615 Alif Allah (Episode 03)
Rate this Novel
Alif Allah (Episode 03)
Alif Allah by Ibne Aleem Rana
چوہدری اکرم کے سب سے چھوٹے بیٹے عامر نے اپنے دوستوں سے ملنے لاہور جانا تھا۔۔۔
اس نے اپنے والد سے اجازت لی اور گھر سے پیسے لیکر روانہ ہوگیا۔۔۔۔
اس کا ارادہ تین چار روز رہنے کا تھا۔۔۔سو پیسے بھی کافی ساتھ لایا تھا۔۔۔ لاہور اس کے کوئی دوست نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ان دوستوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ جو
اس کے ساتھ کالج میں پڑھتے رہے تھے۔۔۔۔ ان میں سے ایک اس کے گاؤں کا ہی تھا دو ساتھ والے گاؤں کے تھے ایک خانیوال شہر سے تھا۔۔۔لاہور جارہا تھا۔۔۔۔۔
گھومنے پھرنے سے زیادہ ان کا ارادہ کچھ ،،خاص،، پروگرام دیکھنے کا تھا۔۔۔جس کی اس نے اپنے دوستوں سے بہت بار تعریف سنی تھی۔۔۔۔
اس کے دوست دوچار مہینوں میں ایک آدھ بار وہاں اس بازارجاتے تھے۔۔۔۔
جہاں کوئی بھی شریف آدمی جانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔۔۔
وقت مقرر پر وہ سب خانیوال اڈے پہ جمع ہوگئے تھے۔۔۔۔وہاں سے انہوں نے لاہور جانے والی گاڑی کی ٹکٹیں لیں اور اس میں بیٹھ گئے۔۔۔۔ کچھ دیر بعد بس روانہ ہوگئی۔۔۔
راستے بھر وہ کالج کی گزری یادوں کو دہراتے رہے۔۔۔۔اور سفر کا پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔
وہ لاہور اترے تو شام کے چار بج رہے تھے۔۔۔۔ ان میں سے ایک نے ایک رکشے والے کو روکا اور ایک جگہ کا بتاکر سب کے ساتھ اس میں بیٹھ گیا۔۔۔ رکشہ ان کی بتائی جگہ پر پہنچا تو انہوں نے اتر کر کرایہ ادا کیا اور اپنے اپنے بیگ اٹھالیے۔۔۔
وہی لڑکا جس نے رکشے کو روکا تھا ۔۔۔۔ان کو لیکر ایک گلی میں جا پہنچا۔۔۔۔۔ ایک دو منزلہ گھر کے سامنے پہنچ کر اس نے بیل دی۔۔۔۔۔اندر سے ایک آدمی باہر نکلا۔۔۔۔
وہ بڑی گرمجوشی سے ان سب سے ملا ۔۔۔۔ جیسے وہ ان کو جانتا ہو۔۔۔۔
عامر کے علاوہ وہ باقی سب کو جانتا تھا۔۔۔۔کیونکہ وہ جب بھی لاہور آتے تھے اس کے مکان میں ہی ٹہرتے تھے۔۔۔ ہوٹل کا کرایہ زیادہ ہوتا تھا۔۔۔اور وہ اس مالک مکان کو ہوٹل سے آدھی قیمت دیتے تھے۔۔۔۔
ویسے بھی انہوں نے دوچار روز ہی رہنا ہوتا تھا۔۔۔۔ اس آدمی نے ان کا حال احوال پوچھا اور ایک کمرے کا دروازہ کھول دیا۔۔۔۔۔اس کمرے کا دروازہ باہر گلی کی طرف تھا۔۔۔اور ایک چھوٹا دروازہ اندر کی طرف بھی تھا اٹیچ باتھ بھی تھا۔۔۔ یہ کمرہ شاید وہ لوگ باہر کے مہمانوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔۔؟؟؟
رات کا کھانا کھا کر وہ کمرے میں ہی بیٹھے گپ شپ لگاتے رہے اور پھر سوگئے۔۔۔۔ اگلے دن شام کو وہ سب نکلے اور عامر کو لاہور دکھاتے رہے۔۔۔۔
رات دس بجے انہوں نے ایک ہوٹل سے کھانا کھایا اور وہ سب وہاں چل پڑے ۔۔۔۔جس کو دیکھنے وہ یہاں آۓ تھے۔۔۔۔
اس گلی میں داخل ہوتے ہی عامر کو اتنا تو پتہ چل ہی گیا تھا کہ۔۔۔۔۔وہ لوگ اس کو یہیں کچھ دکھانے لاۓ ہیں۔۔۔۔کیونکہ انہوں نے یہاں کا ماحول کئی بار عامر کواتنی تفصیل سے مزے لے لے کر بتایا تھا کہ وہ ماحول اس کے ذہن میں نقش ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ وہ پہلے بھی ایسی جگہوں پر جا چکا تھا مگر۔۔۔۔وہ جگہیں چھوٹی موٹی تھی۔۔۔۔مگر یہاں کی تو بات ہی الگ تھی۔۔۔۔۔
تجھے ہیروں کی پوری منڈی دکھاؤں گا آج۔۔۔۔دیکھنا اس منڈی میں کیسے کیسے ہیرے پڑے ہیں۔۔۔؟؟؟اس کے دوست نے ایک آنکھ دباکر عامر سے کہا تھا۔۔۔۔ اور وہ سب ہنس پڑے ۔۔۔ اس کو لیکر وہ گلی میں چلتے رہے۔۔۔پھر ایک چوبارے کے سامنے جارکے اور اس کی سیڑیاں چڑھنے لگے۔۔۔ اس چوبارے کے باہر ایک زرد سا بلب اپنی ناکافی سی روشنی کے ساتھ گلی کو روشن کرنے کی پوری سی کوشش کررہا تھا۔۔۔ وہ سیڑیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو۔۔۔۔۔۔
ان کا استقبال تھل تھل کرتی ایک موٹی سی عورت نے کیا۔۔۔۔زہے نصیب زہے نصیب۔۔۔اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے سگریٹ سے آخری کش لیا اور مسکرا کر ان کو ویلکم کیا۔۔۔۔
وہ یقیناً عامر کے سوا باقی سب کو جانتی تھی ۔۔۔۔۔ پھر وہ ان کو اشارہ کرکے ایک طرف بنے کمرے کی طرف چل پڑی۔۔ وہ سب اس کے پیچھے پیچھے چل دیے۔۔۔۔ یہ تارا بائی کا کوٹھا تھا۔۔۔۔اور وہ عورت تارا بائی ہی تھی۔۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر اس نے ان کو قالین پر لگے گاؤتکیوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ سب بیٹھ گئے۔۔۔۔۔وہاں ان سے پہلے اور لوگ بھی بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔۔ایک طرف سازندے اپنے سازوں کے ساتھ چھیڑخانی میں مصروف تھے۔۔۔۔ نینا اور روبی بس آنے ہی والی ہیں ۔۔۔۔۔آپ کچھ لینا پسند کرینگے؟؟؟؟ تارا بائی نے ان کو بتا کر ساتھ ہی ان سے پوچھ بھی لیا تھا۔۔۔کہ وہ کچھ پینا چاہتے ہیں؟؟؟ ابھی نہیں تارا بائی۔۔۔۔عامر کا ایک دوست بولا ۔۔۔۔۔محفل شروع ہونے کے بعد لے آنا کچھ خاص۔۔۔۔
اس نے کچھ خاص پر زور دیا تھا۔۔۔۔اور تارا بائی اس کا مطلب سمجھ کر مسکراتی ہوئی اندر چلی گئی۔۔۔
انہیں وہاں بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی ۔۔۔جب اندر سے اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دو لڑکیاں نکل کر ان کے درمیان آگئیں۔۔۔ ان دونوں لڑکیوں نے آتے ہی وہاں موجود لوگوں کو اپنا ایک ہاتھ پیشانی تک لے جاکر اور گردن کو زرا خم دیکر آداب کیا۔۔۔ سازندے تیار بیٹھے تھے جیسے ہی انہوں نے اشارہ کیا۔۔۔۔ سازندوں نے اپنا اپنا فن دکھانا شروع کردیا۔۔۔ سازوں کی مدھر آوازوں لڑکیوں نے تھرکنا شروع کردیا تھا۔۔۔
عامر کی زندگی کا یہ پہلا موقعہ تھا۔۔۔ اور وہ کچھ حیرانی اور خوشی کے ملے جلے جزبات کے ساتھ محویت سے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسی دوران ان کے سامنے جام رکھ دیے گئے تھے۔۔۔ شراب عامر کے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھی۔۔۔۔وہ گاؤں میں پہلے بھی کئی بار اپنے دوستوں کے ساتھ اس سے شغل کرچکا تھا۔۔۔۔ ان لڑکیوں کے قدموں میں تیزی آتی گئی۔۔۔اور عامر اس کے دوست سمیعت وہاں موجود لوگوں کی دلچسپی میں بھی۔۔۔
شراب کے خمار میں وہ ناچتی لڑکیاں ان کو پرستان سے آئی پریاں ہی لگ رہی تھیں۔۔۔۔ ایسی پریاں جو صرف ان کا دل بہلانے کے لیے ہی وہاں آئی تھیں۔۔۔۔
رات جیسے جیسے ختم ہورہی تھی۔۔۔وہاں موجود لوگوں کی جیبوں میں موجود رقم بھی ویسے ہی ختم ہوتی جارہی تھیں۔۔۔ صبح سے پہلے وہ سب واپس آگئے تھے۔۔۔ عامر بہت خوش تھا۔۔۔ اس کا وہاں سے واپس آنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا مگر
مجبوری تھی آنا تو تھا ہی۔۔۔ اسے اب رات ہونے کا انتظار تھا۔۔۔۔کہ کب رات ہو اور وہ وہاں جاۓ۔۔۔ اس نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ۔۔۔۔آج رات کسی نئے کوٹھے پہ چلیں گے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت کا شوہر جس دن اپنی چھوٹی بیٹی کو ملتان میں اس عورت کو دیکر آیا تھا۔۔۔
اس کے ٹھیک چار میہنے بعد ریشم بائی اس عورت کے بلانے پر اس کے پاس پہنچ گئی تھی۔۔۔۔
وہ عورت ریشم بائی کی ہی ہم پیشہ تھی۔۔۔اور لڑکپن سے لیکر جوانی تک دونوں ایک دوسرے کی پڑوسی رہیں تھیں۔۔۔۔
پھر وہ عورت کہیں چلی گئی تھی۔۔۔۔اور کئی سال بعد ایک دن وہ ریشم بائی کو ملنے آئی تو اس نے بتایا کہ وہ اب ملتان شہر میں رہتی ہے مگر۔۔۔۔وہ کون ہے؟؟؟ کیا کرتی ہے؟؟؟ اس بات کا علم اس کے چند گاہکوں کے سوا کسی کو نہیں تھا۔۔۔۔
وہ وہاں اپنی شناخت چھپاۓ عام پوش ایریے میں ایک کوٹھی میں رہتی ہے۔۔۔اور
اپنا دھندہ بھی چلا رکھا رکھا ہے۔۔۔
ریشم بائی اس کی چال چلن دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔۔۔ وہ اعلیٰ ماڈل کی گاڑی میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی۔۔۔
اس کا حلیہ دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ بھی کبھی اسی جگہ رہتی تھی۔۔۔ اس کی عیاشیاں دیکھ کر ریشم بائی کو ایک الگ ہی سوچ نے گھیر لیا تھا۔۔۔مگر
اس کے لیے اسے ایک ایسی بچی کی ضرورت تھی۔۔جس کی ریشم بائی خود پرورش کرتی۔۔۔اور بڑا ہونے پر اسے یہ نہ پتہ چلتا کہ ۔۔۔
ریشم بائی اس کی ماں نہیں ہے۔۔۔۔ اس بات کا ذکر ریشم بائی نے اس عورت سے بھی کیا۔۔۔اور اسے کہا تھا کہ وہ کہیں سے اسے ایسی کوئی بچی ڈھونڈدے جو دوچار مہینے کی ہو۔۔۔۔
اور جس کا کوئی آگے پیچھے نہ ہو۔۔۔۔ اور آج وہ اسی سلسلے میں اس عورت سے ملنے آئی تھی۔۔۔۔ اس عورت نے اسے کہا تھا کہ۔۔۔ایک بچی مل گئی ہے جس کا باپ اس بچی کی پیدائش سے تین مہینے پہلے ہی فوت ہوگیا تھا۔۔۔اور ماں اس بچی کے پیدا ہونے کے دو دن بعد چل بسی۔۔۔۔۔ اس کا کوئی خاندان بھی نہیں ہے۔۔۔ اسپتال کی ایک نرسکو دو لاکھ دیکر وہ بچی کو لے آئی ہے۔۔۔۔
اس نے ریشم بائی کو فون کیا کہ۔۔۔وہ آکر دیکھ لے اگر وہ بچی اسے پسند آۓ تو لیجا سکتی ہے۔۔۔۔ ریشم بائی اس بچی کو دیکھتے ہی اس پہ فدا ہوگئی تھی۔۔۔۔ اس کی گھاک نظروں نے جانچ لیا تھا کہ ۔۔۔ بڑی ہوکر یہ بچی بہت خاص بنے گی۔۔۔۔اور
ریشم بائی کے لیے قسمت کے دروازے کھول دیگی۔۔۔ ریشم بائی نے اس عورت کو تین لاکھ روپیہ دیا۔۔۔اور
اس بچی کو اپنے ساتھ لے آئی۔۔۔۔ اس نے پانچ سال تک اس کی پرورش کی۔۔۔۔اور
پھر کراچی میں اپنی بہن کے پاس اس نیت سے بھیج دیا کہ اس کی خاص تربیت کی جاۓ۔۔۔ اس بچی کا نام ریشم بائی نے نورالنساء رکھا تھا۔۔۔
نور نے کو بی اے تک گھر میں ہی تعلیم بھی دلوائی گئی تھی۔۔۔۔کیونکہ نور کو جس مقصد کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔۔۔اس کے لیے اس کا تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری تھا۔۔۔ اور نور اب کچھ دن پہلے ہی ریشم بائی کے کوٹھے پر واپس آئی تھی۔۔۔۔
ریشم بائی نے کچھ مہینے تو نور کو چھپاۓ رکھا ۔۔۔اور پھر ایک دن سرپرائز کے انداز میں اس کی رونمائی کردی گئی۔۔۔۔
ریشم بائی کا مقصد نور کی ایک جھلک دکھا کر بڑے سیاستدان افسروں اور تاجروں کو اپنی مٹھی میں کرنا تھا۔۔۔۔۔ جس میں وہ پوری طرح کامیاب بھی رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاصم کا تایازاد جس سیاستدان کا پی اے تھا۔۔۔عاصم بھی اب اسی کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ اسے لاہور آۓ دو مہینے سے اوپر ہوچکے تھے۔۔۔ اس کے گھر والے حیران تھے کہ۔۔۔۔وہ
اتنے دن کیسے رہ گیا ہے۔۔۔ورنہ تو وہ پہلے کبھی بھی کسی کام پہ پندرہ بیس دن سے زیادہ نہیں ٹکتا تھا۔۔۔عاصم نے ان دو میہنوں میں ایک بھی پیسہ گھر نہیں بھیجا تھا۔۔۔مگراس کے گھر والے پھر بھی خوش تھے۔۔۔۔ورنہ گاؤں میں تو وہ الٹا گھر سے ہی پیسے لیتا تھا۔۔۔اور وہاں رہ کر جو لڑائی جھگڑے کرتا تھا وہ الگ۔۔۔
عاصم کے یہاں ٹکنے کی وجہ وہ رنگینیاں تھیں جو اس نے اس سیاستدان اظہر وٹو کے ساتھ رہ کر دیکھ لی تھیں۔۔۔ اظہر وٹو دوچار ماہ میں ایک آدھ بار ریشم بائی کے کوٹھے پر بھی دل بہلانے چلا جاتا تھا۔۔۔۔ وہ وہاں اکیلا جاتا تھا ۔۔۔یا پھر اپنے خاص رازدار عاصم کے تایازاد بھائی بشیر کو ساتھ لےجاتا۔۔۔
عاصم نے لاہور میں ایک ہی دوست بنایا تھا۔۔۔شان نام تھا اس کا مگر سب شانی ہی کہتے تھے۔۔۔۔ وہ بھی عاصم کی طرح گھر اور گھر والوں کی ہر فکر سے آزاد جوکماتا لٹادیتا تھا۔۔۔ وہ دونوں کئی بار بدنام زمانہ جگہ پر بھی گئے تھے مگر صرف رقص دیکھنے کی حد تک ۔۔۔۔۔۔ اور آج بھی وہ اپنے دوست کے ساتھ اسی نیت سے وہاں موجود تھا جب۔۔۔اچانک اس کی نظر عامر پر پڑی ۔۔۔
اس نے عامر کو دیکھ لیا تھا مگر عامر نے اسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ عامر کے ساتھ اسی کے گاؤں کا ایک اور لڑکا بھی تھا۔۔۔جسے عاصم نے پہچان لیا تھا ۔۔۔مگر ان کے ساتھ دوسرے لڑکے عاصم کے لیے انجان تھے۔۔۔۔وہ سب ایک چوبارے کے سامنے کھڑے ایک دوسرے سے گفتگو کررہے تھے۔۔۔۔
کچھ دیر وہ یونہی باتیں کرتے رہے اور پھر وہاں سے پلٹے اور دوسرے چوبارے کی سیڑیاں چڑھنے لگے۔۔۔۔عاصم نہیں چاہتا تھا کہ ۔۔۔
کوئی اسے یہاں دیکھے یا کسی کو پتہ چلے۔۔۔ اس نے اپنے دوست کو ساتھ لیا اور واپس پلٹ گیا۔۔۔۔ اس نے سوچا پھر کسی دن آجاۓ گا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عامر اور اس کے دوست شام ہوتے ہی نکل پڑے تھے۔۔۔ حسب معمول پہلے وہ گھومتے رہے اور پھر رات ہوتے ہی اسی بازار میں جاپہنچے۔۔۔۔ اس کے دوست اسے تارا بائی کے چوبارے پر ہی لاۓ تھے مگر۔۔۔۔ عامرکا اصرار تھا کہ وہ کل دیکھ لیا ہے اب کوئی نیا دیکھنا چاہیے۔۔۔ کچھ دیر وہ تارا بائی کے چوبارے کے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو قائل کرتے رہے اور۔۔۔پھر سب پلٹے اور ساتھ والے چوبارے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔۔۔۔ اب کی بار وہ جس چوبارے کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے وہ ریشم بائی کا چوبارہ تھا۔۔۔
