Alif Allah by Ibne Aleem Rana NovelR50615 Alif Allah (Episode 02)
Rate this Novel
Alif Allah (Episode 02)
Alif Allah by Ibne Aleem Rana
عاصم کی پیدائش سے بیس پچیس سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔
اسی کے گاؤں میں ایک دین کمہار ہوتا تھا۔۔۔جس کی صرف ایک ہی بیٹی تھی جنت نام تھا اس کا۔۔۔۔
بیٹا کوئی نہیں تھا۔۔۔
بیوی فوت ہوگئی تھی۔۔۔دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کے سہارے جی رہے تھے۔۔۔جنت بہت خوبصورت تھی۔۔۔۔مگر
غریب تھی۔۔۔اس لیے اس کی خوبصورتی اس کے باپ کے لیے وبال جان بنی رہتی تھی۔۔۔پہلے وہ کسی اور گاؤں میں رہتے تھے۔۔۔وہاں گاؤں کے چند لفنگے جنت کے پیچھے پڑ گئے تھے۔۔۔کچھ عرصہ تو بےچارہ دین جیسے تیسے دن گزارتا رہا ۔۔۔مگر
پھر ایک دن چار لوگ اس کے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر آۓ۔۔۔
وہ آۓ تو جنت کو اٹھانے تھے مگر جنت کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اس دن اپنے چاچے کے گھر ہی سوگئی تھی۔۔۔۔
اس کے چاچا کی بیٹی کی دودن بعد شادی تھی۔۔اور وہ اسی سلسلے میں وہاں گئی ہوئی تھی مگر۔۔۔۔اس کی چاچی نے واپس نہ آنے دیا ۔۔۔۔
یہ بھی اچھا ہی ہوا تھا۔۔ورنہ۔۔۔پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا ہوتا۔۔۔۔۔
اس کے بعد دین کمہار کی ہمت جواب دے گئی۔۔۔اس نے اپنا سامان اٹھایا اور بیٹی کو لیکر عاصم کے گاؤں آگیا۔۔۔
یہاں بھی کچھ ہوس پرستوں کی نظریں جنت پہ پڑی تھیں مگر۔۔۔دیوار پھلانگنے کی جرأت کسی نے نہیں کی تھی۔۔۔
غریب کی خوبصورتی پہ نظر تو سب کی ہوتی ہے مگر۔۔۔۔صرف ہوس کی حد تک ۔۔۔۔اسے اپنی عزت بنانے کو ہر آدمی اپنی بےعزتی سمجھتا ہے۔۔۔۔
یہی کچھ جنت کے ساتھ بھی تھا۔۔۔اس سے پیار کے دعویدار تو بہت تھے مگر۔۔۔۔۔اس سے شادی کا حوصلہ کسی میں نہیں تھا۔۔۔۔ ہم لوگ ہوس پوری کرنی ہو تو نہ کسی کا مذہب دیکھتے ہیں نہ ذات رنگ نسل مگر۔۔۔۔۔
بات کسی کو اپنانے کی آجاۓ تو ہماری ذات اونچی ہوجاتی ہے دوسروں سے۔۔۔۔
جنت کواپنی خوبصورتی کا احساس بھی تھا اور لوگوں کی ہوس کا بھی۔۔۔۔
اس نے خود کو اپنی ذات میں سمیٹ لیا تھا۔۔۔ وہ صرف دو چار جماعتیں پڑھی تھی اور قران پاک پڑھا تھا بس۔۔۔۔
یہی اس کی تعلیم تھی۔۔۔۔وہ سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی تھی۔۔۔۔اس نے گاؤں کے بچوں کو قران پڑھانا شروع کردیا۔۔۔
گاؤں میں مدرسہ تو ویسے بھی کوئی تھا نہیں۔۔۔۔لوگ قران پڑھانے کے لیے اپنے بچوں کو مسجد یا کسی کے گھر بھیجتے تھے۔۔۔۔جنت نے قران پڑھانا شروع کیا تو اس کے پاس بچوں کی لائن لگ گئی۔۔۔۔ایک تو وہ عورت ذات تھی۔۔۔۔
دوسرا اسے کچھ دینا نہیں پڑتا تھا۔۔۔اس لیے لوگوں کے زیادہ تر بچے اس کے پاس آنے لگے۔۔۔ اب اس کے پاس رونق لگ گئی تھی۔۔۔
قران پاک پڑھانے کے لیے اس نے صبح اور شام کا وقت مقرر کررکھا تھا۔۔۔ دین کمہار بھی بہت خوش تھا کہ اس کی بیٹی ایک نیک کام کررہی ہے۔۔۔اور گھر میں بھی رونق ہوگئی ہے.. جنت کی عمر چوبیس سال ہوگئی تھی۔۔۔۔اس کا باپ اس کے لیے کئی سال سے رشتے دیکھ رہا تھا۔۔۔جنت کے رشتے تو بہت آۓ تھے مگر۔۔۔۔۔
ایسا کوئی بھی نہیں آیا تھا۔۔۔جو اس کو اس کی غربت سمیعت اپنا لیتا۔۔۔۔
جو بھی آۓ تھے۔۔۔۔جنت سب کو پسند آئی تھی مگر۔۔۔۔اس کی غربت ان کو نہیں بھائی تھی۔۔۔۔۔سو وہ انکار کردیتے۔۔۔کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو جہیز کی لعنت اپنے منہ پر نہ ملنا چاہتا ہو۔۔۔۔ہر کوئی گھر کے حالات دیکھ کر اندازہ لگالیتا تھا کہ۔۔۔۔انہیں یہاں سے سواۓ لڑکی کے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔
جنت کے باپ کو اس کی شادی کی فکر کھاۓ جارہی تھی۔۔مگر وہ بےچارہ کرتا بھی تو کیا۔۔۔۔گاؤں کے چند کھاتے پیتے گھروں سے اس نے دبے لفظوں اپنی مجبوری کا سوال کیا تھا مگر۔۔۔۔۔
اس کی شنوائی نہیں ہوئی تھی۔۔۔اس کو یہ کہ کر ٹال دیا جاتا کہ ۔۔۔۔دیکھتے ہیں چاچا۔۔۔کیا ہوسکتا ہے تیرے لیے۔۔؟؟؟ہمارے تو اپنے خرچے بہت ہیں۔۔۔۔ ان ہی گھروں میں ایک گھر چوہدری اکرم کا بھی تھا۔۔۔۔ چوہدری اکرم اس وقت ریٹائرڈ نہیں ہوا تھا۔۔۔پیسوں کی کمی تو نہیں تھی مگر۔۔۔۔۔اسے خطرہ تھا کہ اگر دین کمہار کی مدد کردی تو گاؤں کے اور غریب لوگ اس کے گھر کا راستہ نہ دیکھ لیں۔۔۔۔۔اور اگر مدد خاموشی سے کردی گئی تو پھر گاؤں والوں کو چوہدری کی سخاوت کا پتہ نہیں چلے گا۔۔۔کیا فائدہ ایسی مدد کا جس سےلوگوں کو پتہ ہی نہ چلے کہ ۔۔۔چوہدری کتنا بڑا اور سخی آدمی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ اسی کشمکش میں جنت نے اپنی عمر کی چوبیس بہاریں دیکھ لیں تھی۔۔۔ اس سے باپ کی فکر دیکھی نہیں جاتی تھی۔۔۔اپنے باپ کو یوں اپنی شادی کی فکر میں گھلتے دیکھ کر کبھی کبھی وہ سوچتی تھی کہ۔۔۔کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتی۔۔۔
دین چاچا اب بیمار رہنے لگا تھا۔۔۔۔اور اس کی بیماری کی وجہ اس کی بڑھتی عمر سے زیادہ اس کی بیٹی کی بڑھتی عمر کی فکر تھی۔۔جو اسے اندر ہی اندر کھاۓجارہی تھی۔۔۔وہ مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کا آسرا دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔جو اس کے بعد اس کا خیال رکھ سکے اور اس کا محافظ ہو۔۔۔ اور باپ کے بعد بیٹی کا سب سے بڑا محافظ اس کا شوہر ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ اللہﷻ سب سے بڑا محافظ ہے۔۔۔۔
دین چاچا کی یہ سوچ اس کی ہمت نہیں ٹوٹنے دیتی تھی۔۔۔ جنت گاؤں میں قران والی باجی مشہور ہوچکی تھی۔۔۔ پھر ایک دن قریب کے گاؤں سے کھاتے پیتے گھر سے ایک رشتہ آیا۔۔۔۔ لڑکے کی دوسری شادی تھی۔۔۔پہلی بیوی کو طلاق دےچکا تھا۔۔۔۔اور ان لوگوں نے طلاق کی وجہ یہ بتائی تھی کہ۔۔۔۔پہلی بیوی غریب گھر سے تھی وہ اپنے میکے والوں کو نوازتی رہتی تھی۔۔۔۔ سسرال سے جو کچھ بھی اس کے ہاتھ لگتا اپنے ماں باپ کے گھر دے آتی ۔۔۔۔منع کرنے پر اس نے طلاق کا مطالبہ کردیا تھا۔۔۔۔
سواۓ لڑکی کے ان کا کوئی مطالبہ نہیں تھا۔۔۔۔ان کو جہیز نہیں چاہیے تھا۔۔۔۔بس ایک اچھی لڑکی کی تلاش تھی۔۔۔جو جنت کی صورت میں ان کو مل گئی تھی۔۔۔ دین چاچا کو یہ رشتہ پسند نہیں تھا۔۔۔۔اس نے جنت سے کہا کہ۔۔۔۔دھی رانی۔۔۔۔۔مجھے یہ لوگ اچھے نہیں لگے۔۔۔۔ اس کا ارادہ ان لوگوں کو جواب دینے کا تھا مگر۔۔۔۔جنت نے منع کردیا۔۔۔۔اس نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ۔۔۔۔ابا۔۔۔یہ لوگ لالچی نہیں ہیں،جہیز بھی نہیں مانگا۔۔۔۔لڑکے کی دوسری شادی ہے تو کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟ پہلی بیوی کو تو طلاق دے دی ہے۔۔۔۔پھر کیوں انکار کرنا۔۔۔۔مگر اصل بات یہ تھی کہ جنت سے اب اور اپنے باپ کا اس کی شادی کی فکر میں گھلنا دیکھا نہیں جاتا تھا۔۔۔۔اس لیے اس نے اپنے باپ سے کہ دیا تھا کہ۔۔۔وہ اس رشتے سے انکار نہ کرے۔۔۔۔ یعنی ایک بار پھر ایک غریب باپ کی بیٹی کے خواب ہار گئے تھے۔۔۔۔غربت ہار گئی تھی۔۔۔ اور ازل سے یہی ہوتا آرہا ہے۔۔۔غریبی میں خواب خریدنے کی سکت نہ رکھنے والی مجبور باپ کی بیٹیاں باپ کو اپنی شادی کی فکر میں گھلتا دیکھ کر یا تو خودکشی کرلیتی ہیں۔۔۔یا پھر جنت کی طرح کوئی رحم کھالے تو ان کے پلے بندھ جاتی ہیں۔۔۔۔سوچے سمجھے اور جانے بغیر کہ۔۔۔وہ کون ہیں؟؟؟کیسے ہیں؟؟؟ جنت کے اصرار پر اس کے باپ نے نہ چاہتے ہوۓ بھی ہاں کردی ۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد وہ لوگ سادگی سے نکاح کرکے اسے اپنے گھر لے گئے۔۔۔۔۔ چاچا دین اکیلا رہ گیا تھا مگر۔۔۔۔۔اسے اپنے اکیلے ہونے کا غم نہیں تھا۔۔۔ اسے اس بات کی خوشی تھی کہ۔۔۔۔اس کےمرنے کے بعد جنت اکیلی نہیں ہوگی۔۔۔۔ شادی کے کچھ دن تک تو انہوں نے جنت کو ہاتھوں پہ اٹھاۓ رکھا۔۔۔اس کے ناز نخرے اٹھاۓ گئے۔۔۔۔جنت کو سختی سے تاکید کی گئی تھی کہ۔۔۔اڑوس پڑوس کی عورتوں سے گھلنے ملنے بلکل بھی ضرورت نہیں۔۔۔۔یہ عورتیں اس کے کان بھر کر اس کا گھر تڑوادیں گی۔۔۔۔
گاؤں سے کوئی بھی عورت اگر جنت سے ملنے آتی تو اس کی ساس یا نند میں سے ایک اس کے پاس ضرور موجود رہتی تھی۔۔۔ جب تک وہ عورت چلی نہ جاتی۔۔۔ پھر کچھ عرصے بعد جنت کے سسرالیوں نے اپنے رنگ دکھانا شروع کردیے۔۔۔ جنت کے شوہر کے علاوہ اس کی دو کنواری نندیں ایک دیور اور ساس اس کے ساتھ رہتی تھیں۔۔۔ ان سب کا کام اور فرمائشیں پوری کرنا جنت پہ گویا فرض تھا۔۔۔ وہ جتنی بھی تھکی ہوتی مگر۔۔۔۔کسی کو انکار نہیں کرتی تھی۔۔۔۔اور نہ کرسکتی تھی۔۔۔۔
اس کا شوہر صبح دوکان پہ چلا جاتا اور شام کو ہی واپس آتا۔۔۔۔ جنت نے دبی زبان میں ایک دوبار اسے سنانے کی کوشش کی کہ۔۔۔۔گھر میں سے کوئی اس کا ہاتھ نہیں بٹاتا۔۔۔۔ وہ تھک جاتی ہے مگر۔۔۔۔۔اس کے شوہر پہ کوئی اثر نہ ہوا۔۔ الٹا وہ اسے تاکید کرتا کہ۔۔۔۔میری ماں بہنوں کا خیال رکھا کرے۔۔۔ جنت کو اتنا تو اندازہ ہوہی گیا تھا کہ۔۔۔۔گھر میں اس کی ساس کی حکومت ہے۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔جنت کے شوہر اور دیور کی مجال نہ تھی کہ۔۔۔گھر میں چوں چراں کرسکیں۔۔۔۔البتہ اس کی نندوں کو ماں کا آشیرواد حاصل تھا۔۔۔وہ جو چاہتیں کرتیں۔۔۔جہاں جانا چاہتیں جاسکتی تھیں۔۔۔۔انہیں کوئی روک ٹوک نہ تھی۔۔۔۔ گاؤں میں رہ کر بھی اس کی نندوں کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ شہر کی ماڈرن لڑکیاں نظر آئیں۔۔۔ گاؤں کی دوسری لڑکیوں سے ممتاز نظر آنے کا ان کو خبط تھا۔۔۔جس کے لیے وہ ہر وہ طریقہ اپناتی تھیں جس سے وہ گاؤں کی پینڈو لڑکیاں نہ لگیں۔۔۔۔
پھر ایک دن کسی بھلی مانس عورت کے زریعے اس کی ساس اور نندوں کی غیر موجودگی میں اس پر یہ انکشاف ہوا کہ۔۔۔۔جنت کے شوہر کلیم نے اپنی پہلی بیوی کو ماں بہنوں کے کہنے پر صرف اس لیے طلاق دےدی تھی کہ۔۔۔۔اس نے دوسری بیٹی پیدا کرنے کا ناقابل معافی جرم کیا تھا۔۔۔۔اور
کسی پیچیدگی کی وجہ سے وہ اب ماں نہیں بن سکتی تھی۔۔۔ اس کے شوہر کی پہلی بیوی سے دو بیٹیاں ہیں؟؟؟یہ خبر جنت کے لیے حیرت کا باعث تھی ورنہ۔۔۔۔وہ تو آج تک یہی سمجھتی تھی کہ۔۔۔ شادی کے کچھ مہینوں بعد ہی طلاق ہوگئی تھی۔۔۔۔۔اور پہلی بیوی کے کوئی اولاد نہ تھی۔۔۔۔۔اس کے سسرال والوں نے اولاد کا تو ذکر کیا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ جنت کبھی کبھی اپنے باپ سے ملنے چلی جاتی تھی۔۔۔۔مگر اسے وہاں رہنے کی اجازت نہ تھی۔۔۔۔کیونکہ پھر گھر کے کام کون کرتا۔۔۔؟؟؟ اس نے اپنے باپ سے کبھی سسرال کی کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔۔ اس کا باپ سمجھتا تھا کہ اس کی دھی رانی بہت خوش ہے۔۔۔۔ جنت نے اپنے باپ کو یہی تاثر دیا تھا کہ۔۔۔وہ بہت خوش ہے سسرال میں۔۔۔۔ اس نے کبھی اپنے باپ کو یہی نہیں بتایا تھا کہ۔۔۔۔ابا۔۔۔۔۔تونے ٹھیک پہچانا تھا ان لوگوں کو۔۔۔میں ہی نادان تھی۔۔۔۔ جنت کو اللہﷻ نے پہلی اولاد بیٹی ہی دی۔۔۔اس کے سسرال والوں کو تو گویا موت ہی پڑگئی تھی۔۔۔ انہوں نے جیسے تیسے برداشت کیا مگر۔۔۔۔ساتھ ہی سنا بھی دیا کہ۔۔۔اگلی بار لڑکا ہونا چاہیے۔۔۔ اللہﷻ بڑا بےنیاز ہے ۔۔۔جنت کے سسرال والوں نے اسے بیٹا پیدا کرنے کا حکم دیکر اللہﷻ کی حکمت کو للکارا تھا۔۔۔۔اس کے عدل پہ یقین نہ کیا تھا۔۔۔۔دوسرا لڑکا ہی پیدا ہوا مگر۔۔۔دس دن بعد وہ فوت ہوگیا۔۔۔۔
جنت اپنے مالک کی رضا پہ راضی تھی۔۔۔اسے بیٹیوں کی پیدائش سے کوئی مسلہ نہیں تھا۔۔۔وہ خود تو اکلوتی تھی۔۔۔شاید اسی لیے اس کی خواہش تھی کہ اس کی زیادہ نہیں تو دو بیٹیاں ضرور ہوں۔۔۔بیٹے کی خواہش اسے بھی تھی مگر۔۔۔۔ایسے نہیں جیسے اس کے سسرال والوں کو تھی کہ۔۔۔۔صرف بیٹے ہی ہوں بیٹی ایک بھی نہ ہو۔۔۔۔ اپنے بیٹے کے مرنے کا غم جنت کو بھی تھا مگر۔۔۔۔اس نے اللہﷻ کی رضا سمجھ کر اس کی موت کو قبول کرلیا۔۔۔ جنت کی شادی کو ساتواں سال تھا ۔۔۔وہ ایک بار پھر امیدسے تھی۔۔۔اور اس کے سسرال والے اس امید میں تھے کہ اب تو ہرحال میں لڑکا ہی ہوگا۔۔۔۔اس کی نندیں اور ساس گاہے بگاہے اس کے کان میں پھونکتی رہتی تھیں کہ۔۔۔۔اس بار لڑکا ہی ہونا چاہیے۔۔۔ورنہ ۔۔۔کلیم کے لیے رشتے بہت ہیں ابھی بھی۔۔۔ اس کے شوہر کلیم نے بھی اسے صاف الفاظ میں کہ دیا تھا کہ۔۔۔۔اسے اپنے بڑھاپے کا سہارا چاہیے۔۔۔ کیا بیٹیاں ماں باپ کو سہارا نہیں دیتیں۔۔؟؟؟
جنت صرف سوچ کر رہ گئی تھی۔۔۔کہنے کی ہمت نہیں تھی اس کی۔۔۔
آخر وہ دن بھی آپہنچا۔۔۔ گاؤں کی دائی کے کہنے پر وہ اسے خانیوال شہر کے اسپتال لے گئے تھے۔۔۔ دائی نے جنت کی حالت دیکھ کر اور اپنے تجربے کی بنیاد پر ان کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ۔۔۔۔جنت کو اس بار اسپتال لے جایا جاۓ۔۔۔ وہ عجیب سی کشمکش میں اسپتال کے بیڈ پر پڑی آنے والے لمحات کی منتظر تھی۔۔۔اسے ڈر صرف اس بات کا تھا کہ اگر بیٹا نہ ہوا تو وہ کیا کریگی؟؟؟
طلاق کا سوچ کر ہی وہ کانپ جاتی تھی۔۔۔وہ جانتی تھی اس کی طلاق کا غم اس کا باپ سہہ نہیں پاۓ گا۔۔۔ کس کام میں اللہﷻ کی کیا حکمت ہے کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔ جنت کو نرسوں نے بیٹی کی خوش خبری دی تو ۔۔۔۔اس کا دل بیٹھ گیا۔۔۔ اس کا شوہراور ساس اسپتال میں ہی تھے۔۔۔ان پہ یہ خبر بجلی بن کر گری تھی۔۔۔وہ اندر آۓ تو ان کے چہرے اترے ہوۓ تھے۔۔۔۔اور دونوں جنت کو ایسے دیکھ رہے تھےجیسے اس نے جان بوجھ کر بیٹی پیدا کی اور سارا قصور اسی کا ہو۔۔۔
جنت کا سب سے بڑا قصور تو یہی تھا کہ وہ ایک عورت تھی۔۔۔۔اور اس سے بھی بڑا قصور تھا کہ۔۔۔وہ ایک غریب کی بیٹی تھی۔۔۔۔ جیسے تیسے وہ اس کو گھر لے آۓ۔۔۔گھر آکر اس کی ساس نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی۔۔۔۔جو جنت پہ رحم کھاکر اس کو جہیز کے بغیر لانے سے لیکر اس بچی کے پیدا ہونے تک پہ ختم ہوئی۔۔۔۔اس پہ احسان جتایا گیا تھا کہ۔۔۔۔اس کو وہ بیاہ کر لاۓ تھے اور۔۔۔وہ
ان کو ایک بیٹا نہ دے سکی۔۔۔۔ جنت چپ چاپ سنتی رہی۔۔۔اور آنسو بہاتی رہی۔۔۔ اس کے شوہر نے تو یہاں تک کہ دیا تھا کہ ۔۔۔یہ بھی بیٹے کی طرح مرجاۓ تو اچھا ہے۔۔۔ جنت ایک ماں تھی۔۔۔اس کے دل پہ الفاظ خنجر کی طرح لگے تھے۔۔۔ کسی نے بھی بچی کو ایک نظر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔۔۔اک نظر اس معصوم کو دیکھ لیتے تو شاید ان کے دل پگھل ہی جاتے۔۔۔۔بے حد خوبصورت تھی وہ۔۔۔۔اپنی ماں سے بھی کئی گنا خوبصورت ۔۔۔۔ کچھ دن بعد جنت کو طلاق دیکر اس کے گھر بھیج دیا گیا۔۔۔ دونوں بیٹیاں اس سے چھین لی گئی تھیں۔۔۔بیٹیاں اپنے پاس رکھنے کی وجہ ان کی محبت نہیں تھی بلکہ۔۔۔
جنت سے انتقام لینا مقصد تھا کہ۔۔۔ان کو بیٹا نہ دینے والی اپنی بیٹیوں کے لیے ترستی اور تڑپتی رہے۔۔۔۔ جنت کا باپ بیمار تو پہلے بھی رہتا تھامگر۔۔۔جنت کے غم نے اسے چارپائی سے ہی لگادیا۔۔۔۔جنت نے جی جان سے اپنے باپ کی خدمت کی۔۔۔۔کمائی کا کوئی وسیلہ نہیں تھا۔۔۔گاؤں کے چند گھر ان کی مدد کرتے تھے جس سے گزارہ ہورہا تھا۔۔۔ جنت نے پھر سے بچوں کو قران پڑھانا شروع کردیا تھا۔۔۔۔اور ان بچوں کے گھر والے بھی کچھ نہ کچھ دیتے رہتے تھے۔۔۔
چھ ماہ تک چاچا دین جنت کا غم لیے دن پورے کرتا رہا۔۔۔اور پھر ایک دن جنت کو اکیلا چھوڑ کر خاموشی سے اس دنیا سے چلا گیا۔۔۔
جنت کے شوہر کلیم نے اپنی بڑی بیٹی اپنی بےاولاد خالہ زاد کو دے دی تھی۔۔۔۔اور
چھوٹی بیٹی کو ملتان شہر میں اپنی ماں کی جاننے والی ایک امیر عورت کو دے آیا۔۔۔۔اس عورت نے اسے آنے سے پہلے ایک لفافہ دیا تھا کہ یہ اپنی ماں کو دے دینا۔۔۔ کلیم نے دیکھ لیا تھا کہ اس میں پیسے ہیں۔۔۔ اس نے گھر آکر لفافہ کھولا تو اس میں سے ایک لاکھ روپیہ نکلا تھا۔۔۔۔ اسے بیٹوں کی پہلے بھی کوئی فکر نہ تھی۔۔۔۔ایک لاکھ دیکھ کر وہ سب کچھ بھول گیا۔۔۔۔اپنی عزت اور غیرت بھی۔۔۔
جنت اپنی بیٹیوں کے لیے دن رات تڑپتی تھی۔۔۔مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ایک دوبار اس نے گاؤں کے ایک دو لوگوں کو کلیم کے پاس بھیجا تھا کہ۔۔۔۔۔وہ اس کی بیٹیوں کواسے دے دے۔۔۔یا کم از کم ملنے ہی دیا کرے۔۔۔مگر کلیم نے جانے والوں سے صاف کہ دیا تھا کہ۔۔۔۔وہ اس کا اپنا معاملہ ہے۔۔۔۔اور آئیندہ ان میں سے کسی کو بھی یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ جنت بےچاری کیا کرسکتی تھی۔۔۔۔رو دھوکر چپ ہورہی ۔۔۔مگر اس کے دل کو کسی پل چین نہ تھا۔۔۔ نماز پڑھتی تو ہر نماز کے بعد اپنی بیٹیوں کی سلامتی کے لیے دعا ضرور مانگتی تھی۔۔۔ وہ بس ایک آس ایک امید پہ جی رہی تھی کہ۔۔۔۔کبھی تو وہ اپنی بیٹیوں کو دیکھ ہی پاۓ گی۔۔۔۔ اور اس بات پہ اس کا ایمان پکا تھا کہ۔۔۔۔ اللہﷻ جو چاہے کرسکتا ہے۔۔ وہ ضرور اس کو بھی ایک دن اس کی بیٹیوں سے ملادے گا۔۔۔
