Alif Allah by Ibne Aleem Rana NovelR50615 Alif Allah (Episode 10)
Rate this Novel
Alif Allah (Episode 10)
Alif Allah by Ibne Aleem Rana
نور عاصم اور اس کے ماں باپ سے اجازت لیکر جنت کے گھر ہی رہنے لگ گئی تھی۔
عاصم کا کاروبار دن بدن ترقی کی جانب گامزن تھا۔
ردا بھی اب ہفتے میں ایک بار ضرور آتی تھی۔ عاصم نے جنت سے کہا تھا کہ وہ اس کے گھر ہی آجاۓ مگر وہ نہیں مانی۔
عاصم کے والد نے ہی نور کو مشورہ دیا تھا کہ۔اگر وہ رہنا چاہے تو اپنی ماں کے گھر رہ سکتی ہے۔ اس کا اور جنت کا سارا خرچ ان کے ذمہ ہے۔۔۔ نور نے دوسال تک اپنی ماں کی جی جان سے خدمت کی۔
جنت شاید اپنی بیٹیوں سے ملنے کی آس میں ہی جی رہی تھی۔
دو سال بعد ایک رات قران پڑھتے پڑھتے اس کی روح پرواز کرگئی۔۔
نور کی زندگی کا یہ پہلا غم تھا جس نے اسے نڈھال کردیا تھا۔
اس کو باپ کے مرنے کا دکھ ضرور تھا مگر۔جنت کا غم سب پہ بھاری تھا۔۔
البتہ اس بات کی اسے خوشی ضرور تھی کہ۔اس کی ماں اس سے راضی گئی تھی۔
جنت اکثر اس سے کہتی تھی۔ نور دھی۔۔۔مجھے اب مرنے کا غم نہیں ہے۔ اگرتم لوگوں کو ملے بغیر مرجاتی تو میری روح کو سکون نہ ملتا مگر۔
اب اگر میں مرجاؤں تو مجھے غم نہیں۔ جنت کے مرنے کے بعد کئی دن نور بےچین سی پھرتی رہی۔ اسے جب بھی ماں کی یاد آتی وہ قران پڑھنا شروع کردیتی تھی۔
اور ایسے اسے سکون مل جاتا تھا۔
گھر سونا کرجاتی ہیں۔
مائیں کیوں مرجاتی ہیں؟؟؟
نور اب گھر میں اکیلی تھی۔
گھر واقعی سونا ہوگیا تھا۔
عاصم نے اس سے کہا تھا کہ۔وہ
اب اس کے گھر آجاۓ۔مگر
نور کا کہنا تھا کہ۔اسے کچھ دن اور یہاں رہنے دیا جاۓ پھر سوچے گی۔
عاصم بھی رات کو اس کے پاس آجاتا تھا۔ اس دوران ان کو اللہﷻ نے دوسری بیٹی سے نوازا تھا۔
اور وہ بےحد خوش تھے۔
جنت کے مرنے کے بعد اب نور نے بچوں کو قران پڑھانا شروع کردیا تھا۔
وہ چاہتی تھی کہ اس کی ماں نے جونیک کام شروع کیا ہے اس کو نور اپنے مرنے تک جاری رکھے۔
دن ہفتوں میں ہفتے ماہ سال میں بدلتے رہے۔ عاصم کے امی ابو بھی ایک ایک کرکے دنیا سے چلے گئے تھے۔
نور اور عاصم اب جنت والے گھر میں ہی شفٹ ہوگئے تھے۔
عاصم کی دوکان اب ایک بڑے جنرل سٹور میں بدل گئی تھی۔
ان مالاعمال بالنیت۔۔
بے شک اعمال کا درومدار نیتوں پر ہے۔
عاصم اور نور کی نیتوں سے اللہﷻ نے انہیں دین و دنیا کی ہر خوشی سے نوازا تھا۔
گاؤں میں بہت سے سفید پوش لوگوں کی بچیوں کی شادیوں میں نور نے مدد کی تھی۔اور کرتی رہتی تھی۔
گاؤں میں کوئی بھی ضرورت مند ہوتا۔خاموشی سے اس کی مدد کردی جاتی تھی۔عاصم نے ایک آنے جانے کے لیے ایک گاڑی بھی لے لی تھی۔
پھر تین سال بعد اللہﷻ نے نور کو ایک بیٹا دیا۔جس کا نام اس نے محمد رکھا۔
بیٹیوں کا نام جنت اور فاطمہ تھا۔
ایک دن نور ایک اسلامی کتاب پڑھ رہی تھی۔ جس میں رشتےداروں اور قریبی لوگوں کے حقوق بارے لکھا ہوا تھا۔
اس کو ایک خیال نے بےچین کردیا۔
ریشم بائی کے خیال نے۔۔۔۔
اس نے سوچا کہ۔
وہ جیسی بھی ہے اس نے نور کو پالا پوسا تھا۔اور اسے پڑھایا بھی تھا۔اور اب وقت ہے کہ نور اس کے احسان کا بدلہ اتارے۔
اس نے عاصم سے بات کی اور اس کو ساتھ لیکر اپنی گاڑی میں ایک دن لاہور ریشم بائی کے کوٹھے پر پہنچ گئی۔
وہ بازار اس کا جانا پہچانا تھا۔ اتنے عرصے میں اگرچہ بازار میں بہت سی تبدیلیاں آگئی تھیں مگر ۔۔۔
پھر بھی اسے ریشم بائی کا کوٹھا تلاش کرنے میں کوئی دقت نہ ہوئی۔
وہ بلا جھجک چوبارے کی سیڑیاں چڑھتی گئی۔
وہ جیسے ہی اوپر پہنچے۔حیران رہ گئے۔ چوبارہ پہلے جیسا ہی تھا۔
مگرلگتا تھا سالوں سے کسی نے یہاں قدم نہیں رکھا۔ کوٹھا اجڑا پڑا تھا۔
وہ جونہی ایک کمرے میں داخل ہوئی۔
اس کی نظر چارپائی پر پڑی ریشم بائی پر پڑی۔ریشم بائی آنکھیں بند کیے پڑی تھی۔اور
اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ۔نور کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید پہچانتا ہی نہ۔
امی۔۔۔اس نے اندر داخل ہوتے ہی پکارا۔
ریشم بائی نے آواز سن کر آنکھیں کھولیں۔اور پھر چونک کر اٹھنے کی کوشش کی۔۔
اس نے نور کو پہچان لیا تھا۔
نور اس کے اٹھنے سے پہلے ہی اس تک پہنچ گئی اور اسے بیٹھنے میں مدد دی۔
نور۔۔۔۔۔؟؟؟ریشم بائی کے لہجے میں حیرت تھی۔
پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔
اس نے نور کو گلے لگالیا۔
عاصم خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا۔۔
وہ دونوں رودھوکر چپ ہوئیں تو۔
عاصم نے ریشم بائی کو سلام کیا۔۔جس کا اس نے انتہائی محبت سے جواب دیا۔
نور ریشم بائی کے پاس ہی بیٹھ گئی۔۔
امی کیا ہوا آپ کو؟؟؟
آپ تو صدیوں کی بیمار لگ رہیں ہیں۔۔
نور نے پوچھا۔۔۔
ریشم بائی کی حالت دیکھ کر اس کا دل دکھا تھا۔
ایک سال سے بیمار ہوں۔۔بیٹی۔
کھانے کے لالے پڑے ہیں دوا دارو کہاں سے لیتی۔؟؟؟
ریشم بتاتے بتاتے روپڑی ۔۔۔
اتنے میں ساتھ والے کمرے سے اس کی دونوں بیٹیاں آواز سن کر آگئیں۔
نور ۔۔۔۔؟؟؟؟
دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
اور باری باری اسکے گلے لگ گئیں۔
ان پہ بھی اب وہ پہلے جیسا جوبن نہیں رہا تھا۔
ڈھلتی عمر نے ان کے خدوخال پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔
یا شاید پیسے کی کمی نے۔۔۔ ؟؟؟
ریشم بائی نے نور کو بتایا کہ۔ اس کے جانے کے بعد وٹو نے اسے پریشان کیا۔۔اور پھر
اس کی رسی کھینچ لی گئی ۔۔۔
ایک دن اس کا ایکسیڈینٹ ہوا۔اور
وہ ہمیشہ کے لیے معزور ہوکر بستر سے جالگا۔۔ جیسے جیسے لوگوں کو پتہ چلتا گیا کہ۔
نور کوٹھے سے بھاگ گئی ہے ۔
لوگوں نے آنا کم کردیا۔اور پھر وہ دن بھی آۓ کہ۔
کوئی بھول کر بھی چوبارے کی سیڑیاں نہیں چڑھتا تھا۔
کچھ دن جو جمع پونجی تھی اس پہ گزارا چلتا رہا۔۔ مگر
بیٹھ کر کھانے سے تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔
جب وہ پیسے بھی ختم ہوگئے تو
پھر ایک وقت روٹی کے بھی لالے پڑگئے۔
ادھار لیکر کھاتے رہے۔۔
ادھار چکا نہ سکے تو وہاں سے بھی جواب مل گیا۔
بازار سے کبھی کوئی کچھ بھیج دیتا تو تینوں ماں بیٹیاں کھالیتی۔ورنہ فاقہ ہی کرنا پڑتا۔۔۔ پھر بیماری نے آلیا۔۔ نہ دوا نہ خوراک تھی۔کمزور ہوتی گئی۔۔۔
اور نہ کوئی نئی لڑکی آئی نہ ملی۔جو کوٹھا آباد کرتی۔
انکو اب کوئی پوچھنے بھی نہیں آتا۔
ریشم بائی نے اپنی بیٹیوں کی طرف اشارہ کیا۔ نور سمیعت ان کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھیں۔۔
شاید زمانے کی بےوفائی پر
ساری بات عروج کی ہے۔ورنہ
یہ وہی کوٹھا تھا ۔جہاں کبھی شہر کے بڑے امیر آدمی ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔
امی۔۔میں آپ لوگوں کو لینے آئی ہوں۔
نور نے ان کو اپنا ارادہ بتایا۔ نور یہاں اس لیے آئی تھی کہ۔ریشم بائی کو قائل کرے کہ۔وہ اس گناہ بھری زندگی کو چھوڑکر توبہ کریں اور اس کے ساتھ چلیں ۔۔۔
وہاں جو حالات تھے۔اس نے سوچا وہ ان کو ہر صورت لیکرجاۓ گی ۔
ریشم بائی اور اس کی بیٹیوں کے چہرے پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے سے جزبات تھے۔ اب تک جیسے بھی تھے مگر
آپ نے مجھے پالا تھا۔محبت دی تھی مجھے۔ میں آپ کو ایسے حال میں نہیں چھوڑسکتی تھی۔
کل اگر قیامت کے دن اللہﷻ نے پوچھ لیا کہ۔ تم نے تو توبہ کرلی تھی مگر۔
جس نے تجھے پالا تھا۔۔۔
اس کو کیوں بھول گئی تھی؟؟
تو میں کیا جواب دونگی؟؟؟ بس یہی سوچ کر یہاں آئی تھی۔
نور نے اپنی بات مکمل کی تو۔ ریشم بائی روپڑی ۔۔۔
نور نے ان کو ساتھ لیا۔اور اپنے گھر لے آئی۔۔۔ اس نے ریشم بائی کی خدمت ایک بیٹی کی طرح کی تھی۔
اور اس کی بیٹیوں کو اپنی بہنوں کی طرح سمجھا۔
اچھی دیکھ بھال سے ریشم بائی دنوں میں ہی صحتیاب ہوگئی تھی۔
وہ نور کو دعائیں دیتی نہ تھکتی تھی۔ پھر ایک دن ریشم بائی نے نور سے خود ہی کہ دیا کہ۔ وہ اب دوبارہ وہاں نہیں جانا چاہتی۔ وہ سچے دل سے توبہ کرتی ہے۔۔
نور نے انکو نماز اور قران پڑھانا شروع کردیا۔
وہ چاہتی تھی کہ قران پڑھنے سے ان کے دل بدل جائیں
اور۔وہ اس زندگی کو چھوڑدیں۔جو وہ گزار رہیں تھی۔
اور ان اللہﷻ کے کلام نے ان کے دل بدل دیے تھے۔
قران تو اپنے پڑھنے والوں کو مرنے کے بعد قبر میں بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
جب اپنے سگے رشتے بھی چھوڑکر بھول جاتے ہیں۔
اس دوران ریشم بائی نے اپنا چوبارہ اچھے داموں فروخت کردیا تھا۔
اس پیسے سے اس نے جتنا ہوسکا لوگوں کی مدد کی۔۔۔ اور کافی بچ بھی گئے۔
وہ پیسے اس نے نور کو دیے تھے کہ۔۔
وہ عاصم کو دے دے۔
عاصم اپنے کاروبار میں لگالےگا۔
گھر تو وہ لوگ پہلے ہی بہت اچھا بنا چکے تھے۔ مگر عاصم نے یہ کہ کر انکار کردیا تھا کہ۔
اسے اللہﷻ نے بہت زیادہ دیا ہے۔
وہ لوگ ان پہ کسی قسم کا بوجھ نہیں ہیں۔ نور کا گھر دومنزلہ تھا۔اوپر کی منزل انہوں نے ریشم اور اس کی بیٹیوں کو دےدی۔ اوپر ایک بڑا کمرہ بچوں کو قران پڑھانے کے لیے مخصوص تھا۔
باقی دو کمرے اس سے الگ تھے۔جو ریشم اور اس کی بیٹیوں کو دیے۔۔۔
دن اچھے گزررہے تھے۔بس ایک چیز کی کمی رہ گئی تھی۔
خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ پہ حاضری باقی تھی۔ اور
ان کا ارادہ تھا کہ۔جلد ہی وہ عمرے پہ جائیں گے۔
ریشم کو ان کے ارادے کا پتہ چلا تو ۔۔۔اس نے بھی اپنی بیٹیوں سمیعت جانے کی خواہش ظاہر کی۔
نور کو بےحد خوشی ہوئی تھی۔
ریشم بائی اب بائی نہیں رہی تھی۔
صرف ریشم رہ گئی تھی۔۔۔
ان کو ایک سال سے اوپر ہوگیا تھا نور کے پاس آۓ ہوۓ۔
ریشم کی دونوں بیٹیاں قران مکمل کرچکی تھیں۔مگر
ریشم ابھی نصف تک ہی پہنچی تھی۔
البتہ نماز مکمل سیکھ لی تھی۔
ریشم اکثر نور کو کہتی تھی کہ۔
اصل زندگی تو یہی ہے نور بیٹی۔۔
ہم تو یونہی آج تک سراب کے پیچھے بھاگتے رہے۔
دولت اور شہرت تو بس اللہﷻ کے بتاۓ راستے پر ہی چل کر ملتی ہے۔۔۔
اور نور اس کے الفاظ سن کر شکر کرتی تھی کہ۔
اس کی محنت ضائع نہیں گئی۔
امی پتہ ہے جب ہم تھانے میں تھے۔
تو وہاں ایک بڑے صاحب آۓ تھے۔
نور ریشم سے کہ رہی تھی۔
وہ قران سن رہے تھے۔وہاں پہلی بار میں نے قران سنا تھا۔تو
مجھے بہت اچھا لگا تھا۔
مجھے ایسے لگا تھا جیسے خدا ہم سے گفتگو کررہا ہے۔
میں کئی دن بےچین رہی تھی مگر پھر بھول گئی۔۔
اسی ماحول میں رنگ گئی مگر۔
جس دن ہم شاپنگ کرکے ٹیکسی میں بیٹھے تو ایک بار پھر قران سنا اور۔
اس دن مجھے لگا خدا ہم سے صرف گفتگو ہی نہیں کررہا بلکہ۔ہم کو سمجھارہا ہے۔۔۔
وہ الفاظ آج بھی مجھے یاد ہیں۔۔۔
ان الفاظ نے میری روح کو جھنجھوڑدیا تھا۔ اس کے بعد میں نے سوچ لیا تھا کہ۔ میں خدا کی آواز پہ لبیک کہونگی۔
چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔اور مجھے اس کی کیسی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے مگر۔
امی پتہ ہے۔۔۔نور بڑی عقیدت سے کہ رہی تھی۔اور وہ تینوں محویت سےسن رہیں تھی۔ امی اللہﷻ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا۔میں نے اس کی آواز پہ لبیک کہا اور۔ میرے اللہﷻ نے مجھے سب بخش دیا۔۔۔
دولت شہرت اور سب بڑھ کر عزت ۔۔۔
اور تو اور میرے ماں باپ سے بھی ملادیا جن کو میں جانتی بھی نہیں تھی۔
نور نے ریشم کو بتادیا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ سے ملی تھی۔
اور کیسے ملی تھی یہ بھی بتایا تھا۔
بیٹی ہم نے دیر کردی اللہﷻ کو تلاش کرنے میں۔
نور چپ ہوئی تو ریشم نے کہا۔
نہیں امی۔ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔۔۔
نور نے ریشم کو تسلی دی۔
دیر تب ہوتی اگر ہم لوگ ایسے ہی مرجاتے ۔۔۔ توبہ کیے بغیر۔۔۔اپنے اللہﷻ کی آواز پہ لبیک کہے بغیر۔
نور نے کہا۔
نور کے آخری الفاظ سن کر نور سمیعت سب کو ایک جھرجھری سی آگئی تھی۔
اللہﷻ کے خوف سے۔
اللہﷻ کا سامنا کرنے کے خیال سے۔
توبہ کیے بغیر مرنے کے خیال سے۔
اور پھر وہ دن بھی آگیا۔
جس دن انہوں نے عمرے پہ جانا تھا۔ عاصم نور اور اس کے تینوں بچے۔
ریشم اور اس کی بیٹیاں۔
ان کو خوشی میں اس رات ننید نہیں آئی تھی۔ اگلے دن وہ ملتان ائیرپورٹ سے جدہ کے لیے رونہ ہوگئے تھے۔۔۔
ان کے سفر کی خوشی وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے یہ سفر کیا ہو۔۔۔
ساری زندگی گناہوں میں گزرگئی مگر
جب توبہ کی تو پچھلے گناہ یاد نہیں دلاۓ گئے بلکہ۔
ایک پرمسرت اور پرسکون زندگی بخش دی گئی۔اور
یہ صرف اللہﷻ ہی کی شان ہے۔کہ
اگر کوئی لبیک کہے تو وہ اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتا۔اور
نہ ہی اس کے پچھلے گناہ یاد دلاکر اسے شرمندہ کرتا ہے۔ بلکہ
۔اسے معاف کرکے اپنے رب کریم اور غفورالرحیم ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔
ہم انسانوں کی طرح نہیں کہ۔
کسی کی ایک چھوٹی سی غلطی پر بھی ہم ہزار بار ذلیل کرتے ہیں۔۔
اور پھر احسان بھی جتادیتے ہیں کہ ۔ کوشش کرونگا تمہاری یہ غلطی بھول جانے کی۔۔۔
وہ جدہ ائیرپورٹ پہ اترے تو ان کے دل کا عجیب ہی عالم تھا۔
خوشی ۔ڈر۔ شرمندگی اور خوشی کے ملے جلے سے جزبات تھے۔۔
خوشی اپنی خوش نصیبی پر تھی۔
ڈر اس بات کا کہ ۔یہاں آکر بھی بنا بخشش خالی ہاتھ نہ چلیں جائیں۔
اور شرمندگی اپنے گناہوں کی تھی ۔۔
اتنے گناہ کیے پھر بھی اس نے اس قابل سمجھا کہ اپنے اور اپنے محبوب ﷺ در کی حاضری نصیب کردی۔
ائیرپورٹ سے وہ مکہ جانے والی گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی مکہ کی طرف چل پڑی۔ وہ جیسے ہی مکہ میں داخل ہوۓ ۔ کسی نے بتایا کہ اس طرف مکہ ٹاور نظر آرہا ہے۔ سب کی کوشش تھی کہ وہ مکہ ٹاور دیکھ لے۔
کیونکہ مکہ ٹاور کے بلکل قریب ہی خانہ کعبہ جو ہے۔
گاڑی نے ان کو ہوٹل پہ اتاردیا۔
انہوں نے اپنا اپنا سامان ہوٹل میں رکھا۔ اور ہوٹل سے پوچھا کہ۔
خانہ کعبہ کس طرف اور کتنا دور ہے یہاں سے؟؟؟
ان کو راستہ بتادیا گیا۔ خانہ کعبہ ہوٹل سے پانچ دس منٹ کی مسافت پہ تھا۔ وہ پیدل ہی چل پڑے۔۔۔
روڈ پہ نکلے تو احرام میں ملبوس خانہ کعبہ آنے جانے والوں کا رش لگا ہوا تھا۔
وہ بھی جانے والوں کے ساتھ چل دیے۔
