Alif Allah by Ibne Aleem Rana NovelR50615 Alif Allah (Episode 07)
Rate this Novel
Alif Allah (Episode 07)
Alif Allah by Ibne Aleem Rana
ریشم بائی کے پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے وہ جب سے سیٹھ عباد سے مل کر آئی تھی اسے اپنے سارے خواب سچ ہوتے نظر آرہے تھے۔۔۔
اسے یقین تھا کہ اگر۔۔۔صرف ایک بار نور کو کسی فلم میں موقع مل گیا تو وہ پیچھے مڑکر نہیں دیکھے گی شہرت کی سیڑھیاں چڑتی جاۓگی۔۔۔
اسے بس ایک موقع کا انتظار تھا۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد سیٹھ واپس آجاۓ اور وہ نور کو اس کی خلوت میں بھیج کر سیٹھ کو خوش کردے اور پھر سیٹھ اپنے وعدے کے مطابق نور کو اپنی فلم میں ہیرون لے لے۔۔۔
اس نے جمال شاہ کو بلاکر اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔
جمال شاہ نے آتے ہی کچھ رقم اسے دی تھی کہ۔ یہ سیٹھ کی طرف سے ہے نور کی شاپنگ کے لیے۔ ریشم بائی نے جمال شاہ کویہ لالچ بھی دیا کہ۔۔۔
سیٹھ کے بعد وہ نور کو اس کے پاس بھی بھیج دےگی۔۔۔ جمال شاہ تو چاہتا ہی یہ تھا
وہ دن گنتے انتظار کررہا تھا کہ۔۔ کب سیٹھ واپس آۓ اور اسے اپنے من کی مراد ملے۔۔۔ سیٹھ کے واپس آنے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔۔۔ ریشم بائی نے فیصلہ کیا کہ نور کو شاپنگ کروادے
آخر اس نے اب اعلیٰ سوسائٹی میں اٹھنا بیٹھنا تھا تو۔۔۔
اس کا لباس بھی اسی طرز کا ہو۔۔۔ اور پھر سیٹھ نے بھی رقم بھیجی تھی شاپنگ کے لیے اس نے نور کو ساتھ لیا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ایک بڑے شاپنگ مال میں پہنچ گئی۔۔۔نور کے ساتھ اس کی دونوں بہنیں بھی تھیں۔۔۔ وہ سب بہت خوش تھیں نور اور اس کی بہنوں نے جی بھر کے اپنی اپنی پسند کی شاپنگ کی۔۔۔ ایک اچھے ہوٹل سے کھانا کھایا اور واپسی کے لیے ایک ٹیکسی روکی اور اس میں بیٹھ گئیں۔۔ ٹیکسی ڈرائیور ایک عمر رسیدہ باریش آدمی تھا۔۔۔
ٹیکسی چلتے ہی اس نے ٹیپ ریکارڈ آن کردیا تھا۔۔۔
ٹیپ آن ہوتے ہی معہ ترجمہ تلاوت کی مسحور کن آواز ٹیکسی میں گونجنے لگی۔۔۔
صورت التکویر پڑھی جارہی تھی۔۔۔
ساتھ ساتھ ترجمہ بھی۔۔۔
جب آفتاب بے نور ہوجائیگا-
اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے،
اور جب پہاڑ چلاۓ جائیں گے۔
اور جب گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی،
اور جب وحشی جانور سب جمع ہوجائیں گے۔ اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی تھیں؟؟؟ (سورہ التکویر)
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔۔۔ نور کا دل دہل گیا۔ اسے کچھ دن پہلے سنے جانے والے الفاظ یاد آگئے۔۔۔
اور خدا کے سوا نہ کوئی تمہارا دوست ہے اور نہ ہی مددگار۔۔۔
ساتھ ہی دوسرے الفاظ۔۔۔
فَاَیْنَ تَزْہَبُوْنْ
اور تم کس سمت جارہے ہو ؟؟؟
اور تم کس سمت جارہے ہو؟؟؟
اور تم کس سمت جارہے ہو؟؟؟
الفاظ اس کے ذہن میں تکرار کی صورت گردش کرنے لگے تھے۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے ٹیپ کو تکے جارہی تھی۔۔۔ اسے کوئی پتہ نہیں کب گاڑی رکی اور وہ کیسے اتر کر گھر تک پہنچی اس کے دماغ میں بس وہ لفظ سوال بن کر گونج رہے تھے۔۔۔
فَاَیْنَ تَزْہَبُوْنْ
اور تم کس سمت جارہے ہو؟؟؟
اسے لگا جیسے خدا اس سے پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔ وہ کس سمت جارہی ہے؟ـ؟؟؟
فَاَیْنَ تَزْہَبُوْنْ
فَاَیْنَ تَزْہَبُوْنْ
اسے جھرجھری سی آگئی۔۔۔
بےساختہ اس کے منہ سے نکلا۔۔۔یااللہﷻ
یقیناً اس کی رحمت نے جوش مارا ہوگا اور کہا ہوگا
یا عبدک
اے میرے بندے
ہاں ضرور کہا ہوگا
یقیناً کہا ہوگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عامر نے اپنے والد کو قائل کیا کہ جتنی اپنی زمین ہے۔ اب ایک ٹریکٹر بھی لےلینا چاہیے تاکہ دوسروں کی محتاجی نہ ہو۔۔۔
چوہدری اکرم نے ایک دو دن سوچنے اور اپنے دوسروں بیٹوں سے مشورے کی بعد اجازت دے دی۔۔۔
اس کے دوسرے بیٹوں نے بھی چھوٹے بھائی کے مشورے کو سراہا تھا۔۔۔
عامر سے کہا گیا کہ۔۔۔ کوئی اچھی حالت کا سیکینڈ ہینڈ ٹریکٹر دیکھ لے اس نے تیسرے دن ہی اپنے والد کو کہہ دیا کہ اس نے دوسرے شہر میں ایک ٹریکٹر دیکھ لیا ہے اچھی حالت میں ہے۔۔۔۔اور مناسب مل رہا ہے اس نے اپنے والد کو ٹریکٹر کی قیمت سات لاکھ بتائی تھی اس کا باپ ٹریکٹروں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔۔۔
اس نے سات لاکھ کا چیک عامر کو دےکر اس سے کہا کہ وہ ٹریکٹر کی تسلی کرکے لے آۓ۔۔۔ عامر چیک لیکر خوشی خوشی بینک جاپہنچا۔۔۔بینک سے پیسے لیکر اس نے ٹریکٹر لینے دوسرے شہر جانا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور کی وہ رات بےچینی میں گزری تھی۔
وہ ساری رات کروٹیں بدلتی رہی مگر۔۔۔
اسے کسی کروٹ چین نہ تھا۔۔۔
الفاظ اس کی روح جھنجھوڑرہے تھے۔۔۔
تھانے میں وہ الفاظ سننے کے بعد وہ ایک دو دن ایسی ہی کیفیت میں رہی تھی اور پھر بھول بھال کر اپنی پرانی روش پہ لوٹ آئی تھی مگر۔۔۔
دوسری بار تلاوت سنی تو وہی الفاظ اس کی روح کو ہلاگئے یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا؟؟؟ اس نے سوچاـ دوبار قران کی تلاوت سنی اس نے۔۔۔
اور دونوں بار اس پہ ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔۔۔
ایسے جیسے کسی نے اس کے دل پہ دستک دی ہو اسے جگانے کی کوشش کی ہو وہ پڑھی لکھی بھی تھی اس کا دماغ اسے کچھ سوچنے پر مجبور کررہا تھا اپنے بارے میں اپنے کام کے بارے میں سوچنے پر کہ وہ کس سمت جارہی ہے؟؟؟
گناہ ثواب کا اس کو نہ بتایا گیا تھا۔۔۔ نہ
اس نے کبھی اس بارے میں سوچا تھا۔۔۔مگر اب وہ سوچ رہی تھی کہ۔۔۔ لوگوں کے لیے وہ فقط اک کھلونے کے سوا اور کچھ نہیں تھی۔۔۔ اس کی قیمت فقط تیس لاکھ لگائی تھی اس کی ماں نے۔۔۔ اور خریدار کو وہ بھی بہت زیادہ لگ رہی تھی۔۔۔ اور پھر سیٹھ کا ارادہ ؟؟؟ سیٹھ اسے شہرت دلانا چاہتا تھا۔۔۔مگر اس کی پوری قیمت لینا چاہتا تھا۔۔۔ اور کون جانے وہ مشہور ہو نہ ہو؟؟؟ اور اگر مشہور ہوبھی گئی تو کیا وہ پاک بھی ہوگی؟؟؟ ایک طوائف کو یہ باتیں سوچنا بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔بھلا طوائف کا کیا کام عزت غیرت سے؟؟؟مگر اس کا ذہن جیسے اس کے بس میں نہیں تھا۔۔۔ خود بخود سوچے جارہا تھا۔۔ وہ تو بس دماغ کی ہر بات پہ آمین کہتی جارہی تھی مسلسل پانچ دن رات وہ اسی کشمکش میں رہی تھی آخر اس نے ایک فیصلہ کیا اور مطمئن ہوگئی تھی۔۔۔
اسے وہ اچانک ہی یاد آیا تھا اور اس کا نور کو فدائیہ سے انداز میں دیکھنا نور کو امید دلا رہا تھا کہ۔۔۔
وہ یقیناً اسے پسند کرتا ہے۔۔۔ ؟؟؟
شاید اس سے محبت ہی کرتا ہو؟؟؟ اب اگر وہ آیا تو میں اسے پوچھ لونگی۔۔۔
اگر اسے مجھ سے محبت ہے تو وہ مجھے یہاں سے لےجاۓ۔۔۔اور شادی کرکے میری عزت کا رکھوالا بنے۔۔۔
ایک عزت بھری زندگی دے مجھے۔۔۔ اگر اس نے حامی بھری تو میں اس کے قدموں میں اپنی ساری زندگی گزاردونگی۔۔۔
بھاگنے کا اس نے سوچا تھا مگر۔۔۔ وہ بھاگ کر جاتی کہاں؟؟؟نہ وہ کسی کو جانتی تھی نہ اسے کوئی۔۔۔ اور دوسرا ڈر یہ بھی تھا کہ۔۔۔اگر کسی کے ہتھے چڑھ گئی تو جانے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے؟؟؟
بھاگنے کی اس کی ہمت نہیں تھی۔۔۔ اسے سہارا چاہیے تھا۔۔۔جو اس کی حفاظت کرتا۔۔۔اور اس کا سائبان بن کر رہتا۔۔۔ وہ چاہے کوئی بھی ہوتا۔۔۔۔ اسے اب اس کا انتظار تھا۔۔۔ ایک رات وہ اسی کشمش میں جاگ رہی تھی کہ۔۔
اسے کسی کے باتوں کی آواز آئی۔۔۔کوئی اس کا نام لیکر کسی سے بات کررہا تھا۔۔۔ اس کو تجسس ہوا وہ خاموشی سے اٹھی اور ساتھ والے کمرے کے دروازے سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔ اندر سے اس کی ماں کی آواز آرہی تھی۔۔۔جو شاید کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔۔۔۔ یک طرفہ باتیں سن کر اس کی سمجھ میں جو آیا اس نے اس کو چکرا کر رکھ دیا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ بےہوش ہوکر گرتی۔۔۔
اس نے دیوار کا سہارا لیا۔۔۔ اور
آہستہ سے چلتی اپنی چارپائی پہ آکے لیٹ گئی۔۔۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ وہ رات اس نے روتے گزاری تھی۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے دن گننے شروع کردیے تھے۔۔۔ وہ دعا کررہی تھی کہ وہ لڑکا جلد از جلد آجاۓ اور وہ اس جہنم سے نکل جاۓ۔۔۔ اور پھر کچھ دن بعد اس کی مراد برآئی۔۔۔ وہ ناچنے گئی تو وہ محفل میں موجود تھا۔۔۔اور مسکرکر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ بھی اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔ وہ خوشی سے کھل اٹھا تھا۔۔۔ وہ اب مجبوراً ناچتی تھی کہ۔۔ کہیں ریشم بائی کو اس پہ کسی قسم کا شک نہ ہوجاۓ وہ وہاں پہلے جیسی ہی نظر آنے کی کوشش کرتی تھی مگر اس کے دل میں کیا چل رہا تھا۔۔۔ اس کی نور نے کسی کو خبر نہ ہونے دی۔۔۔ اسے اس رات اس سے بات کرنے کا موقع نہ ملا۔۔۔۔ رقص ختم ہونے کے بعد وہ کچھ دیر ریشم بائی کے پاس بیٹھا رہا اور پھر خوشی خوشی چلا گیا۔۔۔ نور نے سوچ لیا کہ۔۔۔کل وہ ساری بات ایک کاغذ پہ لکھ کر کسی طرح اسے دے دیگی۔۔۔اور انتظار کریگی کہ وہ کیا کہتا ہے۔۔۔۔؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاصم گاؤں میں اکتاگیا تو اپنے دوست شانی کو ملنے لاہور چلا آیا۔۔۔
اس کو آج دوسرا دن تھا رات کو شانی نے اسے کہا چل آج تجھے کچھ نیا دکھاتا ہوں۔۔۔؟؟؟ اس کا ارادہ آج رقص دیکھنے کا تھا ۔۔۔۔ عاصم کو لیکر رات کو وہ اس بازار میں جا پہنچا جہاں راتیں جاگتی تھیں دن سوتے تھے۔۔۔وہ دونوں پہلے بھی یہاں کئی بار رقص دیکھنے آچکے تھے۔۔۔ گلی میں داخل ہوکر جیسے ہی وہ ایک چوبارے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔۔۔عاصم کی نظر کچھ دور ایک شخص پر پڑی جو ایک چوبارے سے اتر رہا تھا۔۔۔اور وہ اکیلا نہیں تھا۔۔۔اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔۔۔ چوہدری اکرم کے بیٹے عامر کو پہچاننے میں عاصم کو کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اس نے شانی کا بازو پکڑا اور اسے حیران پریشان ساتھ لیے عامر کے پیچھے چل پڑا چلتے چلتے مختصر اس نے شانی کو بتا کر اس کی حیرانی دور کردی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے سب سے چھپ کر دن میں ہی ایک کاغذ پر تمام احوال لکھ لیا تھا۔۔۔
آخر میں اس نے لکھا تھا کہ ۔۔۔
اگر وہ نور کو یہاں سے نہیں لےجاسکتا تو مہربانی کرے ۔۔۔
اس کی ماں ریشم بائی کو یہ بات نہ بتاۓ۔۔۔ ورنہ نور کے لیے پریشانی ہوجاۓگی۔۔۔ کاغذ اس نے سنبھال کر رکھ لیا۔۔۔ اس کا ارادہ تھا کہ رات کو محفل ختم ہونے کے بعد وہ کاغذ اس کو دے دیگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عامر بہت خوش تھا ۔
نور نے اس کو مسکراکر دیکھا تھا۔۔۔اور اس سے بھی بڑی بات۔ اسے آج وہ سب ملنے والا تھا جس کی وہ کئی مہینوں سے طلب میں تھا۔۔۔۔ اسے آج نور کی قربت ملنے والی تھی۔۔۔۔ بینک سے پیسے لیکر وہ ٹریکٹر لینے نہیں بلکہ لاہور آگیا تھا۔۔۔ اس کا ارادہ ہی نہیں تھا ٹریکٹر لینے کا۔۔۔یہ تو اس نے بہانہ بنایا تھا پیسے حاصل کرنے کے لیے۔۔۔ بعد میں گھرجاکر وہ کہ دیتا کہ ۔۔۔ وہ دوسرے شہر ٹریکٹر دیکھنےجارہا تھا کہ۔۔ راستے میں ڈاکوؤں نے اس سے ساری رقم چھین لی۔۔۔ رقص ختم ہونے کے بعد وہ ریشم بائی سے ملا۔۔۔اور اسے چھ لاکھ کی پیشکش کی تھی۔۔۔صرف تین رات نور کی قربت کے چھ لاکھ ۔۔۔ ریشم بائی نے سوچا ۔۔۔ویسے بھی سیٹھ کے پاس تو جانا ہی ہے نور نے۔۔ کیا برا ہے اگر تین رات کے چھ لاکھ مل رہے ہیں؟؟؟
سیٹھ کے آنے میں دو دن باقی تھے۔۔۔ بعد میں وہ اس کے پاس چلی جاتی۔۔۔ اس نے عامر سے چھ لاکھ لےلیے تھے۔۔۔اور اس سے کل نور کو ایک رات کے لیےاس کے ساتھ بھیجنے کا وعدہ کرلیا تھا۔۔۔ اور آج وہ آیا تو سیدھا ریشم بائی سے ملا۔۔۔آج وہ رقص دیکھنے نہیں آیا تھا۔۔۔ ریشم بائی نے وعدے کے مطابق نور کو بلایا اور اس کے ساتھ جانے کو کہا۔۔۔ نور حیران پریشان سی اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔۔ نور کو لگا کہ شاید اس نے نور کو یہاں سے بھگانے کے لیے ریشم بائی کو کچھ رقم دی ہو۔۔۔تاکہ وہ نور کو اس کے ساتھ بھیج دے۔۔۔اور وہ اسے لیکر کہیں دور چلا جاۓگا۔۔۔اور اس سے شادی کرلےگا۔۔۔۔۔ وہ بنا کچھ پوچھے اس کے ساتھ چل دی تھی۔۔۔اس نے سوچا ایک بار یہاں سے نکل جاۓ بعد میں آرام سے اس سے پوچھ لے گی سب۔۔۔ عامر خوشی خوشی اسے لیکر چوبارے کی سیڑھیاں اترگیا۔۔۔ وہ اس کو لیکر وہاں پہنچ گیا جہاں وہ ہمیشہ سے آکر ٹہرتا تھا۔۔۔ نور دل ہی دل میں خوش ہورہی تھی کہ۔۔۔ اللہﷻ نے اس کی سن لی اور اتنی آسانی سے اس کو وہاں سے نکال دیا۔۔۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے نور کو بیٹھنے کا کہا ۔۔۔اور کھانے پینے کے لیے کچھ لینے باہر نکل گیا۔۔۔ عاصم اپنے دوست کے ساتھ عامر کے پیچھے پیچھے ہی اس جگہ تک پہنچا تھا۔۔۔ وہ دونوں کمرے کے اندر گئے اور کچھ دیر بعد عامر اکیلا باہر آیا تھا۔۔۔ اس نے ایک دوکان سے کھانے پینے کا کچھ سامان لیا ۔۔۔۔اور واپس کمرے کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
یہ ایک عام سا ہوٹل تھاجس میں کچھ کمرے بھی بنے ہوۓ تھے۔۔۔جو مسافروں کو کرایہ پر دیے جاتے تھے۔۔۔ سامان لیکر وہ کمرے میں پہنچا تو نور اسے دیکھ کر مسکرا اٹھی۔۔۔ وہ بےفکری سے چارپائی پہ بیٹھی تھی۔۔۔ بوتل اور چپس وغیرہ نکال کر اس نے نور کے دیے تو اس نے مسکرا کر لے لیے۔۔۔اور ایک طرف سرک کر اسے بیٹھنے کی جگہ دی۔۔۔ عامر بیٹھ چکا تو نور نے اپنے ہاتھوں سے بوتل اسے دی۔۔۔ جو عامر نے بڑی خوشی سے پکڑلی۔۔۔ اس کے تو گویا نصیب جاگ گئے تھے۔۔۔ کھانے پینے کے بعد نور نے اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ آپ کا نام کیا ہے؟؟؟نور نے عقیدت بھرے لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔ میرا نام عامر ہے۔۔۔جواب مسکراکر دیا گیا تھا۔۔۔ میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے ایک پل چین نہیں تھا۔۔۔ عامر پیار بھرے لہجے میں اسے بتارہا تھا۔۔۔ تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔سچ میں آج تک میں نے تم جیسی پیاری لڑکی نہیں دیکھی۔۔۔ عامر نے اس کی تعریف کی اب تو میں آپ کی ہی ہوں نور نے اس سے کہا۔۔ اب تو زندگی بھر آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے۔۔۔ جی بھر کر دیکھ لینا آپ۔۔۔ زندگی بھر۔۔؟؟؟
عامر نے چونک کر نور کو دیکھا عامر کا چونک کر دیکھنا نور کے لیے حیرت کا باعث تھا۔۔۔ تو۔۔؟؟؟آپ مجھے یہاں کیوں لاۓ؟؟؟ نور نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا
میں نے ریشم بائی کو تیرے چھ لاکھ روپے دیے ہیں وہ بھی صرف تین راتوں کے۔۔۔
عامر کے الفاظ سن کر نور کے خوابوں کا محل زمین بوس ہوگیا تھا۔۔۔
وہ جھٹکے سے اٹھی تھی۔
اسے عامر سے بےحد نفرت محسوس ہوئی۔
نور کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔۔
اس نے آخری کوشش کے طور پر اپنے کپڑوں میں چھپایا رات لکھا ہوا کاغذ نکالا اور عامر کے سامنے کردیا۔۔۔
عامر نے حیرانگی سے کاغذ لیکر پڑھا۔۔۔اور کھڑا ہوگیا۔۔۔ میں اور ایک طوائف سے شادی کرونگا۔۔۔؟؟؟
تم نے یہ کیسے سوچ لیا؟؟ اس کے الفاظ نور کے دل پر کوڑے کی طرح لگے۔۔۔
تم جانتی ہو میرے والد کتنے مذہبی انسان ہیں؟؟
وہ تمہیں ایک پل بھی اپنے گھر برداشت نہیں کریں گے۔۔۔ تم مجھے اچھی لگی اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ۔۔ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔۔۔ میں صرف تمہارے جسم کا طلبگار تھا۔۔۔اور اس کے لیے میں نے چھ لاکھ دیا ہے۔۔۔
عامر نے غصے سے کہا اب سیدھی طرح شرافت بھول کر میری بات مانو۔۔اور
جاؤ۔۔۔ ایک طوائف کے نصیب میں شاید عزت کی زندگی نہیں لکھی۔۔۔ نور نے اس سے کہا تھا۔۔۔
میں طوائف ضرور ہوں مگر میں صرف ناچتی تھی ۔جسم نہیں بیچتی تھی۔۔۔
اللہﷻ جانتا ہے مجھے آج تک کسی مرد نے نہیں چھوا میں تمہیں اللہﷻ کا واسطہ دیتی ہوں۔۔ مجھے داغدار نہ کرو مجھے جانے دو۔۔۔ میں کہیں اور چلی جاؤنگی۔۔۔
کہیں بھی چھپ کر زندگی گزارلونگی۔۔۔مگر میں واپس کوٹھے پر نہیں جانا چاہتی۔۔۔ نور کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔ عامر نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ مارا ۔۔۔ کمینی۔۔۔۔
بڑی آئی پارسا۔۔ میرے چھ لاکھ تیری ماں دیگی؟؟؟ وہ میں تجھ سے پورے کرونگا۔۔۔ابھی اور اسی وقت۔۔۔ اور ریشم بائی کو بھی تیرے ارادے بتاؤنگا۔۔۔ عامر نے اس کا بازو پکڑ کر اسے چارپائی پر پھینک دیا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتا دروازے پر دستک ہوئی وہ چونک کر دروازے کو دیکھنے لگا۔۔۔ دستک ایک بار پھر ہوئی۔۔۔ اس نے غصے میں دروازہ کھول دیا۔۔۔اور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ۔۔ دروازے میں کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔ تم یہاں۔۔؟؟؟بے اختیاراس کے منہ سے نکلا تھا۔
