No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ناول ”اجنبی راہوں کے مسافر “
از قلم زر ش نور
قسط نمبر ٩
دعا کو ہاتھ اٹھاٸیں
تو دل لرزتا ہے
کہ پڑ نہ جاۓ خود اپنی نظر وہاں کہ جہاں
نصیب لکھ گیا پتھروں کے حرفوں سے
تقدیر کی گرفت میں آیا ہوا شخص تقدیر سے ہی بچتا ہے۔تقدیر کے بھی بڑے انوکھے کھیل ہیں ۔تقدیر جسے ہونی بھی کہتے ہیں اور ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔
سو اس نے اپنے شکستہ اعصاب کو سمیٹ کر اکٹھا کیا ،اور حوصلوں کو مجتمع کیا اور بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گٸی ۔وہ وضو کر کے لوٹی تو تب بھی کمرا خالی تھا۔
اس نے جاۓ نماز بچھا کر نماز ادا کی ۔اور اپنے باپ کی مغفرت کے لٸے اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرنے لگی۔دعا کرتے کرتے شدت گریہ سے اسکی ہچکی بندھ گٸی۔
جنم لیا ہے تو اب کٸی زمانوں سے
ہم ایک طے شدہ تقدیر میں مقید ہیں۔
اس نے سجدے سے سر اٹھایا تو دادی کو اپنے قریب زمین پر بیٹھے پایا۔
بیٹا معیشت خدا وندی ہے ،انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔جو آیا اسے ایک دن لوٹ کر اس کے پاس جانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
سیرت پہلے بھی کم ہی بولتی تھی لیکن ہمایوں کے جانے کے بعد اسے بالکل ہی چپ لگ گٸی۔
اس کا اب اس گھر میں دل نہیں لگتا تھا۔یہاں ہر طرف اس کے بابا کی یادیں بکھری تھیں۔
اس کی زندگی میں بس ایک کاش لفظ رہ گیا تھا۔کاش ہم کچھ وقت پہلے مل جاتے۔کاش مما کے زندہ ہوتے ہوۓ مل جاتے۔لیکن خدا کے ہر کام میں کوٸی نہ کوٸی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔جسے ہم جیسے عام انسان نہیں سمجھ سکتے۔
اس کا وجود اب اس کے گھر کے لوگوں کو بھی کھٹکنے لگا تھا۔احان سے تو ویسے بھی سب کا باٸیکاٹ چل رہا تھا۔
اس کا عنایا سے شادی سے انکار کی وجہ بھی سیرت کو گردانا جا رہا تھا۔
سیرت اب احان سے کم کم ہی مخاطب ہوتی تھی۔اگر وہ خود کوٸی بات کر لے تو ٹھیک نہیں تو وہ خود سےاس سے کوٸی بات نہیں کرتی تھی۔
اس نے کل رات سلمان علی اور اریبہ بیگم کی باتیں سنی تھیں ۔
سلمان اس لڑکی کو یہاں سے چلتا کریں ۔آپ مانے یا نہ مانےاحان نے اس لڑکی کو اسی لٸے یہاں رکھا ہو ہے ۔کیونکہ ہمایوں اس سے اس لڑکی کو اپنانے کا وعدہ لے چکا ہے۔اور دیر یا بدیر احان اس لڑکی سے شادی کر لے گا۔ اور میں ایک طواٸف کی بیٹی کو اپنی بہو بنا لوں یہ تو کبھی ہو نہیں سکتا۔
اس کے بعد سے سیرت نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب زیادہ دن یہاں نہیں رہے گی۔
اس نے اخبار میں مختلیف اشتہارات دیکھنے شروع کر دٸیے تھے۔
اس نے سوچا تھا کی اگر اسے کوٸی ڈھنگ کی جاب مل جاۓ تو وہ چپ چاپ کسی ہاسٹل میں شفٹ ہو جاۓ گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سنڈے ہونےکی وجہ سے سب لوگ سو رہے تھے۔سیرت پچھلے صحن میں رکھی لوہے کی پرانی اور زنگ آلود کرسی پر بیٹھ گٸی۔
ایک طرف درخت پر نہ جانے چڑیاں کیوں شور کر رہی تھی۔ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ رہی تھیں۔وہ غور سے اس درخت کو دیکھنے لگی۔جس میں بہت سے گھونسلے بنے تھے۔اسے ان پر رشک آیا مجھ سے بہتر تو یہ ہیں جن کا اپنا گھر تو ہے۔اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آ کر ٹھہر گٸی۔
تیز دھوپ ہونے کی وجہ سے وہ پیشانی پر ایک ہاتھ رکھ کر اوپر دیکھنےکی کوشش کر رہی تھی۔
تبھی وہ اس کے آگے آ کر کھڑا ہو گیا کسی گھنے ساۓ کی طرح تھری پیس سوٹ میں ملبوس دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے ۔اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اسے دیکھ کہ وہ جلدی سے کھڑی ہو گٸی۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھے رہنے کے لٸے بولا اور قریب ہی بلاکس کے بنے ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔
سیرت مجھے تم سے بات کرنی تھی۔لیکن تم ان دنوں لگتا ہے کچھ زیادہ ہی بزی تو تمہارے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ۔میں نے کل بھی تم سے کہا تھا کہ مجھے تم سے بات کرنی ہے اور اس کے بعد تم مجھے ابھی دیکھاٸی دے رہی ہو۔
میں کوٸی لمبی تمہید نہیں باندھوں گا۔جلد یا بدیر مجھے شادی تو بہرحال کرنی ہی ہے ۔اس لٸے مجھے تم سے یہ کہنا ہے ۔”میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔“
لیکن میں ایسا نہیں چاہتی ، مجھے آپ سے کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنی۔
میں تم سے پوچھ نہیں رہا ، بتا رہا ہوں۔چاچو نے تمہاری زمہ داری مجھے سونپی تھی۔اور میں ان کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا۔
انہوں نے آپ سے کہا تھا کہ کوٸی آچھا سا شخص دیکھ کر میری شادی کر دیں۔یہ نہیں کہا تھا کہ خود ہی بیلی کا بکرا بن جاٸیں۔
جتنا میں انہیں جانتا ہوں،تم نہیں جانتی مجھے پتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے۔
اور ہاں شام تک تیار رہنا آج ہمارا نکاح ہے۔میں نے گھر میں بھی سب کو بتا دیا ہے۔
چلتا ہوں مجھے ابھی ایک ضروری کام سے جانا ہے۔
یہ کہہ کر وہ جانے کے لٸے مڑ گیا۔
وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی ، کیسا عجیب شخص ہے شادی کی ایسے بتا رہا ہے جیسے کہہ رہو ہو ہم شام کو ساتھ ڈنر کریں گے۔
تھوڑا سا آگے جا کر وہ واپس آیا۔
ہاں تمہیں ایک اور بات بتانی تھی۔تم نے کل جس جاب کے لٸے اپلاٸی کیا تھا۔اس کے لٸے تم سوٹ ایبل نہں ہو۔بھلا میری بیوی ہی میری سیکریٹری کی جاب کرے آچھا نہیں لگتا۔
اور ہاں یہاں سے بھاگنے کی کوشش نہیں کرنا۔ میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا۔تم پاتال میں بھی جا کر چھپ جاٶ میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن وہ گھر والوں سے چھپ کر کمرے میں بندرہی۔ جوں ہی شام نے اپنے پر پھیلاۓ اس کے ہا تھ پاٶں پُھول گٸے۔ہر آہٹ پر وہ چونک جاتی،اس کی تو یہ حالت تھی جیسے کسی قیدی کا آج آخری فیصلہ آرہاہواور اسے یقین ہو کہ اسے عمر قیدسناٸی جاۓ گی۔
رات آٹھ بجے کے قریب اسے اپنے کمرے کے باہر قدموں کی آہٹ محسوس ہوٸی اور چند سیکنڈ کے بعد عنایا کمرے میں داخل ہوٸی۔اس نے آتے ہی زرتار دوپٹہ اس کو اوڑھایا اور ڈور وا کر دیا۔
بس چند منٹوں کا کھیل ہوا تھا۔اس نے اپنےجملہ حقوق احان سلمان علی کے نام لکھ دٸیے۔
عنایا نےخوش دلی سے اسے گلے لگایا۔جبکہ وہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ اس کے چہرے پر کوٸی دکھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس کے خدشات کو سمجھتے ہوۓ وہ آگے بڑھی اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے بیڈپر بٹھایا اور خود بھی آلتی پالتی مار کر اس کے سامنے بیٹھ گٸی۔
تم چاہتی ہو میں دکھی ہوں جو ایسے گھور گھور کر میرے چہرے پر دکھ ڈھونڈ رہی ہو۔
جانتی ہو میں احان کی بہت شکر گزار ہوں اس کی وجہ سے مجھے وہ ملا ہے۔جو میری زندگی ہے۔جس کے بے وفاٸی کی سن کر میں نے خودکشی کر لی تھی۔لیکن جانتی ہو اس کی دعاٶ ں کی وجہ سے ہی میں بچ گٸی۔
اگر احان نہ ہوتا تو میں اسے ساری زندگی ایک دھوکے باز ہی سمجھتی رہتی۔
اس کے میرے درمیان سٹیٹس آڑے آ گیا تھا۔
کبھی کبھی ماں باپ نہ اپنے بچوں کو خوشیاں دینےکی کوشش میں ان کا بہت بڑا نقصان کر جاتے ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں چلتا۔ماں باپ اولاد کا برا نہیں چاہتے بس وہ جو بھی کرتے ہیں اولاد کی محبت میں ہی کرتے ہیں۔
میرے بابا نے بھی ایسا ہی کیا۔اورمیرے لٸے اشعر کو چھوڑ کر احان جیسا ویل سیٹلڈ بزنس مین کے ساتھ رشتہ جوڑا ۔
اشعر میرے بابا کی فیکٹری میں ایک معمولی ملازم تھا۔لیکن میں عنایا چوہدری اس معمولی سے آدمی کو دل دے بیٹھی۔میرے بابا کا خیال تھا میں اس کی خوبصورتی اور پرسنالٹی سے امپریس ہو گٸی ہوں۔وہ محبت کو مانتے ہی نہیں تھے۔ان کا خیال ہے جب پیٹ اور جیب خالی ہو تو محبت کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔
اسلٸے انہوں نے مجھے بتایا کہ اس کی منگنی اس کی کسی کزن سے ہوگٸی ہے ۔مجھ سے وہ صرف اس لٸے جڑا ہوا ہے تاکہ وہ اپنی غربت مٹا سکے۔اور میں نے بھی ان کی بات پر یقین کر لیا۔
میں بھی عقل کی اندھی تھی۔کچھ بھی سوچا سمجھا نہیں بس ان کی بات پر یقین کر لیا۔
شاید ہر بیٹی اپنے ماں باپ پر اتناہی یقین رکھتی ہے۔
یہ میرے ہاتھ میں انگوٹھی دیکھ رہی ہو یہ دیکھنےمیں بہت معمولی ہے۔لیکن تم میرے دل سے پوچھو کہ دن میں جتنی بار س پر نظر پڑتی ہے ۔اس شخص سے میری محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
جانتی یہ میری انگلی میں پہناتے ہوۓ اس نے کیا کہا۔
”یہ تمہارے شایان شان تو نہیں ہے لیکن یہ میں بہت محبت سے تمہارے لٸے لایا ہوں۔میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری عزت ہر چیز سے مقدم رکھو گا۔“
تمہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ تم احان کے ساتھ نٸی زندگی گزارنے جا رہی ہو۔اس نٸی زندگی میں کسی شک شبے کو اپنے دل میں جگہ نہ دینا۔
وہ تمہارے لٸے بہت سے محاز پر لڑ رہا ہے۔اس لٸے تم اس سے لڑ کر اسے کمزور نہ کرنا۔
ویسے ایک بات بتاٶں اگر میری زندگی میں اشعر نہ ہوتا تو میں کسی قیمت پر بھی احان کو تمہارے لٸے نہ چھوڑتی۔”آخری بات اس نے شرارتاً کہی تھی۔“اوراس کی بات پر دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن تو سکون سے گزرے اس کا کھانا ناشتہ اس کے کمرے میں پہنچ آتاتھا۔اسے اب گھر والوں کی فکر نہیں تھی۔لیکن اسے احان کا سامنا کرنے میں ہچکچاہٹ تھی۔
وہ عشا ٕ کی نماز ادا کر کے اٹھی تبھی ڈور ناک کر کے وہ اندر داخل ہوا ۔ اس پر ایک طاہرانہ نگاہ ڈال کر وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
کیا مسٸلہ ہے دو دن سے کمرے میں کیوں بند ہو ۔
کوٸی مسٸلہ نہیں۔اس نے انگلیاں چٹخاتے ہوۓ دوسری طرف رخ کر کے جواب دیا۔
اس نے اس کے سراپے پر ایک نظر ڈالی جو بلیک کلر کے سادہ سے کپڑوں میں بڑی سی بلیک چادر لٸے اسے نماز کے سٹاٸل میں رکھے منہ موڑے کھڑی تھی۔
احان آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا۔وہ اس کا ہاتھ پکڑے جس وقت ڈاٸننگ ہال میں داخل ہوا ۔سب لوگوں نے کھانے سے ہاتھ روک کر ان دونوں کو دیکھ۔
احان نےچٸیر گھسیٹ کر پہلے سیرت کو بٹھایا اور پھر خود اس کے برابر بیٹھ گیا۔
کیا لو گی؟
کچھ بھی۔
”اندھا کیا جانے دو آنکھیں۔“ فاریہ نے اس کاکچھ بھی کہنے پر طنز کیا۔
احان نے اسے کڑےتیوروں سے گھورا۔
و ہ خاموش ہو کر نظریں جھکا گٸی۔
اس کی بات کا مطلب سمجھتی سیرت احان کے سامنے مزید شرمندہ ہو گٸی۔
بر۔۔۔۔بریانی دے دیں۔ ”وہ اٹک اٹک کر بولی۔
اس کی بات پر وہ سر ہلاتا ہوا اس کی پلیٹ میں بریانی نکالنے لگا۔
احان مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔سلمان علی نے اس پر نظریں جماۓ کہا۔
بولیں میں سن رہا ہوں۔
میں تم سے تینوں فیکٹریوں کا چارج واپس لینا چاہتا ہوں۔پاو ر آف اٹارنی میں نے سمیع کو دے دیا ہے۔
تم کھانا کھا کر ان کاغذات پر ساٸن کر دینا۔
کل۔سے تمہیں فیکٹری آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اوکے۔
اس کے اتنے آسانی سے مان لینے پر سلمان علی حیران رہ گٸے۔
جبکہ سیرت کو اب اندازہ ہوا تھا کہ اس کی وجہ اس کے لٸے کتنے مساٸل پیدا ہو گٸے تھے۔
کھانے کے بعد کاغذات پر ساٸن کر کے وہ سیرت کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔
