No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ناول ”اجنبی راہوں کے مسافر“
از قلم زرش نور
قسط نمبر٦
وہی ہوتا ہے جو نصیب میں لکھا ہوتا ہے۔زندگی میں تقدیر نامی چیز سے زیادہ طاقت ور کچھ بھی نہیں ہے۔
اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔جس سیراب کے پیچھے بھاگ کر اس نے اپنی آخرت بھی خراب کر لی تھی۔آج وہ اس سے تاٸب ہو گٸی تھی۔اگر وہ میرا ہوا تو میرے پاس لوٹ آۓ گا۔
وہ اپنے کل کی طرف لوٹ آٸی تھی۔پاکستان کی سر زمین پر پاٶں رکھتے ہوۓ آج وہ بہت مطمٸن تھی۔
آج سے وہ اک نٸی زارا شاہ تھی۔جسے اپنے ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کے لٸے بھی جینا تھا۔
شاید سمیع سلمان اگر اس کے ساتھ ایسا رویہ نہ اپناتا تو وہ خوش فہمی میں جیتی رہتی۔لیکن یہ اس کے لٸے آچھا ہی ہوا تھا۔وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ آٸی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری خاموشی بس دل سے لب تک ایک وقفہ ہے
یہ طوفاں ہےجو پل بھر لبِ ساحل پر ٹھہر جاۓ
”تمہاری عمر کی لڑکیاں تو ہر وقت ہنستی رہتی ہیں پھر تم نے اپنے اوپر یہ بڑھاپا کیوں طاری کر رکھا ہے؟“
اشعر نے پلیٹ ایک جانب سرکا کر کولڈڈرنک اٹھاتے ہوۓ دریافت کیا اور سیرت کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا گیا۔
وہ سب اس وقت لاٶنج میں جمع تھی۔فاریہ خوب صورت نقوش رکھنے کے باوجود ہلکے پھلکے میک اپ میں تھی۔
مرینہ بیگم بھی ہلکے پھلکے میک اپ میں تھیں۔جبکہ سیرت سادہ سے لباس میں ملبوس اور میک اپ سے بےنیاز چہرہ لٸےکسی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔سلمان علی ،مرینہ بیگم ،احان ، فاریہ ، اشعر اور سیرت اس وقت ڈاٸنگ ٹیبل کے گرد رکھی نشستوں کی صورت میں براجمان تھےجس پر انواع واقسام کے لوازمات خورونوش سجے ہوۓ تھے۔پزا ،چکن رول ،زنگر برگر،فرنچ فراٸز،تندوری فش کے ساتھ کیچپ اور رشین سلاد کی ٹریٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔یہ ٹریٹ آج احان نے دوبٸی میں ایک نٸی برانچ کھولی تھی اس کی خوشی میں ٹریٹ دی تھی۔۔سب کچھ کھانےکے بعد اسے ہضم کرنے کے لٸے سب نے کولڈرنک کا سہارا لیا ۔کولڈڈرنک کی طرف سب سے آخر میں اشعر کا ہاتھ ہی بڑھا تھا۔جو کھانے کے دوران گاہے بگاۓ سیرت کے چہرے پر نظر ڈالتا رہا تھا۔
سیرت نے گھور کر اشعر کو دیکھا اور پھر چند لمحے خاموشی کے بعد سنجیدگی سے بولی۔
کس عمر کی لڑکیاں کیسے رہتی ہیں اس پر طویل ریسرچ معلوم ہوتی ہے آپ کی !یہ ضروری نہیں کہ ہر بوڑھی عورت کے ہاتھ میں تسبیح اور جوان لڑکی کے ہاتھ میں آٸینہ دکھاٸی دے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ خوشیوں سے الگ رہنا انتہاٸی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔انسان ہر صورت خوشیوں کے سمندر میں غوط زن رہنا چاہتا ہےلیکن وہ یہ بات قطعی بھول جاتا ہے کہ اس کا اور ان خوشیوں کا کوٸی ساتھ نہیں۔
خوشیاں ہمیں ڈبو کر ،غرق کرتی ہیں اور غم ہمیں خود سے الگ کر کہ کاٹ ڈالتے ہیں۔
میری زندگی میں اس سے پہلے تو خوشیوں کی مدت بہت کم رہی ہے ۔اس لٸے میں نے اپنا اوڑھنا بچھونا اپنی حثیت کے مطابق ہی رکھا ہوا ہے۔نہ جانے یہ خواب کب ٹوٹ جاۓ۔آخر میں اس کی آواز بالکل مدھم ہو گٸی تھی۔
موباٸل میں گم احان نے اس کی بات کو بغور سنا اور اپنے ہاتھ سے موباٸل چھوڑتے ہوۓ پورے کا پورا اس کی طرف مڑ گیا۔
تمہاری بات درست ہے لیکن میں تم سے اتفاق نہیں کرتا۔١اگر ننگے پاٶں چلتے ہوۓ کسی کے پیر میں کانٹا چبھ جاۓ تو یہ حادثہ ہو گالیکن اگر ہم خود کانٹا اٹھا کر پیر میں چبھوٸیں اور اپنا پاٶں زخمی کر لیں تو بات دوسری شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اذیتیں جو لوح تقدیر میں لکھی ہیں ان سے تو فرار ممکن نہیں۔لیکن اگر خوشیوں کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کر لےی جاٸیں اور انسان اپنے ماضی میں جیتا رہے تو اسے میں خود ترسی کے علاوہ کچھ نہیں کہوں گا۔
اور اس کی با ت کے جواب میں بہت سی باتیں ہونے کے باوجود وہ خاموش رہی۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی اس شخص کے سامنے اس کی زبان کیوں گنگ ہو جاتی ہے۔
وہ تھوڑی دیر اس کے چہرے کے اتار چڑھاٶ دیکھتا رہا اور پھر اپنا موباٸل لے کر اپنے روم کی طرف چل دیا۔
اور سیرت کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا۔اسے لگ رہا تھا وہ کسی اور جذبے سے آشنا ہو رہی ہے۔اپنی سوچ سے ڈر کر اس نے آنکھیں بند کیں تو آنکھوں کے سامنے احان کا چہرہ لہرایا۔اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
باقی سب تو اپنی باتوں میں مصروف تھے لیکن اشعر جو سیرت کے بالکل سامنے بیٹھا تھا ۔اس نے سیرت کی ایک ایک حرکت کو بخوبی نوٹ کیا اور جو کچھ اس کی سمجھ میں آیا اس پر وہ خوش بھی ہوا اور احان کے بارے سوچ کر اسے سیرت پر ترس بھی آیا۔
اس محبت مطلب پتھر سے سر پھوڑنا۔اسکے لٸے محبت تو بس ہمایوں چاچو ہیں۔اور یہ بات سوچتے ہی اسے ایک جھٹکا لگا۔
یہ بھی تو چاچو کا ہی خون ہے تو کیا یہ پا سبل ہو سکتا ہے۔
وہ مسکرایا اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوۓ بولا”سیرت بیسٹ آف لک۔“
اور سیرت اس کی بات پر ناسمجھی سے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی۔
ایک سادہ سی تقریب میں ان دونوں کی منگنی کی رسم ادا کی گٸی۔احان کی جانب سے ہمایوں نے عنایا کو انگوٹھی پہناٸی جبکہ عنایا نے بدست خود احان کو انگوٹھی پہناٸی۔
احان ہاف واٸٹ کلر کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا۔جبکہ واٸٹ کلر کامدار فراک میں عنایا بلکل گڑیا لگ رہی تھی۔
ہمایوں نے بلیک تھری پیس زیب تن کیا تھا۔اور سیرت نے بلیک فراک پہ ریڈ کلر ک پرنٹڈ دوپٹہ رکھا ہوا تھا۔جو اسکی شخصیت کو چار چاند لگا رہا تھا۔
وہ ایک ساٸیڈ پہ ہمایوں صاحب کی وہیل چٸیر تھامے کھڑی تھی۔جب رسم ادا کرنے کا وقت ہوا تو ہمایوں عنایا کا ہاتھ پکڑے ہمایوں کے پاس آیا اور انگوٹھی ان کے ہاتھ میں دے دی۔انہوں نے منع کرنے کی کوشش کی تو اس نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لٸے چاچو پلیز انکار مت کیجٸے گا۔
ہمایوں کی آنکھوں میں آنسو جھلملا گٸے۔اور پھر عنایا نے احان کی خوشی کی خاطر اپنا ہاتھ ان کے آگے رکھ دیا۔جبکہ سلمان علی اور مرینہ کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گٸیں۔ماں اور باپ کو نظرانداز کر تے ہوۓ اس کا ہمایوں کو اہمیت دینا انہیں ایک آنکھ نہ بھایا۔
احان کی نظریں اشعر پر مرکوز تھیں جو ضبط کی انتہا پہ تھا۔احان کے دیکھنےپر وہ زبردستی مسکرایااور آگے بڑھ کر اس کے گلے لگ گیا۔
اس سے الگ ہوتے ہوۓ اشعر نے عنایا کو منگنی کی مبارک دی تو اس نے منہ پھیر لیا۔
وہ احان سے ایکسکیوز کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احان ،ہمایوں اور سیرت اس وقت نیو یارک اٸیر پورٹ پر کھڑے سمیع کا انتظار کر رہے تھے۔
سیرت جھک کر ہمایوں کی کوٸی بات سن رہی تھی جب اس نے ایک شخص کو تیزی سے آ کراحان سے بغل گیر ہوتے دیکھا۔
احان سے الگ ہوتے ہوۓ جب وہ سیرت کی طرف مڑا تو وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔وہ ہمایوں سے مل کر جب اس کی نظر سیرت پر پڑھی تو اس نے اسے خود کو آنکھیں پھاڑے دیکھتے پا کر اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا۔
ہوش میں آ جاٸیں سیرت میڈم ۔
اس کی بات پر وہ ہوش میں لوٹی ۔اس نے سیرت کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ہمایوں کی وہیل چٸیر تھام لی۔
آپ نے بتایا ہی نہیں کہ سمیع سلمان آپ کا بھاٸی ہے ۔اس نے احان کے ساتھ چلتے ہوۓ سرگوشی میں کہا۔
اگر تم اپنی آنکھیں کھلی رکھتی تو تمہیں کچھ نظر آتا نہ کہ ہمارے ڈراٸنگ روم میں جو فیملی فوٹو لگی ہے اس میں سمیع سلمان صاحب بھی موجود ہیں۔
باٸی دا وے تم بھی اس کی فین ہو؟
یہ کوٸی پوچھنے کی بات ہے ینگ جنریشن میں کون ہے جو اس کا فین نہیں ہے۔
ہمم بجا فرمایا آپ نے۔
چاچو آپ نے اپنی اس بیٹی کو بتایا نہیں تھا کہ میں مشہور سنگر سمیع سلمان آپ کا بھتیجا ہے۔اس نے شرٹ کے کالر کھڑے کرتے ہوۓ کہا۔
مجھے کیا پتہ میری یہ بیٹی اتنی جھلی ہے کہ اس کو ابھی تک نہیں پتا۔
انکی بات پر وہ اپنی بے وقوفی پر شرمندہ ہو گٸی۔
سیرت کو وہ بہت آچھا لگا تھا۔خاص کر اس کا بڑے بھاٸی کی طرح اس کے سر پر ہاتھ رکھنا اسے بہت بھایا تھا۔
اسے وہ بہت فرینک اور جولی سا لگا تھا۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے یہ جزبے صرف اپنے سے جڑے لوگوں کے لٸے ہی تھے۔باہر کی دنیا کے لٸے وہ بہت اکڑو اور کھڑوس تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر نیکسٹ ایپیسوڈ پڑھنی ہے لاٸک کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔آپ کےایک لاٸک سے ہمارأ حوصلہ کہیں سیر بڑھ جاتا ہے۔
