Ajnabi Rahon Ke Musafir By Zarish Noor Readelle50107

Ajnabi Rahon Ke Musafir By Zarish Noor Readelle50107 Last updated: 23 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ajnabi Rahon Ke Musafir

By Zarish Noor

پلکوں کی باڑ پر رکے آنسو کو اس نے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس نے سر جھکا لیا اور آنسو کو بہہ جانے دیا۔ آس پاس موجود بہت سے سٹوڈنٹس متوجہ ہو چکے تھے۔اور اب عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔جیسے نہ جانے وہ کسی اور دنیا کی مخلوق ہو۔

فاریہ اپنے منہ سے زہر اگل کر چلی گٸی۔

لیکن سیرت ہمایوں کو ایک نٸے امتحان میں ڈال گٸی۔

””اس کے آس پاس چہ میگوٸیاں زور پکڑنے لگی۔سرگوشیوں نے آوازوں کا روپ دھار لیا۔“ آوازوں کے ساتھی دبی دبی طنزیہ ہنسی کی آوازیں بھی شامل ہو گٸیں۔

”””بڑی نیک پروین بنی پھرتی تھی ۔پوری یونی کی ملوانی ایک طواٸف کی بیٹی ہے۔”یہ آواز اس کی بہترین دوست گوری کی تھی۔“

سیرت نے نظر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی ،لیکن آنسو نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔

اس نے سب کی آوازوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ اپنی کتابیں سمیٹی اور ایک نظر یونیورسٹی گیٹ پر ڈالی۔ آج اسے وہاں تک پہنچنا بہت ہی مشکل مرحلہ لگا۔ اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوۓ اسے محسوس ہوا جیسے وہ کانپ رہی ہے۔ اس نے آنکھیں بند کی اور سب کچھ بھول کر تیز تیز قدم گیٹ کی طرف بڑھا دیے۔

پیچھے سب لوگ بہت کچھ کہہ رہے تھے۔لیکن اس نے کان بند کر لٸیے تھے۔وہ کچھ بھی نہیں سننا چاہتی تھی۔

گیٹ سے باہر نکل کر پواٸنٹ پر انتظار کرنے کی بجاۓ ، وہ پیدل ہی چل پڑی۔ ”اسے ابھی بھی اپنے پیچھے لوگوں کی پرتپش نظریں محسوس ہو رہی تھیں۔“

آج اس کی ماں کو اس دنیا سے گزرے صرف بیس دن ہوۓ تھے۔

اس نے ہوش سنبھالا تو خود کو اندورن لاہور کے ایک خستہ ہال مکاں میں پایا۔جہاں ضروریات زندگی بس نہ ہونے کے برابر تھی۔اس کی ماں صوم و صلوت کی پابند تھی۔لوگوں کے گھروں میں کام کر کر کہ وہ ضروریارت پوری کرتی۔

اس کی اور اس کی ماں کی بات چیت نہ ہونے کے برابر تھی۔جب کبھی دونوں میں کوٸی بات ہوتی بھی تو جوں ہی سیرت اپنے باپ کے حوالے سے کوٸی سوال کرتی اس کی ماں اس کے پاس سے اٹھ جاتیں اور پھر سے اپنے خول میں بند ہو جاتیں۔

محلے میں ان کا کسی کے ساتھ زیادہ میل جول نہ تھا۔ سیرت کو دوست بنانے کی اجازات نہ تھی۔لیکن نہ جانے کیسے پھر بھی وہ جہاں جاتی اس کی بہت سی فرینڈز بن جاتیں۔لیکن اس نے کبھی کسی کو گھر لانے کی غلطی نہیں کی۔

ماسواۓ ام ہانی کے جو کہ ان کے محلے میں ہی رہتی تھی۔لیکن اس محلے کے باقی گھروں سے قدرے بہتر حالت میں تھے۔اس کےابو کسی ملٹی نیشنل فرم میں مینیجر تھے۔۔ ہانی ایک بہت ہی پرخلوص لڑکی تھی۔اس کے گھر میں آنے جانے پر اس کی امی نے بھی کوٸی قدق نہ لگاٸی ۔

اپنی ماں کا گریز محسوس کرتے ہوۓ سیرت نے باپ کے حوالے سے ان سے سوال کرنے چھوڑ دیے۔ میٹرک کے بعد اس نے گھر میں بچوں کو ٹیوشن دینا شروع کر دیا۔اس طرح اپنی کچھ فرینڈز کے گھروں میں جا کر ان کے چھوٹے بہن بھاٸیوں کو پڑھانے لگی۔جس سے ان کے گھر کے حالات میں کچھ سدھار آنے لگا۔ وہ پڑھاٸی میں بہت آچھی تھی۔اس لٸے اسے سکالر شپ پر یونی میں داخلہ مل گیا ۔جہاں سے وہ ایم بی اے کر رہی تھی۔

لیکن ان کی زندگیوں میں طوفان تب اٹھا جب ایک دن کوٸی شہباز نام کا آدمی نہ جانے کیسے ان کی چوکھٹ پر پہنچ آیا۔ جسے دیکھ کر سیرت کی ماں خدیجہ خاتون ڈر گٸی۔اور سیرت کو کمرے میں بند کر کے اس آدمی کو گھر سے نکالنے لگی۔جو زبردستی اندر گھس آیا تھا۔دونوں کی دھکم پیل میں اس شخص کے سر پر چو ٹ آ گٸی ۔اور وہ غضبناک ہو کر چیخ چیخ کر سب لوگوں کو اکٹھے کرنے لگا۔ اور پھر کمرے کی کھڑکی میں کھڑی سیرت نے جو کچھ سنا ، وہ اس کے رونگٹے کھڑ ے کرنے کے لٸے کافی تھا۔

نہ جانے کیسے ہانی وہاں آگٸی اور آ کر سیرت کو دروازہ کھول کر باہر نکالا۔ لیکن باہر کا منظر دیکھ کر وہ پریشان ہو گٸی۔”اس کی ماں مجرموں کی طرح سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔“ اور سب لوگ انہیں لعنت وملامت کر رہے تھے۔ وہ دوڑ کر ماں کے پاس پہنچٕی اور انہیں اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے لیا۔

خدیجہ خاتون نے ایک نظر بیٹی کے چہرے پر ڈالی اور اس کے آگے معافی کے انداز میں ہاتھ جوڑ لٸے۔ سیرت انہیں بانہوں کے گھیرے میں لٸے گھر کے اندر چلی آٸی ۔اور انہیں چارپاٸی پر لیٹا کر دروازہ بند کر دیا۔

وہ بالکل خاموش ہو گٸیں اور یک ٹک بس چھت کو تکنے لگی۔