Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Last updated: 23 July 2025
No Download Link
Rate this Novel
Khoon Baaha
By Zarish Noor
اجالا پھیلے کافی وقت ہو چکا تھا۔ہاسٹل سے لے کر جانے وال وین خراب ہو گٸی تھی ۔اس لٸے وہ پیدل ہی یونی کے لٸے نکل پڑی۔
فٹ پاتھ پر اس وقت اور بھی بہت سے لوگ اس کے آگے پیچھے چل رہے تھے۔جن کی چال میں ہی نہیں انداز میں بھی عجلت تھی۔
تیز تز قدم اٹھاتے اچانک اس کی نظر اپنے برابر میں پڑی جہاں صفوان یحیی اس کے قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔ اسے دیکھ کر اس کے قدم سست پڑ گٸے۔شفاف چہرے پر معصومیت رقص کر رہی تھی۔اور گال گلابی پڑ رہے تھے۔وہ زیر لب کچھ پڑھ رہی تھی۔ گلابی کلر کے گاٶن پہ گلابی ہی حجاب لپیٹے وہ کوٸی پاکیزہ روح لگ رہی تھی۔صفوان کی نظریں اس کے چہرے پر جیسے گڑ سی گٸیں۔
”سنو“ وہ رک گٸی۔
”جلدی کہو۔“
تم مجھے بہت آچھی لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
”تو میں کیا کروں۔“
سر پر لپیٹے اسکارف سے پیشانی کے بل چھپ گٸے۔۔۔۔لہجہ ناگواری لٸے ہوۓ تھا۔
”میں تم۔۔۔۔۔سے محبت کرتا ہوں۔“
غصے سے اس کا رنگ قندھاری انار ہو گیا۔”تمہارا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے۔“
سنو مجھے تمہارا ایڈریس چاٸیے۔میں اپنے ماں باپ کو تمہارے گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔
وہ ٹھٹھک کر رک گٸی ،اور اب پوری طرح اس کی طرف رخ کر کے کھڑی ہو گٸی ۔
”تمہیں خدا کا واسطہ ہے میری جان چھوڑ دو۔اگر میرے گھر میں کسی کو پتا چل گیا تو اگلے دن میں یونی نہیں آ سکوں گی۔مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے ۔میں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جو یونیورسٹی تک آٸی ہے۔لیکن اگرتم میرے گھر تک پہنچ گٸے تو پھر میرے بعد میرے خاندان والے اپنی کسی بیٹی کو سکول بھی نہیں بھیجیں گے۔
اس کی بات پر صفوان نے ہونٹ بھینچ لیا۔
کیا میں تمہاری پڑھاٸی کے بعد اپنے والدین کو لے کر آ سکتا ہوں۔
اس کی بات پر وہ چپ ہو گٸی۔ اس نے اپنے بیگ میں سے پین اور نوٹ بک نکال کر اس پر کچھ ہندسے گھسیٹے اورایک نوٹ اس کی طرف بڑھایا۔
یہ میرے بھاٸی کا نمبر ہے۔”جس دن میں اپنی پڑھاٸی ختم کر کے یہاں سے چلی جاٶں اس کے ٹھیک ایک سال بعد اس سے رابطہ کر لینا ۔”اگر اس وقت تک میں تمہیں یاد رہی تو۔“
صفوان اتنے میں ہی خوش ہو گیا۔اس کے لٸے امید کی ایک کرن تھی۔
میں کل آسٹریلیا جا رہا ہوں ۔جب لوٹوں گا تب تک تمہاری پڑھاٸی بھی مکمل ہو چکی ہو گی۔
تم مجھے تب تک ثابت قدم پاٶں گی۔
”وہ مسکراتا ہوا وہ نوٹ اپنے واٸلٹ میں رکھتا اپنی گاڑی کی طرف مڑ گیا۔
اور زینیہ سر جھکاۓ یونیورسٹی روڈ پر چل پڑی اور نامحسوس طریقے سے اسے سوچنے لگی۔
فاٸقہ اور اس کی دوستی کو چھے مہینے ہو گٸے تھے۔اور دوسرے سمسٹر کے پیپرز کےبعد اب رزلٹ آنے کا انتظار تھا۔
اور جب رزلٹ اناٶنس ہوا تو وہ زینیہ کے لٸے بہت بڑا دھچکا تھا۔کیونکہ وہ بامشکل پاس ہوٸی تھی۔اور اس کے لٸے یہ بہت شرمندگی کی بات تھی۔
پھر اکثر اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ الٹا ہونے لگا۔
اس کی کتابیں غاٸب ہونے لگیں ۔کبھی اس کے نوٹس اس کے بیگ میں سے غاٸب ہونے لگے۔
فاٸقہ اس کے ہاسٹل بھی آنے لگی اور اکثر رات گٸے واپس جاتی۔ اس کے روم میں ایک الیکٹریکل کیٹل تھی،جس میں وہ لوگ رات کو چاۓ بنا کر پیتے تھے۔اور اب زیادہ تر رات کی چاۓ فاٸقہ ہی بنانے لگی۔
زینیہ چاۓ پینے کے بعد جلدی ہی سو جاتی اور اکٹر اوقات اس کی آنکھ دن کےایک دو بجے کھلتی۔وہ بہت پریشان رہنے لگی ۔یونیورسٹی میں کم ایٹینڈنس کی وجہ سے اسے وازننگ لیٹر بھی ایشو کیا گیا۔ اور پھر اسے فاٸقہ پر کچھ شک سا گزرا ایک رات جب اس نے اس کے لٸے چاۓ بناٸی تو وہ زینیہ نے چپکے سے ڈسٹ بن میں الٹ دی اور فاٸقہ کی موجودگی میں ہی نیند کا بہانہ کر کے سو گٸی ۔پھر وہ روز یہی کام کرنے لگی اور یونی میں اسے دیکھ کر فاٸقہ کے ماتھے کے بل بڑھنے لگے۔
وہ اس وقت یونیورسٹی گراٶنڈ میں موجود تھی۔موسم صاف تھا۔دھوپ چمک رہی تھی لیکن دور کہیں آ سمان کے کناروں پر بادل سر اٹھا رہے تھے۔ان دونوں لاسٹ سمسٹر چل رہے تھے۔ فاٸقہ سے اب وہ کھیچی کھیچی سی رہنے لگی۔
اور پھر فاٸنل رزلٹ والا دن بھی آ گیا ۔ زینیہ نے یونی میں ٹاپ کیا تھا۔اور فاٸقہ کے لٸے یہ بات ناقابل برداشت تھی۔ وہ زینیہ کو سخت نظروں سے گھورتی اس کے پاس سے گزر گٸی۔ لیکن اس نے نوٹس نہیں کیا۔ وہ یونی میں مس الیگینس کے نام سے مشہور تھی۔سب لوگ اس کی بہت عزت کرتے تھے۔ بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں نے اسے مبادکباد دی۔
