Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
ناول ””خون بہا““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٥
وہ بہت ریش ڈراٸیونگ کر رہا تھا۔اس کا دماغ کھول رہا تھا۔ فاٸقہ سلطان کو روبرو دیکھ کر آج وہ پھر سے ماضی میں پہنچ گیا۔
” بابا جانی ! سچ؟“ اس کی پرجوش چہکتی آوازنے محمد علی خان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیردی۔
”ہاں بیٹا سچ میں۔میں تمہیں افسردہ نہیں دیکھ سکتا۔“
”اور امو جان ؟ انہیں کون سمجھاۓ گا؟“
انہیں سمجھانا میرا کام ہے اپیا ۔
”سچ میں؟تم انہیں منا لو گے؟“
”جی نہیں ۔“
تو پھر کیوں کہہ رہے ہو منا لوں گا۔
”کیونکہ میں انہیں منا چکا ہوں۔“
وہ خوشی سے بھاگ کر آ کر زرغام علی خان کے گلے سے جھول گٸی تھی، میرا پیارا لالہ زینیہ نے پیار سے اس کے دونوں گال چوم لٸے۔
”وہ جب بھی بہت خوش ہوتی تھی اسے لالہ کہتی تھی ۔وہ اس سے پورے چار سال بڑی تھی۔
لیکن جوانی کی دہلیز کو پہنچتا زرغام علی خان قد کاٹھ میں اس سے بڑا ہی لگتا تھا۔
زینیہ علی خان نے اپنے کالج میں گریجویشن میں ٹاپ کیاتھا۔اور اب وہ مزید پڑھنے کے لٸے اسلام آباد جانا چاہتی تھی۔لیکن زاٸرہ خاتون چاہتی تھی کہ بس وہ اب اس کی شادی کر دیں۔
اور پھر امو جان کی ناں ناں کرنے کے باوجود وہ اسلام آباد چلی گٸی۔جہاں وہ ہاسٹل میں رہ رہی تھی۔
اسے سکالر شپ پر ایڈمیشن مل گیا تھا۔
لیکن یونیورسٹی میں ایک مہینے کہ بعد ہی جب زرغام اس سے ملنے گیا تو وہ اسے بہت پریشان نظر آٸی۔
”اپیا کیا ہوا ہے؟آپ بہت پریشان لگ رہی ہیں۔“
ارے نہیں !ایساکچھ نہیں ہے ۔تم تو ویسے ہی وہم کر رہے ہو۔ ”اس نے ٹالنے کی کوشش کی۔“
لیکن زرغام جان چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھا۔
”اپیا! آپ مجھے ابھی بتاٸیں گی کہ کیا ہوا ہے؟ نہیں تو میں ابھی آپ کو اپنے ساتھ لے جاٶں گا۔“
وہ چھوٹا ہونے کے باوجود بھاٸی ہونے کا پورا پورا زعم دکھاتا تھا۔
وہ کشمکش کا شکار تھی کہ بتاۓ کہ نہیں۔
اس نے اپنے اور زرغام کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کر تے ہوۓ ، اس کے دونوں ہاتھ تھام لٸے۔
زرغام وہ فاٸقہ سلطان بھی میری ہی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔اور مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔
اس نے بہت سوچ بچار کے بعد ،بہت سی باتیں حذف کر کے ایک جملے میں اپنی پریشانی اسے بتاٸی۔
اپیا کیا چیز ہیں آپ بھی ،وہ کوٸی چڑیل ہے جو آپ کو اس سے ڈر لگتا ہے ۔آپ تو میری بہت بہادر بہن ہیں۔
اس کی بات پر زینیہ نے مسکراتے ہوۓ سر اس کے بازو کے ساتھ ٹکا دیا۔
اور زرغام علی خان کے دماغ میں بس ایک نام محفوظ ہو گیا تھا،جس سے اس کی بہن خوفزدہ تھی ،فاٸقہ سلطان۔
زینیہ کی ڈاٸری لکھتی تھی، اور جب زرغام کے ہاتھ وہ ڈاٸری لگی تھی۔تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
یونی کے پہلے دن وہ کلاس میں بیٹھی کچھ نوٹس بنا رہی تھی۔جب وہاں فاٸقہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ آ دھمکی۔
زینیہ کے ہاتھ کانپنے لگے ،لیکن اس نے خود کو مضبوط کرتے ہوۓ وہاں سے جانے کی کوشش کی ۔جب ایک لڑکا اس کے سامنے آ کر رک گیا۔
ارے سوہنیو ! کہاں چل دیے؟ ہم تو ابھی آۓ ہیں ،دیدار تو کرنے دیں۔
”اس لڑکے نے اس کے گال کو چھونے کی کوشش کی لیکن زینیہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔“
وہ لڑکا غضب ناک ہو کر اس کی طرف بڑھا لیکن اس سے پہلے ہی لڑکوں کاایک اور گروپ وہاں پہنچ آیا۔ جن کا گروپ لیڈر فوزان یحیی ایک سلجھا ہوا لڑکا تھا۔
اسے دیکھ کر فاٸقہ اور اس کے دوست نکل گٸے۔
جبکہ فاٸقہ سلطان نے جاتے جاتے مڑ کر اس کی طرف دیکھااور انگوٹھے کے اشارے سے اسے لوزر کا نشان بناتی نکل گٸی۔
وہ اپنی جگہ پر ڈھے سی گٸی۔اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر وہاں سے جا سکے۔
تبھی فوزان یحیی کی اس پر نظر پڑی۔
ایکسکیوزمی ! آر یو اوکے؟
اس کی آواز پر زینیہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا ۔جس پر وہ اس ٹٹولتی نظروں سے دیکھتا وہاں اپنے گروپ کے لڑکوں کے ساتھ چلا گیا۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی اور زرغام ماضی کو پیچھے چھوڑتا حال میں لوٹا تھا۔۔وہ اپنے فلیٹ کے باہر کھڑا تھا۔ آج سے وہ ہمیشہ کے لٸے اپنے گاٶں جا رہا تھا۔جہاں اس کی ماں اور بہنیں اس کی منتظر تھیں۔
وہ اندر داخل ہوا تو پورے فلیٹ میں نیم اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ وہ دروازہ لاک کر کے اپنے کمر ے میں آیا اور سٹڈی ٹیبل پر ڈھے سا گیا۔
اس نےہاتھ مار کر ٹیبل لیمپ آن کیا۔اور سرخ جلد والی ڈاٸری ہاتھ بڑھا کر قریب کی اور اسے کھول لیا ۔وہ اس ڈاٸری کو کہیں بار پڑھ چکا تھا۔
اور ہر روز رات کو وہ یہ ڈاٸر ی پڑھتا تھا ۔اور ایک نٸی اذیت کا شکار ہوتا تھا۔
وہ کیسا بھاٸی تھا جو اپنی بہن کی حفاظت نہ کر سکا۔
زینیہ چھٹیاں پر گھر آٸی ہوٸی تھی۔اور اپنی ڈاکٹری کا روعب امو جان پر خوب جما رہی تھی۔
”پرفیکٹ امو جان! آج تو آپ کا بی پی بالکل سیٹ ہے۔ “ زاٸرہ کا بی پی چیک کر کر زینیہ نے اسٹیتھواسکوپ سمیٹ کر اپنے بیگ یں رکھا اور مسکرا کر ماں کو دیکھا جو خاصی فریش لگ رہی تھی۔
ایک ساٸیڈ پہ بیٹھے زرغام نے بہن کو دیکھا جو ماں کی ایک ایک ٹیبلٹ کو اٹھا اٹھا کر دیکھ رہی تھی،اور انہیں بتا رہی تھی کہ کون سی دوا کون سی بیماری کے لٸے ہے۔
وہ جانتا تھا اس کی اولین خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے گی لیکن گھر میں سب کو مناتے مناتے ہی اس کے کٸی سال ضاٸع ہو گٸے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونی مں فرسٹ سمسٹر میں اس کی سیکنڈ پوزیشن آ ٸی تھی۔
اور وہ بہت سے پروفیسرز کی نظروں میں آ گٸی تھی۔
وہ اس دن بہت خوش تھی۔ اس نے کال کر کے زرغام کو اپنی کامیابی کے بارے میں بتایا تو وہ بھی بہت خوش ہوا اور پھر باری باری سب سے بات کرنے کے بعد وہ سرشار سی کینٹین چلی آٸی۔
جہاں فاٸقہ اور اس کے چند دوست بیٹھے تھے۔ فاٸقہ دردانہ بیگم کے پاس مقیم تھی۔
تبھی وہاں فوزان یحیی نے زینیہ کو پرپوز کیا تھا۔اس کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ زینیہ علی خان جہاں سے تعلق رکھتی ہے وہاں ایسی باتو ں کی گنجاٸش نہیں نکلتی تھی۔ وہ زنییہ کے سامنے بیٹھا اس کے جواب کا منتظر تھا ،جبکہ وہ اس کی اس حرکت پر تھر تھر کانپ رہی تھی۔
زینیہ نے اپنے ارد گرد ایک نظر ڈالی اور نفی میں سر ہلا کر وہاں سے چل دی۔جبکہ ایک ٹیبل پر بیٹھی فاٸقہ سلطان اس منظر کو اپنے موباٸل میں قید کر چکی تھی۔
زینیہ کو کافی دنوں سے محسوس ہو رہا تھا ۔جیسے کوٸی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ اسکی یونی میں کسی کے ساتھ دوستی تو تھی نہیں کہ جیسے وہ بتاتی۔وہ بس ڈری سہمی سی ادھر ادھر دیکھتی رہتی۔
ایک دن اس نے فاٸقہ کو کچھ لڑکوں کے ساتھ دیکھا جنہیں وہ کچھ پیسے دے رہی تھی۔
وہ کچھ رازداری برت رہی تھی۔ زینیہ کو دیکھ کر وہ مسکرا کراس کے پاس چلی آٸی اور پھر دیکھتے دیکھتے ان دونوں میں آچھی خاصی دوستی ہو گٸی۔
ا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پودا ہوتا ہے آک۔۔۔۔۔۔۔جس کے پتے نرم وملاٸم ہوتے ہیں ۔اور اس کی ٹہنیاں نازک سی ہوتی ہیں جو ہلکے سے جھٹکے سے ٹوٹ جاتی ہیں۔اس پودے پر بظاہر کوٸی کانٹے نہیں ہوتے۔اور اس کی شاخوں پر ننھے ننھے سفید پھول کھلتے ہیں ، جو اندر سے گہرا نیلا رنگ لٸے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس پودے کے سز پتوں کی رگوں میں دوڑتا سفید دودھ اس قدر زہریلا ہوتا ہے کہ جو کسی کی آنکھوں میں گرے تو وہ اندھا کر دے۔انسان تو خیر نہیں،لیکن جانور بھی اسے کھانا پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔
کچھ انسان بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔بظاہر آک کے پتوں کی طرح نرم وملاٸم اور اپنے اندرنفرت کا ایک جہاں پالے رکھتے ہیں۔
کسی بھی زہریلے کیڑ ے کے کاٹے کا علاج ہے ،لیکن ایسے انسانوں کے ڈسے کا کوٸی علاج نہیں۔ بس زینیہ کا بھی پالا ایسے ہی آک کے پودا صفت انسان سے پڑا تھا ،جسے دنیا فاٸقہ سلطا ن کے نام سے جانتی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
