Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ناول ””خون بہا ““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٨
سلطان خان ہاتھوں میں موباٸل تھامے گم صم کھڑے تھے۔اگر وہ گاٶں میں ہے تو زینب کس کے ساتھ گٸی ہے۔
انہوں نےاپنی بیوی کو مشکوک نظروں سے دیکھا،جو خود بھی زرغام علی خان کی گاٶں میں موجودگی کے بارے میں سن کر کافی پریشان لگ رہیں تھی۔
سلطان خان نے ان کی حالت دیکھتے ہوۓ سر جھٹکا ،اور سفیر کی طرف رخ کیا۔
سفیر اپنے کنٹیکٹ یوز کرو اور سارے ہاسٹلز چھان مارو اس کی یونیورسٹی کی دوستوں سے اس کے بارے میں انفارمیشن لو۔
سفیر کو ہدایات دے کر وہ اپنے موباٸل میں کوٸی نمبر پریس کرنے لگے۔
نزاکت تمہاری بہن زرغام کی حویلی میں کام کرتی ہے نہ اس سے پتہ کرواٶ کیا زینب زرغام کی حویلی میں موجود ہے۔
جی سردار میں جلد سے جلد پتہ کروا کے آپ کو بتاتا ہوں۔
دردانہ بیگم نے گلا کھنکھار کر سلطان خا ن کو متوجہ کیا۔
سلطان خان مٶدب سے بہن کے سامنے بیٹھ گٸے۔
سلطان خان تو نے زرغام علی خان کو بہت ہلکا لیا ہے۔وہ اپنے باپ کی طرح سیدھا سادہ نہیں ہے۔بہت شاطر دماغ ہے اس کا لڑکی کو لے کر وہیں گیاہے۔اور مجھ سے لکھوا لے وہ دستار بندی کے بعد جرگہ بلاۓ گا۔
اور دردانہ کی بات پر وہ کسی گہری سوچ میں گم ہو گٸے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفوان آٹھ بجے کے قریب ہاسپٹل پہنچا کھانے پینے کے کچھ لوازمات لٸے وہ دروازے پر دستک دیتا ہوا اندر داخل ہوا۔
ساری رات کے جگ رتے کے بعد زینب بےغم سو رہی تھی۔کھٹکے کی آواز پر وہ کچی نیند سے بیدار ہوٸی اور چادر سے اپنے چہرہ چھپاتے ہوۓ اٹھ کہ بیٹھ گٸی۔
صفوان نے اندر داخل ہو کر ہاتھ میں موجودبیگ ایک ساٸیڈ پہ پڑے ٹیبل پر رکھے ،اور نظریں جھکاۓ ایک ساٸیڈ پہ رکھے بینچ پر بیٹھ گیا۔
زرغام نے آپ کے بارے میں بتایا تھا۔یہ آپ کے کھانے پینے کا کچھ سامان ہے۔ہاسپٹل کی انتظامیہ کو بھی میں نے بتا دیا ہے کہ آپ یہاں تیماردار کی حثیت سے رہیں گی۔آپ یہاں بالکل محفوظ ہیں۔
اسکی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اور صفوان اٹھ کر باہر کی طرف چل دیا۔
بات سنیں!
اس ک پکار پر وہ بغیر مڑے رک گیا۔
مجھے آپ کا موباٸل چاٸیے ہے۔مجھے کسی کو اپنی خیریت کی اطلاع کرنی ہے۔
معاف کیجٸیے گا مجھے زرغام نے آپ کو موباٸل دینے سے منع کیا ہے۔
اس کی بات پر وہ تلملا کر رہ گٸی۔اور بند دروازے کو دیکھنے لگی ،جہاں سے وہ باہر گیا تھا۔
اس کا ایک دل کیا وہ یہاں سے بھاگ جاۓ۔لیکن وہ جانتی تھی اگر یہاں سے وہ بھاگ گٸی تو اس کا باپ اسے آسانی سے ڈھونڈ لے گا۔کیونکہ اس کے پاس یہاں سے مضبوط اور کوٸی ٹھکانہ نہیں ہے۔
اور اگر اس بار اس کا باپ اس تک پہنچ گیا تو اس کے عتاب سےاسے کوٸی بھی نہیں بچا سکے گا۔
کیونکہ سلطان خان کے دل پہ اس کے بیٹے کے موت کی آگ جل رہی تھی۔اور اس آگ میں جل کر نہ جانے ابھی اور کس کس نے بھسم ہونا تھا۔
وہ چپ چاپ اپنی جگہ سے اٹھی اور واش روم میں منہ ہاتھ دھو کر پیکٹ میں سے کھانا نکال کر کھانے لگی۔
کھان کھا کر وہ وضو کی نیت سے واش روم میں گھس گٸی ۔باہر نکلی تو پہلی بار اس کی نظر اس کمرے میں موجود دوسری خاموش شخصیت پر پڑی ۔جو سوتے ہوۓ بھی اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ وہ کتنے پل اس کے چہرے پر نظریں ٹکاۓ دیکھتی رہی۔
بڑی بڑی غلافی آنکھیں ،سنہری بالوں کی چٹیا ،بے انتہا گوری رنگت ،گلابی پنکھڑیوں سے لب وہ اس کے حسن سے حد درجہ متاثر نظر آ رہی تھی۔
اسے اس لڑکی میں زرغام علی خان کی مشابہت نظر آٸی۔
اس کے چہرے سے ہوتی ہوٸی اس کی نظر اس کے ہاتھوں پر ٹک ٹک گٸی ۔سفید ہاتھوں میں ہلکا گلابی پن تھا ۔باٸیں ہاتھ کی مخروطی انگلی میں ڈاٸمنڈ کی بیش قیمت رنگ پڑی تھی۔جو اس کے ہاتھوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلطان خان فون کال سننے کے بعد یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا۔
دردانہ بیگم نے چشمے کے پیچھے سے سلطان خان کو دیکھا۔
کیا ہوا ہے سلطان؟
وہ چلتے چلتے ایک جگہ پہ کھڑے ہوگٸے۔
زرغام علی خان نے کل جرگہ بلایا ہے۔سردار اعلیٰ سلمان پاشا نے مجھے بھی بلایا ہے۔
ہممم !تم جاٶ سلطان وہ یقینًا زینب کو جرگے کے سامنے پیش کرے گا۔
اور ان کی بات پر وہ گہری سوچ میں ڈوب گٸے۔
دردانہ اپنی بیٹی کا خون تو ہمارے علاقے میں معاف ہے نہ۔جو بیٹیاں باپ کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت کر لیں انہیں جینے کا کوٸی حق نہیں ہے۔
سلطان خان پہلی بار تو نے مرد ہونے کا حق ادا کیا ہے۔اس کو وہیں جہنم واصل کر دینا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرگے میں سب لوگ موجود تھے۔ سلطان خان کی نگاہیں زینب کو ڈھونڈ رہیں تھی۔لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔
سلمان پاشا نے ہی بات کا آغاز کیا۔
سلطان خان تمہاری بیٹی کہاں ہے، زرغام علی خان چاہتا ہے کہ تم زینب کو اس کے حوالے کر دو ۔
اور سلمان پاشا کی بات پر سلطان خان ہک دہک رہ گٸے ۔وہ تو کیا سوچ کر آۓ تھے۔جبکہ زرغام خان نے تو ان کے ساتھ ہی گیم کھیلی تھی۔
جی مجھے کچھ وقت چاٸیے ،میں ایک ہفتے تک اسے لے آٶں گا۔
سلطان خان کی بات پر ٹانگ پر ٹانگ جماۓ زرغام علی خان نے استہزایہ ہنسی ہنسا۔
اس کی ہنسی سلطان خان کو طیش دلا گٸی۔
اور اس نے تیزی سے اپنا پسٹل نکال کر زرغام علی خان پر تان لیا۔جبکہ وہ اطمینان سے اٹھ کر سینہ تان کر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
زرغام کے آدمیوں نے سلطان خان اور اس کے آدمیوں کے سروں پر پہلے ہی نشانہ باندھ لیا تھا۔
زرغام اپنی چادر کو ایک جھٹکا دے کر درست کرتا ہوا اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔جبکہ سلطان خان نے زہر خندہ نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور اپنا پسٹل نیچے کر لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
زرغام تم اس لڑکی کو حویلی لے آٶ۔
لے آٶں گا امو جان !بس ایک ہفتہ جو سلطان نے مانگا ہے وہ پورا ہونے دیں۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کیا عذر بیان کرے گا ۔اپنی بیٹی کی غیر موجودگی کا۔
زرغام چھوڑ دو،بس کر دو اور اپنا گھر بسا لو۔
اس نے ایک گہری سانس بھری ۔ امو جان میری جان سے پیاری بہن ہاسپٹل میں زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔
ابھی تو میں خاموش ہوں ،طوفان تو اس دن اٹھے گا جس دن ہوش کی دنیا میں لوٹے گی۔
اور زاٸرہ خاتون نے اپنے جوان جہان بیٹے کو دیکھا جو اپنے دادا کی طرح دشمنیاں بھی ایسے نبھا رہا تھا ۔جیسے وہ اس کا قیمتی رشتہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
