Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول ” خون بہا “

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٧

وہ آج کافی دنوں کے بعد ہاسپٹل آیا تھا۔ اور روم کا دروازہ کھول کر وہ ٹھٹھک کر رک گیا۔

زینیہ کے بیڈ کے پاس سر جھکاۓ بیٹھے شخص کو دیکھ کر وہ تیزی سے اندر آیا۔

اپنےقریب آہٹ محسوس کر کے صفوان نےسر اٹھایا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔

اسلام علیکم کے ساتھ اس نے اپنا ہاتھ مصحافہ کے لٸے بڑھایا ۔

جسے زرغام نظر انداز کرتا ہوا زینیہ کی طرف بڑھا اور جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔

صفوان ایک ساٸیڈ پہ رکھے بینچ پر بیٹھ گیا۔

زرغام نے زینیہ کا ہاتھ تھام کر چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔

اپیا میں نے جاب چھوڑ دی ہے۔میں واپس گاٶں جا رہا ہوں ۔بابا کی جگہ اب مجھے سنبھالنی ہے۔

آپ چلیں گی نہ میرے ساتھ؟
جانتی ہیں ڈاکٹرز نے اجازات دے دی ہے۔میں آپ کو گھر لے جا سکتا ہوں۔

اس کی بات سن کر صفوان کے دل میں درد کی ایک ٹیس ای اٹھی تھی۔

اس کے ہاتھ کا بوسہ لے کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور مڑ کر صفوان کی طرف دیکھا اور اسے اشارے سے باہر چلنے کے لٸے کہا۔

باہر آ کر کاریڈو میں موجود ایک بینچ پر دونوں برابر بیٹھ گٸے۔

میرا نام صفوان یحیی ہے۔

جانتا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے بولیں آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟

میں آسٹریلیا سے کل ہی لوٹا ہوں ۔کچھ نجی مساٸل کی وجہ سے میں دو سال لیٹ پاکستان آ رہا ہوں۔

مجھے آج ہی اپنے ایک دوست کے توسط سے زینیہ کی کنڈیشن کے بارےمیں پتہ چلا ہے۔

میرا پاکستان میں کنٹیکٹ نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔
اگر مجھے پہلے پتہ چلتا تو میں بہت پہلے ہی لوٹ آتا۔

اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اس کی ڈگری کے ٹھیک ایک سال بعد تم سے رابطہ کروں۔

لیکن میرے والد کی آسٹریلیا میں ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہو گٸے تھے۔ اور ان کی کولہوں کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے ۔وہ اب وہیل چٸیر پر ہیں۔

بس اسی وجہ سے میں لیٹ ہو گیا۔لیکن میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔

اب بھی ۔۔۔۔۔۔

جی اب بھی۔۔۔۔۔

یہ جانتے ہوۓ بھی کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔

زرغام کی اس بات پر اس نے آنکھیں میچ لیں۔

جی ہاں ۔۔۔۔۔۔ تب بھی۔۔۔

زرغام نے مسکرا کر آنکھ میں آیا واحد آنسو انگوٹھے سے صاف کیا اور صفوان کی جانب مصحافہ کے لٸے ہاتھ بڑھایا ،جسے اس نے خوشدلی سے تھام لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں نیم اندھیرا کیے پڑی تھی۔ بےآواز آنسو بہاتے وہ سوچ میں گم تھی کہ وہ اب کیا کرے گی۔ اگر یہاں رہتی تو ایک گناہ کی مرتکب ہوتی اور اگر زرغام علی خان کو مددکے لٸے پکارتی ہے تو تب بھی وہ جانتی ہے کہ زندگی کانٹوں پربسر کرنے جیسا ہے۔عجیب دوراۓ پر آ کر کھڑی ہو گٸی تھی۔ جس کے آگے کنواں تو پیچھے کھاٸی تھی۔

لیکن اسے کسی ایک میں گرنا ہی تھا۔
لیکن وہ اللہ کی گنہگار نہیں ہو سکتی تھی۔

تبھی کوٸی دبے پاٶں کمرے میں داخل ہوا تھا۔ جوں ہی کمرے میں روشنی ہوٸی ،زینب کو ماں کی پکار سناٸی دی۔ان کی آواز بہت مدھم تھی۔

زینیہ نے جھٹ سے منہ سے کمبل ہٹایا اور بھاگ کر ماں کے گلے لگ کر رونے لگی۔

کافی دیر آنسو بہانے کے بعد وہ ماں سے الگ ہوٸی۔

آپ کب آٸیں ہیں؟”اس کی آواز سرگوشی لٸے ہوۓ تھی۔“

دوپہر میں ہی پہنچی ہوں۔تمہارے باپ نے بلایا ہے کہ تمہیں سفیر سے نکاح کے لٸے راضی کروں۔

ان کی بات پر اس نے ان کے ہاتھ جھٹک دٸے۔

”آپ بھی ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو گٸی ہیں؟“

انہوں نے نفی میں سر ہلایا اور آگے بڑھ کر اس کی مٹھی میں ایک چھوٹا سا موباٸل دیا۔ صبح سے پہلے اگر وہ تمہیں آ کر یہاں سے لے کر جا سکتا ہے تو چلی جاٶ۔

ورنہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی تمہاری قسمت کا فیصلہ تمہارے باپ کے ہاتھ میں ہو گا۔اس کے گال پر بوسہ دے کر وہ بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گہری نیند میں سویا ہوا تھا۔جب اس کا موباٸل بجنے لگا۔اس نے انجان نمبر دیکھ کر کا ل کاٹ دی اور پھر وقفے وقفے سے کوٸی چار بار کال آٸی۔پانچویں بار زرغام نے کال ریسیو کر لی۔

دوسری طرف سے جو آواز اس کی سماعت سے ٹکراٸی ،اس کی آنکھیں پٹ سے کھل گٸیں۔

وہ بہت مدہم آ واز میں بول رہی تھی۔

دیکھٸے کیا آپ مجھے ابھی آ کر یہاں سے لے کر جا سکتے ہیں؟

کہاں ہو تم؟

دردانہ پھپھو کے گھر۔۔۔۔۔

اوکے!میں آ رہا ہوں۔۔۔

بلیک پینٹ پر بلیک شرٹ زیب تن کیے کوٹ بازٶں میں ڈالتا وہ بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عجیب شخص ہے ایک بار بھی یہ نہیں پوچھا کہ مسٸلہ کا ہے۔کیوں آدی رات کو بھلا رہی ہو۔

اسے کال کیے تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے۔صبح ہونے میں بس ایک گھنٹہ باقی رہ گیا تھا۔
اس نے ایک بیگ میں اپنا مختصر سا سامان رکھ کر جانے کے لٸے تیار کھڑی تھی۔

وہ بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے خدشے بڑھتے جا رہے تھے۔

تبھی اس کا موباٸل واٸبریٹ ہوا ۔زرغام کا نمبر دیکھ کر اس نے جھٹ سے کال ریسیو کی۔

اپنے کمرے کی لاٸٹ دوبار آن کر کہ آف کرو۔
اس نے اس کی بات پر عمل کیا، اور فون دوبارہ کان سے لگایا تو وہ کال کٹ چکی تھی۔

لگتا ہے مجھے یہ شخص بے وقوف بنا رہا ہے۔

اگلے لمحے اس کے کمرے کی کھڑکی پر دستک ہوٸی تھی۔اور ساتھ ہی ایک بار پھر سے موباٸل پر کال آنے لگی۔اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کھول دی۔

زرغام جلدی سے اندر داخل ہوا اور سب سے پہلے لاٸٹ آ ف کی۔

بلیک کلر کے قمیض شلوار پہ بلیک بڑی سی چادر رکھے وہ رات کا ہی حصہ لگ رہی تھی۔

اس کے ہاتھ میں موجو د مختصر سے سامان پر نظر ڈال کر اس نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔

چلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

زینب نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے پیچھے کھڑکی کی طرف مڑ گٸی۔کھڑکی کے ساتھ ہی چھوٹی سی منڈیر تھی جس سے زرغام تو تیزی سے گزر گیا ،لیکن وہ اپنی جگہ پر کھڑی خوفزدہ نظروں سے دیکھتی رہ گٸی۔

زرغام علی خان نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور پھر اگلے پانچ منٹ میں وہ ساتھ والے گھر کے صحن میں تھے۔

صحن کی دیوار پھلانگ کر وہ مختلیف گلیوں سے ہوتے ہوۓ ایک مین روڈ پر پہنچے، جہاں زرغام خان کی گاڑی کھڑی تھی۔

وہ ریش ڈراٸیونگ کرتا ہوا ہاسپٹل پہنچا زینب کو زینیہ کے کمرے میں چھوڑ کر اسے کچھ ضروری ہدایات دے کر وہ وہاں سے گاٶں کی طرف نکل آیا۔

راستے میں اس نے صفوان کو ساری صورتحال بتاٸی اور اسے صبح ہاسپٹل جا کر زینب کی خبر گیری رکھنے کے لٸے کہا۔

اس نے اپنی گاڑی ایک دوست کے گھر چھوڑی اور دوست کی گاڑی لے کر ٹھیک آٹھ بجے وہ اپنے گاٶں میں تھا۔جہاں صبح صبح اعلان کیا گیا تھا کہ آج زرغام علی خان کی دستاربندی کی جاۓ گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح دس بجے کے قریب فاٸقہ زینب کے کمرے میں آٸی اور کافی دیر دروازے پر دستک دینے کے بعد جب کوٸی جواب موصول نہ ہوا تو وہ سلطان خان سفیر اور باقی سبکو بلا لاٸی۔

جب ایکسٹرا کی کے ساتھ دروازہ کھولا گیا تو اندر زینب کی غیر موجودگی پر سب کو سانپ سونگھ گیا۔

سب سے پہلے ہوش فاٸقہ کو ہی آیا۔
بابا جان وہ زرغام علی خان اسے لے گیا ہے۔

اس کی بات پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹے ۔

وہ میرے ہاتھوں سے نہیں بچے گا۔سلطان خان نے جلدی سے جیب سے موباٸل نکالا اور نزاکت کو کال ملاٸی۔

نزاکت اپنے بندوں کو لے کر اسلام آباد پہنچ آٶ۔

صاحب خیر تو ہے؟

آج زرغام علی خان کی زندگی کا آخری دن ہو گا ، نزاکت جلدی سے شہر پہنچو۔۔

صاحب اگر زرغام خا ن کو مارنا ہے تو شہر آنے کی کیا ضرورت ہے۔
وہ تو ابھی گاٶں میں ہے،اس کی آج دستار بندی ہو رہی ہے۔۔

۔
کیا؟ اس کی بات پر ان کامنہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن بہت مصروفیت میں گزرا لیکن پھر بھی آپ ریڈرز کے انتظار کو مدنظر رکھتے ہوۓ بہت مشکل سے یہ چھوٹی سی ایپیسوڈ آپ لوگوں کے لٸے۔پلیز ہم راٸٹرز کے مساٸل کو مجھیں اور غلط کمنٹ کرنے سے پرہیز کریں۔

آپ سب کی محبتوں کی شکر گزار ۔۔۔زرش نور