Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ناول ”” خون بہا ““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١٢

وہ بہت ریش ڈراٸیونگ کر رہا تھا۔صفوان نے اسے بس ہاسپٹل پہنچنے کے لٸے کہا تھا۔اور زرغام کی جان پر بن آٸی تھی۔

ہاسپٹل کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرکے وہ پاگلوں کی طرح اندر کی طرف بھاگا۔

زینیہ کے روم کے باہر پہنچ کر ڈور کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ،اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔

وہ اندر داخل ہوا تو اس کے بیڈ کے پاس بہت سے ڈاکٹرز کھڑے تھے۔ وہ اسے نظر نہیں آ رہی تھی۔

ایک طرف کھڑے صفوان کی نظر جب زرغام پر پڑی وہ بھاگ کر اس کے گلے لگ گیا۔

زرغام اسےہوش آ گیا ہے ،اس نے کوما کو شکست دے دی ہے۔

صفوان کی آواز اسے بہت دور سے آتی سناٸی دی۔وہ اس سے الگ ہوتا ہوا کسی ٹرانس کی کیفیت میں آگے بڑھا اور ڈاکٹرز کوایک طرف کرتا ہوا اس کے سامنے جاکھڑاہوا۔
زینیہ کی نظر جب اس پر پڑی وہ نقاہت سے مسکراٸی۔

زرغام نے جھک کر اس کی پیشانی چومی تو وہ بےآواز رونے لگی۔
اس نے اس کے آنسو اپنےپوروں پر چن لٸے اور اسے چپ رہنے کے لٸے نفی میں سر ہلایا۔

ڈاکٹرز اسے مبارک دیتے ہوۓ وہاں سے جانےلگے۔
وہ زینیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
صفوان بکھرا سا خوشی سے سرشار ایک ساٸیڈ پہ کھڑا تھا۔

جبکہ زرغام ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھا۔وہ یہ تسلیم کرنے میں متامل تھا کہ وہ واقعی میں لوٹ آٸی ہے۔
ایک نرس آ کر اسے مختلیف مشینوں سے آزاد کرنے لگی۔

بہترین علاج سےوہ جسمانی طور پر بلکل صحت مند تھی۔

دونوں بہن بھاٸی بس خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

زرغام کے پاس پوچھنےکے لٸے بہت سے سوال تھے لیکن وہ ابھی کوٸی بھی جواب دینٕے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

زرغام ڈاکٹرز سے اسے گھر لے جانے کی پرمیشن لینے کے لٸے روم سے نکل گیا۔

اس کے جانے کے بعد صفوان چلتا ہوا اس کے قریب آیا ،اور بینچ پر بیٹھ گیا۔

زینیہ نے الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔جیسے اسے پہچانے کی کوشش کر رہی ہو۔ لیکن بہت کوشش کے بعد بھی اسے وہ یاد نہیں آ رہا تھا۔

صفوان کو ڈاکٹرز نے پہلے ہی بتا دیا کہ کچھ لوگ اس کنڈیشن سے باہر آنے کے بعد اپنی یاداشت کاایک حصہ بھول جاتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ انہیں یاد آ جاتا ہے۔

”آپ کون ؟ وہ ڈری سہمی سی آواز میں بولی۔“

میں زرغام کا دوست ہوں۔
اس کے جوا ب پر وہ دروازے کی طرف دیکھنے لگی ۔جہاں سے زرغام گیا تھا۔

صفوان سمجھ گیا کہ اسے اس کااتنا قریب بیٹھنا آچھا نہیں لگ رہا۔

وہ ایک آہ بھر کر اس سے دور ہٹ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم بہت خوشگوار ہو رہا تھا۔زرغام نے وہیل چٸیر سے اسے بازٶں میں اٹھا کر احتیاط سے گاڑی میں بیٹھایا۔
اور صفوان سے گلے ملا۔” جب وہ ٹھیک ہو جاۓ گی تو میں تم آ جانا صفوان لیکن ابھی اسے کچھ وقت لگے گا۔

زرغام میں اس کی زمہ داری اٹھانےکے لٸے تیار ہوں۔

نہیں میں تمہیں کسی آزماٸش میں نہیں ڈالنا چاہتا۔فی الحال وہ میری زمہ داری ہے۔
وہ اس کا کندھا دباتا ہوا ڈراٸیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
صفوان نے اپنے موباٸل میں چپکے سے اس کی ایک تصویر لی ۔

اور تب تک وہاں کھڑا رہا جب تک اس کی گاڑی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی گاڑی کے مخصوص ہارن پر زینب کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ وہ سر جھکاۓ کمرے میں بیٹھی رہی۔

تھوڑی دیر کے بعد اسے باہر سے زاٸرہ بیگم کی رونے کی آواز آٸی ۔تو وہ تجسس کی وجہ سے باہر نکل آٸی ۔

اور سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹھک گٸی ۔جہاں زاٸرہ خاتون زینیہ کو سینے میں بھینچ کر زاروقطار رو رہیں تھیں۔
وہ اسے دیکھنے کے لٸے تھوڑا اور آگے بڑھ آٸی اور زاٸرہ خاتون کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گٸی۔

کاہی کلر کے قمیض شلوار میں ہم۔رنگ دوپٹہ رکھے، وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔
زرغام علی خان کی نظر جو اٹھی تو پلٹنا بھول گٸی۔وہ آج پورے ایک ماہ کے بعد اسے دیکھ رہا تھا۔

زاٸرہ خاتون اس سے الگ ہوٸیں تو زینیہ کی نظر زینب پر پڑی تو اس نے مسکرا کر زرغام کی طرف دیکھا زرغام نے زینب پر سے نظر ہٹا کر مسکرا کر اسے دیکھا۔
”یہ بھابھی ہے ہماری؟“

زرغام نے اس کے چہرے پر ایک الگ چمک دیکھی اور اثبات میں سر ہلایا۔

زینیہ نے اس کے لٸے اپنی بانہیں پھیلاٸی تو وہ تھوڑا جھجھک کے بعد اس کے گلے لگ گٸی۔
زینیہ کے ساتھ شہر سے ایک کل وقتی نرس بھی آٸی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح بہت خوشگوار تھی۔

زینیہ کو رات بھر نیند نہیں آٸی تھی اور زرغام بھی اس کے ساتھ جاگتا رہا تھا۔اسے ڈر لگ رہا تھا کہ یہ نہ ہو کہ ایک بار پھر سے وہ سوۓ اور واپس نہ اٹھے۔۔

رات گٸے زینیہ نے اسے زبردستی کمرے میں بھیجا ۔ اور کہیں دنوں کی بےآرامی کی وجہ سے اس کی آنکھ دس بجے کے قریب کھلی ۔وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو زینیہ پہلے ہی ہال میں موجود تخت پوش پر براجمان تھی۔

زرغام اسے مسکرا کر دیکھتا ہوا سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا ۔جب اس نے زینیہ کی رنگت متغیر ہوتے دیکھا۔

وہ آخری سیڑھی پر پہنچا تو دوسری طرف سے آتی زینب سے ٹکراتے ٹکراتے بچا اور ساتھ ہی وہ زینب کی پریشانی بھی بھانپ گیا۔

گڈ مارننگ !
گڈ مارننگ ! ”تم اوپر والے پورشن سے آ رہے ہو اور زینب نیچے سے آ رہی ہے۔“ یہ کیا ہے؟

ہاں وہ رات کو اس کی طبعیت خراب تھی تو یہ نیچے ہی سو گٸی تھی۔

”اس نے بہانہ بنایا۔“ زینیہ نے زینب کی طرف دیکھا تو اس نے بھی زرغام کی تاٸید میں سر ہلایا۔

تو تم بھی نیچے ہی سو جاتے۔

اوکے مادام ! جیسا آپ کہیں ،غلطی ہو گٸی ہے ہم سے۔

زینب جاٶ نہ شہزادے کے لٸے کافی لے کر آٶ۔

تم اس کے لٸے کافی بناتی ہو نہ؟۔۔
جی ! زینب نے تھوک نگلا۔

جانتی ہو یہ کہتا تھا کہ جو اس کی بیوی ہو گی نہ وہ اسے بس اپنے آگے پیچھے ہی بھگاۓ رکھے گا۔

ہم۔اس سے کہتے تھے کہ وہ ہماری بھی بھابھی ہو گی ۔اور ہم اس کے خوب کان بھریں گے تاکہ تم دونوں کی روز لڑاٸی اور ہم اس لڑاٸی میں اپنی بھابھی کا ساتھ دیں گے۔
زینب مسکرا کر اسے دیکھنےلگی۔وہ بہت باتونی تھی ، اور شرارتی بھی۔۔۔

زینب کے لٸے آج کا دن بہت مشکل تھا کیونکہ زرغام علی خان سارا دن گھر میں موجود رہاتھا۔

اور زینب اسی نظروں سے خاٸف رہتی تھی۔ساتھ میں زینیہ کی باتیں وہ شرمندہ شرمندہ سی پھرتی رہی۔

نہ جانے زرغام نے باپ کے بار ے میں زینیہ کو کیا بتایا تھا جو اس نے ایک بار بھی ان کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔
رات کو جب زرغام نے سونے کے لٸے اپنے کمرے میں گیا تو زینیہ۔اور زاٸرہ بیگم د ونوں ابھی حال میں بیٹھیں تھیں۔

زرغام کے جانے کے بعد زینیہ نے زبردستی اسے اوپر روم میں بھیج دیا۔اس نے بہت بہانے بناۓ لیکن کوٸی بھی اس کے کام نہ آیا۔

وہ سست قدموں سے چلتی ہوٸی اوپر آٸی اور دروازے کے باہر کھڑے ہو کر دو تین بار دستک دی۔لیکن اندر سے کوٸی آواز نہ پا کر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل۔ہو گٸی۔
کمرہ بالکل خالی تھا۔ یہ ایک بہت بڑا کمرا تھا۔کمرے کے بیچوں بیچاایک نفیس سا بیڈ رکھا تھا۔ایک ساٸیڈ پہ صوفے لگے تھے۔وہاں پہ ہی ایک ساٸیڈ پہ سٹڈی ٹیبل بھی رکھا تھا۔کمرے کے دو اطرف میں کھڑکیاں تھیں،جن پر بھاری پردے پڑے تھے۔وہ عین درمیان میں کھڑی کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی۔جب واش روم کا دروازہ کھلا اور زرغام علی خان باہر نکلا۔
زینب نے اسے دیکھ کر تھوک نگلا جو آنکھوں میں ایک جہاں لٸے اس کی طر ف بڑھا تھا۔

وہ اپیا نے زبردستی بھیجا ہے، اس کی زبان زرغام علی خان کےتیور دیکھ کر لڑکھڑاٸی۔

وہ تھوڑی دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
زینب کی پلکیں بھاری ہونے لگی ،اس کے لٸے سر اٹھانا مشکل ہو گیا۔اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ تھوڑی دیر اور ایسے ہی کھڑی رہی تو وہ بے ہوش ہو جاۓ گی۔

اور اگلے پل وہ اس کی بانہوں میں جھول گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔