Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
ناول ””خون بہا ““
از قلم زرش نور
سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
وہ سٹاپ پر بس کا ویٹ کر رہی تھی۔وہ ایک انٹرنیشنل فرم میں ایک ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ جب کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد بھی اسے گاڑی نہیں ملی تو وہ پیدل ہی چل پڑی ۔کے ایف سی کے پاس سے گزرتے ہوۓ اسے شدید بھوک کا احساس ہوااور وہ کچھ سوچتے ہوۓ اندر بڑھ گٸی۔
اپنا آرڈر لے کر وہ چٸیر سنبھال رہی تھی ،جب اسے جانی پہچانی آواز سناٸی دی۔اس آوا ز کو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔اس نےرخ موڑ کر دیکھا تو وہ وہی تھا۔اسکے لب خفیف سے وا ہوۓ اور پھر آپس میں پیوست ہو گٸے۔آنکھوں میں نمی آ ٹھہری۔بیگ کے اسٹریپ پر اس کی گرفت مضبوط ہوٸی۔
وہ زرغام علی خان تھا۔۔۔۔۔بلاشبہ وہ اسے پورے چھے سال کے بعد دیکھ رہی تھی۔۔
اس نے جلدی سے رخ موڑ لیا مبادا وہ اسے دیکھ نہ لے۔کسی بات پر وہ ہنسا تھا۔اس کے ساتھ زینیہ ،صفوان اور ایک چار یا پانچ سال کا بچہ بھی تھا۔
اس کا جی چاہا وہ پلٹ کر اسے ہنستے ہوۓ دیکھے ،کیونکہ وہ ہنستے ہوۓ بہت خوبصورت لگا کرتا تھا۔لیکن اس نے خود کو ڈانٹا ،اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔وہ بیگ سنبھالتی ہوٸی باہر نکل آٸی ۔ فضا میں ایک دم سے جیسے گھٹن سی بھر گٸی تھی۔دل یک دم ہی دکھ سے بھر گیا تھا۔بھولے بسرے دکھ شو ر مچانے لگے۔ وہ مرے ہوۓ قدموں سے چلتی ہوٸی ہاسٹل میں داخل ہوٸی اور اپنے روم میں آ کر ٹیبل پر سر رکھا اور آنسٶں کو بہنے دیا۔وہ بے آواز روتی رہی اور یہاں تک کہ اس کی آنکھیں خشک ہو گٸیں۔
محبت کے لٸے بہایا گیا آنسو جہاں بھی گرے ،زمین کو بنجر کر دیتا ہے اور ان گزرے چھے سالوں میں اس نے دو ہی کام شدت سے کیے تھے۔ایک زرغام علی خان سے عشق اور دوسرا اس کو بھول جانے کا عہد ،لیکن آج جب چھے سال کے بعد زرغام علی خان کو سرراہ نظر آ گیا تو اسے لگا وہ اپنا عہد نہیں نبھا سکے گی۔
وہ تو آج بھی وہیں مقیم تھا،اول روز کی طرح اسکے دل کا حکمران ،اسے دیکھ کر اسے لگا کہ وہ تو کبھی اسے چھوڑ کے آٸی ہی نہیں تھی۔
”نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اب اسے یاد نہیں رکھنا ہے۔“ اس نے بےدردی سے اپنے آنسو صاف کیے۔
میں صرف تجھکو سنوں جان کہ تیرا لہجہ
تو بولتاہےتو پھر خوشبٶں میں ملتا ہے“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھے سال پہلے جب وہ انتقام کی آگ بجھا کر لوٹا تو اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ زینیہ آپی کو منا لے گا۔وہ اپنی محبت سےدستبردار نہیں ہو سکتا۔زینب سلطان اس کی روح میں بس چکی تھی۔ اس کے بغیر تو اب بس سانس بھی مشکل سے آنی ہے۔وہ ایک فیصلہ کر کے لوٹا تھا۔
لیکن شاید خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔جس وقت وہ حویلی میں داخل ہوا،اسے ویرانی سی محسوس ہوٸی ۔لیکن اس نے سر جھٹک دیا ۔اور سست قدموں سے اندر ہال میں داخل ہوا اور سامنے پڑے صوفے پر ہی لیٹ گیا۔
زاٸرہ خاتون سے زینیہ کی خیریت معلوم کر کہ اسے اس کا خیال آیا ۔جسے وہ کمرے میں ہی رہنے کا پابند کر گیا۔۔وہ زاٸرہ خاتون سے اجازات لے کر اپنے روم میں آ گیا۔
کمرا خالی اور سنسان پڑا تھا۔ وہ اپنے کپڑے نکالنے کے لٸے جب وارڈروب کھولی تو وہاں سے زینب کے سارے کپڑے غاٸب تھے۔
وہ تیزی سے واش روم کی طرف بڑھا وہ بھی خالی تھا۔
اسکے اوسان خطا ہو گٸے اور اس نے پاگلوں کی طرح حویلی کا چپہ چپہ چھان مارا ،لیکن وہ نہیں ملی۔وہ وہاں ہوتی تو ملتی۔
آخر میں وہ پاگلوں کی طرح بالوں میں ہاتھوں کی انگلیاں پھنسا کر بیٹھ گیا۔
اس نے گاڑی کی چابی لی اور تیز رفتاری سے گاڑی لے کر سلطان خان کی حویلی پہنچا۔
اس کا خیال تھا وہ وہیں آٸی ہو گی۔لیکن وہ وہاں نہیں تھی۔
وہ حویلی لوٹ آیا لیکن اجڑا بکھرا سا ،لیکن وہ زینب سے بد ظن ہو گیا۔
بیٹا وہ تمہارے رویہ سے نامید ہو کر یہاں سے چلی گٸی۔لیکن ہم اسے ڈھونڈیں گے وہ انشا ٕاللہ مل جاۓ گی۔
نہیں ماں اب اسے کوٸی نہیں ڈھونڈے گا۔۔۔کوٸی بھی نہیں۔وہ اپنی مرضی سے یہاں سے گٸی ہے۔اب خود ہی لوٹ کر آۓ گی۔
زینیہ آپی ٹھیک کہتی تھی ۔یہ لڑکی تمہیں پیار کے جال میں پھنسا کر مار دے گی۔
اموجان!۔۔ اس نے آپ کے بیٹے کی جان لے لی ہے۔
اسے سالوں لگے خود کو سنبھالنے میں ، اس نےسرداری چھوڑ دی۔اور ماں کو لے کر شہر آگیا۔اس بار زاٸرہ خاتون نے کوٸی اعتراض نہیں کیا۔
لیکن اس نے اپنے گاٶں کے لوگوں سے جو وعدہ کیا تھا۔ہ اسے نے وفا کیا اور تین سال کی قلیل مدت میں ڈیم تعمیر ہو گیا۔ اس میں بہت سے لوگوں کی کاوش شامل تھی۔صفوان نے اپنا دبٸی میں موجود ایک فلیٹ بیچ کر اس کی ساری رقم ڈیم کے لٸے دی تھی۔
فاٸقہ سلطان کی بربادی ،زینب سلطان کی گمشدگی اور اکلوتے بھانجے کے قتل نے سلطان خان کے کندھے جھکا دٸے۔ وہ اب باٸیں طرف کے فالج کا شکار ہو کر بستر مرگ پر پڑا تھا۔اور اب اسے خدا بھی یاد آیا تھا۔ اس نے اپنی شہر میں موجود ساری زمین بیچ کر ڈیم کے لٸے پیسے دٸیے تھے۔
زینیہ آپی کی شادی بہت دھوم دھام سے صفوان کے ساتھ ہو گٸی تھی۔وہ اپنی زندگی میں بہت خوش وخرم تھی۔اس کا ایک چار سال کا بیٹا بھی تھا ۔جس کا نام زرغام نے قلب مومن رکھا تھا۔اور اس کی ساری عادتیں زرغام علی خان کے جیسی تھیں۔
زینیہ کی زندگی میں بس ایک ہی ملال تھا، کی اس کی وجہ سے زرغام علی خان کی زندگی ادھوری ہو گٸی۔
اس نےاپنی پرانی جاب پھر سے شروع کر دی تھی۔اور وہ پاکستان میں کم ہی ٹکتا تھا۔کبھی کہاں اور کبھی کہاں اس کی زندگی کا مقصد بس لوگوں کی خدمت تھا۔
آج بھی اس پر بہت سی لڑکیاں مرتی تھیں اور کہیں ایک نے اسے پرپوز بھی کیا تھا۔
جس کے جواب مں وہ انہیں بتاتا تھا کہ وہ شادی شدہ ہے۔اور اپنے موباٸل میں موجود چند ایک تصاویر تھیں زینب کی جو وہ ثبوت کے طور پر پیش کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو جاگتے رہنے کیوجہ سے صبح اسکی آنکھ دیر سے کھلی ۔وہ جلدی سے فریش ہو کر بغیر ناشتے کے ہی نکل آٸی ۔
آج لیٹ ہونے کی وجہ سے اس نےپواٸنٹ سے جانے کا فیصلہ ترک کیا اور پاس سے گزرتے رکشے کو روک کر پتہ سمجھا کر بیٹھی ہی تھی۔جب اسکے موباٸل پر رنگ ہوٸی۔
دوسری طرف اس کی یونیورسٹی دوست علینہ تھی جو کہ اب اس کی کولیگ بھی تھی۔
اسلام آباد میں آ کر وہ شروع میں اس کے گھر ہی رہی تھی۔ وہ اس کے تمام حالات سے بخوبی آ گاہ تھی۔
اس نے کال ریسیو کی تو دوسری طرف سے اس کی تشویش میں ڈوبی آواز ابھری
”ہیلو زینی کہا ں ہو۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے؟“تم ابھی تک کہاں ہو ؟
علینہ میری آنکھ لیٹ کھلی ہے تو بس میں راستے میں ہی ہوں۔
اوکے! جلدی سے آٶ۔
وہ آفس میں پہنچی تو علینہ اس کے ہی انتظار میں تھی۔وہ شاید اسے کچھ بتانا چاہتی تھی لیکن زینب کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گٸی۔
”باٸی دا وے تم اتنا لیٹ کیوں ہو؟ اور یہ تمہاری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں؟۔“وہ کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔وہ نظریں چرا گٸی۔
”ہاں۔۔۔۔رات کو ٹھیک سے سوٸی نہیں میں۔“
”آچھا “علینہ نے بے یقینی سے اسے دیکھامگر بولی کچھ نہیں کیونکہ سامنے سے انکا ایم ڈی خاور آ رہا تھا۔ان دونوں نے جلدی سے اپنی اپنی سیٹ سنبھال لی۔
لیکن لنچ بریک تک وہ کوٸی بھی کام نہ کر سکی اس کا زہن الجھا ہوا تھا۔علینہ نے اسے نوٹ کیا لیکن بولی کچھ نہیں ۔اس کی عادت نہیں تھی خوامخواہ کھوجنےکی۔
لنچ بریک میں وہ دونوں کیفےٹیریا جا رہی تھی ۔وہ سیڑھیوں پر ٹھٹھک کر رک گٸی ۔کیوں کہ وہ ایم ڈی خاور حسن سے محو گفتگو اوپر کی طرف آ رہا تھا۔وہ جلدی سے اس سے چھپنا چاہتی تھی لیکن عین اسی لمحے اس نے بات کرتے ہوۓ اوپر کی طرف دیکھا۔وہ اس لمحے کےلٸے تیار نہیں تھی۔زینب سلطان کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا۔وہ بھی کچھ لمحے ٹھٹھکا لیکن اگلے ہی پل وہ پھر سے گفتگو میں مشغول ہو گیا تھا۔
”گیٹ آ ساٸیڈ پلیز۔“ کسی نے کہا اور وہ گویا حواسوں میں لوٹ آٸی۔اس نے جلدی سے زینہ عبور کرنے کی کوشش کی اور اسی چکر میں وہ دھڑام سے نیچے جا گری۔جوتے کی ایڑی ٹوٹ گٸی تھی۔وہ شرمندگی سے سر بھی نہ اٹھا سکی۔تکلیف سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گٸے تھے۔اسے امید تھی کہ وہ اس کےپاس آۓ گا ،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
ریلینگ کا سہارا لے کر جب وہ اٹھی تو وہ کہیں نہیں تھا۔اس کی کہنی چھلنی ہو گٸی تھی۔وہ بیگ سنبھالتی ہوٸی اٹھی اور ڈسپنسری چلی آٸی۔ بینڈیج کروا کر جب وہ باہر نکل تو وہ سامنے آ گیا تھا۔
بلیک تھری پیس سوٹ زیب تن کیے ،آ نکھوں پہ سن گلاسز چڑھاۓ۔اپنے اکھڑ اور مغرورانہ انداز لٸے۔اسکے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا ۔
”مجھے پتا تھا تم ادھر ہی آٸی ہو گی۔ کیسی ہو؟“ اس نے نم پلکیں اٹھاٸی لیکن بولی کچھ بھی نہیں۔
”ان چھے سالوں میں تم زرا بھی نہیں بدلی ویسی ہی ہو۔ “ وہ بات چھے سالوں کی کر رہاتھالیکن احسا س یہ دلا رہا تھا ۔گویا چھے گھنٹوں بعد مل رہے ہوں۔
وہ بھی کہنا چاہتی تھی کہ تم بھی نہیں بدلے ،وہی اکڑ اور غرور جوں کا توں ہے۔“لیکن زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
”میں نہیں جانتی کہ آپ کون ہیں ؟“اس نے امڈ کر آنےوالے آنسو ٶں کو پیچھے دھکیلا اور دوسری جانب مڑ گٸی۔
اور وہ بھی اس پر ایک قہر برساتی نظر ڈال کر وہاں سے نکل گیا۔
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے اپنا سارا غصہ سٹیرنگ پر نکالا۔
میں ہی پاگل ہوں جو اس لڑکی کے پیچھے خوا ر ہو رہا ہوں۔
اس نے موباٸل نکالا اور زینیہ کو کال ملاٸی۔
ہیلو! ۔۔۔۔کی آواز سنتے ہی وہ بول پڑا۔زینیہ آپی آپ کل مجھ سے کسی لڑکی کی بابت پوچھ رہی تھی۔
آپ اور اموجان جا کر بات کر لیں اس کے گھر والوں سے ،مجھے کوٸی اعتراض نہیں ہے۔
یہ کہہ کر اس نےکال کٹ کر دی۔
زینب سلطان اب تم خود مجھ تک آٶ گی۔میں نے اپنی انا ،غرور سب کچھ پس پشت ڈال کر تمہاری طرف بڑھا ۔۔۔
۔لیکن تم آج بھی چھے سال پہلے والی جگہ پر کھڑی ہو۔
زینب سلطان نے دوبارہ آفس جانے کی بجاۓ ہاسٹل کو نکل گٸی۔کیونکہ وہ جانتی تھی اب کام تو وہ کوٸی کر نہیں سکے گی،تو بہتر ہے کہ دوسروں کی نظروں میں تماشا بننے کی بجاۓ ہاسٹل ہی چلی جاٶں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی تو اس ناول کو آپ لوگوں نے بہت محبت دی ہے۔اس کے لٸے آپ کی شکر گزار ہوں امید ہے آگے بھی آپ لوگ ایسے ہی اپنا پیار دیتے ہیں گے۔تو جی لاسٹ ایپیسو دو دن کے بعد آۓ گی۔ اور ہاں کچھ لوگ کمنٹ کر رہے تھے کہ ناول بہت چھوٹا ہے توعرض یہ ہے کہ کسی بھی کہانی کو بے جا طول دینا اس میں موجود دل چسپی کو ختم کر دیتا ہے۔انڈین سوپس کی طرح سو میں نےکوشش کی ہے کہ آپ کو ایک آچھی اور دل چسپ سٹوری آپ کے سامنے پیش کی جاۓ ۔اور اس سےپہلے کہ آپ لوگ بور ہونے لگیں اس کو اختتامی مراحل میں داخل کر دیا جاۓ۔
یک لفظی کمنٹ نہیں چاٸیے بلکے آپ لوگ اپنے قیمتی وقت میں سے چند پل نکالیں اور اس ناول پر اپنا اپنا تجزیہ پیش کریں کہ آپ کو یہ ناول کیسا لگا۔کیا آپ لوگوں کو اس میں سےکوٸی چھوٹا سا سبق حاصل ہوا ہے۔اگر ہاں تو وہ آپ کی طرف سے میری محنت کا صلہ ہے۔
آپ لوگوں کی شکر گزار ۔
زرش نور
