Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ناول ”” خون بہا ““

از 🖋️ زرش نور

قسط نمبر ٤

ارزغام علی خان کا آج آفس میں آخری دن ہونے کی وجہ سے کافی دیر ہو گٸی تھی۔اٹھنے سے پہلے اچانک اسے خیال آیا کہ آج اسے زینب نے کال کی تھی۔اور اسے کام زیادہ ہونے کیوجہ سے موقع ہی نہیں ملا ۔زینب کو کال ملاتے ہوۓ وہ آفس سے نکلا تھا۔دوسری طرف بیل جا رہی تھی لیکن کال ریسیو نہیں ہوٸی۔اس نے وقت دیکھا تو رات کے بارہ ہو رہے تھے ، اس نے سوچا وہ سو چکی ہو گی تو کال ڈسکنکٹ کر کے پاکٹ میں رکھ لیا۔

وہ گاڑی کا لاک کھول رہا تھا جس وقت اس کے موباٸل میں رنگ ہوٸی ۔اس نے نمبر دیکھے بغیر کال ریسیو کی اور دوسری طرف کی آواز سن کر اس کے چہرے پر پتھریلے تاثرات نمودار ہوۓ۔

کیوں کال کی ہے؟ وہ بولا تو اس کی آواز میں چٹانوں سی سختی تھی۔

تم نے میری بہن سے نکاح کیا ہے۔ایک نمبر کہ دھوکے باز انسان ہو تم۔”فاٸقہ تلملا کر بولی۔“

ہاں ہوں اور یہ سب میں نے آپ سے ہی سیکھا ہے۔ مس فاٸقہ سلطان صاحبہ اب کی بار وہ بولا تو اس کی آواز میں طنز کی آمیزش تھی۔

جو کھیل تم کھیل رہے ہو اس میں ہار جاٶ گے۔ طلاق دے دو زینب کو ۔

آچھا ۔۔۔۔۔کھیل تو ابھی شروع ہوا ہے آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا۔زرغام علی خان بھول جاٶ سب جو ہوا تھا۔

بھول جاٶں گا ۔۔۔۔آپ فکر نہ کریں ۔وہ اسے طیش دلا رہا تھا۔

وہ میری بہن ہے ZAK

وہ اب میری بیوی بھی ہے۔

آچھا ٹھیک ہے پھر اب ملاقات کورٹ میں ہو گی۔ ہم خلع کے لٸے کورٹ جاٸیں گے۔میں ایک بار پھر تمہاری عزت کی دھجیاں اڑاٶں گی۔تم یاد رکھو گے کس سے پھنگا لیا ہے تم نے۔

اوکے !بیسٹ آف لک مسز فاٸقہ سلطان۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زینب کی آنکھ صبح کے چار بجے کھلی اس نےوقت دیکھنے کے لٸے موباٸل اٹھایا تو سامنے زرغام کی مسڈ کالز دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گٸی اور اسی وقت اس کا نمبر ڈاٸل کیا ۔دو تین بیلز کے بعد کال اٹھا لی گٸی۔

زرغام علی خان کی خمار آلود اس کے کانوں سے ٹکراٸی۔
ہیلو کی آواز سنتے ہی زینب نے جلدی ے کانپتے ہونٹوں سے اپنی بات اس کے سامنے رکھی۔

مجھے آپ سے طلاق چاٸیے مجھے آپ جیسے شخص سے شدید نفرت ہے ۔آپ کے لٸے آچھا ہو گا کہ آپ میری جان چھوڑ دیں۔

آپ ہیں کون۔۔۔۔۔”اس کی اتنی لمبی تقریر کے جواب میں جوسوال کیا گیا۔“
وہ سن کر وہ تھوڑی دیر کے لٸے وہ خاموش ہو گٸی۔

آپ نے کتنی لڑکیوں سے شادی کر رکھی ہے۔میں زینب سلطان ہوں۔

جی۔۔۔۔۔۔۔۔جی کو لمبا کھینچا گیا۔

جی ۔۔جی کیا ۔

کچھ نہیں آپ نے مجھے اس وقت یہ بتانے کے لٸے کال کی ہے کہ میں آپ کا پیچھا چھوڑ دوں۔
اگر میں نہ کر دوں تو پھر آپ کیا کریں گی۔

زینب خاموشی سے ہونٹ کاٹنے لگی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہے۔

زینب زرغام علی خان میں نے آپ کو پورے ایک گاٶں کے سامنے اپنایا ہے۔ اب آپ میری ملکیت ہیں،میں جب چاہوںآپ کو اپنے گھر لا سکتا ہوں۔لیکن میں آپ کو وقت دینا چاہتا ہوں ۔آپ کے بھاٸی نے جو کیا ،اس کی سزا تو آپ کو بھی ملے گی۔
جی اور بہن کے کیے کی بھی۔زینب کی طرف سے فوری جواب آیا تھا۔
جبکہ دوسری طرف خاموشی چھا گٸی تھی۔اسے امید نہیں تھی کہ وہ کچھ جانتی ہو گی۔

جی ہاں ۔۔۔۔۔اس کی بھی”اس کی سرد آواز زینب کے کانوں سے ٹکراٸی اور ساتھ ہی ٹون ٹون کی آواز کے ساتھ کال کاٹ دی گٸی تھی۔
زینب نے غصے سے موباٸل دور پھینکا۔لیکن احتیاط کے ساتھ کہ موباٸل کو کوٸی نقصان نہ پہنچے ۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر یہ موباٸل خراب ہو گیا تو اسے نیا موباٸل کسی نے نہیں لا کر دینا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ایک پراٸیویٹ ہسپتال کی سرجیکل وارڈ تھی۔جہاں اس وقت اس کے سامنے ایک زندہ لاش موجود تھی۔ وہ دھیرے سے چلتاہوا اس کے بیڈ کے قریب رکھے بینچ پر بیٹھ گیا ۔اور بہت سی نلکیوں میں جھکڑ ے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔

جانتی ہیں میرا نکاح ہو چکا ہے ۔میں نے شادی کر لی ہے۔لیکن آپ تو تھی ہی نہیں میری شادی پہ،آپ کتنا سوتی ہیں آپ کی یہ نیند پورا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔سالوں ہو گٸے ہیں مجھے آپ کے جاگنے کا انتظار کرتے ہوۓ۔آپ کو مجھ سے بالکل بھی محبت نہیں ورنہ آپ میرے جگانے پر ایک بار تو اٹھ جاتیں۔
سامنے لیٹے وجود کی آنکھ سے آنسو نکل کر ان کے کان کی طرف بھاگنے لگا جسےاس نے اپنے پوروں پر چن لیا۔
میں جانتا ہوں آپ سن رہی ہیں ۔آپ اپنے آنسو سے مجھے بلیک میل کر دیتی ہیں لیکن اٹھتی نہیں ہیں ۔
اس نے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا اور بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گہری نیند سوٸی ہوٸی تھی ۔جب کسی نے اسے جھنجھوڑ کر جگایا۔
اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی اور سوٸی جاگی کیفیت میں سمجھنے کی کوشش کرنے لگی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔تبھی اس کی آنکھوں کے سامنے فاٸقہ کا چہرہ لہرایا۔

وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گٸی۔ اور جماٸی لیتے ہوۓ اس ہاتھ سےروکنے کی ناکام کوشش کی ۔۔
بیا تم اتنی صبح صبح یہاں کیا کر رہی ہو۔ تمہارا شوہر نامدار آج کدھر ہے۔

۔اس سب کو چھوڑو تم اٹھو میں تمہیں لینے آٸی ہوں۔

مجھے لینے آٸی ہیں۔وہ کیوں؟
تم پہلے جاٶ فریش ہو کر آٶ۔

وہ بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھتی واش روم میں گھس گٸی۔

تھوڑی دیر کے بعد واپس آٸی تو گرین کلر کے قمیض شلوار کے ساتھ بڑاسادوپٹہ کندھوں پر پھیلا رکھا تھا۔
وہ آٸینے کے آگے کھڑی اپنے بال بنانے لگی۔
وہ تمہارا آرٹیکل کمپلیٹ ہو گیا ہے۔فاٸقہ کو بات کا آغاز کرنے کے لٸے کوٸی موضوع چاہیے تھا۔
نہیں۔
کیوں؟
آپ کے اوربابا کی وجہ سے۔
ہمیشہ کی طرح زینب نے اپنی بات برملا کہی۔۔

لیکن میں تمہاری جگہ پر نہیں اور تم میری اور بابا کی جگہ پر نہیں۔بلکہ میں تو کہوں گی تمہیں بھی اپنی خو تسلیم کر لینی چاہٸے۔
آچھا۔۔۔۔۔۔وہ پھیکی سی ہنسی ہنسی ”اس لٸیے کہ یہ ستم گر اپنی وضع نہیں بدلیں گے۔“
آپ تو بلکل بابا کے سانچے میں ڈھلتی جا رہی ہو۔لیکن شاید میں اس داستان کا وہ کردار نہ بن سکوں۔

فاٸقہ نے جلدی سے موضوع بدل دیا۔
آچھا چھوڑوان باتو ں کو تم میرے ساتھ چلو ہمیں ایک جگہ جانا ہے۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جس پر فاٸقہ نے نظریں پھیر لیں۔
پھپو سے اجازات لے لی ہے میں نے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاٸقہ اسے لٸے اسلام آباد کے مشہور بیرسٹر شہریار آفندی کے پاس آٸی تھی۔۔سر ہم لوگ خلع کا کیس داٸر کرنا چاہتے ہیں۔
فاٸقہ کی بات پر زینب حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
آپی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔چلیں یہاں سے مجھے یہاں گھبراہٹ ہو رہی ہے۔
وہ فاٸقہ کو بیرسٹر شہر یار کے چیمبر میں چھوڑ کر باہر نکل آٸی۔
جلد بازی کی وجہ سے وہ راہدری مڑتے ہوۓسامنے سے آتی شخصیت کو نہ دیکھ سکی اور اس کے سینے سے جا ٹکراٸی۔
سامنے والے نے اتنی ہی تیزی سے اسے پیچھے کیا تھا۔لیکن وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی اپنی جگہ منجمند ہو گٸے۔

بلیو کلر کے تھری پی سوٹ میں ملبوس آنکھوں پہ سن گلاسز چڑھاۓ وہ وہی تھا۔

زینب۔۔۔۔۔فاٸقہ کی آواز پر زینب ہوش کی دنیا میں لوٹی۔جبکہ اس کے سامنے کھڑے ZAK کو دیکھ فاٸقہ تیزی سے آگے بڑھی اور زینب کو پیچھے دھکیلتے ہوۓ زرغام کے سامنے کھڑی ہوگٸی۔

فاٸقہ کو دیکھ کر وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا اور فاٸقہ کی ساٸیڈ سے نکلنے لگا۔جب اس نے زرغام کا بازو دبوچ لیا۔
زرغام نے نفرت سے اس کا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکا۔

کیا مسٸلہ ہے آ پ کے ساتھ؟یہاں کون ساتماشہ کرنا چاہتی ہیں۔اب وقت بدل گیا ہے آپ جیسوں کو میں ان کی اوقات یاد دلانا جانتا ہوں ۔اور اپنی یہ منحوس شکل لے کر دوبارہ میرے سامنے مت آٸیے گا ۔ورنہ مجھے زرغم علی خان سے زینیہ علی خان کا بھاٸی بنتے دیر نہیں لگے گی
یہ کہہ کر وہ زینب سلطان کی طرف مڑا۔

آج توتم مجھے یہاں نظر آ گٸی ہو۔آٸندہ اگر اس طرف کا رخ کیا تو نتاٸج کی زمہ دار تم خود ہو گی ،زینب سلطان خلع کے بارے میں سوچنا بھی مت۔
”وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوۓ اپنے کوٹ پر آٸی نادیدہ شکن کو درست کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
جبکہ زینیہ کے نام پر فاٰٸقہ پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔۔۔۔

آپی یہ مکافات عمل ہے ۔آپ میری فکر کرنا چھوڑ دیں ۔اگر رب نے میری قسمت میں وہ حساب دینا لکھ دیا ہےتو وہ مجھے دینا ہی ہو گا۔

آپ نے جو کیا تھا وہ غلط تھا۔ اور اب بس میری طلاق کے بارے میں سوچٸے گا بھی مت۔ میں یہ داغ سر پہ نہیں سجانا چاہتی۔

ہمم۔۔۔۔۔۔ فاٸقہ سی گہری سوچ میں تھی۔ چلو ابھی تو گھر چلتےہیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔